Topics

بی بی بنت کعبؒ

سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت میں خوش الحانی سے اشعار پڑھتی تھیں۔ مخلوق کی خدمت کرنا ان کا نصب العین تھا۔

شدید بیماری میں لوگوں سے ملنے سے عاجز ہو گئیں تو رات کو خواب میں ایک نورانی بزرگ ان کے پاس آئے، بی بی صاحبہ نے پوچھا۔’’ آپ کون ہیں؟‘‘

بزرگ نے کہا۔’’میں تمہارا باپ ہوں۔‘‘

آپ کو خیال گزرا کہ حضرت علیؓ ہیں۔ کہنے لگیں۔

’’اے امیر المومنین! میری حالت دیکھئے۔‘‘

فرمایا: ’’میں رسول اللہﷺ ہوں۔‘‘

یہ سن کر زار و قطار رونے لگیں اور عرض کیا:

’’یا رسول اللہﷺ! میری حالت پر رحم فرمایئے اور مجھے تندرست کر دیجئے۔‘‘

آپﷺ نے کچھ پڑھ کر دم کیا اور فرمایا:

’’اللہ کے حکم سے کھڑی ہو جاؤ۔‘‘

آپ فوراً کھڑی ہو گئیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’تم اب صحت مند ہو۔ جب آپ سو کر اٹھیں تو بیماری ختم ہو چکی تھی۔‘‘

آپ لوگوں کو تلقین کیا کرتی تھیں کہ حق و صداقت کے پیکر معلم اخلاق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات پر عمل کرو۔

دوستوں سے خوش دلی، نرم خوئی اور اخلاص سے ملو۔ کھلے دل سے ان کا استقبال کرو، ملاقات کے وقت اور دوستوں کے معاملات میں لاپروائی، بے نیازی اور روکھا پن اختیار نہ کرو۔

نبی کریمﷺ جب کسی سے ملاقات فرماتے تھے تو پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔

حکمت و دانائی

* جو جھکتا ہے وہی عظمت پاتا ہے۔

* معاف کرنے سے انسان کا ظرف سمندر جیسا بن جاتا ہے۔

* اشیاء کے بجائے اشیاء کے خالق سے دل لگاؤ۔

* مہمان نوازی انبیاء کرام کا پسندیدہ عمل ہے۔

* سخی کے مال میں برکت ہوتی ہے۔

Topics


Ek So Ek Aulia Allah Khawateen

خواجہ شمس الدین عظیمی

عورت اورمرد دونوں اللہ کی تخلیق ہیں مگر ہزاروں سال سے زمین پر عورت کے بجائے مردوں کی حاکمیت ہے ۔ عورت کو صنف نازک کہا جاتاہے ۔صنف نازک کا یہ مطلب سمجھاجاتا ہے کہ عورت وہ کام نہیں کرسکتی  جو کام مردکرلیتاہے ۔ عورت کو ناقص العقل بھی کہا گیا ہے ۔ سوسال پہلے علم وفن میں عورت کا شمار کم تھا۔ روحانیت میں بھی عورت کو وہ درجہ نہیں دیا گیا جس کی وہ مستحق ہے ۔ غیر جانبدارزاویے سے مرد اورعورت کا فرق ایک معمہ بنا ہواہے ۔

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی نے سیدنا حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے عطاکردہ علوم کی روشنی میں کوشش فرمائی ہے کہ عورت اپنے مقام کو پہچان لے اوراس کوشش کے نتیجے میں اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ایک سوا ایک اولیاء اللہ خواتین کے حالات ، کرامات اورکیفیات کی تلاش میں کامیاب ہوئے ۔ یہ کہنا خودفریبی کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ عورتوں کی صلاحیت مردوں سے کم ہے یا عورتیں روحانی علوم نہیں سیکھ سکتیں ۔ آپ نے اس کتاب میں پیشن گوئی فرمائی ہے کہ زمین اب اپنی بیلٹ تبدیل کررہی ہے ۔ دوہزارچھ کے بعد اس میں تیزی آجائے گی اوراکیسویں صدی میں عورت کو حکمرانی کے وسائل فراہم ہوجائیں گے ۔