Topics

ارشاد عالی مقام - ماہنامہ قلندر شعور ۔ اگست 2018



ارشاد عالی مقام


شہنشاہ ہفت اقلیم نانا تاج الدین ناگپوری کے نواسے ابدال قلندر اولیا فرماتے ہیں:

نانا تاج الدین صرف خصوصی مسائل ہی میں نہیں بلکہ عام  حالات میں بھی اپنی گفتگو کے اندر ایسے مرکزی نکتے بیان کر جاتے تھے جو براہ راست قانون قدرت کی گہرائیوں سے ہم رشتہ ہیں۔ بعض اوقات اشاروں اشاروں میں وہ ایسی بات کہہ جاتے تھے جس میں کرامتوں کی علمی توجیہ ہوتی ہے اور سننے والوں کی آنکھوں کے سامنے یک بارگی کرامات کے اصولوں کا نقشہ آجاتا۔ کبھی کبھی ایسا معلوم ہوتا کہ ان کے ذہن سے تسلسل کے ساتھ سننے والوں کے ذہن میں روشنی کی لہریں منتقل ہو رہی ہیں اور ایسا بھی ہوتا کہ وہ بالکل خاموش بیٹھے ہیں اور حاضرین  من وعن ہر وہ بات اپنے ذہن میں سمجھتے اور محسوس کرتے چلے جاتے ہیں۔ جو نانا کے ذہن میں اس وقت گشت کررہی ہے۔ بغیر توجہ دیئے بھی ان کی غیر ارادی توجہ لوگوں کے اوپر عمل کرتی رہتی تھی۔ بعض لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ ہم نے بابا صاحب کے اس طرز ذہن سے بہت فیضان حاصل کیا ہے۔ یہ بات تو بالکل ہی عام تھی کہ چند آدمیوں کے ذہن میں کوئی بات آئی اور یکایک نانا نے اس کا جواب دے دیا۔ اردو بولنے میں انھیں اکثر سوچنا پڑتا پھر بھی الفاظ میں کچھ ایسا زور ہوتا کہ سامعین ان کاما فی الضمیر فوراً سمجھ جاتے۔

مرہٹہ راجا رگھوراؤ  ان سے غیر معمو لی  عقیدت رکھتا تھا۔ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور کوئی درخواست کرتا تو اس طرح جیسے دیوتاؤں کے حضور میں۔ ایک مرتبہ نانا نے راجا کے مندر کا بت توڑ دیا۔پجاریوں نے شور مچا دیا لیکن راجا صورت حال سے  بالکل متاثر نہیں ہوا۔ محل والوں کی شکایت پر راجا نے مسکرا کر فقط ایک جملہ کہا،

” بابا صاحب بھی دیوتا ہیں۔ یہ معاملہ دیوتاؤں کا ہے، آپس میں خود نمٹ لیں گے۔ ہمارا تمہارا بولنا بے ادبی ہے۔“

اس جملہ سے محض راجا کی عقیدت  کا ہی نہیں اس طرز فکر کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو روحانی شخصیتوں کے بارے میں راجا کے ذہن میں تھی۔ جو لوگ روحانی قدروں سے کچھ  بھی مانوس ہیں وہ اتنا ضرور جان سکتے ہیں کہ راجا مخفی علوم سے مس رکھتا ہے اور اس کے اندر فیضان حاصل کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ یہاں وہ چند باتیں پیش کرنا  بھی ضروری ہیں جو میری موجودگی میں راجا اور نانا میں ہوا کرتی تھیں۔ ان اوقات میں کوئی اور صاحب سوال بھی کر لیا کرتے اور پوری مجلس جواب سے مستفیض ہوتی۔ ایک مرتبہ مہارجا نے سوال کیا،

” بابا صاحب ! ایسی مخلوق جو نظر نہیں آتی مثلاً فرشتہ یا جنات خبر متواتر کی حیثیت رکھتی ہے جتنی آسمانی کتابیں ہیں ان میں اس قسم کی مخلوق کے تذکرے ملتے ہیں۔ ہر مذہب میں بدروحوں کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ کہا گیا ہے لیکن عقلی اور علمی توجیہات نہ ہونے سے ذی فہم انسانوں کو سوچنا پڑتا ہے۔ وہ یہ کہتے ہوئے رکتے ہیں کہ ' ہم سمجھ گئے' تجربات جو کچھ زبان زد ہیں وہ انفرادی ہیں اجتماعی نہیں۔ آپ مسئلہ پر کچھ ارشاد فرمائیں۔“

نانا تاج الدین نے اس باب میں جو کچھ فرمایا وہ فقط تبصرہ نہیں بلکہ  میرے اندازہ میں ایسے الہامات کا مجموعہ ہے قدرت نے ان کی ذات کو جن کا مرکز بنایا ہے۔ صاحبِ فراست انسانوں کے لئے یہ ملفوظات حد درجہ محلِ تفکر ہیں۔ ان جوابات سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ نانا تاج الدین  کائناتی اسرار و رموز کے امین ہیں۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مسئلہ کی وضاحت جن خیالات کے ذریعے کی گئی ہے وہ قدرت کے رازوں میں کس طرح سمائے ہوئے ہیں۔ جس وقت سوال کیا گیا نانا تاج الدین ناگپوری لیٹے ہوئے تھے۔ ان کی نگاہ اوپر تھی۔

 

                             ** ---------------------------------- **

 

حامل علم لدنی حضرت نانا تاج الدین ناگپوری نے فرمایا،

میاں رگھوراؤ! ہم سب جب سے پیدا ہوئے ہیں، ستاروں کی مجلس کو دیکھتے رہتے ہیں۔ شاید ہی کوئی رات ایسی ہو کہ ہماری نگاہیں آسمان کی طرف نہ اُٹھتی ہوں۔ بڑے مزہ کی بات ہے، کہنے میں یہی آتا ہے کہ ستارے ہمارے سامنے ہیں، ستاروں کو ہم دیکھ رہے ہیں، ہم آسانی دنیا سے روشناس ہیں لیکن ہم دیکھ رہے ہیں ماہ و انجم کی کون سی دنیا سے روشناس ہیں اس کی تشریح ہمارے بس کی بات نہیں۔ جو کچھ کہتے ہیں، قیاس آرائی سے زیادہ نہیں ہوتا۔ پھر بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں۔ زیادہ حیرت ناک امر یہ ہے کہ جب دعویٰ کرتے ہیں کہ انسان کچھ نہ کچھ جانتا ہے تو یہ قطعاً نہیں سوچتے کہ اس دعویٰ کے اندر حقیقت ہے یا نہیں۔

                 جو کچھ میں نے کہا سمجھو، پھر بتاؤ کہ انسان کا علم کس حد تک مفلوج ہے۔ انسان کچھ نہ جاننے کے باوجود اس کا یقین رکھتا ہے کہ میں بہت جانتا ہوں ۔ یہ چیزیں دور پرے کی ہیں۔ جو چیزیں ہر وقت انسان کے تجر بہ میں ہیں، ان پر بھی نظر ڈالتے جاؤ۔ دن طلوع ہوتا ہے دن کا طلوع ہونا کیا شے ہے ہمیں نہیں معلوم۔ طلوع ہونے کا مطلب کیا ہے ہم نہیں جانتے۔ دن رات کیا ہیں۔۔۔ اس کے جواب میں اتنی بات کہہ دی جاتی ہے کہ یہ دن ہے اس کے بعد رات آتی ہے۔ نوع انسانی کا یہی تجربہ ہے۔

                    میاں رگھوراؤ ! ذرا سوچو کیا سنجیدہ طبیعت انسان اس جواب پر مطمئن ہو جائے گا۔۔۔؟

دن رات فرشتے نہیں ، جنات نہیں ہیں، پھر بھی وہ مظاہر ہیں جن سے ایک فرد واحد بھی انکار نہیں کر سکتا۔ تم اتنا کہہ سکتے ہو کہ دن رات کو نگاہ دیکھتی اس لئے قابل یقین ہے لیکن یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ نگاہ کے ساتھ فکر بھی کام کرتی ہے۔ اگر نگاہ کے ساتھ فکر کام نہ کرے تو زبان نگاہ کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتی۔ نگاہ اور فکر کا عمل ظاہر ہے، دراصل سارے کا سارا عمل تفکر ہے۔ نگاہ محض ایک گونگا ہیولیٰ ہے، فکر ہی کے ذریعے تجربات عمل میں آتے ہیں۔ تم نگاہ کو تمام حواس پر قیاس کر لو، سب کے سب گونگے، بہرے اور اندھے ہیں۔ تفکر ہی حواس کو سماعت اور بصارت دیتا ہے۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ حواس تفکر سے الگ کوئی چیز ہیں حالاں کہ تفکر سے الگ ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔انسان محض تفکر ہے۔فرشتہ محض تفکر ہے۔ جن محض تفکر ہے ۔ علیٰ ہذٰالقیاس ہر ذی ہوش تفکر ہے ۔

              اس گفتگو میں ایک ایسا مقام آجاتا ہے جہاں کائنات کے کئی راز منکشف ہو جاتے ہیں۔ غور سے سنو! ہمارے تفکر میں بہت سی چیزیں ابھرتی رہتی ہیں دراصل وہ باہر سے آتی ہیں۔ انسان کے علاوہ کائنات میں  اورجتنے تفکر ہیں جن کا تذکرہ ابھی کیا گیا  ہے، فرشتے اور جنات ، ان سے انسان کا تفکر اسی طرح متاثر رہتا ہے جس طرح انسان خود اپنے تفکر سے متاثر ہوتا ہے۔

              قدرت کا چلن یہ ہے کہ وہ لامتناہی تفکر سے متناہی تفکر کو فیضنان پہنچاتی رہتی ہے۔ پوری کائنات میں اگر قدرت کا یہ فیضان جاری نہ ہو تو کائنات کے افراد کا یہ درمیانی رشتہ کٹ جائے ۔ ایک تفکر کا دوسرے تفکر کو متاثر کرنا بھی قدرت کے اس طرز عمل کا ایک جزو ہے۔ انسان پابہ گل ہے، جنات پابہ ہیولیٰ ہیں، فرشتے پا بہ نور۔ یہ تفکر تین قسم کے ہیں اور تینوں کائنات ہیں۔ اگر یہ  تینوں مربوط نہ رہیں اور ایک تفکر کی لہریں دوسرے تفکر کو نہ ملیں تو ربط ٹوٹ جائے گا اور کائنات منہدم ہو جائے گی۔

              ثبوت یہ ہے کہ ہمارا تفکر ہیولیٰ اور ہیولیٰ قسم کے تمام جسموں سے فکری طور پر روشناس ہے۔ ساتھ ہی ہمارا تفکر نور اور نور کی ہر قسم سے بھی فکری طور پر روشناس ہے۔ حالاں کہ ہمارے اپنے تفکر کے تجربات پا بہ گل ہیں۔ اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہیولیٰ اور نور کے تجربات اجنبی تفکر سے ملے ہیں۔

              عام زبان میں تفکر کا انا کا نام دیا جاتا ہے اور انا یا تفکر ایسی کیفیات کا مجموعہ ہوتا ہے جن کو مجموعی طور پر فرد کہتے ہیں۔ اس طرح کی تخلیق ستارے بھی ہیں اور ذرّے بھی۔ ہمارے شعور میں یہ بات یا تو بالکل نہیں آتی یا بہت کم آتی ہے کہ تفکر کے ذریعے ستاروں ، ذرّوں اور تمام مخلوق سے ہمارا تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے۔ ان کی انا یعنی تفکر کی لہریں ہمیں بہت کچھ دیتی ہیں اور ہم سے بہت کچھ لیتی بھی  ہیں۔ تمام کائنات اس قسم کے تبادلہ خیال کا ایک خاندان ہے۔ مخلوق میں فرشتے اور جنات ہمارے لئے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں تفکر کے اعتبار سے ہمارے زیادہ قریب ہیں اور تبادلہ خیال کے لحاظ سے ہم سے زیادہ مانوس ہیں۔

 

                             ** ---------------------------------- **

 

نانا  تاج الدین اس وقت ستاروں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کہنے لگے۔۔۔

              کہکشانی نظاموں اور ہمارے درمیان بڑا مستحکم رشتہ ہے۔ پے در پے جو خیالات ہمارے ذہن میں آتے ہیں وہ دوسرے نظاموں اور ان کی آبادیوں سے ہمیں موصول ہوتے رہتے ہیں۔ یہ خیالات روشنی کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ روشنی کی چھوٹی  بڑی شعاعیں خیالات کے لاشمار تصویر خانے لے کر آتی ہیں۔ ان ہی تصویر خانوں کو ہم اپنی بان میں تو ہم، خیال، تصور اور تفکر وغیرہ کا نام دیتے ہیں۔ سمجھا  یہ جاتا ہے کہ یہ ہماری اپنی اختراعات ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ تمام مخلوق کی سوچنے کی طرزیں ایک نقطۂ مشترک رکھتی ہیں۔ وہی نقطۂ مشترک تصویر خانوں کو جمع کر کے ان کا علم دیتا ہے۔ یہ علم نوع اور فرد کے شعور  پر منحصر ہے۔ شعور جو اسلوب اپنی انا کی اقدار کےمطابق قائم کرتا ہے تصویر خانے اس ہی اسلوب کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔

              اس موقع پر یہ بتا دینا ضروری ہے کہ تین نوعوں کے طرز عمل میں زیادہ اشتراک ہے۔ ان ہی کا تذکرہ آسمانی کتابوں اور قرآن کریم میں انسان، فرشتہ اور جنات کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ نوعیں کائنات کے اندر سارے کہکشانی نظاموں میں پائی جاتی ہیں۔ قدرت نے کچھ  ایسا نظام قائم کیا ہے جس میں یہ تین نوعیں تخلیق کا رکن بن گئی ہیں۔ ان ہی کے ذہن سے تخلیق کی لہریں خارج ہو کر کائنات میں منتشر ہوتی ہیں اور جب یہ لہریں معین مسافت طے کر کے، معین نقطۂ پر پہنچتی ہیں تو کائناتی مظاہر کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

              میں یہ کہہ چکا ہوں کہ تفکر ، انا اور شخص ایک ہی چیز ہے۔ الفاظ کی وجہ سے ان میں معانی کا فرق نہیں کر سکتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ انا، تفکر اور شخص ہیں کیا۔۔۔؟ یہ وہ ہستی ہیں جو لاشمار کیفیات کی شکلوں اور سراپا سے بنی ہیں۔ مثلاً بصارت، سماعت، تکلم، محبت، رحم، ایثار، رفتار، پرواز وغیرہ۔ ان میں ہر ایک کیفیت ایک شکل اور سرا پارکھتی ہے۔ قدرت نے ایسے بے حساب سراپا لے کر ایک جگہ اس طرح جمع کر دیئے ہیں کہ الگ الگ پرت ہونے کے بواجود ایک جان ہو گئے ہیں۔ ایک انسان کے ہزاروں جسم ہوتے ہیں ۔ علیٰ ہذالقیاس جنات اور فرشتوں کی بھی یہی ساخت ہے۔ یہ تینوں ساخت اس لئے مخصوص ہیں کہ ان میں کیفیات کے پرت دوسری انواع سے زیادہ ہیں۔ کائنات کی ساخت میں ایک پرت بھی ہے اور کثیر تعداد پرت بھی ہیں۔ تاہم ہر نوع کے افراد میں مساوی پرت ہیں۔

              انسان لاشمار سیاروں میں آباد ہیں ان کی قسمیں کتنی ہیں اس کا اندازہ قیاس سے باہر ہے۔ یہی بات فرشتوں اور جنات کے بارے میں کہہ سکتے ہیں۔انسان ہوں ، جنات ہوں یا فرشتے، ان کے سراپا کا ہر فرد ایک پائندہ کیفیت ہے۔ کسی پرت کی زندگی جَلی ہوتی ہے یا خفی۔ جب پرت کی حرکت جَلی ہوتی ہے تو شعور میں آجاتی ہے، خفی ہوتی ہے تو لاشعور میں رہتی ہے۔

              جَلی حرکت کے نتائج کو انسان اختراع و ایجاد کہتا ہے لیکن خفی حرکت کے نتائج شعور میں نہیں آتے حالاں کہ وہ زیادہ عظیم الشان اور مسلسل ہوتے ہیں۔ یہاں یہ راز غور طلب ہے کہ ساری کائنات خفی حرکت کے نتیجہ میں رونما ہونے والے مظاہر سے بھری پڑی ہے البتہ یہ مظاہر محض انسانی لاشعور کی پیداوار نہیں ہے ۔ انسان کا خفی کائنا ت کے دور دراز گوشوں سے مسلسل ربط قائم نہیں رکھ سکا۔ اس  کمزوری کی وجہ نوع انسانی کے اپنے خصائل ہیں۔ اس نے اپنے تفکر کو کس مقصد کے لئے پابہ گل کیا ہے، یہ بات اب تک نوع انسانی کے شعور سے ماورا ہے۔

          کائنات میں جو تفکر کام کر رہا ہے اس کا تقاضا کوئی ایسی مخلوق پورا نہیں کر سکی جو زمانی ، مکانی فاصلوں کی گرفت میں بے دست و پا ہو۔ اس شکل میں ایسی تخلیق کی ضرورت تھی جو اس کے خالی گوشوں کو مکمل کرنے کی طاقت رکھتی ہو چناں چہ کائناتی تفکر سے جنات اور فرشتوں کی تخلیق عمل میں آئی تاکہ خلا پُر ہو جائے۔ فی الواقعہ  انسانی تفکر سے وہ تمام مظاہر رونما نہیں ہو سکے جن سے کائنات کی تکمیل ہو جاتی۔

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔