Topics

وقت۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔مارچ 2026


آج کی بات

         خالقِ کا ئنات اللہ تعالیٰ نے نو عِ آدم کو زمین پر نیا بت کی صلا حیت عطا فرما ئی ہے ۔ نا ئب کی حیثیت سے وہ اشر ف المخلو قا ت ہے مگر اسے زمین میں کسی واقعہ کے ظہور کا علم دوسری مخلوقا ت کے بعد ہو تا ہے۔ زمین صر ف وہ سطح نہیں ہے جس پر ہم چلتے پھر تے اور مکا نا ت تعمیر کر تے ہیں ۔ ہر وہ شے جس پر کو ئی شے ظا ہر ہو، زمین ہے اور زمین پر تصر ف کا علم آدمی کے باطن میں موجو د ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب نوعِ آدم کو یہ صلا حیت حا صل ہے تو اس کے حواس کی رفتا ر اتنی کم کیوں ہے؟

         آپ نے سنا ہے ، دیکھا بھی ہے کہ جب زلز لہ آتا ہے تو ارضی پلیٹوں کے ارتعا ش کو آدمی سے پہلے حشرا ت اور حیوانا ت محسوس کر تے ہیں، پرندے درختوں سے اڑجا تے ہیں ، فضا پرندوں سے خا لی ہو جا تی ہے، سمند ر میں مچھلیا ں سونا می کی خبر دینے والی لہروں سے نکل کر پا نی میں محفوظ مقا م کا رخ کرتی ہیں ۔ اس کے برعکس عام آدمی اس وقت با خبر ہو تا ہے جب پلیٹوں کی رگڑ سے پیدا ہو نےوالی لہریں زمین کی سطح تک پہنچتی ہیں ،سطحِ زمین لرزتی ہے ، درودیوا ر ہلتے ہیں ۔ آدمی گھبراجا تا ہے کہ زلزلہ آیا ہے

         اللہ تعالیٰ سب کو آفا ت سے محفوظ رکھیں۔ آمین۔

         سائنٹسٹ خواتین و حضرات قابلِ قدر ہیں جو حیوا نا ت کے رویوں پر تحقیق کر کے جا ننے کی کو شش کرتے ہیں کہ انہیں آفات کی پیشگی خبر کیسے ہوتی ہے اور وہ ان علا ما ت کو آدمی سے پہلے کس طر ح محسوس کر  لیتے ہیں ۔ عا م حالا ت میں وہ ان جا نوروں کو زیرِ نظر رکھتے ہیں جو زلز  لے سے قبل بڑی تعداد میں نقل مکا نی یا غیر معمو لی سرگرمی کا مظاہرہ کر تے ہیں ۔

         جو کچھ عرض کر تا چاہتا ہوں ، غور سے پڑھئے ۔ نظا م ِ کا ئنا ت معین مقداروں پر قا ئم ہے ۔

         قر آن کریم میں ارشا د با ری تعالیٰ ہے،

         ’پا ک اور بلند مرتبہ ہے وہ ذات جس نے ہر شے معین مقداروں سے تخلیق کی اور ان مقداروں کی ہدایت بخشی۔(الاعلیٰ:۱۔۳)‘

         اللہ تعالیٰ نے ہر شے معین مقداروں پر پیدا کی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کا ئنا ت میں کسی واقعہ کے ظا ہر ہو نے کی مقدار اور وقت معین ہے ۔ وقت سے با ہر تخلیق کا وجود و ظہو ر نہیں ہے ۔ جو ہے ، وقت پر ہے ، وقت کے اندر ہے ۔ پھر وقت سے پہلے اور وقت کے بعد کسی واقعہ کی خبر ہو نا کس شعو ر کا مظا ہر ہ ہے ۔۔؟

..__________________________..

         تحقیق و تلا ش (سائنس) بتاتی ہے کہ سور ج سے روشنی آٹھ منٹ20 سیکنڈ میں زمین تک پہنچتی ہے ۔ اگرچہ با طنی علو م کے ماہرین کے نزدیک یہ مفروضہ ہے لیکن قابل توجہ ہے کہ محققین جا نے انجا نے میں تسلیم کر تے ہیں کہ آدمی آٹھ منٹ 20سیکنڈ پہلے کی روشنی میں زندگی گزارتا ہے ۔ ما ضی میں رہتا ہے  اور اس روشنی میں وہ جس شے کو دیکھتا ہے ، آٹھ منٹ 20سیکنڈ یا اس سے زیا دہ تاخیر سے دیکھتا ہے ۔ چوں کہ آدمی نے خو د کو سورج کی روشنی میں دیکھنے کا پابند کر لیا ہے اس لیے اس کا شعو ر تاخیر کے تانے با نے کی تصویر ہے۔ اس شعو ر میں رہتے ہو ئے سننا اوردیکھنا تاخیر کے تابع ہے۔

         جس دوران سو رج سے منعکس شدہ روشنی زمین تک پہنچتی ہے ، اس وقفے میں کا ئنا ت میں نہ جانے کیا کچھ تغیر رونما ہو چکا ہو، حضیروں میں کتنی تبدیلیا ں آگئی ہوں ، کتنے نظا م الٹ گئے ہوں اور کتنے نظا م نئے بنے ہوں ۔ چوں کہ آدمی تاخیر کے شعو ر سے واقف ہے ، اس لیے شعور کو ان واقعا ت کا ادراک اور خبر نہیں ہوتی ۔

         اس تحریر کو دوبا رہ پڑھئے اور سمجھنے کے لیے اندر با ہر غو ر سے دیکھئے۔

         مخلوقات  کے  ظا ہر ی وجو د کی ابتدا بیج ، تخم یا اسپرم سے ہوتی ہے ۔ دیکھنےوالے دیکھتے ہیں کہ بیج میں درخت اور درخت کی پوری نسل کی ایکویشن ہے ، ایکویشن کو ظا ہر کر نے کے عنا صر ہیں ۔ بیج اپنی گزشتہ اور آئندہ نسل کی مائیکرو فلم ہے ۔ ایسا نہ ہو تو گلا ب سے گلا ب ،نیم سے نیم ، خرگوش سے خرگوش اور سیب سے سیب ظا ہر نہیں ہوگا۔ لیکن آدمی بیج بو نے کے سالوں بعد درخت کو دیکھتا ہے ۔ جب کو ئی درخت دس سال میں جوان ہو تا ہے  تواسے جوان دیکھنا ، دس سال کی شعو ری تاخیر سے دیکھنا نہیں ہے؟

  •    دس سال میں سات ہزا ر تین سو چا ر (7,304) دن رات،
  •          ستا سی ہزا ر چھ سو اڑتالیس (87,648)گھنٹے،
  •          با ون لا کھ اٹھا ون ہز ا ر آٹھ سو اسی (52,58,880) منٹ،
  •          اور اکتیس کروڑ پچپن لاکھ بتیس ہزار آٹھ سو (31,55,32,800) سیکنڈ ہو تے ہیں۔

         ہو نا یہ چاہیے کہ دس سال کے درخت کو دیکھنے کے لیے اکتیس کروڑ پچپن لا کھ بتیس ہزار آٹھ سو سیکنڈ کی اسپیس ایک لمحے میں سمٹ جا ئے لیکن درخت کو دیکھنے کا عمل اتنا سست  ہوا کہ ایک لمحہ کروڑوں سیکنڈ کی اسپیس پر پھیل گیا ۔

         اب دوسری مثا ل پڑھئے ۔ حمل ٹھہر تا ہے تو ما ں بچے کو نو مہینے بعد دیکھتی ہے ۔ بیٹیوں ، بہنوں اور ماؤں سے گزارش ہے کہ وہ حساب گائیں، انہوں نے کتنے دن یا سیکنڈ کی تاخیر کے بعد اس بچے کو دیکھا جو دنیا میں نو مہینے پہلے آچکا ہے ۔۔۔؟

..__________________________..

         نو عِ آدم میں علم کے لحا ظ سے آدمی اور انسان کی درجہ بندی ہے۔ کا ئنا ت ’وقت‘ پر قا ئم ہے اور انسان کو ’وقت‘ کے علم حاصل ہیں ، جتنا اللہ نے چاہا اس لیے وہ احسنِ تقویم ہے۔۔۔ اللہ کی بہترین صنا عی ہے مگر نافرما نی کی وجہ سے آدمی وقت کے علوم سے نا ہلد اور اسفل سافلین میں پڑا ہوا ہے ۔ اسفل سافلین حواس کی پست ترین رفتا ر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کا ئنا ت جس رفتا ر سے رواں ہے ،آدمی اس سے لا شمار گنا پیچھے ہے ۔

         آدمی قدرتی آفا ت کو سورج کی روشنی کی طرح تاخیر سے دیکھتا ہے لیکن حیوانا ت کا زمین کے اندر غیر معمولی ارتعاش کو محسو س کر کے علا قہ چھوڑنا ظا ہر کر تا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانا ت کو ضرورت کے مطا بق جو صلا حیتیں عطا کی ہیں ، وہ اس کا علم رکھتے ہیں اور حالات میں غیر معمولی تغیر کو محسو س کر لیتے ہیں ۔ یہ سب اس حس یا کائنا تی سگنل کی مدد سے ہے جس کا لا علمی کی وجہ سے چھٹی حس کہا جا تا ہے ۔ یہ لاشعوری حس ہے مگر آدمی تاخیر کے شعو ر کی وجہ سے اسے پا نچ حسیا ت کے بعد درجہ دیتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب زندگی لا شعو ر سے آتی ہے توچھٹی حس۔ پہلی حس نہیں ہے۔؟

         زندگی اطلاع پر قائم ہے ۔ اطلا ع واہمہ کے درجے میں مکمل حا لت میں مو جو د  ہے ۔ اسے نزولی مراحل سے گزر کر مظا ہرے کے درجے میں دیکھنا ، تاخیر سے دیکھنا ہے ۔ اس طرح آدمی کی زندگی محدود شعو ر کی وجہ سے تاخیر کا شکا ر ہے لیکن لا شعو ری  لحا ظ سے وقت پر چل رہی ہے کیوں کہ اسے اس دنیا میں رہنے کا وقت ، ’معین وقت‘ میں پورا کرنا ہے۔

         لا شعو ری نظا م رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر قائم ہے جب کہ محدودشعو ر وقت سے روگرداں ہے، یہی دوری ہے جس کی وجہ سے آدمی مصائب کا شکا ر ہے۔ وقت کے نظا م کے خلا ف چل رہا ہے  اس لیے اسفل سافلین میں پڑا ہو ا ہے ۔ وقت پر چلنا ضمیر کی آواز پر عمل کر نا ہے ۔ ضمیر با طن کا نور ہے اور نور۔۔۔ وقت کی آواز ہے۔

         خا تم النبیین حضر ت محمد ﷺ کا ارشا دگرامی ہے ،

                                             لی مع اللہ وقت

’وقت میں میرا اور اللہ کاساتھ ہے۔‘



                  اللہ حا فظ

                  حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔