Topics

آدمی کہاں دیکھتا ہے۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔ دسمبر2025


آج کی بات

         ہر آدمی  دیکھتا ہے مگر کیا دیکھتا ہے اور کہاں دیکھتا ہے ۔ ؟ جہاں دیکھتا ہے ، وہاں دیکھنے سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے اوردیکھ بھی رہا ہے یا نہیں۔ اگر ذہن کی سمت ایک ہو تو دیکھنے کا یہ قانون ذہن کی اسکرین پر اس طر ح  منکشف ہو جا تا ہے کہ پھر لا شعو ر اور شعو ر کے درمیا ن " لا " کا فر ق نہیں رہتا¹۔

         قارئین خواتین و حضرات ! ایک منٹ کے لیے پلک جھپکے بغیر اندر میں دیکھئے ۔ اندر میں دیکھنے سے یہ راز کھلتا ہے کہ ہر شے انفرادی ہے لیکن ہر دوسری شے اجتما عی شعو ر ہے ۔ اجتما عی شعو ر کو نظر انداز کر نے سے انفرادیت مر کزِ نگاہ بن جا تی ہے ۔ ہر یونٹ الگ نظر آتا ہے  لیکن تما م یونٹ اپنی نوع اور نو ع کے افرا د کا تسلسل ہیں اور تسلسل اپنے نقطۂ آغاز سے ربط میں ہو تا ہے ۔ ایک آدمی یونٹ کو دیکھتا ہے اور دوسرا تسلسل کو۔ جو تسلسل کو دیکھتا ہے ، اس کے لیے شےاور شے کی نو عی ابتدا کے درمیا ن فاصلے سمٹ جا تے ہیں ۔

..__________________________..

         دیکھنے کےمیکانزم کو سمجھنے کے لیے کیمرا کی کھلی راہ نما ئی کر تا ہے ۔ کیمرے کی آنکھ نہیں دیکھ رہی لیکن ۔۔۔ دیکھ رہی ہے ۔ جب کیمرا یا کو ئی بھی آنکھ پٹ کھولتی ہے او ر بند کر تی ہے تو کیا یہ چھپی ہو ئی روشنی کا مظا ہر ہ نہیں ہے ۔۔۔؟

         دیکھنے کی طر زیں ہیں ۔ آنکھوں کا میکا نزم سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اگر پلک نہ جھپکے تو آنکھوں کونظر نہیں آئے گا ۔ کیمرے کی مثال سے یہ لا ینحل² مسئلہ آسان لفظوں میں بیا ن ہو سکتا ہے ۔ شعو ر کے دائرۂ کا ر میں رہتے ہو ئے کہا جا تا ہے کہ آنکھ دیکھتی ہے ۔

         لیکن اگر آنکھ میں سرچ لا ئٹ نہ کھلے تو نظر نہیں دیکھتی۔

         اور اگر کچھ اور دیکھتا ہے تو شعو رکی حد بندی بیا ن نہیں کر سکتی۔

         مشق:۔  ۔۔ وائٹ بورڈ کے بالکل  بیچ میں ایک دا ئرہ بنا ئیے ۔ دائرے کو چمکدار سیا ہ روشنا ئی سے بھر دیجیے ۔ پا نچ فٹ کے فاصلے سے دائرے پر نظر جما ئیے ۔ نظر کا زاوہ اس طر ح بنے کہ آنکھ کی پتلی ۔۔۔۔ سیا ہ رنگ کے دائرے پر پلک جھپکا ئے بغیر جمی رہے۔

         اب تین منٹ کے لیے تفکر کیجیےاور پلکوں کو اوپر نیچے اس طر ح ملا دیجیے جیسے جا ل بنتا ہے ۔ بظاہر کچھ نظر نہیں آئے گا لیکن پلکوں میں حرکت نہ ہو نے کی وجہ سے آنکھ کے پیچھے گہرائی میں دما غ کے ایک یونٹ پر عکس نمودار ہوگا۔

         عکس کو سمجھنے کے لیے مثال پر غور کیجیے۔

         زید کو پیاس لگی۔ پیا س کے نقوش اگر نہ بنیں توپیاس کی تکمیل نہیں ہوگی۔ کھلی آنکھ سے آنکھ کے تل پر عکس نمودار ہوتا ہے ۔ نہ صر ف نمودار ہوتا ہے ، اس میں آئینے کی طرح دوسرے فرد کی تصویر نظر آتی ہے ۔ اگر پلک جھپک جا ئے تواندر میں بنی ہو ئی تصویر اس طر ح دھندلی ہو جا ئے گی کہ اس اس کو ہم نہ دیکھنے کا عمل سمجھیں  گے جب کہ ایسا نہیں ہے ۔

         آنکھ کی خوبصورتی میں ایک  بڑی خوب صورت تخلیق آنکھ کے اوپر نیچے دونوں کناروں پر پلکوں کا عمل قابلِ توجہ ہے ۔ کیا آنکھ پر پڑنے والا عکس پلکوں کا ردِ عمل نہیں ہے؟ آپ دور قریب دیکھ رہے ہیں ۔ اوپر نیچے دونوں پلکیں Positive, Negative ایک جگہ جمع کر لیجیے ، کچھ نظر نہیں آئے گا لیکن مراقبہ کی حالت میں بند آنکھوں سے یعنی پلکوں کے باہم یکجا ہو نے سے زیادہ واضح نظر آتا ہے۔

         ہر ذی شعو ر مرد یا خاتون ، جوان اور بزرگ۔۔۔ دیکھنے کے میکانزم کو واضح طو ر پر سمجھنے کے لیے کیمرے کی مثال سے مددلے سکتا ہے ۔ ایک پردہ ہے ۔ اس پردے کے اوپر پلکوں کا ہلکا سادبا ؤ سے جب اوپر نیچے کی پلکیں ایک دوسرے میں جذب ہو جاتی ہیں تو ہمیں کچھ نظر نہیں آتا لیکن ان دورخوں ، اوپر نیچے کی پلکوں کو الگ لگ کھول دیجیے ۔ اب بہت کچھ نظر آئے گا یا نہیں آئے گا۔ کیا پلک کا جھپکنا یا کیمرے کےشٹر کا گرنا یا کھلنا دیکھنے کے میکانزم کی نشا ندہی نہیں ہے۔۔؟

         ہم دیکھنے کی طرزوں سے اگر واقف ہو نا چاہتے ہیں ، طرزوں سے مراد میکانزم ہے تو توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ پہلے آنکھ کھلی ہوتی ہے  ، ارادی یا غیر ارادی طو ر پر آنکھ کے اندر تل پر تصویر نمایاں ہوتی ہے اور اوپر نیچے کی دونوں پلکیں ایک دوسرے کے اندر جذب ہوجا تی ہیں کہ دوئی نہیں رہتی اور آنکھ کے اندر دیکھنے کا عدسہ (لینس) کچھ نہیں دیکھتا لیکن جب پلکیں الگ ہو کر کھل بند ہو تی ہیں توکھلنے اور بند ہونے کے درمیانی "وقف" کو وہ دیکھنا سمجھتا ہے ۔ یہ "وقفہ" ٹکڑوں میں بنی ہو ئی اسپیس ہے جس سے آدمی واقف ہے، اور یہ بھی مشا ہدہ ہے کہ جب پلکیں یکجا ن ہوتی ہیں یعنی آنکھ کے دونوں کناروں کا درمیا نی وقفہ حذف ہوجا تا ہے  تو وہ کچھ نظر آتا ہے  جس میں نگا ہ کسی جگہ کو خا لی نہیں دیکھتی۔

..__________________________..

بہت ذہین ، فہیم اور دانا بینا حضرات وخواتین ۔۔۔ مشق کیجیے۔۔

         پیاس لگی۔۔۔ تاکہ خشکی کی جگہ سیرابی کا ظہور ہو۔ آپ بالکل یکسو ہوکر دماغ کے اندر میں دیکھیے ۔ پیاس(thirst) یعنی ضرورت۔۔ یعنی سیرابی کی ضرورت کا ادراک جب گہرا  ہوگا تو دما غ  کے اندر پانی کے خط و خال ظا ہر ہوں گے اور دما غ کے اندر اسکرین پر پا نی کے نقو ش ابھر جائیں گے  اوریہ نقوش  اتنے زیادہ نمایاں ہوجائیں گے کہ پیاسی مخلوق ، پیاسا آدمی ، پیاسے درخت ، پیاسی زمین ، برف پوش پہاڑ ، زمین کے پردے میں چھپے ہو ئے پانی کے چشمے ۔۔۔ دما غ کے لا شما ر تصویر خا نوں میں ایک خا نہ  کھلے گا اور اس میں آپ کو، مجھے ، درخت کو، پرندوں کو، حشرات الارض کو، آسما نی دنیا ؤں کو۔۔۔ ہر شے کی جو آنکھ کی رینج میں ہو، تصویر نظر آئے گی۔ اگر یہ تصویر دما غ کے اندر میں مظا ہر ہ نہ کرے توفر د پا نی نہیں پیے گا۔۔ نتیجے میں۔۔؟

         مخلوقا ت جب اپنی ہستی کا تذکر ہ کر تی ہیں تو اس تذکرے میں دیکھنے ، سننے ، محسوس کر نے ، سوتے ہو ئے  بینا ئی کا کھلنا اور جاگتے ہو ئے بھی بینا ئی  کا عکس نمودار نہ ہونا شامل ہوتا ہے ۔۔۔ مثلاً آپ کسی خیا ل میں گم ہو جا تے ہیں  اور اس کو بے خیا ل ہونا کہتے ہیں ۔ ۔ بے خیال ہونے سے مراد خیال آنا، چھپنااوردبا ؤ نہیں ہے ۔۔ تجربہ کیجیے کہ پھر کیا ہے۔۔؟

         خیال آنے پر ردِ عمل کا میکا نزم یہ ہے کہ اگر فزیکل با ڈی کسی ایک نقطہ پر متوجہ نہ ہو تو اس با ت کو مثال سے سمجھئے ۔۔۔ آدمی کو تشنگی دور کر نے کا خیال نہ آئے یعنی پیاس نہ لگے یا پیاس کا تقاضا ابھرے ، شکل و صورت کے نقو ش بنیں لیکن کٹورے یا گلا س میں پانی کی موجودگی نہ ہو تووہ پانی نہیں پی سکتا۔ کیوں نہیں پی سکتا۔۔؟ اس لیے نہیں پی سکتا کہ دما غ کے اندر پا نی کی بنی ہو ئی تصویر ظا ہر ہونے کے با وجود اس کے اوپر دبیز پر دے چھا جا تے ہیں ۔ ایسی صورت میں زندگی ختم تو ہوسکتی ہےلیکن ۔۔۔؟

         باشعو ر دوستو! صد احترام بزرگو، خواتین وحضرات محقق (scientist) ! گھڑی دیکھ کر 120 سیکنڈ یکسو ہونے کی مشق کیجیے۔۔۔ ذہنی یکسوئی کی مشق کا نتیجہ یہ مرتب ہوگا کہ جوکچھ زید کرنا چاہتا ہے ، اس کی طرف پوری توجہ سے تحقیق و تلاش میں مصروف ہوجا ئے گا۔

         آپ نے جو پڑھا، یہ گہرے شعو رکی باتیں ہیں جن کے کھلنے کے لیے ذہن کا ذہن سے یکجان ہونا ضروری ہے ۔ بڑوں کو سلا م ۔۔ بچوں کو پیار۔

اللہ حافظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

 

¹۔ لا شعور۔ شعور بن جاتا ہے۔

²۔ حل نہ ہونے والا

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔