Topics

مشرق و مغرب

شعوری حوا س میں کام کر نے والی لہریں مثلث (TRIANGLE)ہو تی ہیں اور لا شعور میں کام کر نے والی لہریں دائرہ (CIRCLE)ہو تی ہیں ۔زمین کی حر کت دو رخ پر قائم ہے ایک رخ کا نام طولا نی حر کت ہے اور دوسرے رخ کا نام محوری حر کت ہے یعنی زمین جب اپنے مدار پر حر کت کر تی ہے تو وہ طو لا نی گر د ش میں تر چھی ہو کر چلتی ہے اور محوری گر دش میں لٹو کی طر ح گھو متی ہے ۔ طو لا نی گر دش مثلث ہے اور محوری گر دش دا ئرہ ہے ۔ ہماری زمین پر تین مخلو ق آباد ہیں ۔انسان ،جنات ،ملا ئکہ عنصری ۔انسان کی تخلیق میں بحیثیت گو شت پو ست مثلث غالب ہے اس کے بر عکس جنات میں دا ئرہ غالب رہتاہے اور فر شتوں کی تخلیق میں جنات کےمقابلے میں دائرہ زیادہ غالب ہے ،انسان  کےبھی دورخ ہیں ۔ غالب مثلث اور مغلوب رخ دائرہ ۔جب کسی بندے پر مثلث کا غلبہ کم ہو جا تا ہے اور دائرہ غالب آجا تا ہے تو وہ جنات فر شتوں اور دو سرے سیاروں میں آبا د مخلوق سے متعا رف ہو جا تا ہے ۔ نہ صرف یہ کہ متعا رف ہو جا تا ہے بلکہ ان سے گفتگو بھی کر سکتا ہے ۔ طو لا نی گر دش مشرق اور مغر ب کی سمت میں حر کت کر تی ہے اور محوری گر دش شمال سے جنوب کی طر ف رواں دواں ہے ۔


Topics


Kashkol

خواجہ شمس الدین عظیمی

اس کتاب کے پیش لفظ میں حضرت عظیمی صاحب تحریر فرماتے ہیں ’’کائنات کیا ہے، ایک نقطہ ہے، نقطہ نور ہے اور نور روشنی ہے۔ ہر نقطہ تجلی کا عکس ہے۔ یہ عکس جب نور اور روشنی میں منتقل ہوتا ہے تو جسم مثالی بن جاتا ہے۔ جسم مثالی کامظاہرہ گوشت پوست کا جسم ہے۔ہڈیوں کے پنجرے پر قائم عمارت گوشت اور پٹھوں پر کھڑی ہے۔ کھال اس عمارت کے اوپر پلاسٹر اور رنگ و روغن ہے۔وریدوں، شریانوں، اعصاب، ہڈیوں، گوشت اور پوست سے مرکب آدم زاد کی زندگی حواس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ 

حواس کی تعداد پانچ بتائی جاتی ہے جبکہ ایک انسان کے اندر ساڑھے گیارہ ہزار حواس کام کرتے ہیں۔میں نے چونسٹھ سال میں تیئس ہزار تین سو ساٹھ سورج دیکھے ہیں۔تیئس ہزار سے زیادہ سورج میری زندگی میں ماضی ، حال اور مستقبل کی تعمیر کرتے رہے ۔ میں چونسٹھ سال کا آدمی دراصل بچپن ، جوانی اور بوڑھاپے کا بہروپ ہوں۔ روپ بہروپ کی یہ داستان المناک بھی ہے اور مسرت آگیں بھی۔ میں اس المناک اور مسرت آگیں کرداروں کو گھاٹ گھاٹ پانی پی کر کاسۂ گدائی میں جمع کرتا رہا اور اب جب کہ کاسۂ گدائی لبریز ہوگیا ہے۔ میں آپ کی خدمت میں روپ بہروپ کی یہ کہانی پیش کررہا ہوں‘‘۔۲۸۳ عنوانات کے تحت آپ نے اس کتاب میں اپنی کیفیات کوبیان فرمایاہے۔