Topics

احساس کمتری

سوال:   میں احساس کمتری کا مریض ہوں۔ مجھ میں خود اعتمادی بالکل نہیں ہے۔ چلتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میری چال بہت خراب ہے…………لوگ مجھ دیکھ کر میر امذاق اڑاتے ہیں۔ کسی سے بات کرتا ہوں تو دل میں یہی خیال رہتا ہے کہ مجھ سے بڑا ہے۔ میں کالج میں سائنس کا طالب علم ہوں کلاس میں سر مجھ سے کوئی سوال کرتے ہیں یا حاضری کے لئے رول نمبر پوچھتے ہیں تو میں بہت زیادہ گھبرا جاتا ہوں، زبان لکنت آ جاتی ہے۔ حلق سے آواز نہیں نکلتی۔ عظیمی صاحب! کلاس میں کھڑے ہو کر جواب دینے کے تصور سے ہی میری روح فنا ہو جاتی ہے۔ میں گھر سے بھی بہت کم باہر نکلتا ہوں۔ ہر وقت مایوس اور افسردہ رہتا ہوں۔

جواب:  احساس کمتری اور نروس نیس کے لئے سرخ رنگ بہت مفید ہے۔ نیز نارنجی رنگ بھی جس سے دل کی پریشانی دور ہو کر سکون ملتا ہے، استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک چھوٹی سی ٹوکری میں نارنگیاں بھر کر کمرے میں رکھ لی جائیں اور روزانہ نارنگیوں پر چند منٹ نگاہ کو مرکوز رکھا جائے۔ اس کے ساتھ صبح سویرے اٹھتے ہی ایک بڑے آئینے کے سامنے تن کر کھڑے ہو کر اپنے سراپا پر ٹکٹکی باندھ کر دیکھیں اور دو تین منٹ تک آہستہ آہستہ دل میں یہ الفاظ دہرایئے ”ہر چیز دلفریب اور خوشگوار ہے‘ میں کسی سے کمتر نہیں ہوں جو چاہوں وہ کر سکتا ہوں۔“ یہ عمل کرنے کے بعد چند منٹ تک کمرے میں چہل قدمی کریں اور پھر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر وہی عمل دہرائیں۔ اس طرح یہ عمل روزانہ تین دفعہ کیا جائے۔ علاج کی مدت ایک کم چالیس روز ہے۔

Topics


Hazrat Key Masael

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی