Topics

تغیر کی بساط۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔ اگست۔2020


تغیر کی بساط الوژن ہے ۔ الوژن ___ شک اور وسوسوں کے تا نے با نے سے بنا ہوا پر دہ ہے جس میں زمین و آسما ن کی ہر شے گھٹتی بڑھتی نظر آتی ہے ۔ پر دے کے پیچھے حقیقی دنیا پو ری آب و تا ب کے ساتھ آبا د، اور گھٹنے بڑھنے سے ماورا ہے ۔

شہنشا ہ ہفت اقلیم با با تا ج الدین نا گپوری ؒ نے ایک با ر مہا را جا رگھو راوَ سے فرما یا :

"میاں رگھو راوَ ! ہم سب جب سے پیدا ہو ئے ہیں ستاروں کی مجلس دیکھتے رہتے ہیں ۔ شا ید ہی کو ئی رات ایسی ہو کہ ہما ری نگا ہیں آسما ن کی طر ف نہ اٹھتی ہوں ۔ بڑ ے مزے کی با ت ہے ، کہنے میں یہی آتا ہے کہ ستا رے ہما رے سامنے ہیں ، ستا روں کو ہم دیکھ رہے ہیں ، ہم آسما نی دنیا سے روشنا س ہیں ۔ لیکن ہم کیا دیکھ رہے ہیں اور ما ہ و انجم کی کون سی دنیا سے روشنا س ہیں ،  اس کی تشریح ہما رے بس کی با ت نہیں ۔ جو کچھ کہتے ہیں ، قیا س آرائی سے زیا دہ نہیں ہوتا۔ پھر بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم جا نتے ہیں ۔ زیا دہ حیر ت نا ک امر یہ ہے کہ جب ہم دعوی ٰکر تے ہیں کہ انسا ن کچھ نہ کچھ جا نتا ہے تو قطعاً یہ نہیں سوچتے کہ اس دعوے کے اندر حقیقت ہے یا نہیں۔"

با با تا ج الدین ناگپو ری ؒ کے ارشا د گرا می میں آسما نی دنیا سے متعلق شعو ری معلو ما ت کی نفی ہو تی ہے اور اس کا سبب قیا س آرائی یعنی الوژن ہے ۔

حضور قلندر با با اولیا ء ؒ کے نانا، با با تا ج الدین نا گپو ری ؒ کے ارشا د گرامی کو سمجھنے کے لیے "آج کی با ت " میں کو شش کی گئی ہے  کہ گفتگو میں جو زموز مخفی ہیں ، وہ بیان ہو جا ئیں۔


استا د نے شا گر د سے کہا ، کبھی چا ند دیکھا ہے _____؟

شا گر د نے یقین سے بتا یا ، جی ! دیکھا ہے ۔

پو چھا ، کیسا نظر آتا ہے ___؟ شا گر د کے ذہن میں سیا ہ آسما ن پر سفید چا ند کی تصویر آئی۔ دودھیا کر نوں کی پتلی مو ٹی دھا ریں سیا ہی سے مل رہی تھیں اور وصل کا خما ر طا ر ی تھا ۔

چا ند کے سحر میں گم شا گر د نے عر ض کیا، دل فریب !

استا د نے زور دار آواز میں فرما یا، شا با ش! تم نے دریا کو زے میں بند کردیا۔

تعریف پر سینہ فخر سے پھول گیا مگر لمحے چہرے پر سے مسکرا ہٹ غا ئب ہو گئی جب استا د نے انکشا ف کیا، تم چا ند کو جس طر ح دیکھتے ہو ، وہ دل _____ فر یب ہے ۔

شا گر د نے تذبذب سے پو چھا ، میں آپ کی با ت نہیں سمجھا ۔

لیکن بیٹا ! میں سمجھ گیا ہوں۔

شا گر د نے ملکوتی چہر ے پر سے نظریں ہٹا تے ہو ئے کھڑ کی سے افق پر چا ند دیکھا۔

کرنیں آسما ن پر نز اکت سے پھیل رہی تھیں کہ ستا رے مخمور تھے۔

اس دوران با دلوں کا لشکر گزر ا اور چا ند چھپ گیا۔

استا د نے پو چھا، اب کیا دیکھا___؟

شا گر د بو لا ، آج گیارہویں کا چا ند ہے۔

استا د نے زیرِ لب مسکرا تے ہو ئے فرما یا، جب پہاڑ نما با دل چاند پر سے گز ر رہے تھے، تب کون سے دن کا چاند تھا ____؟

الفا ظ میں گہرا ئی کا اندازہ ہو تے ہی شا گر د کا ذہن ما وَف ہو گیا۔

توقف کے بعد عرض کیا، چا ند وہاں نہیں تھا ___ غا ئب ہو گیا تھا۔

تعجب سے فرما یا ، اچھا ! کیا غا ئب ہو نے کا مطلب نہ ہونا ہے ____؟

شا گر د بو لا ، نہیں ____ وہ بادلوں کے پیچھے تھا ۔ بادلوں نے اسے ڈھا نپ لیا تھا۔

بیٹا ! پھر کیا ثبوت ہے کہ جس کو تم نے گیارہویں کا چا ند سمجھا ، وہ گیا رہ دن کا ہے ؟ دیکھو ! چا ند مکمل شکل میں اپنی جگہ مو جو د ہے ۔جتنا تمہیں نظر آرہا ہے ، اس کا بقیہ حصہ تمہا رے لئے غیب ہے ۔ شعو ری نظا م بر قرار رکھنے کے لئے قدرت روز چا ند کے آگے پر دہ لے آتی ہے۔پر دہ روز بروز بڑھتا ہے یہا ں تک کہ با ریک لکیر رہ جا تی ہے جسے تم پہلے دن کا چا ند کہتے ہو۔ پھر یہی پر دہ کم ہو نے سے چاند اپنے جو بن پر آکر ما ہ ِ کا مل بن جا تا ہے ۔ اس طر ح گھٹنے بڑھنے کا شعو ری دائرہ مکمل ہو تا ہے ۔

شا گرد نے پو چھا، پر دہ چاند پر سے ہٹتا ہے یا میری نظر سے؟

استا د نے فرمایا، یہاں تک لے کر آیا ہوں، اس سے آگے دیکھنا سمجھنا تمہا را کا م ہے۔


سما وات و ارض کے خا لق اللہ رب العا لمین کا ارشا د ہے:

"ہم نے آسما ن کو بروج سے زینت بخشی دیکھنے والوں کے لئے اور شیطان مردود سے اسے محفوظ کردیا۔" (الحجر :۱۶-۱۷)

بروج  سے مرا د ہما ری دنیا کی طر ح رنگ و روشنی سے معمو ر دنیا ئیں ہیں جن میں مخلوقا ت آبا د ہیں اور تقا ضو ں کی تسکین کے تما م وسا ئل ہیں۔ جو لو گ صاحب ِ یقین  اور صا حب ِ مشا ہد ہ ہیں ، ان کی نگا ہ زمین کے شعور سے آزا د اور آسما نی شعو ر سے واقف ہے ۔ وہ ان دنیا وَں کو دیکھتے ہیں اور ما دی وسا ئل کے بغیر ان میں آتے جا تے ہیں۔

یا درکھئے ! ہر تخلیق جس ہیئت میں مو جو د ہے ، اپنے شعو ر کی عکا سی کر تی ہے۔

آسما ن کا شعو ر کیا ہے ___؟ نظر اٹھا کر دیکھئے۔ حد ِ نظر تک پھیلی ہو ئی چھت ہے جس میں محدودیت ہے نہ ڈا ئی مینشن نظر آتے ہیں ۔ بتا یا نہیں جا سکتا کہ آسما ن کہا ں سے شروع ہو تا ہے اور کہا ں پر ختم ___ ہر جا نب نظر آتا ہے ۔ یہ غیر جانب دار طر ز فکر کی عکا سی ہے جس میں ذہن شے کو ایک مقا م پر محدود نہیں سمجھتا۔ چوں کہ آسما ن تخلیق اور تخلیق ڈا ئی مینشن  ہے ۔ لہٰذا آسما ن میں سمتیں مو جو د لیکن مغلوب رہتی ہیں ۔

سمتوں کے مغلو ب ہو نے کے الفا ظ کے بجا ئے مفہوم کے آئینے میں سمجھئے ۔

جب بندے کی توجہ خالقِ کا ئنا ت اللہ کی طر ف مر کوز ہو تی ہے تو اپنے ہو نے کا احسا س ذہن سے محو ہو جا تا ہے ۔ اللہ کی صفا ت لا محدود ہیں لہٰذا محدودیت سے ماورا صفا ت میں جذب ذہن کو عارضی اشیا  کے کھو نے کا غم ہو تا ہے نہ ملنے کی خو شی ۔   وہ پا نے اور کھو نے  کے احسا س سے بے نیا ز ہو کر دا ئمی خو شی حا صل کر لیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لا محدود آسما ن پر تفکر کر نے والوں کی طر ز فکر غیر جا نب دار ہو جا تی ہے۔

زمین کا شعو ر کیا ہے ___؟ زمین کے شعو ر میں سمتیں غالب ہیں ۔ ہر شے گھٹتی، بڑھتی اور گھٹتی نظر آتی ہے ۔ گھٹنے بڑھنے کے الوژن  سے تا ثر پیدا نہ ہو ، آنکھ نہیں دیکھتی ۔ تقسیم کی وجہ سے ہرشخص انفرادیت میں گم ہے اور اسی آئینے میں دیکھتا ہے ۔ وہ نہیں سوچتا کہ میں کون ہوں اور مجھے کس نے بنا یا ہے ۔ خو د سے لا علم رہ کر وہ خا لقِ کا ئنا ت ، اپنی اور دیگر مو جو دات کی معرفت سے محروم رہتا ہے ۔

قا نون : شعور جب تک محدودیت میں بند ہے ، گما ن کر تا ہے کہ دن روشنی اور رات اندھیرا ہے ، ہر شے گھٹتی بڑھتی ہے ، ستا رے ایسے نظر آتے ہیں اور چاند گول ہے۔

تا ج الاولیا___ با با تاج الدین ناگپوری ؒ کی تعلیما ت متوجہ کر تی ہیں کہ الوژن ذہن سے دیکھنے والی سا ری چیزیں اصل کے بر عکس نظر آتی ہیں مگر حیر ت ہے کہ آدمی قیا س کو علم گما ن کر کے یقین سے کہتا ہے کہ میں جا نتا ہوں جب کہ اس کا علم مفروضا ت پر قا ئم ہے۔آنکھ جن چیزوں کو گھٹتا بڑھتا دیکھتی ہے وہ ہمہ وقت مکمل حا لت میں موجود ہیں ۔ پہلے دن کا بچہ ایک سال کا ہوتا ہے تو اس ایک سال کے اندر پہلا دن موجو د ہے ۔ پہلا دن ہی بقیہ 364 دنوں کی بنیا د ہے ۔ آدمی ظا ہر کے گھٹنے بڑھنے کو دیکھ کر غیب کو نظر انداز کردیتا ہے ۔ گھٹنا بڑھنا شعو ری کیفیت ہے ۔ لا علمی کا یہ عا لم ہے کہ آدمی اپنے شعور کے گھٹنے بڑھنے کو اشیا میں تغیر سے تعبیر کر تا ہے۔

شہنشا ہ ہفت اقلیم با با تا ج الدین نا گپوری ؒ کی تحر یر دوبا ر ہ پڑھئے۔

"میا ہ رگھو راوَ! ہم سب جب سے پیدا ہو ئے ہیں ستا روں کی مجلس دیکھتے رہتے ہیں۔ شا ید ہی کو ئی رات ایسی ہو کہ ہما ری نگا ہیں آسما ن کی طر ف نہ اٹھتی ہوں ۔ بڑ ے مز ے کی با ت ہے، کہنے میں یہی آتا ہے کہ ستا رے ہما رے سامنے ہیں ، ستا روں کو ہم دیکھ رہے ہیں ، ہم آسما نی دنیا سے روشنا س ہیں ۔ لیکن ہم کیا دیکھ رہے ہیں اور ما ہ و انجم کی کو ن سی دنیا سے روشنا س ہیں ، اس کی تشریح ہما رے بس کی با ت نہیں۔ جو کچھ کہتے ہیں ، قیا س آرائی سے زیا د ہ  نہیں ہو تا۔ پھر بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم جا نتے ہیں ۔ زیا دہ حیر ت نا ک امر یہ ہے کہ جب ہم دعویٰ کر تے ہیں کہ انسا ن کچھ نہ کچھ جانتا ہے تو قطعا ً یہ نہیں سوچتے کہ اس دعو ے کے اندر حقیقت ہے یا نہیں ۔"


Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔