Topics

پیغمبرانہ طرز فکر ۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔مارچ 2014

 

انسانی ذہن دو رخوں پر سفر کرتا ہے۔ ایک رخ انسان کو خالق سے قریب کرتا ہے اور دوسرا رخ خالق سے دور۔

انسان جب مذہب اور دین کے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزارتاہے تو اس کا ذہن مثبت سمت میں سفر کرتا ہے۔ نتیجتاً وہ پرسکون زندگی گزارتا ہے لیکن انسان جب مذہب کی تعلیمات اور قوانین سے انحراف کرتا ہے تو اس کا ذہن تخریب کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی آزارکا سبب ظاہر ہوتا ہے۔

ہم جب حضورؐ کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا مقصد نوع انسانی کو ایسی طرز معاشرت سے روشناس کرانا تھا جس پر عمل کرکے انسان ایک طرف تو اپنی شعوری زندگی کو پاکیزگی، امن و بھائی چارے، مساوات، عدل و احسان، حسن سلوک، حسن اخلاق اور حسن عمل کا نمونہ بناسکتا ہے تو دوسری طرف اپنی روح کو اللہ کے نور سے آراستہ کرکے اپنی تخلیق کے مقصد سے واقف ہوجاتا ہے۔

انسان کی تخلیق کا مقصد اپنے خالق اور رب کا عرفان حاصل کرنا ہے۔

حضورؐ اللہ کے محبوب بندے ہیں جنہیں اللہ نے رحمت اللعالمین بنایا۔ حضورؐ کی تعلیمات محبت کی تعلیمات ہیں جو ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔

موجودہ دور میں امت مسلمہ کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ مسلمان قوم حضورؐ کی تعلیمات سے بے بہرہ ہے جبکہ رسول اللہؐ کی پوری تعلیمات قرآن و سنت کے دائرۂ عمل میں ہیں، تاریخ کے آئینہ میں نمایاں طو پر نظر آتا ہے کہ جب تک رسول اللہؐ کی تعلیمات پر عمل کیا گیا، سرخروئی، فتح و کامرانی اور اقوام عالم کی سربراہی مسلمانوں کے ہاتھ میں رہی۔

وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے انبیاء کی تعلیمات کے برخلاف مادی طرز فکر اختیار کرلی گئی اور دنیا کو مقصد بنالیا گیا اسی مناسبت سے لالچ، بداخلاقی، بدسلوکی،بے عملی، معاشرتی اور اخلاقی جرائم اور تخریب کاری میں اضافہ ہوتا رہا۔

ہم خود کو حضورؐ کا امتی کہتے ہیں لیکن عمل دیکھیں تو حضورؐ کا امتی کہنا حضورؐ کی شان میں گستاخی اور بے ادبی نظر آتا ہے۔ ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں۔۔۔ کیا مسلمان ایسے ہوتے ہیں جس کا مظاہرہ آج ہورہا ہے۔ آج کا مسلمان تفرقہ میں پڑا ہوا ہے اور اپنی اصلاح کے بجائے دوسروں کا گریبان پکڑنا بہتر سمجھتا ہے۔ خالق کائنات کا ارشاد ہے۔

اور اللہ کی رسی کو متحد ہو کر مضبوطی کے ساتھ پکڑلو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ (103:3)

انفرادی ز ندگی زیربحث آتی ہے تو ہمارا عضو عضو مصروف عمل ہوجاتا ہے اور جب اجتماعی زندگی درپیش آتی ہے تو مسلمان ہاتھ اٹھا کر دعا کا سہارا لے کر بیٹھ جاتا ہے کون نہیں جانتا کہ ہمیشہ دنیا میں وہی اقوام سربراہی اور رہنمائی سنبھال لیتی ہیں جو متحد رہتی ہیں ہم انفرادی مفاد کے لئے سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں لیکن اجتماعی حیثیت میں ہم ایک جگہ قومی مفاد کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں۔

حضورؐ نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"

آج کا مسلمان اپنے بھائی کی گردن کاٹنے کے لئے تیار رہتا ہے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:"تم بہترین امت ہو جو سارے انسانوں کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر کامل ایمان رکھتے ہو۔"(110:3)

اگر اعمال کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں اپنے اندر خیر امت کے اوصاف تقریباً معدوم نظر آتے ہیں۔۔۔ لالچ اور مادی سوچ کے دھارے اس حد تک سرایت کرچکے ہیں کہ ایک جان کی نسبت چند سکوں کی زیادہ اہمیت ہے۔

برائیوں کو مٹانے کی جدوجہد اور بھلائیوں کی ترغیب ہی وہ عمل ہے جو ہمارے وجود کا ضامن ہے۔ اس میں کوتاہی کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم جس غلط روش سے بچنے کی تلقین کررہے ہیں اور اس کے برے نتائج سے انہیں خبردار کررہے ہیں، ہم خود دانستہ یا نادانستہ طور پر اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرز عمل کی نشاندہی اس طرح کی ہے کہ:

"کیا تم لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو۔" (44:2)

اور تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔ (2:61)

اللہ کے راستے کی طرف دعوت دینے میں ہماری بات میں اسی وقت تاثر پیدا ہوگا جب ہم خود اس دعوت اور تعلیم کا نمونہ ہوں اور ہمارا رابطہ اللہ کے ساتھ ویسا ہی ہو جوایک حقیقی بندے کا اپنے رب سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ربط کے حصول کا طریقہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا ہے:

ترجمہ: "اے چادر میں لپٹنے والے! رات میں "قیام" کیجئے مگر کچھ رات، آدھی رات یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اورقرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھئیے۔ ہم جلد آپ پر ایک بھاری فرمان ڈالنے والے ہیں۔" (1-5:73)

قیام کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی قربت پر قائم ہو کر ایسا ربط پیدا کرے کہ اس کی زندگی کا ہر عمل اللہ کی ذات سے وابستہ ہوجائے اور وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لے۔

جب بندہ اپنے رب سے حقیقی تعلق کو قائم کرلیتا ہے تو وہ غم اور خوف سے نجات حاصل کرکے سکون اور اطمینان کی تصویر بن جاتا ہے۔ جب وہ کوئی بات کہتا ہے اور کسی بات کی دعوت دیتا ہے تو باضمیر لوگ اور سعید روحیں اس کی آواز پر لبیک کہتی ہیں۔

رسول اللہؐ نے فرمایا مسلمان بندے ایک آدمی کی طرح ہیں اگر اس کی آنکھ دکھتی ہے تو اس کا سارا جسم دکھنے لگ جاتا ہے اور اگر اس کے سرین (ٹانگ) میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کے سا رے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔ (صحیح مسلم: جلد سوم، حدیث نمبر 2088(

اللہ حافظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

مارچ 2014

  

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔