Topics

اللہ کا رنگ ۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔ مار چ 2023

 

آج کی با ت

اللہ کا رنگ

ابدال حق حضور قلندر بابا اولیا ؒ کے 44 ویں عرس کے مو قع پر محترم عظیمی صاحب کا خطاب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

          السلا م علیکم ورحمتہ اللہ وبرکا تہ،

          بہت عزیز دوستو، نہا یت مخلص بزرگو، پیا رے بچو۔۔۔ آپ کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کو تلا ش کو تلا ش کر نے کا جذبہ عطا فر ما یا ہے ۔ آپ کو معلو م ہے کہ ہم سب آدم ؑ و حواکی اولا د ہیں ۔ غو رو فکر کر تے ہیں تو آدم ؑ و حوا ؑ کی بہترین تخلیق ہیں ۔

          اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ و حواؑ  کو جنت میں بہترین مقا م عطا فرما یا لیکن ساتھ ہی تاکید کی کہ پھو ل پتیوّں میں اور درخت کے نقشوں میں ہر چیز تمہا رے لئے ہے مگر اس میں تما م اچھی چیزیں ، اچھی با تیں ، اچھی مخلو ق کے ساتھ ایک پا بندی ہے اور وہ پا بند ی یہ ہے کہ ہزاروں لا کھوں درختوں کے ہجو م میں ایک درخت ایسا ہے جس کے قریب نہیں جا نا اور نہ کھو ج لگا نا ہے کہ اس درخت کا میکا نز م کیا ہے ۔

          یہ سمجھئے کہ جنت میں شما ریا ت سے زیا دہ درختوں کی موجو دگی میں ایک درخت ایسا ہے جو ہمہ وقت رنگ تبدیل کر تا ہے ۔ ابھی وہ نیلا ہے ، تھو ڑی دیر میں زرد پھر سبز اور سر خ ہے ۔ آدم ؑ سے سہو ہوا ، وہ اس درخت کے قریب چلے گئے اور رنگ کی مسلسل تبدیلی کو دیکھا تو ہر رنگ میں ایک نئی تکنیک دیکھی ۔ آدم ؑ کے ذہن میں آیا کہ یہ رنگ سر خ ہے ، بہت خو ب صورت ، شفا ف ، چمک دار سرخ رنگ ، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ رنگ تبدیل ہو گیا ۔ سر خ سے نیلا ہو گیا اور نیلا رنگ سرخ سے زیا د ہ دل زیب تھا ۔

          آدم ؑ نے غو ر کیا کہ یہ تو سرخ سے زیا دہ خو ب صورت ہے ۔ غوروفکر کر رہے تھے کہ یہ رنگ کیا ہے ، رنگ تبدیل ہو گیا ۔ قصہ کو تا ہ اس کی شا خوں ، پتوں ، پھو ل اور ساخت میں رنگوں کی مسلسل تبدیلی دیکھ کر آدمؑ کے اندر میں خیا ل آیا کہ یہ رنگ سرخ ہے ۔ اب جب سرخ سے نیلا ہوا تو کہا یہ نیلا ہے یعنی ان کے اندر شک پیدا ہو گیا کہ یہ رنگ نیلا ہے ۔ اتنی دیر میں وہ سبز ہو گیا۔ غو رکیجیئے۔

          اللہ تعالیٰ نے جنت بنا ئی ۔ خو ب صور تی کے لئے اس کے اندر لا شما ر پھول لگا ئے ، درخت بنا ئے۔ ایک درخت کے با رے میں فرما یا کہ اس کے قریب نہیں جا نا او ر اس پر غور و فکر نہ کر نا ۔ پھر کیا ہوا۔؟ ہو ا یہ کہ سرخ رنگ ہزاروں لا کھوں رنگوں میں تبدیل ہو گیا ۔ ہزاروں رنگوں میں تبدیل ہو نے کا مطلب ہے کہ کسی ایک رنگ پر یقین نہیں رہا۔ جتنے رنگ تھے ، ان میں illusion (فریب ِنظر)  ہو گیا یعنی ۔ یقین کی جگہ شک پیدا ہوا، بے یقینی پیدا ہو گئی ۔ کبھی وہ کہتے تھے کہ سر خ ہے ، کبھی کہتے تھے کہ نیلا ہے ۔ جب دیکھا نیلا ہے تو نیلا کہہ دیا اور نیلے کو نیلا ہی سمجھا ۔

          رنگوں میں مسلسل تبدیلی ہو تی رہی تو سر خ نگ کا یقین بے شما ر رنگوں میں تقسیم ہو تا رہا ۔  بے شما ر رنگوں میں تقسیم ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ یقین ۔ بے یقین بن گیا۔ ذہن یکسو نہیں رہا کہ یہ رنگ کون سا ہے اور یہ بھی یقین نہیں رہا کہ یہ رنگ سر خ نہیں ہے ، نیلا ہے ، نیلا نہیں ہے ، بینگنی ہے ۔

          سوچنا یہ ہے کہ جنت کے لا شما ر درختوں  میں ایک درخت ایسا ہے جس پر غوروفکر کر نے سے شک پیدا ہوگیا  ۔ کبھی کہتے ہیں نیلا ہے ،  کبھی کہتے ہیں سر خ ہے ، کبھی سمجھتے ہیں کو ئی اور رنگ ہے ۔ آ پ اس با ت سے کیا سمجھے ؟

          مطلب یہ ہو اکہ یقین بے یقینی میں تبدیل ہو گیا ۔ یقین پر بے یقین ہو نے کا پر دہ  آگیا ۔ ابھی کہا یہ سر خ ہے ، نہیں نہیں ! یہ تو نیلا ہے ۔ کیا مطلب ہوا؟ شک پیدا ہوگیا ۔

          اللہ تعا لیٰ نے قر آ ن کریم میں سو رۃ البقرۃ کی دوسری آ یت میں فرما یا ہے ،

          ذٰلک الکتٰب  ۔ یہ کتا ب یعنی قر آن پا ک

          لا معنی نہیں ، ریب معنی شک، فیہ ۔۔۔ اس میں

          لاریب  فیہ  ۔ اس میں شک نہیں ہے ۔

          جب آدم ؑ درخت  کے قریب گئے اور نیلے رنگ  کو سر خ دیکھا تو شک پیدا ہو ا اور رنگ کی مسلسل تبدیلی کی بنا پر شک بڑھتے بڑھتے جو کچھ جنت کی فضا میں اللہ تعالیٰ کے انعا ما ت و اکراما ت مو جو د ہیں ، ان کے اوپر پر دہ آگیا ۔

          جنت میں شک نہیں ہے ۔ جب درخت کی رنگی  اور اس رنگینی کو مسلسل تبدیل ہو تے دیکھا تو ذہن میں کیا آیا ۔۔۔؟ ایک جگہ دس رنگ ہیں ۔ دس رنگ الگ الگ تبدیل ہو رہے ہیں ، آ پ اس کو کیا کہیں گے ۔۔۔ ؟ رنگ تبدیل ہو رہے ہیں ۔ رنگ تبدیل ہو گئے تو اس کا مطلب ہے کہ رنگ کی انفرادیت سوالیہ نشا ن بن گئی۔

          اللہ تعالیٰ فر ما تے ہیں کہ رنگوں میں سب سے اچھا رنگ اللہ کا ہے ۔

          پہلی با ت جو ذہن میں آئی ، وہ کیا ہے ۔۔؟ دیوا ر پر سر خ رنگ ہے پھر نیلا ہو گیا ، نیلے کے اوپر سبز ہو گیا تو کیا تبدیلی واقع ہو ئی۔۔ ؟ سفید کے اوپر سر خ کر دیا ، سر خ کے اوپر نیلا کر دیا، نیلے کے اوپر سبز کر دیا، رنگ تو سب مو جو د ہیں لیکن اصل رنگ کہا ں گیا ۔۔ ؟ سوچئے ۔۔۔ اصل رنگ کہا ں گیا ؟ سیدھی سی با ت ہے ، سفید رنگ کے اوپر آپ نے کا لا کر دیا ، سفید چھپ گیا ، کا لا غالب ہو گیا۔ پھر کو ئی اور رنگ دیا ، وہ غالب ہو گیا اور کالا چھپ گیا یعنی یقین کی دنیا میں ۔۔۔ ؟ جو اصلی رنگ تھا ، وہ پر دے میں چلا گیا ۔

          جب سفید رنگ چھپ گیا تو آپ کس رنگ کے ہیں۔۔۔؟

          لال ہیں ، پیلے ہیں ، کا لے ہیں ، کیسے ہیں ۔۔۔؟ ایک آدمی ہے ، اس کا اصلی رنگ سفید ہے ۔ اب ا س میں دس رنگوں کی تہ ہے ۔ اس کو کیا کہیں گے ؟

·       حا ضرین : اصلی رنگ سفید ہے لیکن الوژن نظر آرہا ہے ۔

الوژن نہیں کہیں گے ۔ وہ کہیں گے کہ نیلا ہے ۔ جو دس گیا رہ رنگ اوپر نیچے آگئے، اس سے کیا ہوگا ۔۔ ؟ ذہن نفی ہو جا ئے گا۔ کچھ سمجھ میں آیا یا آگے عرض کروں؟

اللہ تعالیٰ نے قر آن پا ک میں فرمایا، رنگوں میں سب سے اچھا رنگ اللہ کا ہے ۔

جس چیز میں ردوبدل ہو تا ہے ، وہ سب سے اچھا نہیں ہو تا۔ اگر اچھا رنگ ہے تو وہ اچھا ایک ہے ۔ سفید اگر رنگ ہے تو وہ سفید ہی ہے ۔ سفید رنگ کو دیکھ کر آ پ سر خ نہیں کہیں گے ، نیلا پیلا نہیں کہیں گے ، کیا کہیں گے؟

·       حا ضرین :          سفید کہیں گے۔

اب اس کے اوپر نیلا رنگ کر دیں۔ اب کیا کہیں گے ؟

·       حا ضرین : نیلا کہیں گے ۔

نیلا کہیں گے ۔ سفید کہا ں گیا؟

·       حا ضرین : چھپ گیا۔

نفی ہو گیا ، آپ اس کو بھول گئے ، چھوڑدیا حا لاں کہ رنگ سفید مو جو د ہے لیکن جب اس میں نیلا رنگ ہو اتو آپ نے کیا کہا؟

·       حا ضرین : نیلا نظر آرہا ہے ۔

نیلا آپ کو نظر آرہا ہے ، کیا وہ الوژن نہیں ہے ۔۔۔؟ اس کے اوپر آپ نے ایک اور رنگ ڈال دیا۔ یہ الوژن کی تہ جن گئی ۔ جب آدم ؑ اس درخت کے قریب چلے گئے اور انہوں  نے رنگوں کو اور رنگوں کی تبدیلی کو دیکھا تو ان کے ذہن میں کیا آیا ؟

·       حا ضر ین : رنگ بدل رہے ہیں۔

جو رنگ نظر آرہا ہے بس وہ رنگ ہے ۔ یہ نیلا رنگ ہے ۔ نیلے کے نیچے کتنے رنگ ہیں ، وہ غا ئب ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ یہ طر ز دھو کے کی ہے ، پریشا نی کی ہے ، شک کی ہے ، بے یقینی کی ہے یا یقینی کی ہے ؟

·       حا ضرین : بے یقینی کی ہے ۔

جب ہم یہا ں رنگوں کی تبدیلی دیکھتے ہیں تو ہما ری زندگی یقین ہے یا الوژن (بے یقینی) ؟

·       حا ضرین: بے یقینی ہے ۔

تو اب ہما ری پو ری زندگی بھی بے یقینی ہے ۔ ایک دن کا بچہ جب دس دن کا ہو تا ہے ، دس دن آپ کو نظر نہیں آتے۔ آپ کیسے کہتے ہیں کہ یہ دس دن کا بچہ ہے ۔۔ ؟ بچہ ہے وہ لیکن اس کا ایک دن تبدیل ہو کر اس کے اوپر دس کی  چھاپ پڑ گئی۔ ٹھیک ہے ؟

          شک سے  الوژن پیدا ہوا۔ یہ نہیں ، یہ ہے ۔ یہ نہیں ، وہ ہے ۔ نتیجہ کیا نکلا ؟

·       حا ضرین : شک ، بے یقینی ۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اصل رنگ بھول گیا۔ اصل رنگ ذہن میں آہی نہیں رہا۔ یہ وہ غلطی ہے جو جنت میں ہو ئی کہ یقین کی دنیا الوژن میں بدل گئی ۔ جب یقین کی دنیا الوژن میں بدل گئی توجنت کا وہ رنگ ہی نہیں  ۔ جنت کا اصل رنگ بھو ل کے خا نے میں گم ہو گیا۔

 اس  با ت کو پھر سمجھئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما یا کہ ساری جنت تمہا ری ہے لیکن ایک درخت ہے ، ایک درخت، اس کے قریب نہیں جا نا یعنی ۔۔؟ یقین کو نہ توڑنا۔

جب حکم عدولی ہو ئی تو یقین الوژن بن گیا۔

صبخۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغہ

" اللہ کا رنگ اور اللہ کے رنگ سے اچھا کس کا رنگ ہے ؟"  ( البقرۃ :۱۳۸)

اس آیت سے الوژن کی نفی ہو گئی۔

          جب آدم ؑ سے نا فرما نی ہو ئی تو جنت سے نکا ل دیئے گئے ۔ دنیا میں آکر دیکھا کہ یہا ں تو کو ئی چیز بے رنگ نہیں ۔ اب جتنی زیا دہ رنگوں میں دلچسپی بڑگی ، اسی منا سبت سے کیا ہوا ؟

·       حاضرین : اصل رنگ بھول گئے۔

نا فرما نی ، نا فرما نی ، نا فرما نی ہو تی رہی ۔ دوسری با ت یہ کہ جنت میں کو ئی چیز تبدیل نہیں ہو رہی اور دنیا میں آنے کے بعد ہر چیز تبدیل  نہیں ہو رہی اور دنیا میں آ نے کے بعد ہر چیز تبدیل ہو رہی ہے ۔ درخت وہ رنگین ، پھو ل ، کپڑے ، کھا نے پینے ، مخلوقا ت سب رنگین ۔ اصل رنگ کہا ں گیا ؟

·       حا ضرین : ہم بھول گئے۔

بھو ل نہیں گئے ، تر ک کر دیا ۔ اس کو چھوڑدیا ، نا فرما نی ہو ئی ۔ جب اس رنگ کو تر ک کردیا تو آواز  آئی ۔  جنت سے نکل جا و یعنی جنت میں الوژن نہیں ہے ، دھو کا نہیں ہے ، فریب نظر نہیں ہے  لہٰذا جہا ں فریب نظر  ہے ، وہا ں چلے جا و۔ بتا یئے ، ابا آدم ؑ کہا ں گئے؟

"پھر ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہا ری بیو ی دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفرا غت جو چا ہو کھا و

 مگر اس درخت کا رخ نہ کر نا ورنہ ظالموں میں شما ر ہو گے ۔ (البقرۃ: ۳۵)

          سامعین ! بتا یئے کہ ظا ہر دنیا میں ، کپڑوں میں ، دیواروں میں کو ئی شے بے رنگ ہے ؟ رنگ کا مطلب ہے کہ ہر رنگ الگ الگ ہو گا، نہ یہ لا ل ہو گا نہ یہ سفید ہو گا۔ پھلوں میں رنگ ہو گا، دیواروں میں رنگ ہو گا، کپڑوں میں رنگ ہوگا، اندر با ہر اعضا  میں رنگ ہوگا۔

صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ

          اب اللہ کا رنگ کیا ہے ؟ اللہ کا رنگ تو آپ ، ہم ، سب بھول گئے۔

          جب نیلے رنگ کو اصل رنگ پر تر جیح دے دی پھر کیا ہواِ

          جنت میں تبدیلی نہیں ہے ۔ جنت میں رنگ کو ن سا ہے ۔۔۔۔؟

          صبغتہ اللہ ۔۔۔۔ اللہ کا رنگ۔

          اور اللہ کے رنگ میں کبھی تبدیلی نہیں ہو تی ۔

          آپ یہ با ت سمجھے؟

          رنگوں  کی دنیا میں آزاد ہو جا یئے ۔ رنگوں کی دنیا میں آزا د ہو نے کا مطلب ہے کہ رنگ زمین کی تخلیق ہے اور جو اللہ کا رنگ ہے ، صبغتہ اللہ۔۔۔۔ وہ اللہ کا رنگ ہے ۔ جنت میں ابا آدم ؑ سے جو نا فرما نی ہو ئی ، وہ یہ کہ اللہ کے رنگ کو نظر انداز کر کے الوژن رنگ قبول کر لیا۔

          لو گ سو رج میں زیا دہ رہتے ہیں تو کا لے ہو جا تے ہیں ۔ کو ئی با ت نہیں ، سورج سے نکل جا یئے ، کچھ عرصہ سا ئے میں رہئے، سفید ہو جا ئیں گے ۔ تغیر ہے ۔ رنگ میں تغیرہے ۔

          اللہ کے رنگ میں تغیر نہیں ہے ۔

          علا ج یہ ہے ۔ جتنا آپ اللہ کا ذکر کریں گے اور اس غلطی کی معا فی چا ہیں گے ، اس منا سبت سے  سے صبغقہ اللہ سے آپ قریب ہو جا ئیں گے۔

          کسی کو سوال پوچھنا ہے ۔۔۔ ؟

          سوال اس لئے نہیں پو چھنا کہ آپ ابھی تک اس با ت تو پو ری طر ح سمجھے نہیں ۔ گھر جا ئیں ، با ر با ردہرا ئیں پھر یہ با ت آپ کی سمجھ میں آجا ئے گی ۔ انشااللہ ۔

**----------------------------**

ما رچ 2023

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔