Topics

ہردنیا ایک زمین ہے۔ ماہنامہ قلندرشعور۔ جولا ئی 2023

 

آج کی بات

          کا ئنا ت  میں شما ریا ت سے زیا دہ دنیا ئیں ہیں ۔ ہر دنیا ایک زمین ہے اور زمین کے لئے آسما ن سا ئبا ن ہے ۔ آسما ن کے سات طبقا ت ہیں ۔ زمین کے طبقا ت بھی سات ہیں ۔ تما م طبقا ت میں ہما ر ی طر ح مخلو قا ت آبا د ہیں جن کے لئے وسا ئل کی فرا ہمی کا ایک مکمل اور مر بو ط نظا م جا ری و سا ری ہے ۔ قر آن کر یم میں ارشا د ہے ،

"اللہ وہ ہے جس نے سا ت آسما ن بنا ئے اور اسی کے مثل زمینیں بھی ۔

 اس کا حکم ان کے درمیا ن اتر تا ہے تا کہ تم جا ن لو کہ اللہ ہر شے پر قا در ہے

 اور یہ کہ اللہ کا علم ہر شے پر محیط ہے ۔ " (الطلا ق :۱۲)

          آسما نو ں اور زمین میں کو ئی مقا م ایسا نہیں جو اللہ کے حکم سے خا لی ہو۔ خا لی نظر آنے والی فضا ئیں رنگین ہیں ۔ ان فضا ؤں  میں زندگی سانس لے رہی ہے ، زندگی سے زندگی بن رہی ہے اور زندگی ۔ زندگی میں چھپ رہی ہے ۔ خلا کو خا لی سمجھنا آدمی کے دما غ کے 12کھر ب خلیوں میں اُن خلیا ت کا چا رج نہ ہو نا ہے  جن کا تعلق خلا میں زندگی سے ہے ۔ زمین و آسما ن کا ہر طبقہ اللہ کی قدرت کا اظہا ر ہے اور ہر مظا ہر ے پر اللہ کا علم محیط ہے ۔

          وسا ئل آسما ن سے زمین پر منتقل ہو تے ہیں ۔ وسا ئل لا شما ر ہیں لیکن ان کی تخلیق جس شے سے ہو ئی ہے ، وہ ایک ہے ۔ تخلیقا ت کی اس اکا ئی کو قر آن کریم میں "ما ء" کہا گیا ہے جس کا عا م تر جمہ پا نی کیا جا تا ہے ۔ با طنی علوم میں ما ء ایک وسیع اصطلا ح ہے جس کا تعلق رنگ اور روشنی دونوں سے ہے ۔ سا ری مخلو قا ت ایک پانی سے سیراب ہو تی ہیں مگر پا نی ایک نہیں کہ قدرت نے اس میں ہر تخلیق کی مقداریں رکھی ہیں ۔ مقدارون سے قسم قسم کی مخلوقا ت اور عجا ئبا ت ظا ہر ہو تے ہیں ۔ جب غو ر و فکر کر نے والے خواتین و حضرات پا نی میں نیرنگی دیکھتے ہیں تو انگشت بد ندا ں رہ جا تے ہیں ۔

          **----------------------------**

          قر آن کریم میں ارشا د با ری تعالیٰ ہے ،

                   "اللہ وہ ہے جس نے زمین اور آسما ن کو پیدا کیا اور آسما ن سے پانی بر سایا ۔ پھر اس کے ذریعے سے تمہا ری رزق رسا نی کے لئے طر ح طرح کے ثمرا ت پیدا کیے ۔ جس نے کشتی کو تمہا رے لئے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور دریا ؤں کو تمہا رے لئے مسخر کیا۔ جس نے سور ج اور چا ند کو تمہا رے لئے مسخر کیا کہ لگا تار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہا رے لئے مسخر کیا ۔ جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے ما نگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شما ر کر نا چا ہو تو نہی کر سکتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسا ن بڑا بے انصا ف اور نا شکرا ہے ۔ "  (ابراھیم : ۳۲۔۳۴)

آیا ت کے ہر نکتے میں تخلیقی فارمو لے اور علم کا اظہا ر ہے ۔

1.    آسما نوں اور زمین کی پیدا ئش

2.    آسما ن سے پا نی بر سنا

3.    پا نی سے طر ح طر ح کے ثمرات (وسائل) ظا ہر ہونا

4.    کشتی کا مسخر ہو نا اور سمندر میں پا نی کا کشتی کے لئے راستہ بنانا

5.    دریا ؤں کا مسخر ہو نا

6.    چا ند سورج کی تسخیر اور دونوں کا تسلسل سے اپنے دائرے میں تیر نا

7.    دن اور رات کے حوا س (علوم) پر دستر س

8.    ضرورت کی ہر شے اور شے کا علم عطا ہوتا

9.    آدمی کی شما ریا ت سے زیا دہ انعاما ت (علوم)

آیا ت اور فارمولوں کو اسی ترتیب سے ڈائری میں لکھئے اور اندر کی روشنی میں سمجھئے۔

احسن الخا لقین اللہ کی کبریا ئی ہے کہ وہ ما ؤں کے رحمو ں میں پا نی سے جیسی چا ہتا ہے ، صورتیں بناتا ہے ۔ زمین ما ں ہے ۔ بارش کا پانی زمین میں داخل ہو تا ہے تو زمین میں موجود ڈائیوں کے مطا بق اندر میں رنگوں کا ظا ہر کر تا ہے ۔ ڈائیاں کیا ہیں اور کس طر ح مختلف ہیں ۔ جڑواں بچوں کی مثال سے سمجھئے ۔ رحم  میں ہر بچے کی ڈا ئی الگ ہو تی ہے ۔ دونوں کو ایک غذا ملتی ہے ، وہ غذا جو ما ں کھا تی ہے مگر ڈا ئی مختلف ہو نے سے جہاں بعض جڑواں بچے ایک دوسرے سے غیر مشا بہ ہو تے ہیں ، وہاں انتہا ئی حد تک شبا ہت رکھنے والے جڑواں بچوں کی بھی شکل و صورت اور جسا مت میں فر ق ضرور ہو تا ہے ۔ یہی صو ر ت اما ں زمین کے بطن میں نشو و نما پا نے والی مخلو قا ت کی ہے ۔

خا لق ِ کا ئنا ت اللہ نے ہر شے پا نی سے پیدا کی ہے اور مخلو ق کے لئےپا نی مسخر کر دیا ہے ۔ قا بل ِ غور ہے کہ ہم جسے پا نی سمجھتے ہیں ، وہ پا نی کی محض ایک حا لت ما ئع*

ہے جب کہ پا نی اپنی تما م حا لتوں کو مد نظر رکھتے ہو ئے سور ۂ ابرا ہیم کی آیا ت پر تفکر کریں تو سمندر سے لے کر چاند سورج اور دن رات کو تسخیر ، ہر نکتے میں پا نی کے نظا م کا انکشا ف ہو تاہے ۔

          مثال :۔  اللہ تعالیٰ نے کشتی کو انسا ن کے لئے مسخر کیا ہے ۔ کشتی لکڑی اور دھا توں سے بنتی ہے ۔ انسا ن کو علم عطا کیا گیا ہے کہ وہ لکڑی اور دھا توں پر تصر ف کر کے کشتی بنا تا ہے اور اللہ کے حکم سے اس کی بنا وٹ میں اس ٹیکنا لوجی سے استفادہ کر تا ہے جس سے کشتی سمندر میں چلتی ہے ۔ تصر ف یہ بھی ہے کہ انسا ن علم حا صل کر کے پا نی میں ان مقداروں کو یکجا کر سکتا ہے  جن سے لکڑی اور دھا تیں بنتی ہیں ۔ کشتی جب دریا اور سمندر میں چلتی ہے  تو اس کا وزن اپنے محیط* کے مطا بق پا نی کے اس حصے کے برا بر ہوتا ہے جس میں کشتی موجود ہے اسی لئے کشتی ڈوبتی نہیں ۔ جہا ں وزن غیر متوازن ہو تا ہے ، کشتی ڈوب جا تی ہے ۔ جب کو ئی شے مسخر ہو تی ہے تو اس شے سے منسلک نظا م کا علم جتنا اللہ چا ہے ، انسا ن کوحا صل ہو جا تا ہے ۔ قا ر ئین ان آیا ت میں غیر جا نبدار ذہن سے تفکر کریں تو رموز منکشف ہوں اور اندر میں تخلیقی صلا حیتیں بیدا ر ہو ں گی۔

          **----------------------------**

          خا لقِ کا ئنا ت اللہ تعالیٰ نے فرما یا ہے ،

"اللہ وہ ہے جس نے زمین اور آسما نوں کو پیدا کیا اور آسما ن سے پا نی بر سایا ۔

پھر اس کے ذریعے سے تمہا ر ی رزق رسانی کےلئے طر ح طر ح

کے ثمرا ت پیدا کیے ۔ " (ابراھیم : ۳۲)

          ثمرا ت کے معنی و سائل سے مرا د غذا ، پھل ، پھول ، پودے ، دھوپ ، چھا ؤں ، ہوا، ہوا میں نمی ، سونا ، چاندی ، لکڑی ، دھا ت ، معدنیا ت ، دیدہ نادیدہ مخلوقا ت اور زمین پر زندگی کی ضروریا ت ہیں ۔ تما م وسائل کی مقداریں پا نی میں ہیں اور پانی سما وات سے نازل ہوتا ہے ۔ ہما ری دنیا کی طر ح پا نی بھی دنیا ہے ۔ اگر نوع آدم اور نو عِ جنا ت کے خواتین ، مرد اور بچے پا نی کا علم حا صل کر لیں اور پانی کے حقیقی فارمولے سے واقف ہو جا ئیں تو اس مقا م تک رسائی کے راستے کھلتے ہیں جہا ں سے پانی آتا ہے ۔

          قر آن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشا دہے ،

                   "جو لو گ میرے لئے جد وجہد کر تے ہیں ، میں ان کے لئے اپنے راستے کھول دیتا ہوں ۔ "  (العنکبوت:۶۹)

 

اللہ حا فظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔