Topics
صبح سے دوپہر تک
آدمی اپنی معاش کے حصول یا زندگی کو قائم رکھنے کے لئے خورد و نوش کے انتظام میں
لگا رہتا ہے۔ اعصاب تھک جاتے ہیں اور جسم نڈھال ہو جاتا ہے۔ جسمانی تقاضوں کیلئے
کام پورا کرنے کے بعد جب آدمی وضو کرتا ہے تو اس کے اوپر سے تھکن دور ہو جاتی ہے۔
اور پھر جب وہ نماز قائم کرتا ہے تو اس کو روحانی غذا فراہم ہوتی ہے اور اس کے
اوپر سرور و کیف کی ایک دنیا روشن ہو جاتی ہے۔
سورج
کی تمازت ختم ہو کر جب زوال شروع ہوتا ہے تو زمین کے اندر سے ایک گیس خارج ہوتی
ہے۔ یہ گیس اس قدر زہریلی ہوتی ہے کہ اگر آدمی کے اوپر اثر انداز ہو جائے تو وہ
قسم قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دماغی نظام اس حد تک درہم برہم ہو سکتا
ہے کہ اس کے اوپر ایک پاگل آدمی کا گمان ہوتا ہے۔ جب کوئی بندہ ذہنی طور پر عبادت
میں مشغول ہو جاتا ہے تو اسے نماز کی نورانی لہریں اس زہرناک گیس سے محفوظ رکھتی
ہیں۔ ان نورانی لہروں سے یہ زہریلی گیس بے اثر ہو جاتی ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
اُن خواتین کے نام جو بیسویں صدی کی آخری دہائی