Topics

دو رخ ۔ ماہنا مہ قلندرشعور۔ مئی 2026


آ ج کی با ت

       جب کچھ نہیں تھا تو اللہ تھا ، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اللہ نے چاہا کہ میں پہچانا جا ؤں ۔ پہچا ن کے لیے ارادے میں موجود پروگرام ظا ہر فرما یا۔ ازل تا ابد مخلوقا ت اور اور ان کے لیے وسا ئل کا اس طرح مظا ہر ہ ہوا کہ مظا ہرے کے دورخ ظا ہر ہو ئے۔ دورخوں کے درمیان کشش و گریز کی وجہ سے خلا پیدا ہوا۔ جب خلا میں دورخوں کے تصورات گہرے ہو ئے تو زمین کا طول و عرض نسل در نسل مخلوقا ت سے آبا د ہو گیا۔

خلا کے بھی دورخ ہیں ۔

·     ایک طر ف خلا سے نظامِ زندگی اور مخلوقات میں تسلسل ہے ۔

·     دوسری طرف یہ دورخ کے ہر رخ کی شکست و ریخت کا سبب ہے۔

آپ نے جو کچھ پڑھا ہے ۔ ابھی یہ شعو ر پر کھلا نہیں ہے۔

قانون یہ ہے کہ جب تک دونوں رخوں کو اس با ت کا ادراک نہ ہو جا ئے کہ ان کی اصل  ایک ہے ، وہ شعو ر میں سفر کر تے ہیں ۔ ایک شعو ر illusionہے اور دوسرا شعو ر حقیقی ہے جس کی بنیا د پر الوژن قائم ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر حقیقی شعور شے یا تخلیق کے دو رخوں سے ربط منقطع کر لے تو دونوں رخ سوالیہ نشان بن جا ئیں گے۔

       یہ خلا صہ ہے ۔۔۔ اب "آج کی بات " کی تفصیل پڑھئے۔

..__________________________..

اللہ احد ہے اور احدیت دوئی سے پا ک۔۔ یقین  ہے۔ زندگی اس یقین پر قا ئم ہے کہ ہر شے اللہ کی طر ف سے آتی ہے  اور اللہ کی طر ف لوٹ جا تی ہے۔

             "علم میں راسخ لو گ کہتے ہیں کہ ہما را اس با ت پر ایما ن ہے کہ ہر شے اللہ کی طر ف سے ہے۔"(الِ عمران :۷)

       ایما ن کیا ہے ۔؟ خا تم النبیین حضرت محمدؐ نے جو کچھ فرما یا ، اس کے پیچھے اللہ کی حکمت ، صفات یا تجلیا ت کا ادراک ہونا۔ ادراک سے مرا د یہ ہے کہ صفا تِ الٰہیہ میں جو تجلیا ت کا م کر رہی ہیں ، ا ن تجلیا ت کا مشا ہد ہ کر نا۔ ایما ن کے معنی اور مفہوم ایقا ن اور یقین ہیں۔ یقین کی ایک تعریف یہ ہے کہ یقین مشا ہد ہ ہے ۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ارشا د فرما یا،

       "ہم اس کی رگِ جا ں سے بھی زیا دہ اس سے قریب ہیں ۔"(ق:۱۶)

رگِ جاں سے مراد میری نظر میں یہ ہے کہ آدمی جسم اور جا ن کا ادراک کرے۔

ہم جو کچھ دیکھتے اور سمجھتے ہیں  ، وہ جسما نی کھلونے کی ما نند ہے ۔ جسما نی اعتبا ر سے اگر یہ مثال پیش کی جا ئے کہ ایک کھلونا ہے ، وہ کسی بھی شے کا بنا ہوا ہو، اس میں ذاتی حرکت نہیں ہوتی لیکن جب کھلونے کے جسم کو متحرک کیا جا ئے تو اس کے لیے وسیلے کی ضرورت ہے مثلاً گڑیا میں چابی بھر دی جا تی ہے جس سے گڑیا کے اندر ایسی صلا حیتوں کا اظہار ہو نے لگتا ہے  کہ وہ چلتی بھی ، روتی بھی ہے ، ہنستی بھی ہے اور مسلسل حرکت کے بعد بے حر کت ہو جا تی ہے یعنی مر جا تی ہے ۔ چا بی اگر ختم ہو جا ئے یا چابی کا source گڑیا سے الگ ہو جا ئے تو گڑیا کی حیثیت مر دہ جسم کے علا وہ کچھ نہیں ہے ۔

گڑیا کی طر ح آدمی بھی کھلونا ہے ۔ اس کھلونے میں اگر چابی نہ بھر ی جا ئے تو کھلونے کی نشوونما، حرکا ت و سکنات ، بولنا ، ہنسنا  ، رونا سب ختم ہو جا تا ہے ۔ مثال کے طور پر آدمی کو کھلونے کی نظر سے دیکھا جا ئے یعنی گڑیا گڈے کی طرح کھلونا تسلیم کیا جا ئے تو یہ ایسا کھلونا ہے جو سوتا ہے ، جاگتا ہے ، بولتا ہے ، سنتا ہے ، خو شی ، غم  ، ہمدردی ، بے حسی اور محبت کے جذبا ت کا اظہا ر کر تا ہے ، چلتا پھرتا ہے ۔۔ اور گر جا تا ہے یعنی مر جا تا ہے ۔

·     گڈےگڑیا اور آدمی میں کیا فر ق ہوا؟

·     ان میں حر کت کس کے دم سے ہے؟

·     اگر حرکت آدمی کی ہے تو گرنے کے بعد وہ بے حر کت کیوں ہے؟

·     حرکت آدمی کی صفت نہیں ہے تو پھر ہم اسے گڈا گڑیا کیوں نہیں سمجھتے

·       ..__________________________..

اللہ تعالیٰ نے جہاں نوعِ آدم کے با رے میں بیا ن فرما یا ہے ، وہاں دو رخ کا تذکرہ ہے۔

       "جب تمہا رے رب نے فرشتوں سے کہا، میں مٹی سے ایک بشر بنا نے والا ہوں پھر جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجد ے میں گر جا ؤ۔ اس حکم کے مطا بق فرشتے سب کے سب سجدے میں گرگئے۔ "(ص:۷۱۔۷۳)

نوعِ آدم کا ایک رخ ادب اور دوسرانا فرما نی ہے ۔ آدمی کی تعریف یہ ہے کہ اس کی تخلیق میں جو مسالا استعما ل ہوا ہے ، وہ سب کا سب تعفن ، غلا ظت ، بدبو اور لیس دار ما دہ کیچڑ ہے ۔ وہ سڑی ہو ئی مٹی سے بنا یا گیا ایک پتلا ہے ۔ اس پتلے میں حر کت روح  کے تابع ہے۔ روح۔۔۔ متعفن تصویر آدم کو متحر ک رکھتی ہے  جسے دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والے کو گما ن ہوتا ہے کہ آدمی حر کت میں ہے جب کہ دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ جسم گڑیا کا ہو یا آدمی کا، ان میں چابی کے بغیر حرکت نہیں ہو تی جس طرح کھلونے میں چابی کے بغیر حیا ت نہیں ہے ۔

       کھلونے کو متحر ک رکھنے کے لیے رب ذوالجلا ل اللہ نے پتلے کے اندر روح پھونکی اور روح جو نظر نہیں آرہی ، اس کو حرکت کا ذریعہ بنایا ہے ۔ جس طر ح بڑی سے بڑی مشین میں حرکت نہ ہو تو اس کی حیثیت لوہے کی مشین کی ہے ، وہ لو ہے کی لا ش ہے، اسی طرح آدمی چا بی کے بغیر مر جا تا ہے ، مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو جا تا ہے ۔ بڑی سے بڑی مشین بھی زنگ آلود ہو کر مٹی میں تبدیل ہو جا تی ہے ۔

آدمی مٹی کا لبا س ہے جسے حقیقی شعور "روح" نے حرکت  میں رکھا ہے ۔ لبا س میں حرکت کا سورس دراصل روح ہے  جس کو سمجھنے کے لیے ہم حرارت، زندگی یا ادوار میں شما ر کر تے ہیں جب کہ ادوار کا تجزیہ کیا جا ئے تو ادوار ذہن کی تفہیم کے مدارج ہیں ۔ ان کا تعلق جسم سے ہے ، روح سے نہیں ۔ یہ مدارج قابلِ تفکر اس لیے ہیں کہ غیب ہو تے رہتے ہیں اور ظا ہر ہو تے رہتے ہیں ۔ آج کا دن اور رات کل میں تبدیل ہو تی ہے اور کل، پرسوں میں تبدیل ہو جا تی ہے ۔ اس طرح ہفتہ، مہینہ ، سال ، صدیاں ، قرن سب وضع کر دہ ہیں ۔ اصل یہ ہے کہ آدمی غیب سے ظا ہر ہو تا ہے اور غیب میں چھپ جا تا ہے ۔ یہ اس وجود کی تعریف ہے جو روح کے لیے لبا س بنا یا گیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں کہ ہم نے مٹی  کا پُتلا بنا یا اور پُتلے کے اندر روح پھونکی ۔ اس کا مطلب ہے کہ مٹی بھی پیدا ہو رہی ہے اور جو شے پیدا ہو تی ہے ، اس میں خلا ہو تا ہے ، وہ حرکت کے لیے خلا میں پھونک کی محتا ج ہو تی ہے۔

آدمی اور مخلوقا ت کا موازنہ کیا جا ئے تو کو ئی فر ق نظر نہیں آتا سوا ئے اس کے کہ آدمی نے اسفل سافلین کا شعو ر اختیا ر کر لیا ہے جب کہ آدمی کا اعلیٰ رخ"انسان" احسنِ تقویم کےمنصب پر فائز ہے ۔ غو ر سے پڑھئے۔۔۔ آدمی شعو ری طو رپر حیوانا ت سے پست درجے میں ہے لیکن اس حیوان آدمی کو اللہ نے احسنِ تقویم کا اعزاز عطا فرما یا ہے ۔ یہ اعزاز اور کسی جا نداد شے کے لیے نہیں فرما یا۔ ارشا د باری تعالیٰ ہے،

             "ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر تخلیق کیا ہے ۔ پس وہ اسفل سافلین میں پڑا ہوا ہے۔"(التین :۴۔۵)

اللہ حافظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

 

 

·     ٹوٹ پھوٹ

·     فریب نظر

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔