Topics

شہنشاہ جنات کا فیصلہ


                ہمزاد کا بیان ختم ہو گیا تو وکیل نہایت ہی تعظیم کے ساتھ شہنشاہ جنات اور ملکہ کے آگے جھکا اور کورنش بجا لایا ، پھر عرض کی۔”اے شہنشاہ جنات، رعایا میں آپ کا رتبہ بلند ہو اور آپ کی حکومت صدا قائم رہے، ملکہ عالیہ اپنی رعایا پر مہربان رہیں۔ خدمت عالیہ میں عرض کرتا ہوں کہ مقدمے کی کارروائی پوری ہو چکی ہے۔ سب کے بیانات لئے جا چکے ہیں۔ اب شہنشاہ عالی جاہ کے فیصلے پر اس مقدمے کی تکمیل کا دارومدار ہے۔ دربار، عالی جاہ کے فیصلے کا منتظر ہے۔ شہنشاہ جنات نے چند لمحوں تک سارے دربار پر نگاہ ، دوڑائی پھر کچھ دیر مجرموں کو گہری نگاہ سے دیکھتا رہا، پھر کہا۔”میں شہنشاہ جنات، اس مقدمے کے فیصلے میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ اس کیس میں ملوث تمام جنات کو تین سال کے لئے قید تنہائی میں نظر بند کر دیا جائے۔ تین سال تک انہیں الگ الگ کوٹھریوں میں بند کر دیا جائے۔ جہاں وہ کسی سے ملاقات نہ کر سکیں۔ یہاں تک کہ جیل کے وارڈن کو بھی ان سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تین سال بعد جب وہ رہا ہوں تو مزید تین سال تک انہیں مکمل نگرانی میں رکھا جائے۔ ہمزاد کے لئے یہی سزا بارہ سال کی مدت کے لئے ہو گی۔”پھر شہنشاہ جنات نے وکیل کے کان میں آہستہ سے کچھ کہا۔ وکیل نے بآواز بلند پکارا۔”شہنشاہ عالی جاہ سلطان بابا اور صندل بی بی کو خدمت عالی میں حاضری کا حکم دیتے ہیں۔”سلطان بابا اور صندل دونوں اٹھے اور پر وقار انداز میں چلتے ہوئے بادشاہ کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ ادب سے فرمایا۔”عالی جاہ کی خدمت میں آداب عرض ہو۔”شہنشاہ جنات سلطان بابا کے آگے قدرے سر خم کرتے ہوئے کہنے لگا۔ “سلطان بابا، ہم آپ سے اور صندل بی بی سے بہت خوش ہوئے کہ آپ کی توجہ اور صندل بی بی کی مدد سے ایسے خطرناک مجرم پکڑے گئے۔ آپ دونوں کی اس خدمت کے صلہ میں ہماری جانب سے آپ دونوں کو آزادانہ عالم جنات میں آنے جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہنشاہ جنات کی جانب سے اور حکومت جنات کی جانب سے صندل بی بی کو دیوی کا اعزازی خطاب عطا کیا جاتا ہے۔اب وہ عالم جنات میں صندل دیوی کے نام سے پہچانی جائیں گی۔”شہنشاہ جنات نے ایک خادم کو اشارہ کیا۔ خادم چاندی کی ٹرے لے کر حاضر ہوا۔ بادشاہ نے اس ٹرے سے دو کارڈ اٹھا کر سلطان بابا اور صندل دیوی کو دیئے۔ یہ عالم جنات میں داخلے کے اجازت نامے تھے۔ پھر ایک دوسرا خادم سونے کی ٹرے لے کر حاضر ہوا اس کے اندر ایک بت رکھا تھا۔ اس بت کے نیچے لکھا تھا۔”صندل دیوی”اور شہنشاہ جنات کا نام بھی نقش تھا۔ جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ لقب شہنشاہ جنات کا عطا کردہ ہے۔ شہنشاہ جنات نے یہ بت صندل کو پیش کیا۔ خوشی کی لہروں نے صندل کے چہرے کو اور بھی روشن کر دیا۔ اس نے سر کو قدرے جھکا کر شہنشاہ جنات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا۔ “عالیجاہ، نیکی کی ہر صفت بھگوان کی صفت ہے۔ پرماتما آپ کو لمبی عمر دے تا کہ آپ کی رعایا آپ کے دور حکومت میں سکون سے رہے۔”

                شہنشاہ جنات مسکرائے اسی وقت ملکہ نے پاس کھڑے جن گارڈ کو اشارہ کیا۔ وہ ایک خوان پوش تھال اٹھا لایا۔ ملکہ کے اشارے پر جن گارڈ نے یہ تھال صندل کو پیش کیا اور اعلان کیا کہ ملکہ کی جانب سے صندل دیوی کی خدمت میں نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔ صندل دیوی نے ایک نظر سلطان بابا کی جانب دیکھا۔ سلطان بابا نے آنکھ کے اشارے سے اسے قبول کرنے کی اجازت دے دی۔ صندل دیوی نے وہ خوان اٹھا لیا۔ جن گارڈ نے اس پر سے خوان پوش ہٹایا پورا تھال سونے کے سکوں سے بھرا ہوا تھا۔ صندل دیوی نے سر کو خم کرتے ہوئے ملکہ کا شکریہ ادا کیا۔”اے ملکہ عالی مرتبت آپ کی سخاوت آپ کے خزانوں سے بڑھ کر ہے۔ پرماتما نے آپ کے من کو اپنی روشنی سے نکھارا ہے۔ بھگوان کی دیا سے آپ کو آپ کے کرموں کا ایسا پھل ملے گا کہ آپ کا رب آپ سے خوش ہو جائے گا اور آپ بھی اپنے رب سے خوش ہو جائیں گی۔”

                پھر صندل نے تھال میں ابھرے ہوئے سونے کے سکوں پر ہاتھ پھیرا اور بادشاہ اور ملکہ کی جانب سنجیدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔”ملکہ عالیہ، بھگوان آپ کو اس سے ہزاروں گنا زیادہ دے۔ میرا خزانہ میرے من میں ہے۔ میرے آتما کی شکتی میرے من میں ہے۔ میرے من کی خوشی بندوں کی خوشی میں ہے۔ بلکہ عالی مقام، میں بصد شکریہ و احترام اس تبرک کو ان مصیبت زدہ جنات میں تقسیم کرنے کی اجازت طلب کرتی ہوں جنہیں ہمزاد کی وجہ سے تکلیف پہنچی ہے۔”ملکہ اور شہنشاہ دونوں نے بیک وقت صندل کو حیران نظروں سے دیکھا اور پھر اسی وقت شہنشاہ جنات نے گارڈ جن کو اشارہ کیا اور اعلان کیا کہ ایک تھال اشرفیوں سے بھرا لایا جائے اور یہ دونوں تھال ان مصیبت زدہ جنات میں تقسیم کر دیئے جائیں۔ سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا سب مل کر اپنے بادشاہ کی تعریف کے نغمے گانے لگے۔ صندل نے سلطان بابا کے اشارے پر عالم جنات میں داخلے کا ویزا کارڈ اور صندل دیوی کا سونے کا بت اٹھا لیا اور دونوں نے بادشاہ و ملکہ سے اجازت طلب کی تا کہ واپس لوٹا جائے۔

                سلطان بابا نے صندل کا ہاتھ پکڑا اور کورٹ سے باہر آئے۔ باہر آتے ہوئے انہوں نے صندل سے کہا۔ “میرے ساتھ قدم اٹھاؤ اور ساتھ ہی قدم رکھو۔”صندل نے ایسا ہی کیا۔ اب جو اس نے قدم رکھا تو وہ صندل دیوی والے کمرے میں تھی۔ ایک نظر میں اس نے دیکھا کہ اس کا جسم سنگ مر مر کی مورتی کی طرح ساکت و جامد بیٹھا ہے۔ اس نے قدم بڑھایا اور سنگ مر مر کی مورتی میں جیسے جان آ گئی۔ اس کے ہاتھوں میں کارڈ اور صندل دیوی کی سونے کی مورتی تھی۔ اس نے اسے ایک جانب رکھا اور یہ کہتی ہوئی سجدے میں گر پڑی۔”اے بھگوان، تیرے بہت سے نام ہیں، تیرے سب نام شبھ ہیں، میری آتما بھی ہر نام سے پکارتی ہے ۔”تھوڑی دیر بعد وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی آئی۔ سارا گھر محو خواب تھا۔ بستر پر لیٹتے ہی وہ نیند کی آغوش میں جا گری۔

                علی الصبح مالا اور کاجل کی مدھ بھری آواز نے اسے جگا دیا۔ ان کا معمول تھا کہ وہ روزانہ صبح اٹھ کر گھر کے کام کاج سے پہلے بھگوان کے سامنے ماتھا ٹیکتیں اور اپنی خوبصورت آوازوں میں بھجن گاتیں۔ ان کی مدھر آواز پر آہستہ آہستہ سارا گھر جاگ کر ان کے ساتھ شامل ہو جاتا۔ سب لوگ بھجن کے بعد پرارتھنا کرتے اور پھر گھر کے دوسرے کام اور ناشہ وغیرہ کی تیاری میں لگ جاتے۔ رات کو دیر سے سونے کے بعد صندل صبح کے وقت بڑی گہری نیند میں ڈوبی ہوئی تھی۔ مالا اور کاجل کی آواز نے اس کی محویت کو توڑ ڈالا مگر اس طرح کہ ان کی لہروں نے اس کے نیند کے حواس گمشدگی سے نکال کر نیند کے شعور میں داخل کر دیا۔ اس نے دیکھا دور حد نگاہ پر مردانہ وجاہت کا ایک حسین پیکر شباب اسے پسندیدہ نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ اس کی نگاہ کی یہ طویل ڈور صندل کے دل سے لپٹی جا رہی ہے اور عشق کی بانہوں میں مچلتے شباب کا جمال ابھرتا جا رہا ہے۔ نیند کا عالم رفتہ رفتہ روشنی میں بدلتا گیا، پلکیں جھپکائیں، اب وہ پوری طرح ہوش میں آ چکی تھی۔ کاجل اور مالا اپنی مدھر آواز میں بھجن گا رہی تھیں۔ اس کے اندر ایک ہلچل مچ گئی وہ ایک دم بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی اور تقریباً دوڑتی ہوئی پوجا کے کمرے میں داخل ہو گئی۔ سفید ململ کے کپڑوں میں وہ کوئی پوتر روح دکھائی دے رہی تھی۔ اس کا انگ انگ خواب کے خمار میں لہرایا ہوا تھا۔ بل کھاتی ہوئی زلفوں میں حسین چہرہ بادلوں میں چاند کی طرح دمک رہا تھا۔ ایک لمحے کو وہ دروازے پر رکی اور پھر سب کے ساتھ بیٹھ کر بھجن گانے لگی۔ اس کی بند آنکھوں میں سپنے لہرانے لگے۔ اسے یوں لگا کہ جیسے وہ ایک دم سے جوان ہو گئی ہے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر وہ اپنے کمرے میں آئی تو اسے یاد آیا کہ شہنشاہ جنات نے اسے صندل دیوی کا خطاب دیا ہے۔ وہ بت اور کارڈ صندل دیوی والے کمرے میں ہی چھوڑ آئی تھی۔ اس نے سوچا ماں اور باپو اسے دیکھ کر بہت خوش ہونگے۔ وہ صندل دیوی والے کمرے میں پہنچی۔ اس نے جلدی جلدی کمرے میں ہر طرف دیکھا۔ کمرہ بالکل خالی تھا۔ اس کا ذہن کہنے لگا اس کمرے میں تو کوئی نہیں آتا سوائے میرے۔ پھر یہ چیزیں گئیں کہاں؟ سلطان بابا کو اس کا ضرور علم ہو گا۔ اس نے من ہی من میں سلطان بابا کو پکارا۔”سلطان بابا رات ہی تو میں نے یہ چیزیں یہاں رکھی تھیں، پھر انہیں کون لے گیا۔”سلطان بابا کی آواز سے اپنے دماغ میں سنائی دی۔”بیٹی صندل ابھی تمہیں دیوی کا روپ دھارنے کے لئے کچھ اور کھٹناؤں میں سے گزرنا ہے۔ تمہاری یہ دونوں چیزیں ہمارے پاس امانت ہیں۔ جب وقت آئے گا تو تمہیں مل جائیں گی۔”صندل سلطان بابا کی آواز پر دونوں ہاتھ جوڑ کر ادب کے ساتھ جھک گئی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے سلطان بابا کی نظر اسے دیکھ رہی ہے۔ وہ اندر ہی اندر ان سے مخاطب ہوئی۔”سرکار، آپ کے حکم کی تعمیل میرا دھرم ہے۔”اور پھر خاموشی کے ساتھ کمرے سے باہر آ گئی۔ اس کے بعد رات کے واقعے کا ذکر اس نے کسی سے نہ کیا۔

                ابھی اس واقعے کو چند دن ہی گزرے تھے کہ ایک دن بریٹھن آئی۔ اس کے پاس گدھا گاڑی تھی جو وہ خود ہی ہانکتی تھی۔ دور دور تک سارے محلے کے گھروں سے میلے کپڑے اکٹھے کر کے ان کی گٹھریاں بنا کر گاڑی میں لاد دیتی۔ گاڑی کے وجہ سے اسے بڑی آسانی تھی۔ جب تک گھر والی مالکن میلے کپڑے اکٹھا کرتی۔ بریٹھن کی زبان بغیر کسی وقفے کے چلتی رہتی۔ میلے کپڑوں کی گٹھری بنانے تک وہ سارے محلے کی خبریں سنا چکی ہوتی۔ اس دن بھی یوں ہوا کہ دروازے سے داخل ہوتے ہی اس نے اپنی پھٹی ہوئی زور دار آواز میں “چودھرائن جی”کی آواز لگانی شروع کر دی۔ چودھرائن کمرے سے نکل کر آئیں۔ بریٹھن نے ہاتھ جوڑ کر نمستے کیا۔ چودھرائن بولیں۔”بریٹھن ، اچھی تو ہو؟ بال بچے راضی خوش ہیں؟”بریٹھن ہاتھ جوڑ کے بولی۔”کرم ہے مالکن جی کا، سب خوش ہیں۔”چودھرائن نے وہیں صحن میں تخت پر بیٹھے بیٹھے بہو کو آواز دی۔”اے مالا، اے کاجل، بریٹھن آئی ہے۔ کپڑے نکال دو۔”اس کے بعد بریٹھن کا ریڈیو چالو ہو گیا وہ ذرا اور ان کے قریب کھسک آئی اور اپنی جانب سے بڑی رازداری کے انداز میں دھیمی آواز میں کہنے لگی مگر اس کے پھٹے ہوئے گلے کا ہر سرد ادرے سے کسی طرح کم نہ تھا۔ کم از کم پچاس گز کے فاصلے سے تو آسانی کے ساتھ سنا جا سکتا تھا۔

                وہ بولی۔”اے مالکن، کچھ سنا تم نے؟ وہ اپنے مندراج بابو ہیں نا؟”مندراج بابو کا نام سنتے ہی چودھرائن پوری طرح بریٹھن کی طرف متوجہ ہو گئیں۔”اونھ کیا ہوا انہیں؟”ان کا تو سارا گھر لٹ گیا ہے ابھی میں وہیں سے آ رہی ہوں۔ گھر کا سارا سامان لوندھا سیدھا بکھرا پڑا ہے۔ اے میں سمجھی کہ شاید صفائی کر رہے ہیں مگر اتنے میں سب کی ملی جلی آوازیں سنائی دیں ، ایک کہے تھا۔”میرے کالے والے بوٹ کہاں گئے؟”بہو کی چیختی ہوئی آواز آئی۔”میرے کنگن نہیں مل رہے۔”بیٹی کی آواز سنائی دی۔”وہ نورتن کا سیٹ نہیں مل رہا۔”اتنے میں تارا کی آواز آئی۔”باپو یہ کام انسان کانہیں، جن کا ہے۔ ابھی صبح صبح میری آنکھ کھلی تو میرے دیکھتے ہی دیکھتے آناً فاناً گھر کی ساری چیزیں الٹ گئیں۔ خوف کے مارے میں تو سکتے میں رہ گئی۔”

                بریٹھن بولی۔”مالکن جی، میں تو چپ چاپ دروازے پر کھڑی یہ سنتی رہی۔ اتنے میں اندر سے بڑی مالکن جی نکلیں۔ انہوں نے مجھے دیکھ لیا۔ جھنجھلا کر بولیں۔”ارے کمبخت، تو یہاں کب سے کھڑی ہے۔ جا آج کپڑے نہیں چاہئیں، کل لانا۔”میں تو یہ سن کر فوراً دوڑ گئی۔ چودھرائن جی، مجھے تو بڑاڈر لگا۔ ان کے گھر پر جنات کا سایہ ہے۔ انہوں نے ضرور کوئی عمل کیا ہو گا، جو الٹ گیا۔ اب میں جان گئی کہ وہ تارا کی شادی کیوں نہیں کرتے ہیں۔ ضرور اس کے اوپر جن آتا ہے۔ ایک دن میں ان کے یہاں گئی تو وہ صحن میں ہی تھی۔ مجھے دیکھ کر تیزی سے کمرے میں چلی گئی۔ چودھرائن جی، پرماتما جھوٹ نہ بلوائے، اس کا سارا چہرہ جیسے تیز ناخنوں سے نوچا ہوا تھا۔ جب میں نے پوچھا تو مالکن بولیں۔”کچھ نہیں کتے نے حملہ کیا تھا۔”میں نے کہا اس کو وید جی کو دکھاؤ۔ بولیں۔”تو اپنا کام کر ہم دکھائیں گے۔”چودھرائن جی، ان کی رکھائی کی وجہ اس دن میری سمجھ میں نہ آئی تھی۔ مگر آج میں جان گئی ہوں۔ ضرور اسی جن نے نوچا ہو گا۔ اور مالکن جی، تھوڑی ہی دنوں میں ان کے پاس ایسے ایسے قیمتی زیور اور کپڑے وغیرہ آ گئے تھے کہ یقین نہ آتا۔ ان کی بہن بیٹیاں تو گھر میں بھی اصلی ریشم کے کپڑے اور کہنی تک سونے کے چوڑے پہنتی تھیں۔ اور میں جھوٹ کیوں بولوں، ان کی بڑی بہو نے مجھے ایک دفعہ سونے کے کڑے بھی دیئے تھے۔ بولی یہ میرے دل سے اتر گئے، تو پہن لے۔”

                چودھرائن چپ چاپ سنتی رہیں۔ وہ جانتی تھیں اگر میں نے زیادہ کریدا تو وہ ایک کی چار سارے محلے کو سنائے گی۔ چھوٹے لوگوں کی زبان کون روک سکتا ہے۔ پھر مندراج بابو کے ساتھ تو رشتہ داری کا معاملہ تھا۔ ویسے بھی چودھرائن نیک نفس اور کم گو عورت تھیں۔ بریٹھن کی بات ختم ہوئی۔ تو اتنے میں دونوں بہوئیں گھر کے سارے میلے کپڑے سمیٹ لائیں۔ صندل نے کمرے میں ہی بریٹھن کی ساری گفتگو سن لی تھی۔ وہ سوچنے لگی کہ نہ جانے یہ کام جنوں کی کس ٹولی کا ہے۔ ابھی وہ اس پر پوری طرح سوچنے بھی نہ پائی تھی کہ کندن آ گئی۔ بولی۔”صندل یاد ہے نا آج سبیتا کی سگائی ہے۔ جلدی سے تیار ہو جاؤ۔”صندل بے ساختہ بولی۔”میں تو بھول ہی گئی تھی۔ میں نے تو ابھی تک کپڑے بھی نہیں نکالے۔”کندن بولی۔”چلو میں بتاتی ہوں۔ کیا پہننا ہے، الماری کھولو۔”کندن نے گلابی لہنگے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔”میں سبز لہنگا پہن رہی ہوں۔ تم یہ گلابی پہن لو، اچھا لگ رہا ہے۔”تھوڑی دیر میں دونوں بہنیں تیار ہو گئیں۔ سبیتا ان کے ساتھ مدرسے میں پڑھتی تھی۔ بچپن کی دوستی تھی۔ دونوں تیار ہو کر ماں کے پاس آئیں کہ “ماں خادم سے کہو، ہمیں چھوڑ دے۔”ماں نے انہیں دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی۔ اس کے منہ سے ایک دم نکلا۔ “ارے لہنگے میں تم دونوں کتنی بڑی لگ رہی ہو۔”پھر پیار سے دونوں کے ماتھے چومے۔ اور خادم کو آواز دی۔ لڑکیاں تو چلی گئیں مگر ماں کے ذہن میں ابھی تک دونوں بیٹیوں کے ماتھے کی بندیا چمک رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی صندل کو تو آج میں نے پہلی بار دیکھا ہے۔ وہ تو کندن سے بھی زیادہ جوان لگتی ہے۔ پندرہ سال کی عمر میں وہ کندن کے برابر ہی لگنے لگی ہے۔ میں آج ہی صندل کے باپو سے لڑکیوں کے بیاہ کا ذکر کروں گی۔ جوان لڑکیوں کو زیادہ دیر گھر میں بٹھانا ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے ذہن پر بیٹیوں کی شادی کی فکر سوار ہو گئی۔ اور گاؤں کے ایک ایک لڑکے کی تصویر نگاہوں میں پھرنے لگی۔ اُدھر دونوں لڑکیاں سہیلی کی شادی کے بھرپور مزے لوٹتی رہیں۔ انہوں نے ڈھول پر گانے بھی گائے۔ دولہا کا راستہ روک کر نیگ بھی وصول کئے۔ بچپن کی سکھیوں کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ سب کے حافظے میں ایک دوسرے کے بچپن کا معصوم عکس تھا۔ اس عکس کی نادان باتیں دُہرا دُہرا کر وہ پھولوں کی طرح ہنستی رہیں۔ دلہن کے بناؤ سنگھار میں اپنے ارمانوں کا مجموعہ ہے۔ شباب کا ہر لمحہ دل کے ارمانوں سے رنگین ہے۔ شادی کی گھڑی تمام رنگوں کو ایک مرکز پر جمع کر دیتی ہے اور پھر اسی مرکز سے رنگوں کے چشمے ابل ابل کر راہ حیات کو سیراب کرتے رہتے ہیں۔ گاتا لہراتا سکھیوں کا یہ جھرمٹ یوں لگتا جیسے بہت سی تتلیاں صحن میں اتر آئی۔ عورتوں کا منڈپ مردوں سے الگ تھا جس کی وجہ سے لڑکیاں آزادی کے ساتھ اپنی شوخ و چنچل اداؤں کا مظاہرہ کرتی رہیں۔ صندل چند سکھیوں کے ساتھ منڈپ کے ایک کونے میں کھڑی تھی۔ اس کے سامنے منڈپ کا دروازہ تھا۔ اچانک اس کی نظر اس دروازے پر گئی کسی کی بے باک نگاہیں اس کے سراپے پر جمی ہوئی تھی۔ ایک لمحے کو نظریں ملیں اور اسی وقت صندل کا ذہن خواب کے عالم میں لوٹ گیا۔ اگلے ہی لمحے وہ گھبرا کے سکھیوں کے ساتھ اپنے گروپ میں واپس لوٹ گئی۔

                اس کا ذہن بار بار اسے جھٹلا رہا تھا۔ نہیں نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔ مگر ذہن کی ہر نہیں دل کے ساتھ لپٹ کر ہاں میں بدل جاتی۔ اس کے چہرے پر دل کی پرچھائیوں کا سایہ پڑنے لگا۔ سب سکھیاں مصر ہو گئیں۔ اب تو تمہیں گانا ہی ہو گا اور بنسی کی تان پر بھجن اس کا راگ بن گیا۔



Jogun

سیدہ سعیدہ خاتون عظیمی


روح کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ روح عورت یا مرد ہوتی ہے۔ روح روح ہوتی ہے اور کیونکہ روح صرف روشنی ہوتی ہے اور روشنی کے لئے حد بندیاں قائم نہیں کیں جا سکتیں۔ روشنی ہر جگہ ہے۔ روشنی کے لئے در و دیوار معنی نہیں رکھتے۔ روشنی ٹائم اور اسپیس سے آزاد ہے۔ جب کوئی مرد یا عورت روح سے واقف ہو جاتی ہے تو اس کے اوپر سے ٹائم اور اسپیس کی گرفت ٹوٹ جاتی ہے اور وہ ہزاروں سال پہلے کے واقعات اور ہزاروں سال بعد کے آنے والے واقعات کو دیکھ لیتا ہے۔ چونکہ ماضی، حال، مستقبل اس کے سامنے آ جاتا ہے اس لیے وہ اس بات سے واقف ہو جاتا ہے کہ کائنات میں اللہ کے علاوہ کسی کی حاکمیت نہیں ہے اور جب کوئی بندہ اللہ کی حاکمیت یقین کے ساتھ قبول کر لیتا ہے تو اس کر اندر سے غم و پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں اور وہ سکون کے گہوارے میں محو خرام ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سعیدہ خاتون عظیمی کی اس کاوش کو عوام الناس کے لئے مقبول بنائے اور جو لوگ اس کتاب کا مطالعہ کریں ان کے ادراک و فہم میں جلا بخشے۔

                آمین

خواجہ شمس الدین عظیمی

مرکزی مراقبہ ہال

سرجانی ٹاؤن، کراچی