Topics

تخلیق کائنات کے رموز۔ماہنامہ قلندر شعور۔ جنوری 2019

امام سلسلہ عظیمیہ

ابدال ِ حق حضور قلندر بابا اولیا

تخلیق کائنات کے رموز

­­­ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 

 

 

انسان کے شعور کو پہلے دن سے رنج و راحت کا احساس رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے رنج و راحت کی وجہ معلوم ہو تا کہ رنج سے محفوظ رہے اور راحت کو برقرار رکھ سکے۔ وہ راحت کو نہیں چھوڑتا۔ اس لئے راحت کے ضائع ہونے کا خوف و ملال بھی اس کے دل سے نہیں نکلتا۔ وہ کسی نہ کسی طرح رنج سے دور رہنے اور راحت سے قریب ہونے کی ضمانت چاہتا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کے سبب خود کو حوادث پر قابو پانے کے لائق نہیں سمجھتا۔ لہٰذا کسی ایسی طاقت کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے جس سے اس کو راحت کی ضمانت مل سکے۔ یہی مخفی طاقتوں کی تلاش کا موجب ہے۔ قرآن پاک نے" یُؤْ مِنُوْنَ بِالْغَیْب "میں اس ہی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پھر جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی لامتناہی صفات کا تذکرہ ہے۔ یہیں سے راحت کی ضمانت ملتی ہے۔

کوئی انسان خود اعتمادی کا دعویٰ کر سکتا ہے لیکن رنج و راحت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ البتہ غیب پر ایمان لانے کے بعد اسے بہتری کا یقین ہو جاتا ہے۔ غیب پر ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ غیب جو کچھ ہے بہترہی بہتر ہے، کیونکہ غیب رحیم و کریم کے ہاتھ میں ہے۔

" اور کسی آدمی کی حد نہیں کہ اس سے باتیں کرے اللہ مگر اشارہ سے یا پردہ کے پیچھے سے یا بھیجے پیغام لانے والا۔"(الشوریٰ: 51)

اوپر کی آیت میں انسانی حواس کی رسائی بیان ہوئی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کو مخاطب کرتے ہیں تو اشارہ کرتے ہیں۔ یہ ہے دل کہ دیکھ لیتا ہے اور جان لیتا ہے۔ دل کے دیکھنے کا تذکرہ بایں الفاظ کیا گیا ہے۔

"جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا۔" (النجم: 11)

اوپر کی آیات سے انسانی حواس کی حدیں دو طرزیں معین ہو جاتی ہیں۔ انسانی حواس جب کسی نقطہ پر ٹھہرتے ہیں تو اس ٹھہراؤ کا نام شئے ہے اور یہ شئے ایک شکل وصورت رکھتی ہے۔ دراصل یہ ایک لمحہ ہے جس سے خود حواس کو جسم حاصل ہو جاتا ہے۔ حواس اس جسم کو خارجی اور معروضی دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کی طرز اس کے علاوہ نہیں ہوسکتی کہ حواس خود کو اپنے بالمقابل دیکھیں اور خود ہی کو خود سے ایک الگ شئے قرار دیں۔ زندگی کی تمام حرکات و سکنات اس طرز نگاہ کی مثالیں ہیں۔

 اصولاً جب حواس کسی طرف اشارہ کرتے ہیں تو اشارتاً اندرونی خدوخال کو بیرونی بنا دیتے ہیں۔ جب حواس خود کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں ’’میں‘‘ تو یہ ’’میں‘‘ صرف خلاء ہوتی ہے، بالکل سادہ اور شفاف۔ گویا حواس اپنے نقش و نگار کی طرف اشارہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایک بے رنگ شئے کا تذکرہ کر رہے ہیں جو صرف خاکہ ہے۔

اب حواس ’’میں‘‘ کی رنگینیوں اور نقش و نگار کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں۔ میں نے یہ کہا، میں نے وہ کیا، دیکھو یہ چاند ہے، یہ ستارے ہیں۔ یہ چاند اور ستارے وہ ہیں جن کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں۔ اس طرز میں حواس اپنی ذاتی حرکت کو قریب یا بعید دیکھتے اور اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔ یہ محض کائناتی حواس کا انداز نظر ہے۔ یہ وہی حواس ہیں جو فرد کے اندر ’’میں‘‘ بن جاتے ہیں۔ اور اشارۂ قریب و بعید کے ذریعے اپنی تکرار کرتے ہیں۔

"کیا نہیں پہنچا انسان پر ایک وقت زمانے میں جو تھا شئے بغیر تکرار کیا ہوا۔" (الدھر: 1)

کبھی انسان ایسا وقت (حواس) تھا جس میں تکرار نہیں تھی۔ پھر ایسا وقت (حواس)  ہوا جس میں تکرار ہے۔ یہاں صرف دو ایجنسیاں زیر بحث ہیں۔ ایک حواس، نمبر دو حواس کی تکرار۔ یہ دونوں ایجنسیاں ایک یونٹ ہیں۔ اس مطلب کی وضاحت اس آیت میں میں کی گئی ہے۔

(کہو اے اللہ)تو رات کو داخل کرتا ہے دن میں اور دن کو داخل کرتا ہے رات میں، تو زندگی کو موت سے نکالتا ہے اور موت کو زندگی سے نکالتا ہے۔( آل عمران۔ آیت ۲۷)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا دستور العمل بیان فرمایا ہے۔ رات حواس کی ایک نوع ہے اور دن حواس کی دوسری نوع۔ رات کے حواس کی نوع میں مکانی اور زمانی فاصلے مردہ ہو جاتے ہیں لیکن دن کے حواس کی نوع میں یہی فاصلے زندہ ہو جاتے ہیں۔

زید خواب دیکھتا ہے کہ وہ اپنے ایک دوست سے باتیں کر رہا ہے۔ حالانکہ اس کا دوست دور دراز فاصلے پر رہتا ہے۔ خواب میں زید کو یہ احساس بالکل نہیں ہوتا کہ اس کے اور دوست کے درمیان کوئی فصل ہے۔ ایسے خواب میں مکانی فاصلے صفر ہوتے ہیں۔

اس ہی طرح زید گھڑی دیکھ کر رات کے ایک بجے سوتا ہے۔ خواب میں ایک ملک سے دوسرے ملک تک ہفتوں کا دور دراز سفر طے کرتا ہے۔ راستے میں منزل پر قیام بھی کرتا ہے۔ ایک طویل مدت گزارنے کے بعد گھر واپس آتا ہے۔ آنکھ کھلتے ہی گھڑی دیکھتا ہے۔ اب بھی ایک ہی بجا ہے۔ اس قسم کے خواب میں زمانی فاصلہ صفر ہوتا ہے۔ یہ رات کے حواس کی نوع ہے۔ جو فاصلے اس نوع میں مردہ ہوتے ہیں وہی فاصلے دن کے حواس میں زندہ ہو جاتے ہیں۔ خواب کی نیچر میں مکانی زمانی تمام فاصلے معدوم ہو جاتے ہیں۔

قرآن پاک کا یہی ارشاد ہے رات کی نوع دن میں داخل ہو جاتی ہے اور دن کی نوع رات میں۔ رات اور دن میں ادراک مشترک ہے۔ محض فاصلے مرتے اور جیتے ہیں۔ رات کے حواس کتاب المبین (لوح محفوظ) ہیں اور دن کے حواس کتاب المرقوم ہیں۔ ان دونوں میں ایک چیز مشترک ہے۔ ہم اس چیز کا مظاہِر قدرت میں مشاہدہ کرتے ہیں۔

مثلاً زید اور محمود دونوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ چراغ جل رہا ہے۔ چراغ کی روشنی میں زید محمود کو اور محمود زید کو دیکھ رہا ہے۔ دونوں کے لئے روشنی دیکھنے کا ذریعہ ہے۔ اب روشنی کی رفتار بیک وقت دو سمتوں میں ہے۔ (دوسری طرف) زید کی سمت سے روشنی محمود کی آنکھ تک پہنچتی ہے اور محمود کی سمت سے روشنی زید کی آنکھ تک پہنچتی ہے۔ یہ ایک ہی چراغ کی روشنی جو محمود سے زید تک اور زید سے محمود تک سفر کر رہی ہے۔ سفر کی سمتیں مختلف ہیں لیکن روشنی کا مخرج ایک ہے۔ یا پھر یوں کہیں گے کہ روشنی ایک ہے۔

اس روشنی کے احساس میں کوئی ایسی شئے ہے جو بیک وقت دو سمتوں میں سفر کرتی ہے۔ اور اس کے آثار یکساں ہیں۔ امتیاز کہاں ہے؟۔۔۔ یہی روشنی جو تصورات زید میں پیدا کرتی ہے، وہ زید کے تصورات کہلاتے ہیں۔ یہی روشنی جو تصورات محمود میں پیدا کرتی ہے، وہ محمود کے تصورات کہلاتے ہیں۔ یہ فرق مشاہدہ کرنے والے کے زاویۂ نظر کا ہے۔

یہاں سے مظاہر کا یہ قانون منکشف ہو جاتا ہے کہ سمتوں کی تبدیلی روشنی میں نہیں بلکہ مشاہدہ کرنے والے کے زاویۂ نگاہ میں ہے۔ اس کی وجہ وہ مرکزی نقطہ ہے جس کو مشاہدہ کرنے والے کی ذات کہتے ہیں۔ یہ وہی ذات ہے ذات باری تعالی سے متصل ہے۔ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْد میں اس ہی اتصال کا تذکرہ ہے۔

 

یہاں یہ نکتہ غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر لفظ ’ہم‘ استعمال کیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کثرت میں ہر ایک فرد کی ذات کے ساتھ خود کو وابستہ کر رہے ہیں۔ ہر فرد کی منفرد حیثیت اس ہی لئے اپنی جگہ قائم ہے۔

روشنی کا مرکز ایک ہی چراغ ہے۔ زید اور محمود دونوں کو ایک ہی چراغ سے روشنی مل رہی ہے۔ البتہ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ تغیر روشنی میں واقع نہیں ہوتا۔ روشنی بدستور اپنی حالت پر قائم ہے۔ صرف زید اور محمود کے طرز بیان میں تغیر ہے کیونکہ وہی روشنی زید میں زید کی تصویر حیات ہے اور محمود میں محمود کی۔تصوف میں اس طرز کو مرتبہ کہتے ہیں۔

اگر ہم مرتبہ کا ترجمہ عام زبان میں کرنا چاہیں تو انگریزی کا ایک لفظ ’میکانزم‘ استعمال کر سکتے ہیں۔ میکانزم کی اساس ایک ہے۔ فقط نام الگ الگ ہیں۔ یہی میکانزم یا مرتبہ لاشمار انواع پر مشتمل ہے۔ یہی میکانزم آدمیوں میں زید اور محمود ہے اور یہی درختوں میں آم اور بادام ہے۔ ایک ہی روشنی ہے جو ان سب کی شکلیں بناتی ہے۔ یہ میکانزم (مرتبہ) ایسے سیاہ نقطوں سے بنا ہے جو کائنات کی اصل ہے۔ ان سیاہ نقطوں کو تجّلی  کہتے ہیں۔

ہر لفظ کا مشرق ہے نہ مغرب ساقی

ہر لفظ کا کوئی نہیں نائب ساقی

چپ چاپ ہیں سب شیشہ و جام و مینا

ہر لفظ ہے سامنے سے غائب ساقی

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔