Topics

بی بی فضہؒ

اندلس کی رہنے والی تھیں۔ ان کے پاس بکری تھی جو شہد کی طرح میٹھا دودھ دیتی تھی۔ شیخ ابوالربیعؒ فرماتے ہیں کہ:

میں نے ایک نیا پیالہ خریدا اور بی بی فضہؒ کے پاس پہنچا۔ سلام کیا اور کہا کہ آپ  کی بکری دیکھنا چاہتا ہوں۔ وہ بکری لے آئیں اور پیالے میں دودھ نکالا۔ جب پیا تو محسوس ہوا کہ دودھ میں شہد گھلا ہوا ہے۔ میں نے اس کرامت کی بابت پوچھا تو بی بی فضہؒ نے بتایا۔

ہمارے پاس ایک بکری تھی۔ عید قربان کے دن شوہر نے کہا کہ اس کو قربان کر دیں۔ میں نے کہا کہ ہم اس کو قربان نہیں کریں گے کیونکہ ہم صاحب نصاب نہیں ہیں۔ اس ہی رات مہمان آ گیا۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ مہمان کی عزت و مدارت کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ بکری ذبح کردو لیکن ایسی جگہ ذبح کرنا کہ بچے نہ دیکھیں۔ میرے شوہر بکری ذبح کرنے کے لئے باہر لے گئے۔ بکری رسی چھوڑ کر دیوار پھلانگ کر گھر میں آ گئی۔ مجھے خیال آیا کہ خاوند کے ہاتھ سے چھوٹ کر آ گئی ہے۔ جب باہر جا کر دیکھا تو شوہر بکری کی کھال اتار رہے تھے۔ مجھے تعجب ہوا اور شوہر کو بتایا کہ بکری دیوار پھلانگ کر آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے اس سے بہتر بکری عطا فرما دی ہے۔

خواتین آپ کی بے حد معترف تھیں۔ علم و حکمت میں بے مثال تھیں۔ پندونصائح کرتے ہوئے خواتین سے فرماتی تھیں:

اچھے لوگ مہمانوں کے کھانے پینے پر مسرت محسوس کرتے ہیں۔ مہمانوں کو زحمت نہیں۔ رحمت اور خیر و برکت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

گھر میں مہمان آنے سے عزت و توقیر میں اضافہ ہوتا ہے۔ مہمان کے آنے پر سلام دعا کے بعد سب سے پہلے اس کی خیریت معلوم کریں۔ مہمانوں کے سامنےاچھے سے اچھا کھانا پیش کریں۔ دسترخوان پر خورد و نوش کا سامان اور برتن وغیرہ مہمانوں کی تعداد سے زیادہ رکھیں۔ ہو سکتا ہے کہ کھانے کے دوران کوئی اور مہمان آ جائے اور پھر ان کے لئے بھاگ دوڑ کرنا پڑے۔ اگر برتن اور سامان پہلے سے موجود ہو گا تو آنے والا بھی عزت اور مسرت محسوس کرے گا۔ مہمان کے لئے خود تکلیف اٹھا کر ایثار کرنا اخلاق حسنہ کی تعریف میں آتا ہے۔

نبی مکرمﷺ خود بنفس نفیس مہمانوں کی خاطر داری فرماتے تھے۔ جب آپﷺ مہمان کو اپنے دسترخوان پر کھانا کھلاتے تو بار بار فرماتے:

’’اور کھایئے اور کھایئے۔‘‘

جب مہمان خوب آسودہ ہو جاتا اور انکار کرتا اس وقت آپﷺ اصرار نہیں فرماتے تھے۔

حکمت و دانائی

* مہمان کی عزت و مدارت کا اللہ نے حکم دیا ہے۔

* حضرت ابراہیم خلیل اللہ اتنے زیادہ مہمان نواز تھے کہ اگر دسترخوان پر مہمان نہیں ہوتا تھا تو گھر سے باہر مہمان کو تلاش کرنے نکل جاتے تھے اور مہمان کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔

* مہمانوں کی خاطر تواضع تمام انبیائے کرام، اولیاء اللہ اور اچھے لوگوں کا شیوہ رہا ہے۔

* مہمان کے آنے سے گھر میں برکت ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ رزق میں فراوانی عطا فرماتے ہیں۔

Topics


Ek So Ek Aulia Allah Khawateen

خواجہ شمس الدین عظیمی

عورت اورمرد دونوں اللہ کی تخلیق ہیں مگر ہزاروں سال سے زمین پر عورت کے بجائے مردوں کی حاکمیت ہے ۔ عورت کو صنف نازک کہا جاتاہے ۔صنف نازک کا یہ مطلب سمجھاجاتا ہے کہ عورت وہ کام نہیں کرسکتی  جو کام مردکرلیتاہے ۔ عورت کو ناقص العقل بھی کہا گیا ہے ۔ سوسال پہلے علم وفن میں عورت کا شمار کم تھا۔ روحانیت میں بھی عورت کو وہ درجہ نہیں دیا گیا جس کی وہ مستحق ہے ۔ غیر جانبدارزاویے سے مرد اورعورت کا فرق ایک معمہ بنا ہواہے ۔

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی نے سیدنا حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے عطاکردہ علوم کی روشنی میں کوشش فرمائی ہے کہ عورت اپنے مقام کو پہچان لے اوراس کوشش کے نتیجے میں اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ایک سوا ایک اولیاء اللہ خواتین کے حالات ، کرامات اورکیفیات کی تلاش میں کامیاب ہوئے ۔ یہ کہنا خودفریبی کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ عورتوں کی صلاحیت مردوں سے کم ہے یا عورتیں روحانی علوم نہیں سیکھ سکتیں ۔ آپ نے اس کتاب میں پیشن گوئی فرمائی ہے کہ زمین اب اپنی بیلٹ تبدیل کررہی ہے ۔ دوہزارچھ کے بعد اس میں تیزی آجائے گی اوراکیسویں صدی میں عورت کو حکمرانی کے وسائل فراہم ہوجائیں گے ۔