Topics

عرشیہ بنت شمسؒ


اللہ کی رضا میں راضی رہتی تھیں۔ ایک ولی اللہ علی میاں کو خواب میں دکھایا گیا کہ عرشیہ بنت شمس جنت میں تیری رفیق ہو گی۔ علی میاں ان کو تلاش کرتے ہوئے ان کے گھر پہنچے اور مہمان بن کر رہنے لگے۔ علی رات کو عبادت کرتے اور دن میں روزہ رکھتے تھے۔

انہوں نے دیکھا کہ یہ خاتون عبادت کرتی ہیں اور نہ روزے رکھتی ہیں۔ ایک دن پوچھا۔ آپ کی کیا مصروفیات ہیں؟ عرشیہؒ نے جواب دیا:

’’جو آپ نے دیکھا یہی کچھ ہے۔‘‘

علی نے کہا:’’ ذرا سوچ کر بتاؤ۔‘‘

عرشیہؒ نے عاجزی سے کہا:

’’ایک خصلت مجھ میں یہ ہے کہ اگر تنگدستی میں ہوتی ہوں تو تمنا نہیں رکھتی کہ خوشحال ہو جاؤں، بیمار ہوں تو راضی برضا رہتی ہوں، دھوپ میں چھت کی خواہش نہیں ہوتی، جس حال میں اللہ رکھے راضی رہتی ہوں۔‘‘

خواب میں حضرت مریمؑ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا حضرت مریمؑ نے کھجوریں اور دودھ کا ایک پیالہ دیا۔ ایک مرتبہ ایک عورت گبھرائی ہوئی آپ کے پاس آئی کہنے لگی میری بیٹی کی حالت بہت خراب ہے درد زہ کی وجہ سے وہ سخت اذیت میں ہے۔ آپ نے آنکھیں بند کیں اور دم کر دیا۔ اللہ نے مشکل آسان کر دی۔

حکمت و دانائی

* جس حال میں رب رکھے راضی رہنا چاہئے۔

* تنگدستی میں شکوہ نہیں کرنا چاہئے۔

* خوشحالی میں اترانا نہیں چاہئے۔

* صحت میں شکر گزار ہونا چاہئے۔

* بیماری میں ناشکری نہیں کرنی چاہئے۔

* بندہ ہر حال میں خوش رہ سکتا ہے۔

* اولاد اللہ کا دیا ہوا تحفہ ہے۔

* اولاد سے پیار اللہ کے لئے کرنا چاہئے۔

* اولاد ماں باپ کے پاس امانت ہیں اس امانت کی حفاظت یہ ہے کہ اولاد کی صحیح تربیت کی جائے۔

 

Topics


Ek So Ek Aulia Allah Khawateen

خواجہ شمس الدین عظیمی

عورت اورمرد دونوں اللہ کی تخلیق ہیں مگر ہزاروں سال سے زمین پر عورت کے بجائے مردوں کی حاکمیت ہے ۔ عورت کو صنف نازک کہا جاتاہے ۔صنف نازک کا یہ مطلب سمجھاجاتا ہے کہ عورت وہ کام نہیں کرسکتی  جو کام مردکرلیتاہے ۔ عورت کو ناقص العقل بھی کہا گیا ہے ۔ سوسال پہلے علم وفن میں عورت کا شمار کم تھا۔ روحانیت میں بھی عورت کو وہ درجہ نہیں دیا گیا جس کی وہ مستحق ہے ۔ غیر جانبدارزاویے سے مرد اورعورت کا فرق ایک معمہ بنا ہواہے ۔

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی نے سیدنا حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے عطاکردہ علوم کی روشنی میں کوشش فرمائی ہے کہ عورت اپنے مقام کو پہچان لے اوراس کوشش کے نتیجے میں اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ایک سوا ایک اولیاء اللہ خواتین کے حالات ، کرامات اورکیفیات کی تلاش میں کامیاب ہوئے ۔ یہ کہنا خودفریبی کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ عورتوں کی صلاحیت مردوں سے کم ہے یا عورتیں روحانی علوم نہیں سیکھ سکتیں ۔ آپ نے اس کتاب میں پیشن گوئی فرمائی ہے کہ زمین اب اپنی بیلٹ تبدیل کررہی ہے ۔ دوہزارچھ کے بعد اس میں تیزی آجائے گی اوراکیسویں صدی میں عورت کو حکمرانی کے وسائل فراہم ہوجائیں گے ۔