Topics

رمز عشق کیا ہے؟


                شہباز کے بدن میں کوئی جنبش نہ تھی۔ وہ بالکل ساکت بیٹھا فضا میں گھور رہا تھا۔ سلطان بابا کی آواز اسے اپنے اندر گہرائی سے آتی سنائی دی۔ سلطان بابا نے پھر سوال کیا۔”تم جانتے ہو رمز عشق کیا ہے؟”شہباز کے ہونٹوں میں حرکت ہوئی۔ وہ خلاء میں گھورتے ہوئے بولا۔”صندل “۔ سلطان بابا بولے، “رمز عشق وہ لمحہ ہے جس میں محبوب کا تصوررنگین ہو کر نگاہ کے سامنے آ جاتا ہے۔”اگلے ہی لمحے سلطان بابا اس کے سامنے آ گئے۔اور ان کے اندر سے ایک فلیش لائٹ چمکی۔ شہباز نے پلک جھپکی اور ایک دم صندل کہہ کر سلطان بابا کے گلے لگ گیا۔ سلطان بابا نے اس کے سر پر کچھ پڑھ کر پھونک ماری تو پھر اسے ہوش آیا۔ وہ سلطان بابا کہہ کر ان کے قدموں میں گر گیا۔ سلطان بابا نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا۔

                ادھر صندل سلطان بابا کے حکم پر اس دلدل میں اپنے رب کے دھیان میں بیٹھی رہی۔ کئی ہفتے اسی حالت میں گزر گئے۔ اسے اپنے گرد و پیش کا کوئی ہوش نہ تھا۔ وہ مسلسل استغراق میں تھی۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ پلکوں میں بھی کوئی جنبش نہ تھی۔ اس کی کھلی آنکھیں خلاء پر تکی ہوئی تھیں۔ گو جسم بے حس و حرکت تھا مگر دماغ اپنی پوری اسپیڈ پر کام کر رہا تھا۔ آسمان پر ہر تھوڑی دیر بعد بجلی سی چمکتی اور اس کی روشنی صندل کے دماغ میں اتر جاتی۔ کئی ہفتے یہی صورتحال رہی۔

                ایک دن آسمان پر بجلی چمکی اور اس کی روشنی میں ایک سنہری پروں والا فرشتہ اتر کر صندل کے روبرو آن کھڑا ہوا۔اس نے اپنے پروں سے صندل کو چھوا۔ اس کے چھوتے ہی صندل فوراً ہی استغراقی کیفیت سے نکل آئی۔ فرشتے نے جھک کر صندل کو سلام کیا۔ کہنے لگا۔”صندل دیوی، آپ کے رب نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔”

                صندل یہ سنتے ہی سجدے میں جھک گئی۔ “اے میرے رب تو ہی میرا سب کچھ ہے۔”یہ کہتے کہتے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ تھوڑی دیر بعد اس نے سر سجدے سے اٹھایا۔ تو فرشتہ وہاں نہ تھا۔ اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ تنہائی کا احساس دل کے کسی کونے میں پڑا سانس لے رہا تھا۔ ا س کے دل نے کہا نہ جانے میں کب سے یہاں ہوں شاید ایک دن یا کیا پتہ دو دن ہو چکے ہیں۔ سلطان بابا کہاں ہیں؟ شہباز کہاں ہے؟ یہ خیال آتے ہی سلطان بابا سامنے آ گئے۔ صندل نے جھک کر انہیں ادب سے پرنام کیا۔ صندل بولی۔”سلطان بابا، مجھے لگتا ہے جیسے میں بہت دیر سے استغراق میں تھی۔ ایک سنہری فرشتے نے آ کر مجھے اپنا پر مار کر جگایا اور اس نے کہا کہ میرے رب نے مجھے سلام بھیجا ہے۔”

                سلطان بابا یہ سن کر خوش ہوئے۔ صندل کی پیشانی چوم کر بولے۔”بیٹی، تو خوش نصیب ہے۔ اللہ تجھ سے راضی ہے۔”صندل بولی،”سلطان بابا شہباز کہاں ہے؟”سلطان بابا نے صندل کی آنکھوں کی گہرائیوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔”صندل اب شہباز کا خیال دل سے نکال دے۔ تو جوگن ہے، اپنے رب کی جوگن۔”

                صندل بولی،”سلطان بابا عشق حقیقی کیاہے؟”سلطان بابا نے زمین سے مٹی کا ایک ذرہ اٹھایا۔ یہ نہایت ہی باریک ذرہ تھا۔ اسے اٹھا کر صندل کی داہنی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ بولے،”اسی ذرے پر نظر جما دے۔ تجھے تیرے سوال کا جواب مل جائے گا۔”

                صندل ذرے کو دیکھنے لگی۔ ذرہ آہستہ آہستہ بڑا ہونے لگا اور بڑا ہوتے ہوتے ایک سرنگ کی صورت بن گیا۔ صندل کے ذہن سے یہ بات نکل گئی کہ اس کی نظر مٹی کے ایک ذرے پر جمی ہوئی ہے۔ وہ محسوس کرنے لگی جیسے وہ سرنگ میں داخل ہو رہی ہے۔ سرنگ میں گہرا اندھیرا تھا۔ اتنا اندھیرا کہ ہاتھ کو ہاتھ سُجھائی نہیں دیتا تھا۔ اس اندھیرے میں اسے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی ہستی اسے نہایت ہی محبت کے ساتھ تھامے ہوئے ہے اور آہستہ آہستہ سرنگ میں لئے جا رہی ہے۔ اس ہستی کی مضبوط بانہوں میں اس قدر تحفظ تھا کہ صندل نے سکون سے آنکھیں بند کر لیں۔ویسے بھی کیا دکھائی دے سکتا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اس نادیدہ ہستی کے سپرد کر دیا۔ اسے اپنے پورے وجود پر اس کے لمس کا احساس ہوا۔ اس نے سوچا کسی نہایت ہی شفیق و مہربان ہستی نے مجھے ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے۔ اس اندھیرے میں اس ہستی کا وجود میرے لئے کتنی بڑی نعمت ہے۔ اگر یہ مجھے نہ سنبھالتی تو نہ جانے کیا حشر ہوتا۔ گھپ اندھیرے میں انجان راستے پر میرے دل کا مسافر اس کے بغیر کیسے قدم بڑھاتا۔ تشکر کے جذبے نے اس کے وجود کے ایک ایک لمس کو ایک ایک حس عطا کر دی۔ اسے یوں لگا جیسے وہ ہزاروں ہاتھوں سے اپنے محسن کو ٹٹول ٹٹول کر پہچاننے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے اندر جستجو کے ساتھ ساتھ اپنے محسن کو پہچاننے کی خواہش ابھرنے لگی۔ یہ تقاضہ بڑھتے بڑھتے دل کی لگن بن گیا۔ وہ کون ہے؟ وہ کیسا ہے؟ اس کا میرے ساتھ کیا سمبندھ ہے؟ ہر احساس ایک سوال بن کر اپنے حواس کی تشریح طلب کرنے لگا۔ فکر میں گہرائی بڑھتی چلی گئی۔ احساس میں رنگینی پیدا ہو گئی۔ اندھیرے میں رنگ کھلنے لگے۔ بند آنکھوں کے سیاہ سمندر میں سب سے پہلے سرخ رنگ کی ایک بوند گری۔ دل دھڑک اٹھا۔ ادھک دھک کی صدا سرخ حجاب میں لپٹے ہوئے محبوب کے نام کا ورد کرنے لگی۔ دل نے اپنے محبوب کو پہچان لیا۔ رخ زیبا سے آہستہ آہستہ حجاب ہٹنے لگا۔ عشق کا ایک نام ہزاروں جلوؤں کے ساتھ خود اپنی نگاہ میں جلوہ گر ہو گیا۔ صندل کی ہتھیلی پر مٹی کا سیاہ ذرہ سونے میں تبدیل ہو گیا۔ صندل نے پلک جھپکائی۔ پھر غور سے ذرے کو دیکھا۔ پھر آنکھیں جھپکائیں۔ پھر دیکھا اور سلطان بابا سے مخاطب ہوئی۔”سلطان بابا عشق تو بھگوان ہے۔”

                سلطان بابا گہری آواز میں آہستہ آہستہ بولے،”عشق بھگوان ہے۔ عشق اللہ ہے۔ اللہ کی کوئی صورت نہیں۔ وہ ہر صورت میں جلوہ گر ہے۔”

                صندل بولی۔”صورت کیا ہے؟”

                سلطان بابا بولے، “کائنات کی ہر صورت روح کا ادراک ہے۔”پھر سلطان بابا نے کہا،”صندل اس ذرے کو غور سے دیکھ، تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟”صندل کی نگاہ زرد چمکتے ہوئے ذرے میں دیکھنے لگی۔ وہ بولی،”سلطان بابا، میں ایک گنبد دیکھتی ہوں۔ اس گنبد میں اندھیرا ہے۔”

                سلطان بابا بولے،”تو کہاں ہے؟”صندل کی آنکھوں میں تجسس ابھرنے لگا۔ وہ ذرے پر اسی طرح نظریں جمانے ہوئے کہنے لگی۔”میں کہاں ہوں؟ سلطان بابا اندھیرے میں مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔”

                ابھی وہ یہ کہہ ہی رہی تھی کہ گنبد کے اوپر کا حصہ کھلا۔ ایک کھڑکی کھلی اور اس کے اندر سے ایک بڑی سی شعاع گنبد کے اندر داخل ہوئی۔ یہ شعاع اس کے سر کے اندر اتر گئی۔

                سلطان بابا نے پھرپوچھا۔”صندل تیری نظر اب ذرے میں کیا دیکھتی ہے؟”

                صندل بولی۔”سلطان بابا، گنبد کے اوپر کا حصہ کھل گیا ہے۔ اس کے اندر سے ایک بڑی سی شعاع میرے سر کے اندر اتر گئی ہے۔”

                سلطان بابا بولے،”کیا تو گنبد کے اندر ہے؟”

                صندل نے قدرے توقف کے ساتھ کہا،”میں اپنے آپ کو گنبد کے اندر نہیں دیکھ رہی۔”

                سلطان بابا بولے،”پھر تو نے کیسے یہ کہا کہ شعاع تیرے سر میں داخل ہو گئی؟”

                صندل بولی،”مجھے معلوم ہے کہ یہ شعاع میرے سر کے اندر داخل ہوئی ہے۔”

                سلطان بابا نے پوچھا۔”اس شعاع میں کیا ہے؟”جیسے ہی سلطان بابا نے یہ سوال کیا، یہ شعاع صندل کے اندر سے پاؤں تک پھیل گئی۔

                صندل فوراً بولی۔”اس شعاع میں میری نظر ساری کائنات کو دیکھتی ہے۔ میں اس شعاع میں کائنات کی دوسری اشیاء کے ساتھ نیچے اترتی چلی آ رہی ہوں۔”

                سلطان بابا بولے،”کائنات کہاں ہے؟”

                صندل بولی،”شعاع کے اندر۔”

                سلطان بابا نے پوچھا۔”شعاع کہاں ہے؟”

                صندل بولی،”گنبد میں۔”

                وہ بولے،”گنبد کہاں ہے؟”

                صندل بولی،”یہ نظر کا ٹارگٹ ہے۔ اس نقطے میں نظر اپنے ارادے کا عکس دیکھتی ہے۔ کائنات اللہ کی نظر میں ہے۔ اللہ کی نظر اپنی لامحدودیت میں جس مقام پر ٹھہر جاتی ہے وہیں اس کے ارادے کے نقوش کائنات کی اشیاء بن کر نمودار ہو جاتے ہیں۔”صندل بولی،”سلطان بابا انسان کیا ہے؟”

                سلطان بابا نے فرمایا۔”انسان اس نقطے کا شعور ہے۔ جس نقطے میں اللہ کی نظر کائنات کا مشاہدہ کرتی ہے۔”

                سلطان بابا کی آواز صندل کے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس نے پوچھا۔”سلطان بابا، دل کیا ہے؟”

                سلطان بابا نے فرمایا۔”دل اللہ کی نگاہ کا مرکز ہے۔ مرکز سے نظر کی روشنی پوری کائنات میں پھیلی ہے۔ یہ مرکز اللہ کا گھر ہے۔”

                صندل بولی،”سلطان بابا، میں اللہ کا گھر دیکھ سکتی ہوں؟”

                سلطان بابا نے بڑی شفقت سے فرمایا۔”صندل تو اللہ کا گھر ضرور دیکھے گی۔ ضرور دیکھے گی۔ وقت آئے گا۔ وہ وقت ضرور آئے گا۔”یہ کہہ کر سلطان بابا غائب ہو گئے۔

                صندل اپنے رب کے نام کی مالا جپنے لگی۔ دن گزرتے رہے۔ ایک دن سلطان بابا صندل کے پاس آئے کہنے لگے۔”تو جانتی ہے تجھے یہاں آئے ہوئے کتنے دن ہو گئے؟”صندل نے لا علمی کا اظہار کیا تو فرمایا۔”تجھے یہاں آئے ہوئے دو سال گزر چکے ہیں۔ اب تیرے باہر نکلنے کا وقت آ گیا ہے۔”

                صندل بولی،”مہاراج مجھے کہاں جانا ہو گا؟”سلطان بابا نے کہا۔”تجھے اپنے گھر جانا ہو گا۔”گھر کا نام سن کر صندل کا دل ایک دم دھڑک اٹھا۔ انجانے خوف کی ایک لہر اس کے اندر سے گزر گئی۔ سلطان بابا کہنے لگے۔”شہباز بھی تیرے ساتھ ہی جائے گا۔”اتنے دنوں میں پہلی مرتبہ سلطان بابا نے شہباز کا نام لیا تھا۔ شہباز کا نام سن کر اس کے اندر کا خوف ایک لطیف احساس میں بدل گیا۔ سلطان بابا بولے۔”صندل تیرے اور شہباز کے بیچ اس دنیا میں نفس کا سانپ کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ تم دونوں پہلے کی طرح ایک دوسرے سے اجنبی بن کر رہو گے۔”پھر سلطان بابا نے صندل کو جوگن کا نیا لباس دیا۔ وہ بولے،”سامنے دریا میں اشنان کر کے یہ جوڑا پہن لے۔”صندل نے نظر اٹھا کے دیکھا تو دلدل کی بجائے وہاں شفاف پانی کا ایک دریا ٹھاٹھیں ماررہا تھا۔ وہ خوش خوش اٹھی۔ دریا پر نہا دھو کر نیا لباس پہنا۔ دریا سے نکلی تو سارا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ دلدل اور مٹی کی جگہ ہر طرف سبزہ اورپھول کھلے تھے۔

                وہ کھڑی چاروں طرف دیکھ رہی تھی کہ درختوں کے درمیان سے شہباز آتا دکھائی دیا۔ اس پر نظر پڑتے ہی اس نے اپنی نگاہیں جھکا لیں۔ اسی وقت سلطان بابا اس کے برابر آن کھڑے ہوئے۔ اتنے میں شہباز بھی پاس آ گیا۔ سلطان بابا کے ہاتھ میں صندل کی ایک چھوٹی سی پیالی تھی۔ اس کے اندر صندل کا عطر تھا۔ سلطان بابا نے صندل کے ماتھے پر اس عطر میں انگلی ڈبو کر الف کی طرح ایک لکیر کھینچ دی۔ اور خوب ساری دعائیں دیں۔ پھر شہباز کی پیشانی پر بھی اس طرح عطر سے لکیر کھینچی اور اسے بھی بہت ساری دعائیں دیں۔ پھر دونوں کا ہاتھ پکڑ کر آنکھیں بند کرنے کو کہا۔ دونوں نے جھک کر قدم بوسی کی اور بابا کے ہاتھ پکڑ لئے۔ اگلے ہی لمحے انہیں احساس ہوا کہ سلطان بابا ان کے پاس نہیں ہیں۔ انہوں نے آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو سلطان بابا کی قبر پر پایا۔ دونوں تعظیماً قبر پر جھک گئے اور اپنے نئے سفر کے لئے کامیابی کی دعائیں مانگیں۔

                صندل نے چاروں طرف دیکھا۔ گاؤں کی مانوس فضا اسے دعوت دے رہی تھی۔ ماں باپ کا چہرہ نگاہوں کے سامنے آ گیا۔ تقریباً دو سال بعد وہ مجھے یوں اچانک دیکھ کر کیا خیال کرینگے۔ اس نے دل ہی دل میں کہا۔ بھگوان مجھے شکتی دینا۔ چلنے سے پہلے اس نے شہباز کو دیکھا۔ اسے اس کے چہرے پر بھی انہی خیالات کی جھلکیاں دکھائی دیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کو ہاتھ کے اشارے سے خدا حافظ کہا اور آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے اپنے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ صندل نے اوڑھنی اپنے چہرے پر ڈال لی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ گھر والوں سے پہلے گاؤں کے لوگ اسے پہچانیں۔ راہ میں اِکا دُکا لوگ چل پھر رہے تھے۔ وہ اس پر اچٹتی نگاہ ڈال کر گزر گئے۔ اور اس طرح وہ اپنے گھر تک پہنچ گئی۔

                گھر کا دروازہ سامنے آ گیا۔ صندل نے اوڑھنی کی آڑ سے اپنے گھر کے دروازے کو اچھی طرح دیکھا۔ اس کے دل میں ایک کسک اٹھی۔ ٹھنڈی سانس کی لہر نے سینے کے جذبات کو ٹھنڈا کر دیا۔ دل کہنے لگا۔”اے پربھو، اے پربھو گھر بھی وہی ہے دروازہ بھی وہی ہے۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ مگر شاید میں ہی بدل گئی ہوں۔ پہلے یہ کسک گھر کے دروازے کو دیکھ کر کبھی نہیں اٹھتی تھی۔ اے پربھو، میں نے انجانے میں اگر کسی کا دل دکھایا ہو تو مجھے معاف کر دینا۔”پھر اس نے دروازے پر دستک دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ دروازہ چھوا مگر کھٹکھٹانے کی ہمت نہ ہوئی۔ خیال آیا، دروازہ کون کھولے گا؟ وہ مجھے اس لباس میں پہچانیں گے یا نہیں؟ مگر پھر اگلے ہی لمحے ایک نیا عزم حرکت کی لہر بن کر اس کے اندر دوڑ گیا۔ اس نے زور سے دروازے پر دستک دی۔

                دو تین منٹ بعد کسی کے کنڈی کھولنے کی آواز آئی۔ اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ دروازہ کھلا۔ ٹھاکرصاحب سامنے کھڑے تھے۔ اس نے اوڑھنی چہرے سے پوری طرح ہٹا دی۔ دونوں ہاتھ جوڑ کر پرنام کرتے ہوئے بولی،”باپو، میں صندل ہوں۔”ٹھاکرصاحب کے منہ سے چیخ نما آواز نکلی جو ان کی حیرت کی پوری طرح غمازی کر رہا تھی۔”صندل۔”

                باپو کے لبوں سے اپنا نام سن کر گویا صندل کے اندر دریا کا بند ٹوٹ گیا۔ وہ باپو کہہ کر ان کے قدموں میں گر گئی۔ٹھاکرصاحب نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا۔ ابھی تک انہیں اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ انہوں نے بازوؤں سے صندل کو پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔ پھر نہایت غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔ اس کی تھوڑی کا تل انہیں دیوی کے ماتھے کا تلک بن کر جھلملاتا دکھائی دیا۔ کچھ دیر وہ یونہی ہکا بکا کھڑے اسے گھورتے رہے۔ آنسوؤں کی لڑیاں صندل کے رخساروں کو بھگوتی رہیں۔ پھر انہوں نے صندل میری بیٹی، میری صندل کہہ کر اسے سینے سے لگا لیا اور پھر وہ اپنے آنسو نہ روک سکے۔ اسے اپنے بازوؤں میں سنبھالتے ہوئے اندر چند قدم آگے بڑھے اور زور زور سے سب کو پکارا۔ ارے صندل کی ماں، ذرا ادھر تو آؤ، دیکھو کون آیا ہے۔ مالا……کاجل……وہ ایک آواز میں سب کے نام لے کر پکارے جا رہے تھے۔

                آواز سن کر سارا گھر دوڑا چلا آیا۔ کہ جانے کون آیا ہے جو ٹھاکرصاحب اتنے جوش و خروش کے ساتھ آوازیں دے رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ وہ صندل کو لئے صحن کی جانب بڑھتے رہے۔ اتنے میں سب لوگ کمروں سے نکل کر صحن میں آ گئے۔ چودھرائن آگے بڑھی تو ٹھاکرصاحب نے خوشی کے بے پناہ جذبات کے ساتھ کہا،”بیگم ، صندل آئی ہے۔”

                “صندل؟”چودھرائن کے حلق سے ایک چیخ نکلی اور اس کے ساتھ ساتھ سارا گھر بھی صندل صندل کی آواز سے گونج اٹھا۔ صندل پرنام کرتی ہوئی ماں کے قدموں میں گر گئی۔ ماں نے اسے گلے سے لگایا۔ دونوں طرف ساون بھادوں کا سا سماں تھا۔ طبیعت کا غبار ہلکا ہوا تو اس نے سب کی طرف نظر کی۔ بھائی، بھاوجیں، بچے سارا گھر بھرا ہوا تھا۔ وہ بھیگی پلکوں کے ساتھ باری باری سب سے ملی۔ سب لوگ صحن میں بچھے تخت اور چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ سب کی آنکھوں میں ایک ہی سوال جھلک رہا تھا۔”صندل تو اتنے دن کہاں غائب رہی؟”آخر یہ سوال چودھرائن کے لبوں تک آ ہی گیا۔ انہوں نے صندل کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔”صندل تو اتنے دن کہاں غائب رہی؟’ تو جوگن کیسے بن گئی؟”صندل سر جھکائے بولی،”ماں ، یہ ایک لمبی کہانی ہے۔”ٹھاکرصاحب نے بیٹی کے جذبات سمجھتے ہوئے اس نازک مسئلے کو فوراً ہی چھیڑنا مناسب نہ سمجھا جلدی سے بولے۔”اری بھاگوان، صندل کے لئے کچھ کھانے کو منگوا۔ باتیں کرنے کے لئے بہت وقت پڑا ہے۔”صندل نے موقع غنیمت جانا۔ خوش دلی سے بولی۔”ماں مجھے بھوک لگی ہے۔”چودھرائن مالا کاجل سے مخاطب ہوتے ہوئے بولی۔”مالا، کاجل ذرا تھالی پروس دے۔ مالا کاجل چپ چاپ اٹھیں اور رسوئی گھر میں چل دیں۔

                صندل نے ہاتھ دھوئے۔ اتنے میں کھانا آگیا۔ وہ کھانا کھاتی جاتی اور ساتھ ساتھ بچوں کے منہ میں نوالے ڈالتی جاتی۔ خادم ایک جانب ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ اس کے چہرے سے خوشیاں پھوٹ رہی تھیں۔ کہنے لگا۔”چھوٹی بی بی، آپ کے بغیر یہ گھر سونا ہو گیا تھا۔”ایک دو گھنٹے سب کے ساتھ ہلکی پھلکی باتیں کرنے کے بعد ماں بولی،”صندل کمرے میں چل کر ذرا آرام کر لے۔”دراصل یہ ایک بہانہ تھا صندل کو سب کے بیچ سے اٹھانے کا۔ صندل اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔ اتنی دیر میں خادم نے اس کے کمرے کو پہلے کی طرح سیٹ کر دیا تھا۔ اس کے پیچھے پیچھے ٹھاکرصاحب اور چودھرائن بھی آگئے۔ انہوں نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا تا کہ آرام سے بیٹی سے باتیں کر سکیں۔ چودھرائن بولی،”صندل تجھے ان دو سالوں کا حساب دینا ہے۔ یہ بتا تو اتنے دن کہاں تھی؟ تیرے باپو نے تجھے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا؟”چودھرائن ذرا تیز ہو کر بولی،”آخر تو اتنے دن کہاں تھی اور پھر اتنے دنوں بعد یوں اچانک کہاں سے آ گئی؟”ہمیں سچ سچ بتا دے۔ آخر گاؤں والوں کو بھی تو ہمیں کچھ نہ کچھ بتانا ہی پڑے گا۔



Jogun

سیدہ سعیدہ خاتون عظیمی


روح کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ روح عورت یا مرد ہوتی ہے۔ روح روح ہوتی ہے اور کیونکہ روح صرف روشنی ہوتی ہے اور روشنی کے لئے حد بندیاں قائم نہیں کیں جا سکتیں۔ روشنی ہر جگہ ہے۔ روشنی کے لئے در و دیوار معنی نہیں رکھتے۔ روشنی ٹائم اور اسپیس سے آزاد ہے۔ جب کوئی مرد یا عورت روح سے واقف ہو جاتی ہے تو اس کے اوپر سے ٹائم اور اسپیس کی گرفت ٹوٹ جاتی ہے اور وہ ہزاروں سال پہلے کے واقعات اور ہزاروں سال بعد کے آنے والے واقعات کو دیکھ لیتا ہے۔ چونکہ ماضی، حال، مستقبل اس کے سامنے آ جاتا ہے اس لیے وہ اس بات سے واقف ہو جاتا ہے کہ کائنات میں اللہ کے علاوہ کسی کی حاکمیت نہیں ہے اور جب کوئی بندہ اللہ کی حاکمیت یقین کے ساتھ قبول کر لیتا ہے تو اس کر اندر سے غم و پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں اور وہ سکون کے گہوارے میں محو خرام ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سعیدہ خاتون عظیمی کی اس کاوش کو عوام الناس کے لئے مقبول بنائے اور جو لوگ اس کتاب کا مطالعہ کریں ان کے ادراک و فہم میں جلا بخشے۔

                آمین

خواجہ شمس الدین عظیمی

مرکزی مراقبہ ہال

سرجانی ٹاؤن، کراچی