Topics

سیاہ نقطہ ذات کا آئینہ۔ماہنامہ قلندرشعور۔اکتوبر 2020

 

مرکزی مراقبہ ہال کراچی کا محل و قوع اس طرح ہے کہ اس کے چاروں طرف سڑک ہے۔چاروں سڑکوں پر سڑکیں کراس کر رہی ہیں کہ مین گیٹ کے سامنےایک سڑک دامن پھیلائے،چاک دامن پریشان حال لوگوں کی منتظر ہے۔ جیسے کے ڈی اے کے نقشہ بنانے والے انجینئر نے یہ سڑک مراقبہ ہال کے لئے بنائی ہو۔ مراقبہ ہال کے سامنے کی سڑک کے لئے "حوروں" کی سیدھی مانگ کا استعارہ خوب ہے۔

مرکزی مراقبہ ہال ایسی جگہ ہے جس کے بارے میں لوگ مختلف باتیں کرتے ہیں۔ یہاں آنے والے افراد میں رنگ و روپ اور نقش و نگار کی مناسبت سے کیفیات مختلف ہیں۔

مراقبہ ہال کے حدود اربعہ پر غور کیا جائے تو یہ زمین ایک مستطیل ٹکڑا ہے جس کے چاروں طرف درخت ہیں،درخت کیاریوں میں ہیں۔تقریبا ہررنگ کے پھول ہیں۔موسمی پھولوں کے علاوہ سدا بہار پھولوں سےاس کا حسن دوبالا ہے۔لگتا ہے زمین کے ماتھے پر نہایت خوب صورت جھومر ہے۔

پھولوں کی کون سی ایسی قسم ہے جو یہاں نہیں۔ گلاب کے تختے ہیں،ہزار پنکھڑی گیندا ہے،موتیا ہے،چنبیلی ہے،رات کی رانی ہے،ہار سنگھاراور زہرہ ہے،دن کا راجا ہے۔سلیقے سے بنی ہوئی روشیں ہیں۔ مخملی گھاس قالین کی ضرورت پوری کرتاہے۔ پھلوں کے درخت ہیں۔ خواتین کا محبوب درخت املی بھی ہے۔ ان میں کھٹے، میٹھے،کسیلے،بہت شیریں،تقریباہر قسم اور ہر ذائقےکا پھل موجود ہے۔چھتری نمادرخت ہیں۔ اگر درخت کے نیچے تنا پکڑ کر کوئی آدمی کھڑا ہوجائے تو لگتا ہے وہ چھتری کے نیچے ہے۔ یہاں خوش نما پرندے صبح دم اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ ان کی بولیاں کانوں میں رس گھولتی ہیں۔

مراقبہ ہال کے اندر کی دنیا بھی عجیب دنیا ہے۔ دن کی روشنی میں یہاں درختوں، پتّوں، پھولوں کے اجسام سے ہر وقت ٹھنڈی میٹھی روشنی پھوٹتی رہتی ہے۔ گلاب،چمپا،چائناروز،موتیا،چاندی،چنبیلی،رات کی رانی،سرخ،پیلے،ہرے،سفید،بنفشی،ایک پھول میں کئی رنگ۔۔ہررنگ میں دوسرارنگ،پھولوں پر جسمِ مثالی خندہ دہن متحرک نظر آتا ہے۔ رات کو اندھیرے (تاریک روشنی) میں کھلی آنکھوں سے پتّا پتّا،بوٹا بوٹا،ڈالی ڈالی، اودے اودے، نیلے نیلےپیرہن میں ملبوس پھول اپنا حال بیان کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔آستانے کے اندر باہر رو پہلی جھماکے ہوتے ہیں۔ ایک کارواں ہے جو آرہا ہے،جارہا ہے۔۔۔کون جانے یہ اللہ کے برگزیدہ ولیوں کی روحیں ہیں یاارضی سماوی فرشتے۔

نصف شب کے بعد آسمان اور زمین کا فاصلہ کم ہو جاتا ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ جگ مگ کرتے ستارے،ستاروں سے بھری کہکشائیں زمین پر اتر آئیں گی۔ چودھویں کا چاند اپنے باطن کے انوار سے یہاں موجود ہر شے کو غسل دے کر پاکیزگی کا احساس دلاتا ہے۔ جیسے ہی یہ احساس جسم سے ٹکراتا ہے، بندہ لطافت کے دریا میں خود کو ڈوبا ہوا محسوس کرتا ہے۔

رات دو بجے رحمت کی بھرن پڑتی ہے۔شبنم سے بنے ہوئے موتی پھوار بن کر جب سالک کے سراپے کو چھوتےہیں تو من میں خالق کی مخلوق سے محبت نظر آتی ہے۔

یہاں جو لوگ رہتے ہیں،ان کے چہروں سے سکون اور طمانیتِ قلب جھلکتا ہے۔ یہاں کا باسی اپنے اندر گم کائنات کی کھوج میں مصروف ہے۔اس ماورائی خطے میں کچھ لوگ جب داخل ہوتے ہیں تو کہتے ہیں۔۔۔اف! کس قدر سناٹا ہے۔ کچھ لوگ جن کے اندر روشنی مدھم نہیں ہوئی ہے،مست و بے خود اللہ کی صفات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔۔۔خدایا!یہ سکون کا کیساسایہ ہے کہ اس خطہ زمین پر آنے کے بعد ہر غم، ہر پریشانی خوشی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔وسوسوں کا سیلِ رواں رک جاتا ہے۔

ہر طرف سبز روشنی ہے۔پھول ہنستے مسکراتے ہیں۔ آسمان سے رحمت کی بارش برستی ہے۔ کبھی ایسا لگتا ہے کہ پھول یہاں آنے والوں سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔کیا کہنا چاہتے ہیں؟ سمجھ میں نہیں آتا لیکن سمجھنے والوں کی آنکھیں مخمور ہوجاتی ہیں۔

ایک رات جب کہ گھپ اندھیرا تھا اور تاریک رات سے مراقبہ ہال روشن تھا، خیال آیا کہ اندھیرے میں روشنی کا کیا مطلب ہے؟ رات کی دبیز سیاہ چادر میں چمک کیسی ہے؟

"اندر میں" سے آواز آئی کہ اندھیرا بھی روشنی ہے اور جو بندہ تایکی سے باخبر ہوجاتا ہے،اس کے اوپر ایک نئی دنیا کا انکشاف ہوتا ہے۔

عجیب بات ہے کہ اندھیرا روشنی ہے اور اس روشنی میں کائناتی رموز ظاہر ہوتے ہیں۔

اور تو کچھ میں نہیں کر سکا،میں نے اٹھ کر مراقبہ ہال میں گھومنا شروع کردیا۔ تیسرے چکر میں یہاں بنے ہوئے ایک غار میں جا بیٹھا۔اس غار کے اوپراہرام (پیرامڈ) ہے۔اہرام کے بارے میں بہت سی باتیں سنی ہوئیں،دماغ کی اسکرین پر فلم بن گئیں۔اہرام میں رکھے ہوئے کھانے خراب نہیں ہوتے،اہرام میں ریزر کی دھار خراب نہیں ہوتی،اہرام میں رکھی ہوئی چیزوں کو چھیڑنے سے روحیں ناراض ہو جاتی ہیں وغیرہ۔

سیڑھیاں اتر کر جیسے ہی میں اندر داخل ہوا، پپوٹے بھاری ہوگئے اور پلک جھپکنے کا عمل ساکت ہوگیا۔حواس کی رفتار تیز ہوگئی کہ حواس ساکت محسوس ہونے لگے۔ آنکھوں کے سامنے بجلی کوندی۔ بجلی کا اوپری رنگ نیلا تھا لیکن نیلے رنگ کے اندر سچے موتیوں کی چمک تھی۔ سچے موتیوں کی چمک کے پیچھے یاقوتی رنگ کا SHADOWتھا۔

میں نہیں جانتا کہ روشنی کہاں سے آرہی ہے۔ میں نے دیکھا کہ روشنی کی دھار آنکھوں میں داخل ہوئی،دماغ میں جھماکا ہوا اور دماغ کھل گیا۔ یکایک روشنی بکھرنے کے عمل میں روشنی کی ہزار قسمیں بن گئیں اور یہ ہزار قسمیں دراصل ہزاروں رنگ تھے اور ان رنگوں میں سے ایک رنگ جس کو میں نے گہرا نارنجی رنگ محسوس کیا، دل میں اتر گیا۔ اس رنگ میں مزید کئی رنگ شامل ہو گئے جس میں سرخ کلیجی رنگ نمایاں تھا۔ یکایک نقرئی ہاتھ نمودار ہوا اور اس نے میری ناک پر چشمہ رکھ دیا۔چشمے کے اندر شیشے قرمزی رنگ کے تھے۔ جیسے ہی آنکھوں پر چشمہ رکھا گیا، مراقبہ ہال میں موجود ہر شے اپنے اصل رنگ و روپ میں نمایاں ہوگئی۔

سب سے پہلے میری نظر انجیر کے درخت پر پڑی اور پھر زیتون کے درخت پر آکر رک گئی۔ انجیر اور زیتون کا ذکر میں نے بار بار قرآن کریم میں پڑھا ہے۔ اللہ فرماتا ہے،

1۔قسم ہے انجیر اور زیتون کی۔ (التین: 1 )

2۔اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا۔ (النور: 35

 آپ نے انجیر تو دیکھا ہے۔ کبھی کھول کے بھی دیکھئے۔ اس کے اندر نقطوں کا ایک جال ہے۔ سمٹے ہوئے جال میں رحم کی شکل نظر آتی ہے۔

سورہ نور کی آیت میں بھی اللہ نے زیتون کے درخت کا تذکرہ فرمایا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ جس کو چاہے اس نور کی ہدایت بخشتا ہے اور اللہ لوگوں کہ مثالیں دے کر سمجھاتا ہے۔ فی الواقع پورا علم اللہ جانتا ہے۔ بندے صرف اتنا جانتے ہیں جتنا علم اللہ نے بندوں کو سکھایا ہے۔

جان جب زیتون کی جان سے گلے ملی تو زیتون کے اندر کی روشنیاں میرے اندر کی روشنیوں میں گڈ مڈ ہو گئیں۔ آدمی کی روشنیاں اور زیتون کے درخت کی روشنیاں جب ہم آغوش ہوئیں تو نور کی تنی ہوئی ایک چادر نظر آئی اور اسی نورانی چادر میں مراقبہ ہال میں موجود ہر شے کے نقش و نگار اسکرین پر نمایاں ہوگئے۔ دیکھا کہ میری جان اور مراقبہ ہال کی زمین پر بنے ہوئے تمام نقش و نگار کی جان ایک ہے، خدوخال مختلف ہیں۔ مختلف خدوخال، مختلف کیفیات کا مظہر ہیں۔یہ کیفیت ہی تو ہے جو انسان کو،درخت کو، چرند پرند کو ایک دوسرے سے الگ الگ ہونے کی اطلاع فراہم کرتی ہے جب کہ سب ایک نقطے میں بند ہیں۔

انجیر اور زیتون کی جان نے مجھے بتایا:

"یہ زمین، آسمان اور ان کے اندر مخلوق کے جسمانی خدوخال الگ الگ نظر آتے ہیں لیکن ان سب میں جان ایک ہے۔ اور جب کوئی جان دوسری جان سے گلے ملتی ہے تو آنکھ ہر جان کا نظارہ کرتی ہے۔"

مراقبہ ہال میں آنے والے لوگوں پر بے خودی اس لئے غالب آجاتی ہے کہ یہاں ایک جان ایسی ہے جو سب کو جانتی ہے اور سب اس کو جانتے ہیں اور اس سے گلے ملتے ہیں۔

جو لوگ مراقبہ ہال میں اکتاہٹ، بے زاری اورسناٹا محسوس کرتے ہیں،ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی جان سے واقف نہ ہونا چاہتے ہوں۔ جو خود سے واقف نہ ہو، ایسے خود فراموش آدمی کو زمین و آسمان قبول نہیں کرتے۔

                                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 میں ایک رات مراقبہ ہال کے ماورائی ماحول میں چاندی کے حسن سے سرشار، آسمان کو تک رہا تھا۔آنکھیں پلکیں جھپکنے کا عمل بھول چکی تھیں، دیدے ساکت تھے، دماغ پُر خمار تھا، قلب کی حرکت تیز تھی نہ کم، دل سبک خرام تھا، اس سمے باہرکی نظر اندر اترتی چلی گئی۔نظر آیا کہ باہردیکھنے والی آنکھ اندر جھانک رہی ہے۔ دیکھا کہ۔۔اندر ایک نقطہ ہے۔۔سیاہ رنگ نقطہ۔۔نقطے کے اطراف روشنی کا ہالہ ہے۔ روشنی کے اس ہالے پر نور کا غلاف ہے۔نظر سیاہ رنگ نقطے کے اندر گئی تو دیکھا کہ یہ نقطہ ذات کا آئینہ ہے۔

آئینے میں خود کو دیکھا تو وہاں ایک اور "نقطہ" نظر آیا۔ اور اس ایک اور نقطے کے باطن میں پھل جھڑیاں (ڈائی مینشن )چھوٹتی ہوئی نظر آئیں۔پھل جھڑیاں جب نقطے کے باطن سے الگ ہوئیں، ان کے اندر مزید خدوخال (ڈائی مینشن ) بن گئے اور خدوخال نے نیا روپ دھار لیا۔ میں نے خود کو نقطے میں تلاش کیا تو وہاں نقطے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

پلک جھپکی۔۔نقطہ سامنے نہیں تھا۔

کھلی آنکھوں سے۔۔ خود میں گم۔۔ نہیں معلوم کس ناپیدا کنار دریا میں ڈوبتا چلا گیا، ڈوبتا چلا گیا۔سر میں سیدھی طرف ایک لہراٹھی جیسے آسمان پر بجلی کی چمک اور بادل کی گرج۔ بجلی کی چمک اور بادل کی گرج سے الٹے دماغ میں دھماکا ہوا۔ دھماکے سے دماغ میں موجود کھربوں خلیے آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑے اور آنش فشاں کے پھٹنے سے خلیے چارج ہوگئے۔دیکھا۔۔جسمانی گوشت پوست کے بنے ہوئے بے اختیار انسان کے اندر کھربوں با اختیار صلاحیتیں منتظر ہیں کہ کھوج لگایا جائے اور ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔

نظرآیا۔۔آسمانوں سے بھی اس پار روشن اور منور انسان نورانی لہر میں معلق ہے اور یہ روشن انسان کھربوں دائروں میں بند ہے۔ ہر دائرہ کائنات میں موجود ایک نوع اور ایک مخلوق ہے۔ ہر نوع اور مخلوق اس روشن انسان کے دائرے سے وابستہ ہے اور یہ روشن انسان ہر نوع کے دائرے سے بندھا ہوا ہے۔

"اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔" (النور:35)

تمنا ہے کہ "وہی اول ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے" کی تفسیر نقطے میں روشن ہوجائے،آمین۔

چاہتا ہوں کہ لکھتا چلا جاوں مگر اندر کا عظیمی کہتا ہے۔۔خاموش ہوجا۔۔اور بس کر!

خواجہ شمس الدین عظیمی 

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔