Topics
زمین دو طرح چل
رہی ہے۔ ایک گردش ہے محوری اور دوسری طوُلانی۔ زوال کے بعد زمین کی گردش میں کمی
واقع ہو جاتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ یہ گردش کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ عصر کے وقت تک یہ
گردش اتنی کم ہو جاتی ہے کہ حواس کے اوپر دباؤ پڑنے لگتا ہے۔ انسان، حیوان، چرند،
پرند سب کے اوپر دن کے حواس کے بجائے رات کے حواس کا دروازہ کھلنا شروع ہو جاتا ہے
اور شعور مغلوب ہونے لگتا ہے۔
ہر ذی
فہم انسان اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ عصر کے وقت اس کے اوپر ایسی کیفیت طاری ہوتی
ہے جس کو وہ تکان اور اضمحلال کا نام دیتا ہے۔ یہ تکان اور اضمحلال شعوری حواس پر
لاشعوری حواس کی گرفت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ عصر کی نماز شعور کو اس حد تک مضمحل ہونے
سے روک دیتی ہے جس سے دماغ پر خراب اثرات مرتب ہوں۔ وضو اور عصر کی نماز قائم کرنے
والے بندے کے شعور میں اتنی طاقت آ جاتی ہے کہ وہ لاشعوری نظام کو آسانی سے قبول
کر لیتا ہے اور اپنی روح سے قریب ہو جاتا ہے۔ دماغ روحانی تحریکات قبول کرنے کے
لئے تیار ہو جاتا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
اُن خواتین کے نام جو بیسویں صدی کی آخری دہائی