Topics

پندرہ برس پہلے کا واقعہ


                قصہ یوں تھا کہ آج سے کوئی پندرہ برس پہلے گاؤں میں ایک افسوس ناک حادثہ ہوا۔ دنیا میں حادثے تو ہوتے ہی رہتے ہیں مگر اس حادثے کا تعلق خادم سے تھا۔ اس لئے قابل تذکرہ ہے۔ خادم ٹھاکر صاحب کے باپو کے پاس حویلی میں بطور ملازم لایا گیا تھا۔ جو دوست اسے لائے تھے وہ کہنے لگے کہ یہ ایک غریب مسلمان کا بچہ ہے۔ اس کا باپ تو تین سال پہلے مر چکا ہے۔ پچھلے ماہ اس کی ماں بھی مر گئی ہے۔ اور اس کا کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔ آپ اسے اپنے پاس رکھ لیں۔ گھر کے کام کاج کر دیا کرے گا۔ اس وقت خادم کی عمر تقریباً نو سال تھی۔ ٹھاکر صاحب کے باپو کے دوست اسے جمنا کے پار ایک چھوٹی سی بستی سے لائے تھے۔ کسی وجہ سے اپنے کام کے سلسلے میں ان کا گزر ادھر ہوا۔ اسی دن اس کی ماں کا جنازہ بستی کی مسجد میں لایا گیا۔ وہیں پر یہ دوست بھی موجود تھے۔ نماز جنازہ میں شریک ہونے کے بعد جنازے میں بھی شرکت کی۔ بستی میں چند دن رہنا ہوا تو پتہ چلا کہ یہ بچہ اب لاوارث ہے۔ خدا ترس تھے۔ ساتھ لے آئے۔ مگر گھر میں مزید ملازم کی ضرورت نہیں تھی۔ ٹھاکر صاحب کے والد کی حویلی کے ٹھاٹ باٹ دیکھتے ہوئے ملازم ان کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح خادم یہاں مستقل آ گیا۔ ٹھاکر صاحب کو اور تمام گھر والوں کو اس پر پورا پورا بھروسہ تھا۔ وہ گھر کے فرد کی حیثیت سے تھا۔

                پندرہ برس پہلے کا واقعہ یوں ہے کہ گاؤں میں ایک ہندو ہریجن گھرانہ تھا۔ ہندو لوگ ہریجن سے چھوت چھات کی وجہ سے بہت ذلت آمیز سلوک کرتے ہیں۔ ایک گاؤں میں رہنے کی وجہ سے کسی طرح اس گھرانے میں خادم کا آنا جانا ہو گیا۔ وہاں ان کی ایک لڑکی بھی تھی۔ خاوند اچھی طبیعت کا نہ تھا۔ جب شادی کے تین برس تک بچہ نہ ہوا تو سسرال والوں نے ناک میں دم کر دیا۔ لڑکی کے ماں باپ کو تو وہ دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے تھے۔ شکنتلا کئی ماہ بعد بڑی مشکل سے چھپ چھپا کر ماں کو دیکھنے آئی تھی۔ آتے ہی ماں کے گلے لگ کر بڑا روئی۔ “ماں آج میرا کوئی جوان بھائی ہوتا تو سسرال میں میری یہ درگت نہ بنتی۔ بوڑھے باپ نے ویسے ہی چارپائی پکڑ رکھی ہے۔”خادم کی کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ کہ کس طرح اس لڑکی کو مصیبت سے نکالے۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑ ااور کہنے لگا۔ “شکنتلا آج سے میں تیرا بھائی ہوں۔ لے میرے بازو پر راکھی باندھ۔”شکنتلا کی آنکھوں کے سیلاب پر جیسے کسی نے بندھ باندھ دیا۔ اس نے خادم کے بازو پر راکھی باندھی۔ پوجا کے تھال سے اپنے بھگوان کی مورتی کے سامنے بھائی کے ماتھے پر شگن کا نشان لگایا اور بھائی کے منہ میں پرشاد ڈالا۔ بھائی نے اپنی بہن کو جو کچھ اس کے پاس پیسے تھے اس کو دیئے۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کے بہن بھائی بن گئے۔ اب بھائی نے کہا۔ “بہن تو چھپ کر ماں سے ملنے یہاں آئی ہے مگر اب میں تجھے اپنے ساتھ تیرے سسرال چھوڑ کر آؤں گا۔”خادم شکنتلا کو اس کے گھر چھوڑ کر آیا۔ اس کے سسرال والوں اور خاوند کو بھی بتایا کہ آج سے شکنتلا میری چھوٹی بہن ہے کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے اس وقت تو مصلحت جان کر سب چپ ہو گئے۔ یہ وہاں سے چلا آیا۔ تیسرے دن کنویں سے شکنتلا کی لاش ملی۔ سسرال والوں نے یہ مشہور کر دیا کہ اس نے خود کشی کی ہے۔ ہریجن لڑکی سسرال والوں کے ظلم و ستم کا شکار ہو گئی۔ ماں باپ روتے رہ گئے اور چند ہی دنوں میں دونوں مر گئے۔ گاؤں والوں نے یا برادری والوں نے شکنتلا کے متعلق کوئی تفتیش کرنے کی بھی تکلیف نہیں کی۔ سب نے یقین کر لیا کہ اس نے خود کشی کی ہے۔ سوائے خادم کے ، وہ ہر وقت یہی کہتا رہتا کہ اس کو کنویں میں دھکا دیا گیا ہے۔ اس نے ٹھاکر صاحب سے اس کیس کی تفتیش کرنے کو کہا ٹھاکر صاحب نے تفتیش کرائی مگر اس سے بھی کچھ نتیجہ نہ نکلا۔ ویسے بھی ان دنوں ہریجنوں کے لئے پولیس اپنا وقت ضائع نہیں کرتی تھی۔ لوگوں کے نزدیک وہ جانوروں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ نتیجہ وہی نکلا جس کا ٹھاکر صاحب کو خطرہ تھا۔ ایک دو دن کی تفتیش کے بعد پولیس نے بیان دے دیا کہ کیس بہت ہی سیدھا ہے۔ لڑکی سسرال والوں کو پسند نہیں کرتی تھی۔ کیونکہ بچہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ان کے لعن طعن کا شکار تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے موقع پا کر خود کشی کر لی۔ خاوند بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ مل گیا۔ خادم کو شکنتلا کی اچانک موت کا بڑا صدمہ تھا۔ اسے کسی طرح یقین آتا ہی نہیں تھا کہ شکنتلا نے خود کشی کی ہے۔ جب ہر طرف سے قانونی تفتیش ختم ہو گئی تو خادم ایک جوگی کے پاس گیا۔ اس جوگی کے متعلق مشہور تھا کہ وہ مرے ہوئے لوگوں کی روحوں سے رابطہ قائم کر سکتا ہے۔ خادم کو اس جوگی پر کچھ زیادہ یقین تو نہ تھا مگر اس نے سوچا کہ اچھا موقع ہے آزمانے کا۔ اگر کوئی سبب بن جائے اس معمہ کے حل ہونے کا تو کیا مضائقہ ہے۔ اس نے جوگی کو سارا قصہ سنایا۔ جوگی نے کمرے میں باکل اندھیرا کر دیا اور کچھ منتر پڑھے۔ اس کے بعد اس کی آواز بالکل بدل گئی۔ اس کا جسم کانپنے لگا اور یوں لگا جیسے اس کے پاس کوئی موجود ہے اور وہ اس سے بات کر رہا ہے۔ یہ شکنتلا کی روح تھی جوگی نے اس کا نام لیا۔ شکنتلا تو نے آتما ہتھیا کیوں کی؟ اندھیرے کمرے میں شکنتلا کی آواز گونجی۔”کون کہتا ہے کہ میں نے آتما ہتھیا(خود کشی) کی ہے۔”

                خادم شکنتلا کی آواز سن کر اپنی جگہ سے اچھل پڑا بے ساختہ رو کر بولا۔”شکنتلا بہن ، تم ٹھیک تو ہو نا؟”جوگی نے اس کا ہاتھ زور سے دبا کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا بولا۔ “پھر تم کو کس نے مارا؟”وہ بولی۔”میرے سسرال والوں نے میرے خاوند کو غصہ دلایا۔”جوگی بولا۔ “کس بات پر غصہ دلایا؟”۔ بولی۔”انہوں نے بہن بھائی کے رشتے کو شک کی نگاہ سے دیکھا۔”جوگی نے کہا، “پھر تم کنویں میں کیسے گری؟”

                وہ بولی اس رات کو گھر میں بہت لڑائی ہوئی جب میرے خاوند نے بھی مجھ پر شک کرنا شروع کر دیا اور مجھ پر الزام دھرے کہ تو بغیر اجازت اسی کے لئے ماں کے گھر گئی تھی۔ تو میں چپ نہ رہ سکی۔ اس نے مجھے مارا بھی۔ میں رات سو نہ سکی۔ صبح منہ اندھیرے اٹھ بیٹھی کہ کنویں سے پانی لا کر ہاتھ منہ دھو کر بھگوان سے پراتھنا کروں۔ میں کنویں پر گئی۔ ابھی ڈول کھینچ رہی تھی کہ پیچھے سے پاؤں کی آواز آئی۔ میں نے مڑ کر دیکھا کنویں پر لٹکی لالٹین کی پیلی راشنی میں میرا خاوند کھڑا مجھے گھور رہا تھا۔ میں سمجھی کہ وہ مجھے منانے آیا ہے۔ میں نے منہ پھر کنویں کی جانب کر لیا اور ڈول کھینچنے لگی۔ پھر اس کے بعد ایک دم سے اس نے مجھے دھکا دے دیا۔ اس کی غصے میں بھری آواز آئی۔ آج تیرا میرا قصہ ختم، اور چندہی لمحوں بعد میں مر چکی تھی۔ جوگی بولا۔ اب تم کیسی ہو؟ شکنتلا بولی۔ میں یہاں خوش ہوں بہت خوش۔ خادم مسلسل رو رہا تھا۔ اس کی ہلکی ہلکی ہچکیوں کی آواز کمرے کی خاموشی میں دخل اندازی کر رہی تھی۔ جوگی نے لالٹین کی بتی اونچی کی۔ خادم کا صدمے اور رنج کے مارے برا حال تھا۔ وہ زور زور سے ہچکیاں لیتے ہوئے بولا۔”مہاراج، اب میں کیا کروں؟ کس طرح اپنی بہن کے خون کا بدلہ لوں؟”جوگی چند لمحے چپ چاپ خلاؤں میں گھورتے ہوئے بولا۔”بالک انتظار کر، قدرت خود انتقام لینے والی ہے۔”

                اس کے ٹھیک نویں دن رات کو سوتے سوتے اچانک شکنتلا کا خاوند چیخ مار کر جاگ اٹھا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ شکنتلا سے بات کر رہا ہے۔ وہ سخت خوفزدہ تھا جیسے حواس باختہ ہو۔ اس دن کے بعد اس کا دماغ جیسے پھر گیا۔ ہر وقت اس کی نظروں کے سامنے شکنتلا سائے کی طرح رہتی۔ یوں لگتا جیسے اس کی نظروں کے سامنے شکنتلا کو کنویں میں دھکا دینے کا منظر بار بار دہرایا جاتا ہے۔ وہ گھر سے نکل بھاگتا۔ سڑکوں پر چلاتا پھرتا “شکنتلا تو پوتر ہے۔ مجھ سے بھاری پاپ ہوا ہے۔”یہ چلاتے چلاتے وہ کنویں کی جانب بڑھتا رہا کسی نے بھی توجہ نہ دی بستی کے چند لوگ دور فاصلے پر آ جا رہے تھے۔ سب اپنے اپنے کاموں میں تھے کہ ایک دن تیزی سے وہ کنویں کی منڈیر پر چڑھ گیا اسی لمحے خادم کا گزر وہاں سے ہوا۔ اس نے اس کی آواز سنی۔ مڑ کر دیکھا تو وہ منڈیر پر کھڑا تھا۔ خادم فاصلے پر تھا ایک دم چلایا۔”ارے پکڑو، پکڑو”اور اسی دم شکنتلا کے خاوند نے اسی کنویں میں چھلانگ لگا دی جس میں اس نے اپنی فرشتہ صفت بیوی کو دھکا دیا تھا۔ خادم پر جیسے سکتہ چھا گیا وہ اپنی جگہ کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔ اس کے منہ پر یہ الفاظ جاری تھے۔ بہن نے اپنا بدلہ لے لیا۔ اپنا بدلہ لے لیا۔ بعد میں اس نے ٹھاکر صاحب کو بتایا کہ جب شکنتلا کا خاوند منڈیر پر کھڑا تھا تو اس نے شکنتلا کو کنویں کے بیچوں بیچ معلق دیکھا۔ وہ اپنے خاوند کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کر رہی تھی۔ اس دن کے بعد سے خادم کا آسیب اور سایوں پر بہت اعتقاد ہو گیا۔ اصل میں روح کی حقیقت سمجھنے کے لئے تو اس کے پاس اتنی عقل نہیں تھی البتہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ مرنے کے بعد آدمی کا مٹی کا جسم ختم ہو کر سائے میں بدل جاتا ہے اور کبھی کبھی اس سائے کو آدمی اپنی آنکھ سے دیکھ بھی لیتا ہے۔

                اب خادم دوبارہ صندل اور کندن کو اسکول لے جانے اور لانے لگا۔ ہر روز واپسی پر صندل پرانی قبر پر جاتی۔ چپ چاپ قبر کے پاس کھڑی ہو جاتی۔ خادم اور کندن دیکھتے کہ اس کے ہاتھ میں تازہ خوشبودار گلاب کے پھولوں کا ہار آ جاتا اور وہ قبر پر چڑھا دیتی۔ یوں لگتا جیسے وہ کسی کے گلے میں ہار ڈال رہی ہے۔ پھر زمین کی طرف جھکتی۔ پاؤں میں پڑے سکے اٹھاتی اور چل پڑتی۔ آ کر ماں کو پیسے دے دیتی۔ چند بار ماں نے پوچھا بھی کہ تم کو کون دکھائی دیتا ہے، کیا کہتا ہے؟ مگر وہ “کچھ نہیں”کہہ کر چپ ہو جاتی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ قبر والے بابا کون ہیں اور صندل سے کیا چاہتے ہیں۔ ویسے صندل طبعاً نہایت ہی خوش مزاج بچی تھی۔ اس کے اندر گلابوں کی سی تازگی اور صندل کی سی خوشبو تھی۔

                گیارہ سال کی عمر میں وہ ایسی عقلمندی کی باتیں کرتی کہ لوگ کہہ اٹھتے کہ کیسی ذہین بچی ہے۔ اب اس کا رجحان کچھ عبادت کی طرف بھی ہو چلا تھا مگر عبادت وہ کبھی اپنے کمرے میں نہ کرتی۔ رات کو جب سونے کے لئے اپنے اپنے کمرے میں چلے جاتے تو وہ اشنان کر کے صندل دیوی والے کمرے میں چلی جاتی اور کمرہ بند کر لیتی۔ ایک دن کسی وجہ سے صندل کی ماں اس کے کمرے میں آئیں دیکھا تو صندل دوزانو فرش پر بیٹھی ہے اور اس کی آنکھیں بند ہیں وہ جیسے کہیں اور ہی کھوئی ہوئی ہے۔ چند لمحے تک ماں اسے کھڑی دیکھتی رہی پھر چپ چاپ وہاں سے کھسک آئی اس نے آ کر ٹھاکر صاحب کو بتایا کہ صندل اس کمرے میں دھیان لگائے بیٹھی ہے۔

                ایک گھنٹے بعد صندل جب اپنے کمرے میں لوٹی تو ٹھاکر صاحب نے پوچھا۔ “بیٹی کیا کر رہی تھی؟”صندل بولی،”باپو پرانی قبر والے بابا نے مجھے کہا تھا کہ اس کمرے میں رات کو میری طرف دھیان لگا کر بیٹھ جایا کرو تو باپو میں اسی طرح کرتی ہوں۔ اور انہوں نے مجھے جاپ بھی پڑھنے کو بتایا ہے۔”ٹھاکر صاحب نے بیٹی کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور دعا دے کر چلے گئے۔

                عاجل کا اب آخری سال تھا۔ مندراج بابو اپنی بیٹی کے رشتے کے لئے گھر آتے، اس کے لئے طرح طرح کے کھانے پکا کر بھجواتے۔ بہانے بہانے سے اسے اپنے گھر بلواتے اس صورتحال سے اب وہ بھی تنگ ہو گیا۔ ایک دن اپنے باپو سے کہنے لگا۔ “باپو مجھے تارا میں قطعی دلچسپی نہیں ہے۔ میں اس سے شادی نہیں کروں گا۔ اور پھر ابھی تو میرا ایک سال پڑا ہے پھر مجھے سروس بھی کرنی ہو گی کچھ عرصہ۔ آخر سب کو میری شادی کی اتنی فکر کیوں لگ گئی ہے۔”ٹھاکر صاحب بولے۔”بیٹا تمہاری ماتا اور مجھے بھی یہ رشتہ پسند نہیں ہے مگر بھائی صاحب نے تو جیسے پیچھا ہی پکڑ لیا ہے رشتے داری کا معاملہ ہے تم فکر نہ کرو۔ ہم کسی نہ کسی طرح اس مسئلے کا حل ضرور ڈھونڈ لیں گے۔”

                عاجل کے امتحان قریب آ گئے۔ وہ امتحانوں میں مصروف ہو گیا۔ ادھر ایک دن مندراج بابو نے ٹھاکر صاحب کو گھر بلوایا۔ نوکر نے آ کر اطلاع دی کہ بھائی صاحب بلواتے ہیں۔ سنتے ہی چودھرائن کہنے لگیں “تارا کے رشتے کی بات کرنی ہو گی۔”ٹھاکر صاحب بولے۔”بیگم کیا کروں؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ اب تک تو انہیں سمجھ جانا چاہئے تھا۔”بیگم بیولیں۔”اب کے ان سے پکی بات کرو۔ ان کو اچھی طرح سمجھا کے آؤ۔ عاجل کسی طرح نہیں مانتا۔ بیٹی کو زیادہ دیر بٹھانے سے فائدہ نہیں کوئی اچھا سا رشتہ دیکھ کر جلدی ہاتھ پیلے کر دو۔”

                ٹھاکر صاحب گئے تو بھائی بھاوج نے پھر وہی رشتے کی بات چھیڑ دی۔ ہزار سمجھایا کہ بھائی شادی تو دو دلوں اور دو ذہنوں کا میل ہے زبردستی کی بات نہیں ہے۔ لڑکے کا رجحان اس طرف نہیں ہے۔ خواہ مخواہ محبت کے رشتوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر رنجشوں میں بدلنے سے کیا فائدہ۔ بھاوج بولیں۔”شادی کے لئے لڑکا لڑکی سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔ ماں باپ اور بزرگ ہی اپنی پسند سے جہاں مناسب سمجھتے ہیں کرا دیتے ہیں۔”ٹھاکر صاحب نے جواب دیا۔”بھابھی صاحبہ میں لڑلا لڑکی کی مرضی کے بغیر شادی کرنا پاپ سمجھتا ہوں۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک وہ ہاں نہ کہہ دیں، تب تک پوترا گنی بھی ان کے بندھن کو قبول نہیں کرتی۔”وہ بولیں۔”رہنے دو، یہ تو باتیں ہیں۔ پرانے وقتوں کی اور بس۔ لڑکا لڑکی تو ہاں بزرگوں کے کہنے پر ہی کرتے ہیں۔”ٹھاکر صاحب نے اندازہ لگا لیا کہ یہ لوگ اتنی جلدی ہار ماننے والے نہیں ہیں، وہ چپ چاپ اٹھ کھڑے ہوئے اور نمسکار کر کے باہر نکل آئے۔

                صندل بھگوان کی کرپا سے اب تیرھویں برس میں لگی تھی۔ قد بُت اس کا پندرہ برس سے کم کا نہ تھا۔ اور عقل و شعور میں تو وہ پوری طرح جوان تھی۔ روز رات کو صندل دیوی والے کمرے میں دو تین گھنٹے عبادت کرتی۔ مگر پوچھنے پر بھی کسی کو کچھ نہ بتاتی۔ ایک بار ٹھاکر صاحب نے چھپ کر کھڑکی سے جھانکا تو اس کے کمرے سے کسی بزرگ آدمی کی آواز آ رہی تھی۔ اندھیرے میں ان کو تو کوئی دکھائی نہ دیا مگر صندل اس طرح بات کر رہی تھی جیسے کوئی وہاں موجود ہے۔ ٹھاکرصاحب جانتے تھے کہ صندل پر بزرگوں کا سایہ ہے۔ وہ بیٹی کی بھلائی کی دعا کرتے ہوئے خاموشی سے اپنے کمرے میں لوٹ گئے۔

                چند دن بعد ہی رات کو جب سب لوگ سو رہے تھے۔ کوئی ایک بجے کا وقت تھا کہ صندل کی گرج دار آواز نے حویلی کے سکوت کو درہم برہم کر دیا۔ ماں باپ اور بھائی سب ہی آواز کی طرف دوڑ پڑے۔ صندل دیوی کے کمرے میں لالٹین کی روشنی میں کیا دیکھتے ہیں کہ کمرے کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اور صندل سخت غیض و غضب کی حالت میں کسی نادیدہ ہستی کو مار رہی ہے۔ جیسے وہ کسی کو اٹھا کر زمین پر پٹخ رہی ہے۔ صندل کی گرج کے ساتھ ساتھ کسی کی چیخیں بھی بلند ہو رہی تھیں۔ یہ خوفناک منظر دیکھ کر سب کے بڑھتے ہوئے قدم دروازے کے باہر ہی رک گئے۔ سب لوگ مبہوت کھڑے دیکھتے رہ گئے۔ پھر ایک چیخ سنائی دی۔ اور صندل کی غضبناک آواز آئی۔”خبردار جو آئندہ ایسی حرکت کی۔ جلا کر خاکستر کر دوں گی۔ اب کبھی ادھر کا رخ نہ کرنا۔”پھر وہ فوراً ہی نارمل ہو گئی۔ جیسے وہ نادیدہ ہستی چلی گئی ہو۔ اس نے سامنے دیکھا سارا گھر سہما ہوا کھڑا تھا۔ اس کے تمتماتے ہوئے چہرے پر ایک دم مسکراہٹ آ گئی۔ جیسے سرخ گلاب کھل اٹھا۔ بولی۔”باپو آپ فکر نہ کریں میں نے اسے بھگا دیا ہے۔”ٹھاکر صاحب آگے بڑھے۔ انہوں نے بیٹی کے کندے پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور بولے۔”بیٹی کیا بات ہے؟ چلو کمرے میں چل کر بات کرتے ہیں۔”سب لوگ ابھی تک پھٹی پھٹی حیران نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ ایک تو گہری نیند سے ایک دم اٹھے تھے کہ یہ ہنگامہ ہو گای۔ سب کے دماغ جیسے ابھی تک سو رہے تھے۔ کچھ پتہ نہ چلتا تھا۔ باپو کے کمرے میں آ کر سارے نیچے دری پر بیٹھ گئے۔ ماں نے بیٹی کو اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔ پاس رکھی صراحی سے پانی پینے کو دیا۔ پھر بولیں۔”بیٹی تو نے ہمیں ڈرا ہی دیا کیا معاملہ ہے؟ تیری طبیعت تو ٹھیک ہے؟”

                وہ بولی۔”ماں یقین کرو میں بالکل ٹھیک ہوں۔ تم کو تو پتہ ہی ہے کہ میں پرانی قبر والے بابا جی کے کہنے پر اس کمرے میں رات کو پوجا پاٹھ کرتی ہوں۔ ماں وہ بہت بڑے بزرگ ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ آج سے تقریباً آٹھ سو سال پہلے وہ اس گاؤں میں رہتے تھے۔ ان کے ماں باپ سید خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ابھی وہ آٹھ نو برس کے تھے کہ ان کے گھر ایک درویش فقیر آئے۔ یہ تقریباً مغرب کا وقت تھا۔ سورج کا آخری کنارہ پہاڑی کے پیچھے چھپنے کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک دروازے پر اس فقیر نے صدا لگائی۔”مائی بس اک روٹی دے دے۔ ڈوبا سورج پھر ابھرے گا۔”وہ فقیر بار بار یہی صدا دہرارہا تھا۔ بابا جی کے امی ابا فقیروں کو ماننے والے تھے۔ بہت نیک مسلمان تھے فوراً آواز دی “ٹھہرو بابا۔”اور روٹی کپڑے میں لپیٹ کر بابا جی کے ہاتھ میں دی کہ جا کر فقیر کو دے آؤ۔ بابا جی نے جو ابھی آٹھ نو سال کے بچے تھے دروازہ کھولا اور روٹی آگے بڑھاتے ہوئے بولے۔”لو بابا روٹی لے لو۔”اس نے لڑکے کو پاس بلایا کپڑے سے بس ایک روٹی نکال لی ایک رہنے دی۔ بولے۔”لو یہ دے آؤ۔”وہ جان گئی تھیں کہ یہ کوئی بزرگ ہیں۔ جنہوں نے رومال کھولے بغیر روٹی کی تعداد جان لی۔ صحن سے سامنے پہاڑی دکھائی دے رہی تھی۔ اب سورج کا کنارہ بھی پہاڑی کے پیچھے چھپ چکا تھا آسمان پر صرف سرخی رہ گئی۔ فقیر نے لڑکے کے ہاتھ سے روٹی لی۔ مجذوبانہ انداز میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولے۔”ڈوبا سورج پھر ابھرے گا۔”اور اسی وقت سامنے پہاڑی سے سورج ابھرنے لگا۔ یہاں تک کہ پورے کا پورا سورج پہاڑ سے نکل آیا۔ اماں ہکا بکا رہ گئیں۔ کمسن سلطان حیرانی سے سے فقیر بابا کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنے منہ میں روٹی کا ایک ٹکڑا توڑ کر ڈالا۔ پھر چبا کے سلطان کے منہ میں اپنے ہاتھ سے ڈال دیا۔ اور سر پر ہاتھ رکھ کر کچھ پڑھ کر پھونک دیا۔ اتنی دیر میں سورج بھی دوبارہ پہاڑی کے پیچھے ڈوب گیا۔ اب اماں کو ہوش آیا وہ کہنے لگیں۔”بابا جی اندر آ جایئے۔”مگر بابا جی تیزی سے مڑے اور گلی میں ایک قدم بڑھایا اور پھر نہ جانے کہاں غائب ہو گئے۔ اللہ کی شان ہے وہ اپنے بندوں کے ذریعے اپنی شانوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔ سلطان کی امی نے گلی میں دائیں بائیں نظر ڈالی پھر سلطان کا ہاتھ پکڑ کر اندر کیا اور دروازہ بند کر دیا۔ اسی وقت کمسن سلطان کی تو جیسے کایا ہی پلٹ گئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک آئینہ آ گیا اور اس آئینے کی باتیں کبھی لوگ اس سے پوچھتے اور کبھی وہ خود ہی کہنے لگ جاتا۔”

                صندل بولی۔”ماں بابا جی نے بتایا کہ یہ آئینہ ہر انسان کے اندر لگا ہوا ہے۔ اور اس آئینے میں ہر وقت غیب کی تصویریں آتی رہتی ہیں۔ اس آئینے میں جو کچھ گزر چکا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے، سب کچھ دکھائی دیتا ہے۔ ماں سلطان بابا جی مجھ پر بہت مہربان ہیں۔ انہوں نے کہا صندل تیرا آئینہ بہت صاف ہے۔ اس میں دیکھا کر۔ اور ماں سلطان بابا جی نے اس دن مجھ کو روٹی کا نوالہ چبا کر کھلایا تھا۔”

                ماں پریشان نظروں سے بیٹی کی طرف دیکھنے لگی۔ کہنے لگی۔”بیٹی ان کو تو مرے ہوئے آٹھ سو برس ہو گئے اب وہ کس طرح تمہیں روٹی چبا کر کھلا سکتے ہیں؟”صندل جلدی سے بولی۔”ماں بابا جی کہتے تھے کہ ان کے اندر اتنی قوت ہے کہ وہ دوبارہ انسان بن کر دنیا میں آ سکتے ہیں۔ جب ضرورت پڑتی ہے تو وہ دوبارہ آ جاتے ہیں۔ اور اس دن جب میں قبر پر گئی تو وہ قبر سے نکلے اور ان کے ہاتھ میں ایک روٹی تھی۔ جس کا ٹکڑا چبا کر انہوں نے میرے منہ میں ڈالا اور ماں اسی دن سے میرے اندر کے آئینے میں بہت سی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔”ٹھاکر صاحب بولے۔”ابھی کیا تھا؟ کیا دیکھا تھا تم نے؟”صندل بولی۔”باپو میں بیٹھی سلطان بابا جی کا دھیان کر رہی تھی کہ اچانک میرے اندر کے آئینے میں بڑی ماں دکھائی دیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک تعویذ تھا جس پر عاجل بھائی کا نام لکھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس تعویذ کو عاجل بھائی نے جیسے ہی چھوا ایک زبردست جن نے انہیں اٹھا کر زمین پر دے مارا۔ یہ دیکھ کر غصہ کے مارے میرا برا حال ہو گیا۔ جی چاہا اس جن کو بھی اسی طرح پٹخ دوں جس طرح اس نے میرے بھائی کو پٹخا ہے۔ بس اسی وقت یہ سارا سین جیسے سچ مچ میرے سامنے آ گیا۔ مجھ میں زبردست قوت آ گئی۔ اور میں جن کو اسی طرح اٹھا اٹھا کر زمین پر پٹخنے لگی جیسے اس نے میرے بھیا کو پٹخا تھا۔”صندل بولی۔”باپو مجھے یقین ہے کہ بڑی ماں نے عاجل بھائی کے لئے کوئی غلط تعویذ لیا ہے۔”چودھرائن فوراً بولیں۔”ضرور لیا ہو گا وہ تو پہلے ہی تارا کی وجہ سے میرے بیٹے کے پیچھے پڑی ہے۔”ٹھاکر صاحب بالکل چپ چاپ تھے۔ ان کے چہرے سے گہری سوچ کی غمازی ہو رہی تھی۔ بیوی نے ایک نظر خاوند کے فکر مندانہ چہرے کو دیکھا اور بچوں سے بولی کہ بچو اب کافی رات ہو چکی ہے، سو جاؤ۔ صبح دیکھیں گے۔

                رات کے ہنگامے کے بعد سارے ایسے بے خبر سوئے کہ صبح جب آنکھ کھلی تو اچھی بھلی دھوپ کمروں میں آئی ہوئی تھی۔ ٹھاکر صاحب نے گھبرا کے بیگم کو جھنجوڑ ڈالا۔ “بیگم اٹھو۔ لڑکوں کو آواز دو۔ دکان پر دیر ہو جائے گی۔”بیگم ہڑ بڑا کر اٹھیں اور آنکھیں ملنے لگیں۔ جب ذرا حواس درست ہوئے تو باہر آ کر لڑکوں کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ باپ بیٹے تو دکان پر چلے گئے اور چودھرائن صندل کے کمرے میں چلی گئی۔ وہ بھی جاگ اٹھی تھی۔ ہرنی جیسی آنکھوں میں لال لال ڈوریاں کم خوابی کی شکایت کر رہی تھیں۔ ماں کو دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھی۔ نیند بھری آواز میں پرنام کیا۔ ماں نے بیٹی کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور بولی۔”جاؤ بیٹی۔ منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کر لو سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔”صندل ہاتھ منہ دھونے چلی گئی۔ ماں باورچی خانے میں آ گئی۔ خادم نے باورچی خانے کے فرش پر دری بچھا کر دسترخوان لگا دیا۔ چھوٹی بہو کا جل گرم گرم پراٹھے پکا کر دیتی رہی سب مزے میں کھانے لگے۔ دوران ناشتہ وہی رات والا قصہ چل نکلا۔ بڑی بہو مالا بولی۔”ماں جی مجھے تو صندل کی کسی بھی بات پر ذرا شک نہیں ہے۔ وہ یوں کہ پرسوں جب بریٹھن دُھلے کپڑے لے کر آئی تو میں نے اسے میٹھے چاول کھانے کو دیئے۔ وہ کھاتے کھاتے بولی اے بہو آپ کو کچھ پتہ بھی ہے۔ میں نے پوچھا کیا چیز؟ بولی وہ مندراج بابو کی گھر والی کل مجھ سے پل والے پیر کا پوچھ رہی تھی کہ میں نے سنا ہے وہ تعویذ دیتے ہیں۔ ان کے تعویذ سے کام بن جاتے ہیں۔ میں نے کہا بہن جی آپ کے گھر میں تو خود پہنچے ہوئے موجود ہیں۔ آپ اپنے میاں سے تعویذ لے لو۔ بولی ارے نہیں بریٹھن بھائی کا معاملہ ہے وہ کہاں سنتے ہیں۔ میں نے کہا کہ بھئی وہ پیر ہے بڑا زوردار۔ سب یہی کہتے ہیں ماں جی۔ اس کے بعد وہ تو میلے کپڑے دھونے کے لئے چلی گئی۔ میرے ذہن سے یہ بات ہی نکل گئی۔ اب خیال آ رہا ہے کہ ضرور بڑی ماں نے اس پل والے پیر صاحب سے تعویذ لیا ہو گا۔”چودھرائن ٹھنڈی سانس بھر کے بولیں۔”کسی نہ کسی سے تو لیا ہی ہو گا بیٹا۔ آگ لگے ایسے تعویذ کو اور آگ لگے ایسے علم کو جو لوگوں کو نقصان پہنچائے۔”چھوٹی بہو کاجل پراٹھا توے پر سینکتے ہوئے بولی۔”ماں جی کل کسی کے ہاتھ عاجل کی خیریت معلوم کرا لو۔اس کے آج کل میں امتحان بھی ہونے والے ہیں۔ اب تو وہ امتحانوں کے بعد ہی آئے گا۔”مالا بولی۔”ماں جی کل جو میٹھی ٹکیاں میں نے بنائی تھیں وہ برنی میں رکھی ہیں۔ یہ برنی عاجل کو بھجوا دینا۔”ماں نے دونوں بہوؤں کو پیار سے دعائیں دیں۔ اور خادم سے کہا کہ تو جلدی سے ناشتہ کر لے اور عاجل کی خیریت معلوم کر کے آنا۔

                خادم رات گئے گھر لوٹا تو سب ہی اس کے منتظر تھے۔ خادم سیدھا چودھرائن کے کمرے میں آیا۔ اس کی عادت تھی کہ وہ دروازے پر کھنکار کے اپنے آنے کی اجازت طلب کرتا تھا۔ کھنکار کی آواز سنتے ہی چودھرائن نے اسے اندر چلے آنے کو کہا۔ کہنے لگا۔”مالکن جی عاجل میاں مزے میں ہیں۔ کل سے ان کے امتحان ہونے والے ہیں۔ دعا کے لئے کہہ رہے تھے۔”اتنے میں خادم کی آواز سن کر سارے ہی کمرے میں آ گئے۔ ٹھاکر صاحب بھی موجود تھے۔ خادم کی بات جاری تھی۔”مالکن جی، عاجل میاں نے باتوں باتوں میں مجھ سے ذکر کیا کہ خادم کل رات میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ تم کو بتا رہا ہوں مگر تم ماں کو نہ بتانا وہ فکر کریں گی۔ میں نے پوچھا چھوٹے صاحب، آپ بتائیں تو سہی کیا بات ہے؟ تو بولے کل رات کوئی ایک بجے ہونگے کہ رات کو اپنی پڑھائی کر رہا تھا کہ مجھے عجیب سی سنسناہٹ سی ہوئی میں نے کتاب سے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو ایک عجیب و غریب شکل کا آدمی نما شخص سامنے دکھائی دیا۔ اس کا قد کافی بڑا تھا اتنا بڑا کسی آدمی کا نہیں ہو سکتا۔ اس کا چہرہ بڑا اور گول تھا۔ اس کی آنکھیں بھی گول تھیں اور ان گول آنکھوں کے اوپر آدھے چاند کی گولائی میں موٹی موٹی گھنی بھنویں تھیں۔ مگر اس کے بال بڑے ہی بے ترتیب تھے۔ اس کے چوڑے سے دہانے کے اندر چوڑے چوڑے دانت آدھے ہونٹوں سے باہر نکل رہے تھے۔ وہ خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے میری جانب بڑھا اور اس طرح دونوں ہاتھ میری طرف بڑھائے جیسے مجھے اٹھا کر زمین پر پٹخنے والا ہے۔ ابھی میں کچھ سوچنے بھی نہ پایا تھا کہ ایک دم سے صندل سامنے آ گئی۔ صندل اپنے ڈیل ڈول سے بہت بڑی تھی۔ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں اس نے ایک دم اس جن کو اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا اور وہ اس قدر غیظ و غضب میں تھی کہ اس نے اس دیو نما جن کو کئی دفعہ اٹھا اٹھا کے زمین پر پٹخا۔ یہاں تک کہ وہ بھاگ گیا پھر سارا منظر آنکھوں کے سامنے سے ختم ہو گیا۔ خادم تم بتا سکتے ہو کہ یہ کیا تھا۔ میں ایک دم سے بولا۔ ارے چھوٹے صاحب آپ کے گھر والوں نے اسی وجہ سے تو آج آپ کی خیریت معلوم کرنے مجھے بھیجا ہے۔ پھر میں نے رات کا سارا واقعہ سنایا۔ وہ سن کر حیران رہ گئے۔ کہنے لگے صندل بی بی پر تو پرانی قبر والے بابا جی کا سایہ ہے۔ پھر میں نے انہیں ان بابا جی کے متعلق بھی ساری بات بتا دی۔”سب بڑے غور سے سن رہے تھے۔ ٹھاکر صاحب کہنے لگے۔”سب سے بڑی طاقت تو پرماتما ہی کی ہے۔ وہی اپنے بندوں کی حفاظت کرنے والا ہے۔”صندل معصومیت سے ساری باتیں سنتی رہی۔ اس کے ملیح چہرے پر خوشی کے رنگ جگمگانے لگے۔ چودھرائن بولیں۔”کل یتیم خانے میں کھانا پکوا کے بھجوا دینا۔”ٹھاکر صاحب فکر مند تھے کہ نہ جانے یہ دشمنی اب کیا رنگ لائے گی۔

                پندرہ دن بعد عاجل گھر لوٹ آیا۔ اس کے امتحان ختم ہو چکے تھے۔ کورس بھی پورا ہو چکا تھا۔ بس اب تو رزلٹ کا انتظار تھا۔ گھر آیا تو تیسرے دن مندراج بابو کا ملازم آ گیا کہ بڑی ماں بلا رہی ہیں۔ عاجل سنتے ہی بولا بڑی ماں سے کہہ دو کہ وہ اس وقت بہت مصروف ہے پھر کبھی حاضر ہو گا۔ ملازم تو چلا گیا مگر چودھرائن گھبرا کے بولیں ۔ تم وہاں کبھی مت جانا بیٹے۔ ان کے یہاں کی کوئی چیز نہ کھانا۔ پتہ نہیں وہ کیا عمل کرا دیں میرے بیٹے پر۔ عاجل ماں کو پریشان دیکھ کر کہنے لگا۔”تم کیوں فکر کرتی ہو انسان سیدھے راستے پر ہو تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔”

                شام کو ٹھاکر صاحب گھر آئے تو چودھرائن نے بتایا کہ ان کا ملازم عاجل کو بلانے آیا تھا۔ انہوں نے بھی چودھرائن کو تسلی دی کہ بھگوان پر بھروسہ رکھے۔ چودھرائن نے کہا۔ “بہتر یہ ہے کہ ہم کوئی اچھا سا رشتہ دیکھ کر عاجل کی شادی کر دیں تا کہ ان کا دھیان ہی اس طرف سے ہٹ جائے۔”وہ کچی گھانی کے پاس جو پیلی کوٹھی ہے ان کی بیٹی اچھی ہے چار جماعتیں پاس ہے۔ شکل و صورت میں بھی اچھی ہے۔ لوگ بھی اچھے ہیں۔ کئی دفعہ ان سے ملاقات ہو چکی ہے۔ تم کہو تو مالا اور کاجل کو لے جاؤں دیکھنے کے لئے۔”ٹھاکر صاحب بولے۔”پہلے عاجل سے تو پوچھ لو۔ابھی تو اس کا رزلٹ بھی نہیں آیا ہے۔ اس کا کیا ارادہ ہے۔”عاجل سے بات ہوئی تو اس نے صاف منع کر دیا۔ اماں ابھی کم از کم دو سال تک تو میں شادی کروں گا نہیں۔ بلکہ پہلے کندن کی کر دو پھر ہی میرا سوچنا۔ میں خود تم کو بتا دوں گا۔ اماں چپ ہو گئیں۔ سوچنے لگیں ٹھیک ہی تو کہتا ہے ابھی دو سال تک کندن سولہ سال کی ہو جائے گی۔ اس کی شادی ہو جائے تو میری فکر بھی تقریباً ختم ہو جائے گی۔ میری صندل تو ابھی بہت بھولی ہے۔ اس کی جلدی نہیں ہے۔

                عاجل ان دنوں رزلٹ کے انتظار میں تھا۔ فرصت ہی فرصت تھی۔ گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے اسے گھومنے کا بھی شوق ہو گیا تھا۔ ایک دن یہ کھیتوں میں خوش خوش گا بجا رہے تھے کہ ایک دم آندھی چلنے لگی بلکہ یہ ایک بگولا تھا جس نے اپنی لپیٹ میں انہیں لے لیا۔ صندل کندن مالا عاجل سب ہی تھیں۔ عاجل نے جلدی سے دونوں بازو پھیلائے اور چیخ کر کہا تم سب میرے بازو پکڑ لو۔ اکٹھے کے سارے سر اندر کر کے بیٹھ گئے۔ اگلے ہی لمحے یوں لگا جیسے ان کے ہاتھ کوئی چھڑا رہا ہے۔ صندل نے آنکھیں کھول کر باہر دیکھا۔ وہ پہچان گئی۔ یہ ہمزاد ہے اس نے ایک دم سے چیخ کر کہا۔ “تجھے حضرت سلیمان علیہ السلام کی دہائی ہے۔ اب ادھر نہ آنا۔”سارے کے سارے دیکھنے لگے۔ دوسرے لوگ تو اسے نہ دیکھ سکے۔ مگر یہ سنتے ہی ہمزاد بھاگ گیا۔ اور اسی وقت وہ بگولہ بھی ختم ہو گیا۔ عاجل بولا۔”صندل یہ کیا تھا؟”صندل نے بتایا کہ بڑے باپو کا ہمزاد تھا۔ آپ کو لے جانے آیا تھا۔”سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ صندل بولی۔”عاجل بھیا پرانی قبر والے بابا جی کی قبر پاس ہی ہے۔ کیوں نہ ان کو سلام کرتے چلیں۔ سب ہی نے اس کی تائید کی۔ قبر پر پہنچے تو سب نے عاجل کی سلامتی کی دعا کی۔ صندل کی نظریں قبر پر جمی تھیں۔ اس نے دیکھا کہ سلطان بابا جی قبر سے نکلے اور ان کے ہاتھ میں کچھ تھا۔ انہوں نے صندل کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔ یہ تبرک تم سب کے لئے ہے۔ صندل نے ہاتھ پھیلائے تو برفی کی ٹکیاں تھیں۔ اس نے سب کو اپنے ہاتھ سے کھلائیں۔ عاجل بولا۔”صندل بابا جی سے پوچھو اس تبرک سے کیا فائدہ ہو گا؟”وہ بولے۔”تم سب کے اندر برائی کا مقابلہ کرنے کی قوت پیدا ہو جائے گی۔ اللہ تمہارا نگہبان ہے۔ ہمزاد اب تمہارے قریب نہیں آئے گا۔”

                سب خوشی خوشی گھر پہنچے۔ سارا قصہ ماں کو سنایا۔ ماں نے بہت سی دعائیں دیں۔ دو تین ہفتے خیریت سے گزر گئے۔ رزلٹ کا دن بھی آ پہنچا۔ عاجل اچھے نمبروں سے کامیاب ہو گیا تھا۔ اس دن ٹھاکر صاحب بڑے ہی خوش تھے۔ فوراً کھانے کی دیگیں پکوا کر غریبوں کو بانٹیں اور شام کو اپنے تمام دوستوں کو گھر بلایا۔ بھائی کو بھی بلوا بھیجا۔ خیال تو یہ تھا کہ بھائی نہیں آئیں گے کیونکہ عاجل نے جب سے کالج چھوڑا تھا ایک بار بھی ان کے یہاں نہیں گیا تھا۔ ویسے ایک دو بار گاؤں میں آتے جاتے ضرور ملاقات ہوئی تھی لیکن وہ آگئے سارے گھر والے انہیں دیکھ کر چوکنے ہو گئے۔ گزشتہ واقعات نے ان کا اعتبار کھو دیا تھا۔ صندل گہری نظر سے انہیں دیکھنے لگی تا کہ ان کے تخریبی ذہن کو پڑھ سکے اور ان کی نقصان دہ چالوں سے بھائی کو بچا سکے۔

                عاجل اپنے دوستوں میں بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا۔ اس نے تایا تائی کو آتے وقت پرنام ضرور کیا مگر تارا کو دیکھ کر وہ فوراً ہی اپنے دوستوں میں مصروف ہو گیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ تارا سے بات کرنے پر تایا تائی کسی غلط فہمی کا شکار ہوں۔ تارا اپنی ماں کے پاس بیٹھی تھی۔ ایک جانب کندن صندل اپنے سہیلیوں کے جھرمٹ میں بھیٹی تھیں۔ بڑی ماں نے تارا سے کچھ کہا اور تارا اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ ابھی دو قدم ہی چلی تھی کہ صندل نے دیکھ لیا۔ وہ ایک دم اٹھ کر اس کے پاس آ گئی اور اپنی آواز میں مٹھاس بھر کر بولی۔”تارا بہن کہاں جا رہی ہیں۔”تارا کہنے لگی کچھ نہیں۔ یہاں بیٹھے بیٹھے دل گھبرانے لگا۔ سوچا باہر گھوم آؤں۔ صندل اسے بازو سے پکڑ کر اپنی سہیلیوں میں لے گئی۔ اور وہاں بٹھا دیا۔ وہ بھانپ گئی تھی کہ تارا عاجل بھیا کے پیچھے جا رہی ہے۔ وہیں سب نے اکٹھے مل کر کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد بڑی ماں بھی آ گئیں۔ اور کندن اور صندل سے بڑی محبت کے ساتھ باتیں کرنے لگیں۔ کاجل اور مالا تو مہمانوں میں مصروف تھیں۔ باتوں باتوں میں ٹوہ لینے کے لئے کندن سے پوچھنے لگیں۔ عاجل کی شادی کب ہو رہی ہے۔ وہ فوراً بول پڑی۔ “اماں ایسی باتیں تو ماں کو پتہ ہوں گی مجھے کیا معلوم۔”کھانا کھا کے سب لوگ باری باری رخصت ہونے لگے۔ مندراج بابو بھی اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ رخصت ہوئے۔ جاتے ہوئے عاجل نے انہیں نمستے کیا اور کوئی بات نہ کی۔ اس نے اطمینان کا سانس لیا کہ خیریت گزری۔



Jogun

سیدہ سعیدہ خاتون عظیمی


روح کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ روح عورت یا مرد ہوتی ہے۔ روح روح ہوتی ہے اور کیونکہ روح صرف روشنی ہوتی ہے اور روشنی کے لئے حد بندیاں قائم نہیں کیں جا سکتیں۔ روشنی ہر جگہ ہے۔ روشنی کے لئے در و دیوار معنی نہیں رکھتے۔ روشنی ٹائم اور اسپیس سے آزاد ہے۔ جب کوئی مرد یا عورت روح سے واقف ہو جاتی ہے تو اس کے اوپر سے ٹائم اور اسپیس کی گرفت ٹوٹ جاتی ہے اور وہ ہزاروں سال پہلے کے واقعات اور ہزاروں سال بعد کے آنے والے واقعات کو دیکھ لیتا ہے۔ چونکہ ماضی، حال، مستقبل اس کے سامنے آ جاتا ہے اس لیے وہ اس بات سے واقف ہو جاتا ہے کہ کائنات میں اللہ کے علاوہ کسی کی حاکمیت نہیں ہے اور جب کوئی بندہ اللہ کی حاکمیت یقین کے ساتھ قبول کر لیتا ہے تو اس کر اندر سے غم و پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں اور وہ سکون کے گہوارے میں محو خرام ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سعیدہ خاتون عظیمی کی اس کاوش کو عوام الناس کے لئے مقبول بنائے اور جو لوگ اس کتاب کا مطالعہ کریں ان کے ادراک و فہم میں جلا بخشے۔

                آمین

خواجہ شمس الدین عظیمی

مرکزی مراقبہ ہال

سرجانی ٹاؤن، کراچی