Topics

لامتنا ہی آسمان ۔ ماہنامہ قلندر شعور۔اپریل2024

آج کی با ت                                                                        

 

لا متنا ہی آسما ن اور تا حدِ نگا ہ پھیلی ہو ئی زمین کی ابتدا کہا ں سے ہے اور انتہا کہا ں تک ہے ۔ ۔۔۔ ؟ ابتدا اور انتہا کا تعلق کناروں سے ہے  اور زمین و آسما ن کے کنا رے آدمی کی نظر سے اوجھل ہیں ۔ اوجھل کیوں ہیں۔؟ اس لئے کہ آدمی خو د اپنی ابتدا و انتہا سے نا واقف ہے ۔ وہ زبا نی کلا می جا نتا ہے کہ میں زمین پر غیب سے ظا ہر ہوا اور مظا ہر ہ کر کے یہا ں سے غا ئب ہو جا ؤں گا ۔ لیکن  غیب کیا ہے ، کہا ں ہے اور زمین کیا ہے ، اس سے بےخبر ہے ۔ وہ غیب سے آیا ہے ، جب غیب کی خبر نہیں تو اس کا مظا ہر ہ اس کے لئے لا علمی ہے کیو نکہ جو کچھ غیب میں ہے ، وہی ظا ہر ہوتا ہے ۔ وہ غیب کے ظا ہر ہونے کو دیکھنے کے بجا ئے ذہن کے دیکھنے کو دیکھتا ہے ۔ اپنی لا علمی کے علم کا مشا ہدہ کر تاہے ۔

                          غیب روشنی کی دنیا ہے ۔روشنی کا مظا ہر ہ رنگ میں ہو تا ہے کہ رنگ کے بغیر روشنی نظر نہیں آتی ۔ بلب جلنے سے کمر ے میں منا ظر روشن ہو تے ہیں  تو اطمینا ن ہو تا ہے کہ حقیقی نہیں تو کم سے کم مصنو عی روشنی سے واقفیت ہے ۔ حقیقی روشنی دور کی با ت ، ہم نے مصنو عی روشنی بھی نہیں دیکھی کیو ں کہ جسے ہم روشنی سمجھتے ہیں ، وہ رنگ ہے ۔

          گرڈ اسٹیشن سے  بجلی آتی ہے اور تاروں میں سے گزر کر بلب میں داخل ہو تی ہے ۔ بجلی کا رنگ وہ نہیں ہے جو بلب کے ذریعے ظا ہر ہوتا ہے ۔ بلب کا بیرونی شیشہ زرد ، سبز ، نیلا، سرخ، نا رنجی یا جس رنگ کا ہو ، وہ رنگ کمرے میں پھیلتا ہے تو نظر آتا ہے کہ کمر ا روشن ہو گیا۔ کمرا روشن نہیں ہوا۔ ۔۔ بلب کے رنگ کے مطا بق رنگین ہوا ہے ۔ ہم اس رنگ کو روشنی سمجھتے ہیں جب کہ روشنی سے ہم نا واقف ہیں ۔ اگر بلب کا بیرونی شیشہ ٹرانسپیرنٹ ہے  تو اندر میں مخصو ص میکا نزم کی وجہ سے کمر ے میں سفید رنگ کا غلبہ ہوتا ہے ۔ کہا جا تا ہے کہ روشنی ہو گئی جبکہ یہ سفید رنگ ہے جو روشنی کے لئے غلا ف بن  گیا ہے ۔

          ہم بجلی کو نہیں دیکھتے بلکہ رنگین بلب کے دیکھنے کو دیکھتے ہیں ، اسی طر ح غیب سے اطلا عا ت جس روشنی میں ظا ہر ہو تی ہیں ۔ وہ ہما ری نظر سے اوجھل ہیں ، ہم بلب کے شیشے کی طر ح دما غ پر چڑھے ہو ئے رنگین غلا ف کے دیکھنے کو دیکھنا کہتے ہیں۔

          یہ لا علمی کا ۔۔۔ علم ہے ۔

**----------------------------**

          غیب کیا ہے ۔ ۔۔۔آدمی  جن رنگو ں سے مانوس ہے ، ان سے ماورا ء رنگ اس کے لئے غیب ہیں ۔ وہ چیزوں کو ما نوس رنگو ں کے ڈائی مینشن میں دیکھتا ہے ، حسِ بصار ت سے ماوراء رنگ ، ان رنگوں سے بنی ہو ئی اشیا ء اور دوسری دنیا ئیں اسے نظر نہیں آتیں ۔

          مثا ل۔ زمین و آسما ن کے درمیا ن فضا  کو دیکھیے ۔ فضا میں انتہا ئی چھوٹی ، چھوٹی ، بڑی اور بہت بڑی مخلوقا ت آبا د ہیں۔ بتا یا جا تا ہے کہ دوسو میل اوپر جنات کی دنیا ہے ۔ ۔۔ ارضی فرشتی بھی موجو دہیں یعنی فضا رنگوں سے آبا د ہے مگر نوعِ آدم کو خا لی نظر آتی ہے ۔ یہ خا لی نہیں ہے کہ کہکشانی نظاموں سے زمین پر آنے والی اطلا عات کی لہریں ہمہ وقت اس سے گزر تی ہیں ۔ ان لہروں میں رنگین تصویریں ہیں ۔ جب لہریں زمین کی اسکرین پر نقش ہوتی ہیں تو قسم قسم کے رنگ نظر آتے ہیں ۔ یہ وہ رنگ ہیں جن سے ہم مانوس ہیں ۔ یہ وہ رنگ نہیں ہیں جن سے زمین و آسما ن کے درمیا ن فضا آبا د ہے ۔ اگر یہ وہ رنگ ہوتے تو زمین پر مظا ہر ے سے پہلے فضا ہمار ے لیے اسکرین بن جا تی اور اس میں آبا دمخلو ق کا ادراک ہوتا ۔

          آدمی وہ دیکھ رہا ہے جو نہیں ہے ۔ دیوار سے چھ فٹ کے فاصلے پر پا نچ افراد جمع ہوں ۔ پا نچ منٹ تک دیوار پر نظریں جماعیں اور بتا ئیں دیوار کیا ہے ۔ کسی کو دیوار رکا وٹ نظر آئے گی ، کو ئی رنگ کی بات کرے گا، چند لوگ بتا ئیں گے کہ دیوار ریت کی ہے لیکن کو ئی نہیں کہے گا کہ دیوار خلا ء ہے جبکہ دیوار خلا ء ہے ۔ صاحبِ نظر خواتین و حضرات فرما تے ہیں کہ جو چیز جتنی بھا ری ہو تی ہے ، اسی مناسبت سے اس خلا ء (سوراخ) ہوتا ہے ۔ دیوار میں سے ہوا آر پا ر ہو جا تی ہے ۔ مجمو عی طور پر یہ بات لکھی جا سکتی ہے کہ دیوار خلا ء پر قا ئم ہے ۔ اندر کی نظر ۔۔۔ دیکھتی ہے کہ دیوار میں بڑے بڑے سوراخ ہیں جن کی بنیا د پر دیوار قا ئم ہے ۔ کمر ہ بنا ئیے جس میں کھڑکی دروازے نہ ہوں ۔۔۔۔ کمرے میں ہوا موجود ہوتی ہے یعنی پتھر میں مو ٹے موٹے سوراخ ہیں۔ پتھر کی پیدائش کا میکا نزم خلا ء ہے ۔ یہی صورت لو ہے کی موٹی پلیٹ کی بھی ہے ۔ محقق کیا کہتے ہیں ، اس سے قطعی نظر اندر میں نگا ہ دیوار میں سوراخ در سوراخ دیکھتی ہے ۔ دیوار کے جس حصے پر ذور دار ضر ب لگا ئیں ، آواز ریت کے ذرات کے اندر خلا ء میں گونجے گی اور دیوار منہدم ہو جا ئے گی ۔ جو حصے زمین پر گریں گے ، آخر ی حد تک انہیں توڑا جا ئے تو خلا ء کے علا وہ کچھ نظر نہیں آئے گا۔

**----------------------------**

          دیوار کی طرح آدمی بھی خلا ء ہے ۔ جس میں روشنی کی وجہ سے حر کت ہے ۔ وہ جسم کو رنگین اور رنگوں کو بنتے بکھرتے دیکھتا ہے ۔ لیکن ان رنگوں میں روشنی نہیں دیکھتا  جب کہ روشنی سے اس کی ابتدا ء ہو ئی ہے ، یہی اس کی انتہا ہے اور اسی روشنی کی وجہ سے سنتا ہے ، دیکھتا ہے ، محسوس کرتا ہے ، سوچتا ہے ، بات کرتا ہے ، چلتا ہے ، سوتا ہے ، جاگتا ہے ، کھا تاہے ، پیتا ہے اور زندگی کے تقا ضے پورے کر تا ہے ۔ جس لمحے روشنی کی آمد معطل ہو تی ہے ، مٹی سے بنے آدمی کا سفر رک جا تا ہے ۔

          آسما نوں اور زمین کی طر ح آدمی بھی کناروں میں بندھ ہے ۔ کہیں سے اس کی ابتدا ء ہو تی ہے اور کہیں پر اس کی انتہا ہے ۔ ابتدا ء روشنی سے ہو تی ہے اور انتہا بھی روشنی ہے ۔ جس کے نظر نہ آنے کو ہم خلا ء کہتے ہیں ۔ لہذا جب تک روشنی مشا ہدہ نہیں بنے گی ، آدمی جسم کے کناروں سے آزاد ہوگا۔ نہ زمین و آسما ن کے کنارے اس پر روشن ہو ں گے۔

          آسما ن ایک نہیں ہے اور زمین بھی ایک سے زیا دہ ہے۔ ہر زمین پر مخلوق آبا د ہے ۔ سات آسما نو ں اور انہیں کی طرح زمینین متوجہ کرتی ہیں کہ ہر شے کا نقطہ آغاز ہے اور ہر شے اختتا م پزیر ہے ۔ ایک کنا رہ ہے جس سے سفر شروع ہو تا ہے اور ایک کنا رہ ہے جس پر منزل تما م ہوتی ہے ۔ اس طرح سات منزلوں  سے گزر کر وہ مقا م آتا ہے جہاں سے نظا مِ زندگی جا ری ہوتا ہے ۔ قرآن کریم میں ارشا دہے ،

          "جس نے آسما نوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیا ن، چھ ایا م میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹہرا۔ وہ رحمٰن ہے ۔ اس کا حال کسی با خبر سے دریا فت کرو۔ "

                             (الفرقا ن ۔ ۵۹)

آدمی ایک زمین کا مکین نہیں ہے ۔ کا ئنا ت میں جتنی زمینیں ہیں  ، وہ سب سے گزر کر اس دنیا میں آیا ہے ۔ اس کا شر ف یہ ہے کہ یہاں سے جا نے سے پہلے زمین کے کناروں سے آزاد ہو۔ رب العالمین اللہ کا ارشا دہے ،

          "اے گروہ جن و انساں! تم آسما نوں اور زمین کے کناروں سے نکل کر دکھاؤ ۔ تم نہیں نکل سکتے مگر سلطان سے ۔"

                                                                                                (الرحمٰن ۔ ۳۳)

                                                          اللہ حافظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

·       سات منزلوں ۔ سات زمین اور سات آسمان

·       سلطا ن  ۔ سلطا ن کیا ہے ۔

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔