Topics

حضرت اُم ابو سفیان ثوریؒ

حضرت سفیان ثوریؒ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رات کو میں نے دیکھا کہ میرا دل سینے میں نہیں ہے۔ میں نے اس کا ذکر اپنی ماں سے کیا تو انہوں نے فرمایا:

معلوم ہوتا ہے کہ تم اللہ کی نشانیوں میں تفکر نہیں کرتے۔

حضرت اُم ابو سفیان نے بیٹے سے فرمایا۔

’’دیکھو! علم تمہارے اخلاق و کردار کو سنوارنے کا سبب بننا چاہئے نہ کہ تم کبر میں مبتلا ہو جاؤ۔ علم کو تجارت نہ بنانا۔

میرے بیٹے! جب تم دس حرف لکھ چکو تو دیکھو کہ تمہاری چال ڈھال اور حلم و وقار میں کوئی اضافہ ہوا یا نہیں۔ اگر کوئی اضافہ نہیں ہوا تو علم نے تم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔‘‘

آپ اکثر علم الاسماء پر غور کرتی تھیں اور لوگوں کے سامنے اسرار و رموز بیان کرتی تھیں۔ گفتگو کے وقت چہرہ پر نور ہو جاتا تھا۔

حکمت و دانائی

* علم اخلاق و کردار سنوارتا ہے۔

* علم سے تفکر کا پیٹرن بننا چاہئے۔ علم کو کبھی تجارت نہ بنایا جائے۔

* علم تمہارا رفیق زندگی ہو۔ ایسا رفیق زندگی جو قدم قدم پر تمہاری نگہبانی کرتا رہے۔

Topics


Ek So Ek Aulia Allah Khawateen

خواجہ شمس الدین عظیمی

عورت اورمرد دونوں اللہ کی تخلیق ہیں مگر ہزاروں سال سے زمین پر عورت کے بجائے مردوں کی حاکمیت ہے ۔ عورت کو صنف نازک کہا جاتاہے ۔صنف نازک کا یہ مطلب سمجھاجاتا ہے کہ عورت وہ کام نہیں کرسکتی  جو کام مردکرلیتاہے ۔ عورت کو ناقص العقل بھی کہا گیا ہے ۔ سوسال پہلے علم وفن میں عورت کا شمار کم تھا۔ روحانیت میں بھی عورت کو وہ درجہ نہیں دیا گیا جس کی وہ مستحق ہے ۔ غیر جانبدارزاویے سے مرد اورعورت کا فرق ایک معمہ بنا ہواہے ۔

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی نے سیدنا حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے عطاکردہ علوم کی روشنی میں کوشش فرمائی ہے کہ عورت اپنے مقام کو پہچان لے اوراس کوشش کے نتیجے میں اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ایک سوا ایک اولیاء اللہ خواتین کے حالات ، کرامات اورکیفیات کی تلاش میں کامیاب ہوئے ۔ یہ کہنا خودفریبی کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ عورتوں کی صلاحیت مردوں سے کم ہے یا عورتیں روحانی علوم نہیں سیکھ سکتیں ۔ آپ نے اس کتاب میں پیشن گوئی فرمائی ہے کہ زمین اب اپنی بیلٹ تبدیل کررہی ہے ۔ دوہزارچھ کے بعد اس میں تیزی آجائے گی اوراکیسویں صدی میں عورت کو حکمرانی کے وسائل فراہم ہوجائیں گے ۔