Topics

زن د گ ی کیا ہے ۔ نومبر2025

آج کی بات


         گوشت پوست کا وجود زندگی نہیں ، پردہ ہے ۔ ۔  ایسے لا شما ر پر دے پیاز کے پر توں کی طرح تہ در تہ ڈنٹھل سے لپٹے ہو ئے ہیں ۔ ان پرتوں میں فاصلہ نظر نہیں آتا مگر حر کت ظا ہر ہو تی ہے ۔ گوشت پوست کو اصل سمجھنے والے اسے بیرونی پر ت کی حرکت دیکھتے ہیں ، ذہن کے پٹ نہیں کھولتے کہ ۔۔۔ زندگی جب حرکت کر تی ہے اورتواندر میں تما م پرتوں سے گزرتے ہو ئے آدمی کو اس پرت ۱میں نظر آتی ہے جو احسا س کی حد میں ہے۔

         آدمی کی اصل انسا ن کا مشا ہد ہ ہے کہ احسا س گہرا ہو جا ئے تو حرکت ایک سے زیا دہ پرتوں میں محسوس ہوتی ہے ۔ وہ ان پرتوں کو ارادے سے حرکت دیتا ہے ۔۔۔ یہ زندگی کی لا محدودیت اور فی الارض ِ خلیفہ انسا ن کی صفت ہے جس کے لئے سما وات، ارض اور ارض و سما وات میں موجو دات مسخر ہیں ۔ قرآن کریم میں ارشا دہے ،

         "اللہ نے آسما نوں اور زمین کی سار ی چیزوں کو تمہار ے لئے مسخر کردیا سب کچھ اپنے پا س سے ۔ اس میں غوروفکر کر نے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔"  (الجا ثیۃ:۱۳)

.__________________________..

         ز ن د گ ی کیا ہے ۔۔۔؟

         روحا نی مدارج طے کر نے کا نا م ہے لیکن گوشت پوست کے جسم سے مغلوب طر زِ فکر ان درجا ت سے گزرنے میں حا ئل ہے۔ یہ وہ صورت ہے کہ کو ئی آدمی پہلی جما عت میں داخل ہو نے کے بعد دوسری،  تیسری اور ان سے آگے کی جماعتوں کے با رے میں نہ سوچے اور ابتدائی درجے کو علم کی آخری حد سمجھ لے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ پہلی جماعت پاس ہوتی ہے اور نہ سفر آگے بڑھتا ہے۔

         مادی جسم جہاں حرکت کو ظا ہر کر نے  کا ایک ذریعہ ہے ، وہاں طرزِ عمل اور طر زِ فکر بھی ہے ۔ اس طرزِ فکر میں کسی حا لت کوقرار نہیں۔۔۔۔ ایک تغیر ہے جو مستقل جا ری ہے جس نے ذہن کو بھا ن متی کے کھیل۲ میں مشغول رکھا ہوا ہے ۔

کہیں کی اینٹ، کہیں کا روڑا

بھا ن متی نے کنبہ جوڑا

         جوڑتوڑ میں عمر بیت جا تی ہے اور پھر وہ وقت آجا تا ہے جب بھا ن متی کے کنبے کا ہر جُز اپنی اصل کی طر ف لوٹتاہے ۔ اس کھیل کے اسیر آدمی کے پا س با قی کیا رہا۔۔۔؟

         کچھ نہیں۔

         "کچھ نہیں"  وہ ہے جسے شب و روز بسر کر تےہو ئے اس نے سب کچھ سمجھا اور کچھ نہ" ہو نے "میں ہونے کے فریب میں زندگی گزاردی۔

.__________________________..

         کا ئنا ت میں جتنی موجودات اور اجزاہیں ، بے مقصد نہیں ہیں ۔ آنکھ اندر میں اتر تی ہے تو دیکھتی ہے کو ئی جُز۔ جُز نہیں ہے یعنی کسی شے کا ایک حصہ نہیں ہے ۔ ہر جُز اپنی ذات میں مکمل اور تصویر کے اندر میں داخل ہو نے کا دروازہ ہے ۔

         بیج ۔۔۔ سطحی نگا ہ اسے جُز دیکھتی ہے ۔ کیا صحیح دیکھتی ہے ۔۔۔؟

         ۱۔ اگر بیج نبا تا ت کے نظا م جُز ہے تو اس کے اندر میں سے پورا درخت کیسے ظاہر ہوتا ہے ؟

         ۲۔درخت دنیا ئے بنا تا ت کا ایک فرد ہے تو اس میں ہزاروں بیجوں کی موجودگی کیا ہے؟

         ۳۔ ہزاروں بیجوں میں سے ہر بیج ایک درخت ہے اورہر درخت سے ہزاروں بیج ظا ہر ہو تے ہیں ۔ تما م بیج جو ان ہوکر کروڑوں درخت بنتے ہیں ۔ یہ سارے درخت اس ایک بیج میں مو جود ہیں جسے ہم نے بنا تات کی دنیا کا "جُز "کہاہے۔

         محقق خواتین و حضرات سے گزارش ہے کہ اس ایکویشن (equation) کے ذریعے ایک بیج سے نکلنے والا درخت، درخت میں نمودار ہو نے والے بیج اور ہر بیج سے پیدا ہونے والے ہر درخت کے بیجوں کو شما ر کر کے بتا یئے کہ شما ریا ت کیا ہوئیں۔؟

.__________________________..

         حقیقت چند الفاظ میں بیان ہو جا ئے تو دانشور کہتے ہیں کہ دریا کو زے میں بند کر دیا۔ کوزہ دریا  سے کئی گنا چھو ٹا لیکن قطرے سے کئی گنا بڑا ہے  ۔ دریا  کیا ، یہاں تو سمندر ایک قطرے میں سمٹا ہوا ہے ۔ محقق قطر ہ قطر ہ تحقیق کر کے دریا اور سمندر کی مٹھا س و نمکیا ت، کثا فت و لطافت اور ما ہیت کو جاننے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ تحقیق کے لئے اگر ایک نہیں تو چند قطروں کا سہارا کیوں لیتا ہے۔ ؟ اس کے لا شعور میں یہ راز موجود ہے کہ سمند ر کا ہر قطر ہ اپنے اندر میں سمندر ہے لیکن وہ قطرے میں سمندر کو اس صورت میں دیکھ سکتا ہے جب اپنے اندر میں سمندر کی موجوں کا عرفان رکھتا ہو۔ عر فان ہو جائے تو ہر شے کے اندر میں بہتے سمندر کا علم حا صل ہوجا تا ہے ۔ جتنا اللہ چاہتا ہے ۔

         جُز میں الجھے ہو ئے لوگ دریا اور سمندر کی وسعت و ضخا مت۳ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور انہیں اپنی فہم سے بڑا سمجھ لیتے ہیں ۔ نوعِ آدم کے اندر میں فی الارض ِ خلیفہ کا ذہن انسپا ئر کر تا ہے کہ سمندر میں سے ایک قطر ہ ہتھیلی پررکھو اور اس قطر ے کے اندر سمندر دیکھو۔۔۔ زمین پر فی الارض ِ خلیفہ کے فہم کی مکا نیت۴ سے زیا دہ کو ئی شے وسیع نہیں۔

.__________________________..

         ضخا مت اور بلند ی کے لحا ظ سے سمندر کی طرح ایک تخلیق پہا ڑ  ہے ۔ باطنی نگا ہ دیکھتی  ہے کہ کہیں پہا ڑ سمندر میں اور کہیں سمندر پہاڑ وں کے اندر ہے۔ عام آدمی پہا ڑ کی بلندی کو دیکھ کر دم بخود رہ جاتا ہے جب کہ کوہ پیما ئی کے مشتا ق اسے سر کر نے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ اکثر اس کو شش میں جا ن سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔

         مٹی کی اس دنیا میں ظا ہری بلندی اور طول وعرض کے فریب میں مبتلا خواتین و حضرات کے لئے آخری آسما نی کتاب قرآن کریم میں ارشا دِ با ری تعالیٰ ہے،

         "تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو اور قیا س کر تے ہو کہ یہ جمے ہو ئے ہیں ، یہ با دلوں کی طر ح اڑ رہے ہیں ۔"(النمل :۸۸)

         اشرف المخلوقا ت کی حیثیت سے نوعِ آدم کے اندر کا ئنا ت کے طول و عرض میں پھیلی ہو ئی توا نا ئی ذخیر ہ ہے لیکن آدمی کیا کرتا ہے۔۔؟ توانا ئی کو قیا س میں مرکوز کر دیتا ہے ۔ نتیجے میں نگا ہ کے سامنے پچیس تیس ہزا ر فٹ بلند زاویہ بن جا تا ہے۔ زاویے کے اندر فریب کا خما ر اسے جما ہوا اور ٹھوس دکھا تاہے ۔ آدمی اس کو "پہا ڑ" کہتا ہے اور اس کی چوٹی پر پہنچنا چاہتا ہے ۔ پچیس تیس ہزا ر فٹ کی اس بلندی کو تسخیر کر نا کیا ہوا۔۔؟

         جس چوٹی پر جا نے کی آرزو ہے ، وہ وہا ں موجو د نہیں ہے ۔ یہ اندر میں فریب کا پہا ڑ ہے جسے آدمی خمیر کے ابھا ر کی وجہ سے با ہر قیا س کرتا ہے ۔ خالقِ کا ئنا ت اللہ تعالیٰ نے قر آن کریم میں جس مظہر کو پہا ڑ فرما یا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کےنظا مِ تخلیق کے مطابق با دلوں کی طر ح اڑرہا ہے ۔ بادلوں کی طرح اڑنا کیا ہے۔۔؟ دوبا رہ پڑھئے:

         "تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو اور قیا س کر تے ہو کہ یہ جمے ہوئے ہیں ، یہ با دلوں کی طرح اڑرہے ہیں۔" (النمل :۸۸)

.__________________________..

         بیج ، سمندر اور پہاڑ کی مثالیں ظا ہری حجم کی نفی کرکے ذہن کو کا ئنا ت کی وسعت سے ہمکنا ر کرتی ہیں۔ یہ ظا ہر کر تی ہیں کہ کسی شے کو جُزسمجھنا اور دیکھنا خط و خال کی جمع تفریق میں مقید بھا ن متی کا ذہن ہے جو تغیر کی طر زِ فکر کے مطابق شے کے حجم کو دیکھتا اور سب کچھ سمجھتا ہے ، اندر میں جو ہر (essence) پر غور نہیں کرتا  ۔

.__________________________..

         "آج کی با ت "میں چھپا ظاہر اور ظا ہر چھپا راز یہ ہے :

·      بیج چھو ٹا، بہت  چھو ٹا نظر آتا ہے  مگر ظا ہر و با طن میں اپنی نوع کا خلا صہ ہے۔

·      دریا اور سمندر کے ظاہری رقبے محدود طرزِ فکر کا پھیلا ؤ ہیں۔

·      جمے ہو ئےنظر آنے والے بلندو بالا پہاڑ الوژن کا خمار ہیں۔

بدیع العجا ئب اللہ تعالیٰ کی صناّعی ہے کہ ہر شے اپنی ذات میں انفرادی ، نوعی اور کا ئنا تی نظا م ہے ۔ کسی شے کو اس کی نوع سے الگ سمجھنا اور دیکھنا۔۔۔۔ بھا ن متی کی طرزِ فکر ہے۔ کا ئنا ت میں ہرشے اپنے نوعی ریکارڈ کے ساتھ موجو د ہے ۔ قدر ت کی تخلیقا ت میں کوئی خلل،تبدیلی یا تعطل نہیں ہے ۔ یہاں گھٹنے بڑھنے یعنی تغیر کا نظام ہے ، ان ذہنوں کے لئے جو تعطل کی طرزِ فکر اختیا ر کئے ہو ئے ہیں ، ہر دوشے کے درمیان خلا دیکھتے ہیں لیکن خلا میں زندگی کے تصورات کا ادراک نہیں رکھتے۔

         عزیز دوستواوربچو!

         گزارش ہے کہ"آج کی بات " کویکسو ئی کے ساتھ پڑھئے تاکہ الفاظ آپ کے دل میں اتر جا ئیں ۔ جو سوالا ت کئے گئے ہیں ، ان کے جواب لکھ کر"ما ہنا مہ قلندر شعور " کو بھیج دیجئے ۔ صفحات کی منا سبت سے جواب شا ئع کئے جا ئیں گے ، انشا ٔاللہ۔

اللہ حافظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

 

.__________________________..

۱۔ فرد طرزِ فکر کے مطابق کسی پر ت کوغالب دیکھتا ہے۔

۲۔مختلف ٹکڑوں یا اجزا کو جوڑ کر بنا یا گیا مجموعہ

۳۔حجم ،جسا مت ، موٹائی

۴۔ اسپیس

Topics


QSM Aaj ki Baat

خواجہ شمس الدين عظیمی

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔