Topics

زندگی کا طرز عمل

 

سوال:   ہر وقت سستی و پریشانی میں گرفتار رہتا ہوں۔ نماز پڑھتے وقت نیند کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ کسی کام کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تو سر چکرانے لگتا ہے۔ اعصابی کمزوری کا مریض ہوں۔ آنکھیں بہت کمزور ہیں۔ آنکھوں سے پانی بہتا رہتا ہے۔ دماغ برے اور گندے خیالات کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ جتنا جھٹکتا ہوں اتنی ہی قوت سے شیطانی وسوسوں میں مبتلا ہو جاتا ہوں۔ کبھی خیال آتا ہے کہ خود کشی کر لوں تا کہ اس عذاب ناک زندگی سے نجات مل جائے۔ پلیز میری مدد کیجئے۔ میں کیا کروں کہاں جاؤں؟

جواب:  اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں انسان کے بارے میں چار باتیں ارشاد کی ہیں۔ 1۔ انسان جلد باز ہے۔ 2۔ انسان نا شکرا ہے۔3۔ انسان جاہل ہے۔ 4۔ اور ظالم ہے۔ ان الفاظ کی روشنی میں اپنی ذات کو پرکھیئے اور ہمیشہ خوش رہئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ انسان ان باتوں کو سامنے رکھ کر ناشکری، جلد بازی، جہالت اور ظلم سے باز رہے۔ آپ جس دن ان باتوں سے الگ ہو گئے تو صرف خوشی باقی رہ جائے گی۔ جب زندگی کا طرز عمل اس بنیاد پر مستحکم ہو جاتا ہے تو پھر کوئی بات ناخوش نہیں کر سکتی اور یہی حل ہے تمام مسائل کا۔ جلد بازی اور ناشکری کا نتیجہ ذہنی کشاکش اور دماغی کشمکش ہوتا ہے۔ وجہ معلوم نہ ہونا جہالت ہے اور جہالت میں گرفتار رہنا اپنے اوپر ظلم کرنا ہے۔

Topics


Hazraat Key Masael

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی