Topics

زندگی ایکویشن ہے۔ ما ہنا مہ قلندر شعور ۔ اپریل 2026


آج کی بات

         زندگی ۔ خواب  اور بیداری کی ایکویشن پر غیب سے ظا ہر اور ظا ہر سے غیب ہو تی ہے ۔ ظا ہر اور غیب ایک حقیقت ، حقیقت سے مرا د جس میں تغیر نہ ہو ، کے دو رخ ہیں۔ دورخ کے ہر رخ میں غالب اور مغلوب کا ردّو بدل¹ ہوتا ہے لیکن جب دونوں رخ با ہم ملتے ہیں تو شر ق اور غرب یعنی ڈائی مینشن ہو نے سے ایک ہو جا تے ہیں ۔

         زند گی کی حقیقت سے واقف ہو نے کے لیے خواب اور بیدا ری کو سجھنا ضروری ہے ۔ آدمی شب  و روز نیند کی دنیا میں ظا ہر ہو کر اِس دنیا سے غافل ہو تا ہے پھر نیند کی دنیا سے غا فل ہو کر اِس دنیا میں بیدار ہو تا ہے لیکن نیند کے اُس پا ر جا گنے کو وہ بیداری نہیں سمجھتا، اسے خواب کہتا ہے ۔ خوا ب کیا ہے اور بیدا ری کسے کہتے ہیں ۔۔؟ بیدا ری کا مفہو م ظا ہر ی آنکھوں کے کھلنے بند ہو نے سے ما ورا ہے جب کہ خواب نصف حیا ت پر محیط وہ میکا نزم ہے جو اندر میں صلا حیتوں کو مشا ہدا تی طرزوں میں ظا ہر کر کے آدمی کو illusion سے آزاد ہو نے کی طر ف متوجہ کر تا ہے ۔ مرزا اسد اللہ خاں غالب فرما تے ہیں ،

ہے غیب ، غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود

ہیں خواب میں ہنوز جو جا گے ہیں خواب میں

..__________________________..

         خواب لا محدود صلا حیتوں کی دنیا ہے جب کہ جسے بیداری سمجھا گیا ہے ، وہ صلا حیتوں کا نہا یت محدود اظہا ر ہے۔ زمین پر اترنے سے پہلے جب آدم جنت میں تھا، لا محدود اور محدود دونوں شعو ر اندر میں موجو د تھے ۔ خا لقِ کا ئنا ت اللہ تعالیٰ نے تخلیقی فارمولوں کا علم اور ان فارمولوں پر تصر ف کا اختیا ر عطا کر کے آدم کو جنت میں رہنے کی خوش خبری دی۔ آدم کا مسکن جنت قرار پا یا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرما یا،

         ’اور ہم نے آدم سے کہا، تم اور تمہا ری زوج جنت میں رہو اور جہا ں سے چاہو، خو ش ہو کر کھا ؤ مگر اس شجر کا رخ نہ کرنا ورنہ ظالموں میں شما ر ہو گے۔‘ (البقرۃ : ۳۵)

         عزیز دوستو ، بہنو ، بھا ئیو، میرے بچو! بہت غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طر ف جنت کے لا محدود رقبے کی طرف متوجہ فر ما یا ہے کہ جہاں سے ، جہاں سے جی چاہے ، خوش ہو کر کھا ؤ۔ دوسری طرف آدمی کے اندر موجو د زندگی کے دوسرے رخ کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے شجرِ ممنو عہ کے قریب  جا نے سے منع فرما یا۔۔۔ نتیجے سے خبر دار کیا کہ سترّ ما ؤں سے زیا دہ محبت کر نے والی ہستی اللہ کی حکم عدولی، خو د پر ظلم کر نا ہے ۔

         ہر آدمی اپنے عمل کا شا ہد ہے ۔ سوال یہ ہے کہ فرما ں بر داری کے بدلے نا فرما نی اختیا ر کر نا، خو ف و غم سے آزا د، لا محدود صلا حیتوں کی دنیا کو چھوڑ کر خو د کو اللہ تعالیٰ کے شر ف سے محروم کرنا۔۔۔ نا خو شی کو قبول کر کے اپنے آپ پر ظلم کرنا نہیں ہے۔۔؟

..__________________________..

         جنت میں رہتے ہو ئے جب تک فرما ں برداری رہی ، حواس ارادی طور پر زندگی کے پہلے رخ² سے رنگین رہے۔ مطلب یہ ہے کہ آدم نے جنت میں زندگی کے لا محدود رخ اور صلا حیتوں سے استفادہ کیا جس میں حواس کی رفتا ر ہزاروں گنا بڑھ جا تی ہے ،  فہم اعلیٰ شعو ر میں سفر کر تی ہے اور وہ مناظر نگا ہوں پر روشن ہو تے ہیں جو محدود شعو ر سے اوجھل ہیں لیکن جب آدم سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہیں ہو ئی تو اس وقت ایک ذہن کے دورخ ظا ہر ہو ئے ۔ ایک رخ حکم کی تعمیل ، صر ف تعمیل ۔۔۔ اور دوسرا رخ عدم   تعمیل ہے۔

         عدم تعمیل سے لا محدود حواس پر دے میں چلے گئے اور کا ئنا ت میں لا شما ر عالمین سمیت زندگی ، آدمی کے لیے غیب ظا ہر غیب ہو گئی ۔

         اس تحریر کو اتنی آواز میں پڑھئے کہ ’اپنی آواز ‘ آپ کو سنا ئی دے۔

 

         عدم تعمیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے وسیع و عریض خطے میں جس کی پیما ئش کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے، ایک عمل سے منع فرما یا ۔ قرآن کریم میں اس عمل کو ’شجر‘ کے نا م سے بیا ن کیا گیا ہے ۔ شجر سے مرا د ایسا تخم ہے جس کی نشوونما تخلیق در تخلیق عمل میں آتی ہے ۔

مثال:   جب ہم درخت یا آم کی گٹھلی زمین کے اندر ڈالتے ہیں ، چھپا تے ہیں تو اس کی گٹھلی میں تخلیقی عمل متحرک ہو جا تا ہے ۔ ۔ تخلیقی عمل میں جسما نی وجو د کا اظہا ر اہمیت رکھتا ہے  یعنی ایک شاخ میں دوشاخیں اور اس طر ح بہت ساری شا خیں نمودار ہو تی ہیں ۔ ان شا خوں میں ہر شا خ کے دورخ ہو تے ہیں ۔ ایک ظا ہر وجود، دوسرا با طن وجود ۔ با طن وجود میں جب تخلیقی عمل ہو تا ہے تو اس میں پھول ظا ہر ہو تے ہیں اور جتنے پھل پھول درخت سے وابستہ ہیں ، سب اس ایک وجود کی تفہیم ہے ۔ ۔ خفیہ وجو د کی تخلیق ہے  ۔ یہ تخلیق درخت کا پھل ہے لیکن گٹھلی سے لے کر درخت میں پھل آنے تک کا تخلیقی عمل غیب کے اوپرقائم ہے ۔ جنت کی ہر چیز آدم پر کھلی ہو ئی ہے لیکن تخلیقی عمل میں الف سے ی تک اللہ تعالیٰ کے راز چھپے ہو ئے ہیں۔

         دوسری با ت جو بہت زیا دہ اہمیت رکھتی ہے کہ جو چیز قریب ہو تی ہے ، وہ دور ہو تی رہتی ہے اور جو دور ہو تی ہے ، وہ قریب ہو تی رہتی ہے لیکن ظا ہر اور با چن دونوں ظا ہر ہو تے ہیں اور چھپتے ہیں ۔ اس کو سمجھنے کے لیے آسان مثال یہ ہے کہ بچہ ایک دن کا ہوتا ہے پھر دودن کا ہوتا ہے پھر تین دن کا ہو تا ہے ۔ پہلا دن غا ئب نہ ہو تو دوسرے دن کا وجو د زیرِ بحث نہیں آتا ۔ زندگی دراصل ایکویشن ہے اور یہ ایکویشن مقداروں پر قا ئم ہے ۔ پہلے درخت پھر اس کی شا خیں اور پتےّ۔ شا خوں اور پتوں میں چھپا ہو ا رخ پھل ہے ۔ قا درِ مطلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرما یا ہے ‘

         ’اللہ را ت کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں ۔ بے جا ن میں سے جا ندار کو نکا لتا ہے اور جا ندار میں سے بے جا ن کو۔ اور جسے چاہتا ہے، بے حساب رزق دیتا ہے ۔‘ (اٰل ِ عمران : ۲۷)

         ہر مخلوق کا پہلا رخ چھپا ہوا ہے ۔ دوسرا رخ ظا ہر ہے ، تیسرا رخ چھپا ہوا ہے اور چھو تھا رخ ظا ہر ہے ۔۔۔ اور بالآخر یہ تما م الگ الگ رونما ئی چھپ جا تی ہے ۔ درخت اگر صر ف دس دن کا ہو گا تو گیا رہویں دن غا ئب ہو جا تا ہے ۔۔ یہی عمل ارتقا ہے۔

         مفہو م یہ ہے کہ ہر مخلوق ظا ہر ہو نے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود تھی اور ہے۔ اس موجو دگی کا نا م غیب ہے ، اور غیب ظا ہر ہو تا ہے لیکن ظا ہر، غیب میں چھپا رہتا ہے ۔ غیب چھپتاہے ، وجو د ظا ہر ہو تا ہے ۔ ظا ہر چھپتا ہے ، غیب کی عمل داری ہو تی ہے ۔ با لآخر چھپنے اور ظا ہر ہو نے کا یہ عمل ایسے نقطہ پر رک جا تا ہے جہا ں غیب ظا ہر نہیں ہو تا اور اس کا عمل صر ف اللہ کو ہے۔

         قا رئین خوا تین و حضرات ! آپ نے ’آج کی با ت‘ پڑھی ۔ اس میں رموز ظا ہر اور بہت سے چھپے ہو ئے ہیں لیکن الفا ظ کے پر دے میں کا غذ پر منتقل ہو گئے ہیں ۔ اس تحریر کو ایک سے زیا دہ مرتبہ پڑھئے  ۔ جو سمجھ میں آیا اور نہیں آیا، لکھ کر بھیج دیجئے۔

اللہ حا فظ

خواجہ شمس الدین عظیمی



1.    ایک رخ غالب، دوسرا مغلوب اور کبھی مغلوب رخ غالب ہو جا تا ہے۔

2.    لا شعو ری دنیا میں داخل ہو نے کے حوا س جیسے خواب کے حواس۔

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔