Topics

سائنس اور اسپیس۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔جنوری 2018

سادھو حضرات لاشعور میں سانس کے دائرہ (cycle) کو قائم رکھتے ہیں جس سے شعور میں حرکت نہیں ہوتی یعنی ایک خیا ل میں بے خیال ہوجاتے ہیں۔ مفہوم دوسرے خیال پر محیط ہوجاتا ہے۔ سانس جتنا گہرا ہوگا، اس ہی اعتبار سے لاشعور کا غلبہ ہوجائے گا۔۔۔ شعوری رکاوٹ کم ہوتی  چلی جائے گی۔ بندہ نیند میں اتنا زیادہ محو ہوجاتا ہے کہ شعور موجود ہونے کے باوجود لاموجود ہوتا ہے۔ شعور کی تحریر جب نمایاں ہوتی ہے تولاشعور کی مقداروں میں اضافہ ہوتا ہے یعنی شعوری مقداریں پس پردہ چلی جاتی ہیں۔

گہرائی کی مناسبت سے نیند میں مناظر واضح ہوتے ہیں۔ معنی یہ ہوئے کہ وضاحت یادداشت بن جاتی ہے۔ یادداشت میں موجود خواب ، لاشعور میں رہتے ہیں۔ جو مناظرگہرے نہیں ہوتے تحت لاشعور سے نیچے چلے جاتے ہیں۔

کچھ خواب یاد رہتے ہیں، بعض یاد کرنے سے یاد آتے ہیں جب کہ ایسے خواب بھی ہیں جو یاد کرنے سے بھی یاد نہیں آتے۔۔۔ تحت لاشعور کی گہرائی میں محفوظ ہوجاتے ہیں۔ لاشعور کی کیفیات قبولیت کی صلاحیت کے مطابق شعور میں داخل ہوتی ہیں۔ شعور سے واپس لاشعور میں جانے والی کیفیات یادداشت میں نقش ہوجاتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحت لاشعور کیا ہے۔۔۔؟ مضمون نگار مضمون لکھنے بیٹھتا ہے۔ اس کے ذہن میں صرف عنوان تھا۔ نہ مضمون کے اجزائے ترتیبی نہ تفصیل ہے مگر جس وقت قلم ہاتھ میں اٹھا کر وہ لکھنا شروع کرتا ہے تو مضمون کے اجزا بالتفصیل ذہن میں آنے لگتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عبارت کا مفہوم لکھنے والے کے تحت لاشعور میں پہلے سے موجود ہے۔ وہاں سے یہ مفہوم ذہن میں منتقل ہوا اور الفاظ کا لباس پہن کر کاغذ پر منتقل ہوگیا۔

تحت لاشعور۔۔۔ لوح محفوظ کا شعور ہے جس کے تحت کائنات کے تمام اجزا ایک دوسرے سے ربط میں ہیں۔ لوح محفوظ سے مراد عالمین یا کائنات کے اجزائے ترکیبی، ہر ذرہ کی شکل و صورت، حرکات اور باطنی حسیات ہیں۔ جہاں پر یہ سب اجتماعی طور پر موجود ہیں، وہ تحت لاشعور ہے۔

انفرادی و اجتماعی دونوں تحریریں ریکارڈ ہیں۔ ماضی، حال، مستقبل اور پوری کائنات لاشعور میں مخفی ہے، رب العالمین اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ہرگز نہیں، یقیناًبدکاروں کا نامۂ اعمال قید خانہ کے دفتر میں ہے اور تمہیں کیا معلوم کہ کیا ہے وہ قید خانہ کا دفتر؟ وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔‘‘ (المطففین: 9-7)

’’ہرگز نہیں، بے شک نیک آدمیوں کا نامۂ اعمال بلندپایہ لوگوں کے دفتر میں ہے اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر؟ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے۔‘‘ (المطففین:20-18 )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شعور اور لاشعور کے درمیان پردہ کو ریاضت اور کوشش سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

اللہ کی محبت کا جذبہ جتنا مستحکم ہوتا ہے، لاشعور اتنا قوی ہوتا ہے۔ حدیث قدسی ہے:

’’روزہ میرے لئے ہے اور روزہ کی جزا میں خود ہوں۔‘‘

اللہ کے لئے تقویٰ (اللہ کو حاضر و ناضر سمجھنا اور دیکھنا) اختیار کرنے سے لا شعور میں قبولیت کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ یہ روحانی لوگوں کا طریقہ کار ہے۔ تقویٰ۔۔۔ قربت ہے۔ اللہ سے قربت نہ ہو تو زندگی۔۔۔ خلا ہے۔ اس جملہ میں کہ ’’روزہ میرے لئے ہے‘‘ تقویٰ کی ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ سے واقف ہونے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنی قربت عطا فرماتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیند ایک پردہ ہے۔ نیند کی حیثیت خول کی ہے جو بندہ کو ہر طرف سے ڈھانپ لیتا ہے۔ دراصل ہم نیند کے خول کے نیچے چلتے پھرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ جاگ رہے ہیں مگر ہم جاگتے نہیں ہیں۔ پردہ ہٹانے کے لئے جاگنے کی مشق کرنی چاہئے جس سے نیند کا خول ٹوٹ جاتا ہے۔

فرد نیند سے اٹھتا ہے تو سمجھتا ہے کہ وہ بیدار ہوگیا۔۔۔ وہ جاگا نہیں۔۔۔ سویا ہوا ہی ہوتا ہے۔ آدمی کھلی آنکھوں سے سوتا ہے اور بند آنکھوں سے بھی۔ کھلی آنکھوں سے میری مراد جاگنے کی حالت ہے۔ نیند اور بیداری میں تقاضے یکساں ہیں۔ آدمی سنتا ہے، دیکھتا ہے، محسوس کرتا ہے، چلتا پھرتا ہے، کھاتا پیتا ہے، خوش اور غمگین ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہ بیداری میں واقعات کا سیاق و سباق کسی نہ کسی طرح پالیتا ہے لیکن خواب میں کئے گئے افعال کا سیاق و سباق ملانے کی مشق نہیں ہوتی اس لئے نیند کے اس پار دنیا کو بے ربط سمجھتا ہے اور خواب کہہ دیتا ہے۔ مختصر یہ ہے کہ آدمی ایک خواب نیند میں بند آنکھوں سے۔۔۔ دوسرا خواب کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ جب لاشعور بیدار نہیں ہے تو وہ خواب ہے، خواب میں عمر صرف کرنا بھی خواب ہے۔

زندگی خواب کی مانند ہے، اس میں وقت نہیں ہے مگر فرد اسپیس کی رفتار کو وقت بنالیتا ہے یعنی ہر سیکنڈ کے اندر اسپیس بدلتی ہے، تبدیلی کے اس عمل کا نام فرد نے ٹائم رکھا ہے۔ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ٹائم اسپیس کے ساتھ معلق ہے، اسی لئے ہر اسپیس کا ٹائم الگ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنس دان اسپیس (space) ایسی خلا کو کہتے ہیں جہاں زمین کی کشش ثقل (gravity) نہ ہو۔ زمین کی gravity کس جگہ موجود نہیں ۔۔۔ یہ ایک الگ بات ہے۔ زمین کی کشش کی وجہ سے مخلوق سانس لیتی ہے مگر۔۔۔ زمین میں بسنے والے انسان، حیوانات، جمادات اور نباتات میں ایسی صلاحیت ہے جو زمین کی کشش کا اثر نہیں لیتی۔ مثلاً وہم، خیال، تصور اور تفکر بھی کشش ثقل سے لاتعلق ہیں۔ آدمی سوجاتا ہے، کشش سانس پہنچاتی رہتی ہے مگر ذہن کشش سے آزاد ہوتا ہے۔ وہ خواب میں دیکھتا ہے، کھاتا ہے، پیتا ہے، چلتا ہے، ایک سیکنڈ میں میلوں کا سفر کرلیتا ہے۔ اس حالت میں کیفیات یادداشت میں تحریر ہوجاتی ہیں۔ ذہن جو کچھ دیکھتا، سنتا اور سمجھتا ہے وہ زمین کی کشش سے آزاد ہے۔ لہٰذا یہ تعریف درست نہیں کہ اسپیس صرف خلا ہے۔

انسان سوچ بچار، تفکر یا توجہ کا نام ہے۔ یہ سب حواس ہیں۔۔۔ انسان حواس کا مجموعہ ہے۔ اس حالت کی تفصیل اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ انسان چاہے زمین پر ہو یا خلا میں، وہ زمین کی کشش سے آزاد ہے جب کہ آدمی زمین کی کشش کا پابند ہے۔ اگر انسان زمین کی کشش کا پابند ہوتا تو ایک عالم سے دوسرے عالم میں منتقل نہ ہوتا۔۔۔ عالم ناسوت کی کشش مزاحم ہوجاتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روحانی دنیا میں اسپیس خلا تک محدود نہیں، ہر جگہ اور ہر چیز میں ہے۔ شے بذات خود اسپس ہے۔ ذہن میں پردہ چار اسپیس پر مشتمل ہے۔

اندھیرا اور اندھیرے کے پیچھے کی اسپیس اجالا اور اجالے کے پیچھے کی اسپیس

فرد وقوف حاصل کرکے اندھیرے، اجالے اور ان کے پس پردہ جو کچھ ہے دیکھ سکتا ہے۔ یہ بتدریج جاگنے کی مشق سے ہوتا ہے یہاں تک کہ چاروں اسپیس کا وقوف حاصل ہوجاتا ہے جتنا اللہ چاہے۔ اس میں بہت سی چیزیں مستقبل سے متعلق ہوتی ہے اور ٹکڑوں میں نظر آتی ہیں۔ ٹکڑوں کو جوڑنے سے اسپیس میں معنی پیدا ہوتے ہیں اور مستقبل کا ادراک ہوتا ہے۔ دماغ کے چاروں حصوں کے وقوف سے فرد حواس خمسہ (سننا، دیکھنا، سونگھنا، چکھنا، چھونا) کی اسپیس سے آگاہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد چھٹی اسپیس میں داخل ہوتا ہے۔

خانے میں جو ہیں دماغ کے وہ خالی ہیں سب

چیزیں جو نظر آتی ہیں جعلی ہیں سب

ہر لمحہ بدلتا ہے جہاں کا منظر

نظارے بھی آنکھوں کے خیالی ہیں سب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنوری 2018

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔