Topics

روحانی ورثہ

 

              

فرض کریں کسی محفل میں سو ایسے افراد موجود ہیں جن میں دس افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ، مفکر اور سائنسدان ہیں جب کہ باقی نوے آدمی غیر تعلیم یافتہ ہیں۔ تو محفل کی توجہ تعلیم یافتہ افراد کو حاصل ہو جائے گی۔ یہ دس افراد دوسروں کی بہ نسبت دنیا کے کسی بھی ملک میں باآسانی آمدورفت کر سکتے ہیں۔ ہر ترقی یافتہ ملک ہنسی خوشی ان کو امیگریشن دے دے گا۔ علم و فضل کی بناء پر ہر جگہ ان کوعزت وتکریم حاصل ہوگی۔

اب باقی  نوے آدمیوںکو دیکھیں ۔ وہ مالی اعتبار سے کتنی ہی ترقی کرلیں۔ گھر بنالیں، پیسہ اور بینک بیلنس کا ڈھیر لگادیں ان کودس علم دوست آدمیوں پر ایسی فضیلت کبھی حاصل نہ ہو سکے گی۔ حالانکہ تعداد میں وہ نو گنا زیادہ ہیں اور ان کے پاس وسائل کی بھی کثرت ہے۔ اگر ان 90 آدمیوں کو کوئی ترقی کا کام کرنا ہے تو وہ مجبورہیں کہ ان دس آدمیوں کا تعاون حاصل کریں۔ چنانچہ جس آدمی کے پاس علم ہوگا چاہے وہ دنیاوی علم ہو یا روحانی اسے دیگر لوگوں پر برتری حاصل ہوجائےگی۔ اگر کسی کے پاس دنیاوی علم ہے تو وہ دنیاوی معاملات میں ممتاز ہے جب کہ روحانی علوم حاصل کرنے والا بندہ تمام دنیا وی علوم حاصل کرنے والے بندوں سے افضل ہے۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر انسان دنیا میں باعزت ہے۔اسے دیگر مخلوق پر شرف اور فضیلت حاصل ہے۔ تو اس کی بنیاد صرف اور صرف علم ہے۔

اللہ تعالیٰ کے محبوب سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے قبل ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں تشریف لائے۔ غور فرمائیےجب سے دنیا قائم ہے۔ اربوں کھربوں کی تعداد میں لوگ پیدا ہوتے رہے۔ اپنی زندگی کے شب و روزپورے کرتے اورآخر کار انتقال کرتے رہے۔ یہ سلسلہ ابتداء سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہےگا۔

دنیا کی ابتداء سے اربوں کھربوں کی تعداد میں جنم لینے والے انسانوں کےمقابلے میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ لیکن تمام پیغمبروں کو نوع انسانی کی کل تعداد پر ہمیشہ برتری حاصل رہےگی اس لئے کہ تمام پیغمبران علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علوم کے حامل تھے۔

پیغمبران علیہم السلام میں سے کسی پر صحائف اُترے، کسی پر کتابیں اُتریں۔ حضرت موسیٰؑ پر تورات اُتری۔حضرت داؤد پر زبور کا نزول ہوا اور حضرت عیسیٰؑ پر انجیل نازل ہوئی۔یہ تمام صحائف اور کتب سماوی اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پیغمبروں کو وہ علوم حاصل ہیں جو نوع انسانی کی اکثریت کو حاصل نہیں ہیں۔

سب سے آخر میں سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے۔ غارِ حرا میں مراقبہ کے دوران ایک دن جبرائیل امین ظاہر ہوئے اور کہا "پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا"۔ وقت ضائع کرتے ہیں۔

آپ دیکھئے یہاں بھی علم کا ہی تذکرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نوع انسانی پر یہ عظیم احسان ہے کہ محبوب ربُ العالمین ؐ کے ذریعے یہ  علم کتابی صورت میں ہمارے سامنے آگیا۔جس کو ہم قرآن پاک کہتے ہیں۔جب بھی انسان کی زندگی پر غور کیا جائے گا اور اس کا شرف تلاش کیا جائے گا تو یہی بات سامنے آئےگی کہ انسان کا شرف "علم" ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی اور ابتری کی وجہ بھی یہی ہے کہ مسلمان کے اندر علم سیکھنے کا جذبہ ختم ہو گیا۔ جس طرح آج غیر مسلم اقوام میں علمی، سائنسی ، معاشرتی اور معاشی ترقی ہے اور ان کے ہاں ہر روز نت نئی سائنسی ایجادات سامنے آتی رہتی ہیں اسی طرح آج سے بارہ سو سال پہلے مسلمان نئی نئی ایجادات کرتے تھے اور اسی بنیاد پر ساری دنیا پر حکمران تھے۔

جب مسلمان علم سے دور ہوتے گئے تو مغربی دنیا نے ان کے علوم کو سیکھنا شروع کیا۔ بسا ط اُلٹ گئی۔مسلمان مفلوک الحال ہوتے گئے اور غیر مسلم حکمران ہوتے گئے ۔ آج ہم محکوم ہیں اور غیر مسلم حاکم۔۔۔آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں دنیا کا وہ کونسا خطہ ہے جہاں اسلام کا پیغام نہیں پہنچا۔ جبکہ آج یہ صورتحال ہے کہ کوئی ایسا خطہ نہیں جہاں مسلمان ذلیل و خوار نہیں ہورہے ہِں۔ اس وقت مسلمانوں کی ابتری کی جو بنیادی وجہ ہے وہ صرف یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے اسلاف کے روحانی ورثےکی طرف سے آنکھیں بند کرلی ہیں۔

قرآن پاک ایک ایسی کتاب ہے جس میں دنیاوی ، سائنسی ، کائناتی ، تخلیقی ، معاشرتی ، معاشی اور روحانی علوم موجود ہیں لیکن ہم نے اس میں تفکر کرنا چھوڑ دیا ۔غوروفکر کے دریچوں کو اپنے اوپر بند کرلیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ قرآن ہمارے پاس موجود ہے مگر ہم اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا رہے ہیں۔

ہم میں سے اکثریت حضرات رات گئےتک مسلسل ٹی وی دیکھتےہیں۔ گھنٹوں بے مقصد مو ضوع پر گفتگو کرتے ہیں۔ مختلف کھیلوں میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔روزانہ نہیں تو کم ازکم اتوار کے دن والد صاحب اپنے ذمے ڈیوٹی نکالیں کہ اپنے بچوں اور گھر کےدیگر افراد کے ساتھ اچھائی کے طور پر ۱۵ منٹ قرآنی آیات پر تفکر کرنا ہے۔ جس آیت یا سورت پر غوروفکر کرنا ہے، اس کا پہلے مطالعہ کرلیں۔ اس تشریھ یا توجیہہ پر مبنی کوئی علمی مواد  میسر آجائے تو اسے بھی پڑھ لیں۔ سائنسی اور روحانی علوم کی روشنی میں جب آپ قرآن کی تعلیم میسرآجائے تو اسے بھی پڑھ لیں۔ سائنسی اور روحانی علوم کی روشنی میں جب آپ قرآن کی تعلیم اپنے بچوں کو دیں گے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ کی اپنی زندگی کا اور پتھر آپ کی آئندہ نسل کی زندگی کا رخ بدل جائے گا۔

میں نے اس سلسلے میں بہت سوچا کہ آخر کیا طریقہ اختیارکیا جائے کہ مسلمان قوم  کی حالت بہتر ہو جاِئے۔مسلمان قوم  کو اللہ تعالیٰ دوبارہی عروج عطا کردے جو ہمارے اسلاف کو حاصل تھا۔ اور ایک بار پھر مسلمان تمام دنیا پر حکمران کی حیثیت سے ابھریں۔ بہت غور کیا تو یہی بات سامنے آئی کہ اس ابتری اور زوال سے نکلنے اورعروج حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔اور وہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن سے جو اپنا رشتہ منقطع کرلیا ہے اسے ہم دوبارہ استوار کرلیں۔ ہماری بقاو سلامتی اور عروج کتابِ حکمت میں محفوظ ہے۔

میں نے ایک مرتبہ سروے کروایا تو معلوم ہوا کہ ہمارے ہاں بیس گھروں میں سے صرف دو گھروں کے بچے قرآن پڑھے ہوئے تھے۔ جب یہ صورت ہوجائے گی تو قرآن سے یقین اٹھ جائےگا اور بحیثیت مجموعی مسلمان بھی قرآن سے فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے۔

میں اپنے بزرگوں ، ماؤں ، بہنوں، بھائیوں، دوستوں اوربچوں سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے گھر کو قرآنی فکر سے آراستہ کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے ۔۔آپ خود بھی قرآن پر تفکر کریں اور اپنے بچوں کو بھی قرآن میں تفکر کی ترغیب دیں بچے کیوں کر اُس میں دلچسپی لیں گے۔ ہر گھر میں اگر ایک ماں اپنے بچوں کو دس منٹ کے لئے لے کر بیٹھ جائے ، قرآن کا ایک رکوع پڑھے اور اس کا ترجمہ پڑھے، ترجمے پر خود بھی تفکر کرے اور اپنے اس تفکر میں بچوں کو بھی شامل کرے ۔آپ کے بچے قرآن کا ترجمہ بہت غور سے سنتے ہیں اورقرآن میں موجود پیغمبران علیہم السلام کے قصوں میں بہت دلچسپی  لیتے ہیں۔

اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتو گھروں کے کسی بڑَ بچے کی یہ ڈیوٹی لگادی جائے کہ ۔۔بیٹا تم قرآن پاک کی تلاوت کے بعد اس کا ترجمہ بیان کرو اور اس پر تفکر کرو۔

قرآن کو مشکل ہگز نہ سمجھیں کہ " جناب، ہم کوئی مولوی تو ہیں نہیں ۔ہم اسے کیسے سمجھیں ایسی بات ہرگز نہیں ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے" ہم نے قرآن کا سمجھنا آسان کردیا ،ہے کوئی سمجھنے والا ۔)سورہ القمٰن:۱۷(


Alasto Birabikum

Khwaja Shamsuddin Azeemi


روحانی ڈائجسٹ میں شائع شدہ وہ مضامین جو ابھی تک کتابی شکل میں موجود نہیں تھے مراقبہ ہال عجمان متحدہ عرب امارات    کے اراکین  نے ایک کتابی شکل دینے  کی سعادت حاصل کی ہے۔اللہ تعالیٰ تمام اراکین اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں الٰہی مشن کی فروغ میں مزید توفیق و ہمت عطا فرمائے۔