Topics

بخار

سوال:   چند ماہ پیشتر مجھے بخار ہو گیا تھا اور میں نے خود اس کا علاج کیا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا اور مرض میں زیادتی ہو گئی۔ تو ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک علاج ہوتا رہا لیکن کسی قسم کا کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ ڈاکٹر کے مشورے پر میں نے ملیریا پیراسائیٹ چیک کروایا اور انہوں نے کہا کہ آپ کو ملیریا نہیں ہے۔ ٹائی فائیڈ ہے۔ مجھے بڑی تشویش ہوئی، میں نے پھر ہسپتال سے رجوع کیا۔ انہوں نے میرا اینٹی بائیوٹیک دوا سے علاج تجویز کیا۔ تقریباً دو ماہ تک ان کے زیر علاج رہا۔ اسی دوران ڈاکٹر نے مجھے روٹی کھانا بالکل منع کر دیا اور میں بالکل ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرتا رہا۔ ساڑھے تین ماہ بعد بخار تو اتر گیا لیکن میرے جسم میں بہت کمزوری ہو گئی۔ اب تقریباً چھ ماہ ہو گئے ہیں۔ کمزوری کا کوئی علاج نہیں ہو رہا ہے اور کوئی دوا میرے اوپر اثر نہیں کر رہی ہے۔ کبھی قبض ہو جاتا ہے، کبھی جگر خراب ہو جاتا ہے، کبھی معدے کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور اعصابی تناؤ بھی بہت رہتا ہے۔ ایک دن طبیعت سنبھلتی ہے تو دوسرے دن بہت زیادہ بگڑ جاتی ہے۔ میں جی تو رہا ہوں مگر مردہ بدست زندہ ہوں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں صدیوں کا بیمارہوں۔ آج سے تقریباً چھ سات ماہ پیشتر میری صحت قابل رشک تھی۔ دوست احباب میری صحت پر رشک کرتے تھے۔ بیمار ہونے سے پیشتر میں نے ایک بار اپنا وزن کرایا تھا تو 135پونڈ تھا اور اب گھٹ کر صرف 115پونڈ رہ گیا ہے۔ پہلے میری طبیعت میں بڑا شوخ پن تھا اور اس کے مقابلے میں آج کل میرے اندر چڑچڑاپن آ گیا ہے۔ مرضی کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو دماغ میں الٹے سیدھے خیالات آنے لگتے ہیں۔ خود ہی پشیمان بھی ہوتا ہوں۔ میرا روزمرہ کام ایسا ہے کہ اس میں دماغ اور آنکھوں کا کام زیادہ ہے۔

جواب:  آپ نے تیز دوائیں زیادہ استعمال کی ہیں۔ چونکہ آپ خود سر اور خود پسند ہیں اس لئے اس کا ہر وقت امکان رہتا ہے کہ آپ ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر بھی دوائیں کھاتے رہے ہیں۔ ہر چیز اعتدال میں مفید ہوتی ہے۔ دواؤں کا ری ایکشن ہونے کی وجہ سے یہ صورت حال واقع ہوئی ہے۔ آپ کے لئے میرا مشورہ ہے کہ علاج میں معالج کی ہدایت پر عمل کریں۔ فی الوقت آپ کے لئے یونانی علاج مفید ثابت ہو گا۔ ڈاکٹری علاج کی بجائے یونانی طریقہ علاج سے استفادہ کریں۔

Topics


Hazraat Key Masael

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی