Topics

لا شعور نے کہا


پیارے دوست                                                         

آج تم ضرورت سے زیادہ سنجیدہ کیوں ہو۔تمھارے چہرے پر پھیکا پن اور پیشانی پر شکنیں کیسی ہیں تمھاری آنکھوں میں جھیل جیسی گہرائی کیسے پیدا ہوگئی ۔ لاشعور نے شعور سے کہا۔

خدا کے عطا کردہ نور نے مجھے ہدایت بخش دی ہے۔ میں گناہوں سے محفوظ اگر نہیں ہوں تو میرا دامن کثافتوں اور آلودگیوں سے پاک ضرور ہوگیا ہے۔

نور نے میرے اوپر ظلمت کو آشکار کردیا۔ اب میرے لیے ظلمت اور تاریکی سے بچنا آسان ہوگیا ہے اس لیے کہ تاریکی کے پس منظر میں میں نے اس روشنی کو دیکھ لیا ہے جس روشنی پر تاریکی قائم ہے ۔میں نے یہ بھی سمجھ لیا کہ زندگی کا ہر لمحہ دراصل فنا ہے۔ یعنی پے در پر لمحات کی فنا زندگی ہے۔ میں نے یہ بھی جان لیا ہے کہ میرا وجود بالآخر مٹی کے ذرّات میں تبدیل ہوجائے گا میں نے اس بات کو محسوس کر لیا ہے کہ جب تک آدمی کے اندر خودنمائی رہتی ہے خلوص پیدا نہیں ہوتا۔میں نے اپنے لباس میں سے بیجا آرائش و زیبائش کو ختم کردیا ہے۔لباس میں خود نمائی کی بیہودہ کوشش میں نے ترک کر دی ہے۔لوگوں کو مخاطب کرنے کے لیے میں نے جھوٹے القاب چھوڑ دیئے ہیں۔ میں کسی کو تم سے مخاطب نہیں کرتا اور کسی کے سامنے جھکتا بھی نہیں ہوں۔ کیونکہ جھکتا وہ ہے جو خودی سے واقف نہ ہو۔

لاشعور شعور کی لن ترا نی دیکھ کر گویا ہوا۔

دوست! زندگی کی جو تعریف تم نے بیان کی ہے وہ ایسی تعریف ہے جس کو انسانی معاشرہ قبول نہیں کرتا۔نور اور ظلمت کا جو نقشہ تم نے بنایا ہے اس کے پس منظر میں تاریکی اور خودنمائی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔خودی سے واقف ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گرامر اور لغوی بحث میں پڑ کر خود کو نجات یافتہ سمجھ لیا جائے۔اصل بات یہ ہے کہ ماضی میں شر اور خیر کی آمیزش سے ایک نظام قائم ہوا۔ خیر نے شر کو سرنگوں ہونے کے لیے کہا تو شر نے اپنا سر پیٹ لیا اور اپنی خودی کے زعم میں دلیل یہ دی کہ خیر مٹی ہے اورشر چمکتی دہکتی ہوئی روشن آگ ہے۔۔۔۔۔روشنی مٹی کے سامنے کیسے سَر نگوں ہوجائے؟

خیر نے دلیل پیش کی مٹی میں نمو ہے۔ مٹی میں تخلیق ہے۔ مٹی میں سے کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ کونپل پتّے بن جاتے ہیں۔ مٹی پنکھڑیوں سے مرکب پھول کی مہک ہے۔اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیراہن پہنے ہوئے درخت مٹی ہو جاتے ہیں۔مٹی ماں ہے جس کی کوکھ سے مر غزار اور چمنستان جنم لیتے ہیں۔مٹی کوئل کی کوک اور چڑیوں کی چہکار ہے۔ آگ روشنی ضرور ہے مگر مٹی کی طرح اس میں نمو نہیں ہے تخلیق نہیں ہے۔ روشن آگ مٹی کی ہر تخلیق کو جلا کر خاک اور خاکستر کر دیتی ہے شر اور خیر کی تکرار ورائے لاشعور نے سنی تو بات کا رخ ہی بدل گیا ورائے لاشعور نے کہا۔

یہ خیر اور شر کیا ہے۔۔۔۔۔ایک اطلاع ہے۔ اطلاع ایک ہے معنی دو ہیں۔ ایک فرد چوری کر کے روٹی کھاتا ہے۔ دوسرا شخص محنت مزدوری کرکے روٹی کھاتا ہے۔ خیر اور شر کا یہ عجیب امتزاج ہے کہ روٹی کھانا دونوں میں مشترک ہے۔دونوں میں غذائیت بھی یکساں ہے یہ کبھی نہیں ہوا کہ چوری کی کمائی ہوئی روٹی کھانے سے خون کی بجائے رگوں میں پانی دوڑا ہو۔۔۔۔یہ بھی کسی نے دیکھا نہ سنا کہ محنت مزدوری کر کے روٹی کھانے سے خون کا رنگ بدل گیا ہو۔دونوں صورتوں میں عمل کا نتیجہ ایک ہے۔ایک آدمی ظلمت کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔اورچار روشنی کو۔۔۔۔کوئی شخص جسمانی تکلیف سے ایک قسم کی لذّت محسوس کرتا ہے اگر اس کے اوپر سختی نہ کی جائے اور اس کے جسم کو مضطرب نہ کیا جائے،اس طرح کہ مرمریں جسم پر نیل نہ پڑجائیں تو وہ آدمی زندگی کو زندگی نہیں سمجھتا۔ یہ عمل صرف دنیاوی زندگی پر ہی منحصر نہیں ہے۔زاہدانہ زندگی گزارنے والے بھی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے اوپر نعمتوں کو حرام کر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں،دنیا کی  لذّ توں سے منہ موڑ کر انھیں روح کا عرفان مل جائے گا۔ دھیان گیان کرنے والوں کے گروہ نے یہ روش اختیار کی کہ خود کو بھوکا رکھا اور قدرت کی بنائی ہوئی خوبصورت مورتی کو آزار دینے کی منطق کی موٹے سوت اور کھردرے کپڑے پہنے ۔زیادہ چھبنے والے حصّے کو اندر کی طرف رکھا تاکہ جسم تکلیف  کی لذّت سے آشنا رہے۔فوم کے گدّوں اور نرم روئی کے بستر کی بجائے موٹے بان کی چارپائی اور لکڑی کے تخت پر چھبنے والی چٹائی بچھا کر اس پر آرام کیا ۔ تنگ و تاریک کمرے کو اپنا مسکن بنایا۔۔۔۔۔۔جسمانی شہوات سے محفوظ کرنے کے لیے اپنے آپ کو زنجیروں سے جکڑا ۔۔۔۔منوں کے حساب سے لوہے کی بھاری زنجیریں پہنیں۔ نیند سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کی  شیر کی فیاضی سے خود کو محروم کرنے کے لیے گوشت خوری سے پرہیز کیا۔۔۔۔۔vegetarian بن گیا۔ ننگے پیر میلوں سفر کیا۔کسی نے زہد کو ڈاڑھی میں محدودکر دیا۔ اور کسی نے جینو گلے میں ڈال کر خود نفسی کے جذبات کو فنا کرنے کے لیے مالا جپی۔ کسی نے رہبانیت کا لبادہ اوڑھ لیا۔اور کسی نے شادی کے فطری رجحان کو مذہب کی چوکھٹ پر قربان کر دیا۔

زمان و مکان کی پابندی سے آزاد ورائے لاشعور نے شعور سے سوال کیا۔مذہب کے ساتھ جو آمیزش کی گئی ہے ۔ اور مذہب میں جو راہیں متعین کی گئی ہے۔۔۔۔کیا یہ سب انسانوں کے لیے راہ نجات ہے؟

اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ مذہب کے اجارہ داروں نے مذہب میں اتنی تقسیم کر دی ہے کہ اب مذہب میں امتیاز کرنا ایک لا ینحل مسئلہ بن گیا ہے۔

ذوق جیسا شاعر بھی ایک حقیقت کو ہزاروں روپ میں تبدیل کرنے کے عمل سے چیخ اٹھا اور کہا۔

گلہائے رنگ رنگ سے ہے رونق چمن           اے ذوؔق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

انسان مختلف ہوتے ہیں ۔ان کی طبیعت اور مزاج میں اختلاف ہوتا ہے۔ ہر انسان یکساں حالات میں زندگی بسر نہیں کر سکتا منصب اور وظائف میں الگ الگ تعیّنات ہوتے ہیں۔۔۔۔کیا یہ تجرباتی اور مشاہداتی بات نہیں ہے کہ کوئی شخص خشک مزاج اور سخت گیر ہوتا ہے۔اتنا سخت گیر کہ سختی ختم کرنے کے لیے زندگی کی طرزوں میں تبدیلی ضروری ہوجاتی ہے۔اور کوئی فرد اتنا نرم طبیعت ہوتا ہے کہ اس کے اندر سختی کا ہونا امرِ لازم بن جاتا ہے۔

لاشعور نے حیرت زدہ شعور کی طرف دیکھا۔

شعور نے کچھ توقف کے بعد کہا۔میرے حسیات کا اصل یہ ہے کہ میں پر سکون رہنا چاہتا ہوں ۔ میں جانتا ہوں کہ الگ الگ حرفوں سے لفظ بنتے ہیں اور الفاظ کی ترکیب سے فقرہ بنتا ہے۔اور کڑی در کڑی فقروں کی زنجیر مضمون بن جاتی ہے مجھے یہ بھی تسلیم ہے کہ میرے وجود کا ہر لمحہ فنا ئیت کے راستے پر گامزن ہے جب کہ جبلّی تقاضوں سے  مرکب انسان فلاح اور کامرانی  کے راستے پر چلنا چاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ہر لمحہ فنا کا روپ ہے تو اطمینان کیسے حاصل ہو۔ فنا ہوجانا۔فناہوجانا میرے وجود کا آغازاورمیرے وجود کی آخری انتہا ہے لاشعور نے اس فلسفیانہ اور عقلی توجیہہ کے ساتھ شعور کی گفتگو سن کر کہا۔۔۔۔یہ تسلیم کہ ہر لمحہ فنا ہے۔ شر بھی فنا ہے ، اور خیر فنا کے پردے میں چھپ جاتا ہے۔ یہ بھی تسلیم ہے کہ خیر اور شر دونوں طرز کے لوگ فنا کی منزل میں داخل ہو کر خود فراموشی کا جامہ پہن لیتے ہیں۔ مگر جو اطمینان جدّو جہد، تزکیہء نفس ، خیر کے انتخاب اور پاکیزہ ذہنی انقلاب کے بعد ہوتا ہے وہ ایسا سرمایہ ہے جس کا شروع و آخر، ابتدا ء اور انتہا سلامت روی اور سکون قلب ہے۔انسان جب شر پر فتح حاصل کر لیتا ہے تو اس کے اندر بصیرت پیدا ہوجاتی ہے اور عالمین کی روشنی اس کے لیے محکوم بن جاتی ہے۔


Alasto Birabikum

Khwaja Shamsuddin Azeemi


روحانی ڈائجسٹ میں شائع شدہ وہ مضامین جو ابھی تک کتابی شکل میں موجود نہیں تھے مراقبہ ہال عجمان متحدہ عرب امارات    کے اراکین  نے ایک کتابی شکل دینے  کی سعادت حاصل کی ہے۔اللہ تعالیٰ تمام اراکین اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں الٰہی مشن کی فروغ میں مزید توفیق و ہمت عطا فرمائے۔