Topics

وجدان

جب تک مذہب اور خدا کے با رے میں ہمارے اندر فلسفی انداز اور منطقی استدلال مو جود رہتا ہے ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے اس لئے کہ ماورا ء ہستی کو سمجھنے کے لئے ما ورا ئی شعور کا ہو نا بھی ضروری ہے ۔ پس ثا بت یہ ہو ا کہ مذہب ما ورائی ہستی اور صداقت کی اصل اساس ہمارا غیر شعور ی عقید ہ اور وجدان ہے ۔ جب ہم وجدان میں قدم بڑھا دیتے ہیں تو فطرت ہماری رہنما ئی کر تی ہے۔ اور عقل اس کی پیروی کر تی ہے ۔یہ بات مشا ہدہ میں ہے کہ جن لوگوں پر وجدان کی دنیا رو شن ہو گئی ان لوگوں کے اندر خدا کے عدم وجود کے بارے میں خواہ کیسے بھی بلند دلا ئل پیش کئے گئے ان کے عقیدے میں اور ان کی طر ز فکر میں کو ئی تبدیلی پیدا نہیں ہو ئی ۔یہ حقیقت اس طر ف راہنما ئی کر تی ہے کہ وجدان ایک ایسا عالم ہے جس عالم میں ہر لمحہ ،ہر آن حقیقتیں عکس ریز ہو تی رہتی ہیں ۔عالم وجدان میں سفر کر نے والا مسا فر وہ سب کچھ دیکھ لیتا ہے جو عقل کی پہنا ئیوں میں گم رہنے والا بندہ نہیں دیکھتا ۔


Topics


Kashkol

خواجہ شمس الدین عظیمی

اس کتاب کے پیش لفظ میں حضرت عظیمی صاحب تحریر فرماتے ہیں ’’کائنات کیا ہے، ایک نقطہ ہے، نقطہ نور ہے اور نور روشنی ہے۔ ہر نقطہ تجلی کا عکس ہے۔ یہ عکس جب نور اور روشنی میں منتقل ہوتا ہے تو جسم مثالی بن جاتا ہے۔ جسم مثالی کامظاہرہ گوشت پوست کا جسم ہے۔ہڈیوں کے پنجرے پر قائم عمارت گوشت اور پٹھوں پر کھڑی ہے۔ کھال اس عمارت کے اوپر پلاسٹر اور رنگ و روغن ہے۔وریدوں، شریانوں، اعصاب، ہڈیوں، گوشت اور پوست سے مرکب آدم زاد کی زندگی حواس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ 

حواس کی تعداد پانچ بتائی جاتی ہے جبکہ ایک انسان کے اندر ساڑھے گیارہ ہزار حواس کام کرتے ہیں۔میں نے چونسٹھ سال میں تیئس ہزار تین سو ساٹھ سورج دیکھے ہیں۔تیئس ہزار سے زیادہ سورج میری زندگی میں ماضی ، حال اور مستقبل کی تعمیر کرتے رہے ۔ میں چونسٹھ سال کا آدمی دراصل بچپن ، جوانی اور بوڑھاپے کا بہروپ ہوں۔ روپ بہروپ کی یہ داستان المناک بھی ہے اور مسرت آگیں بھی۔ میں اس المناک اور مسرت آگیں کرداروں کو گھاٹ گھاٹ پانی پی کر کاسۂ گدائی میں جمع کرتا رہا اور اب جب کہ کاسۂ گدائی لبریز ہوگیا ہے۔ میں آپ کی خدمت میں روپ بہروپ کی یہ کہانی پیش کررہا ہوں‘‘۔۲۸۳ عنوانات کے تحت آپ نے اس کتاب میں اپنی کیفیات کوبیان فرمایاہے۔