Spiritual Healing

بزدلی کی تصویر

میں بزدلی کی حد تک صلح جو واقع ہوا ہوں اگر کہیں دو افراد بحث و تکرار، تلخ کلامی یا ہاتھ پائی کر رہے ہوں تو میرا دل زور زور سے دھڑکنا شروع ہو جاتا ہے اور اگر یہی بات میرے ساتھ پیش آ رہی ہو تو بس مت پوچھئے کیا حال ہوتا ہے۔ میری زندگی کے اس افسوس ناک پہلو کی انتہا یہ ہے کہ میں بزدلی کی تصویر بن جاتا ہوں۔ میرا مدمقابل مجھے سر عام برا بھلا کہتا ہے۔ دھمکیاں حتیٰ کہ گالیاں دے جاتا ہے مگر میں جوابی کارروائی کی بجائے چپ چاپ کھڑا رہتا ہوں اور اگر کوشش کر کے جواب دیتا بھی ہوں تو ایسا کہ جو مدمقابل کو ناگوار نہ گزرے اور میرے سخت جواب کی وجہ سے میری پٹائی نہ ہو جائے بس اسی پٹائی سے خوفزدہ رہتا ہوں۔ بحث و تکرار میں بھی میرا رویہ انتہائی مدافعانہ ہوتا ہے اتنا زیادہ مدافعانہ کہ سننے والے اس بات کو فوراً بھانپ لیتے ہیں اور پھر اس کے بعد ان کی نظروں میں میرے لئے تمسخر کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ میرا مسئلہ اور صورت حال دونوں ہی مضحکہ خیز ہیں مگر اس کے باوجود حل طلب ہیں اور میں بے بس ہوں۔ آج کی اس بے عزتی کے بعد میں نے اپنے دل میں عہد کیا ہے کہ میں اپنی اس کمزوری پر ضرور قابو پاؤں گا اور اس بزدلی کو ختم کر کے رہوں گا۔

جواب:  مسئلہ کا حل آپ کے اس خط میں موجود ہے۔”میں نے عہد کر لیا ہے کہ اپنی اس کمزوری پر ضرور قابو پاؤں گا۔“ اس عہد پر قائم رہیں۔ مسئلہ یقینا حل ہو جائے گا۔ روزانہ ورزش کا اہتمام بھی کیجئے۔

Topics


Hazrat Key Masael

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی