Topics

ماء اور امعاء ۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔دسمبر 2016

آسمان اور زمین شعور کے دو رخ ہیں جن پر کائنات قائم ہے۔ شعور باطن میں روشنی اور روشنی کا مظاہر رنگ ہے۔
"اللہ وہ ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا اور پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لئے طرح طرح کے ثمرات پیدا (کئے۔" (ابراہیم: 32
"کن" تصورات کا خول ہے۔ آسمان سے پانی برسا۔۔۔ زمین پر وسائل مظہر بنے۔ مظہر بننا، وسائل کا لاشعور سے شعور میں آنا ہے۔ کائنات ازل سے ابد تک کے وسائل کی فلم ہے لیکن اس دنیا میں ظاہر ہونے سے قبل وسائل جس زون میں ہیں، شعور اس سے ناواقف ہے۔ شے اس وقت نظر آتی ہے جب اس میں رنگ ظاہر ہوں۔ پانی زمین میں داخل ہوتا ہے اور پھل پھول پودے، انواع و اقسام کی رنگ برنگ مخلوقات اس طرح نظر آتی ہیں کہ ظاہر میں الگ ہو کر بھی باطن میں زمین سے منسلک ہیں۔
زمین بساط ہے۔۔۔ پانی حرکت ہے اور جس مقام سے پانی نازل ہوتا ہے، قرآن کریم نے اسے"سماء" کہا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
"اور ہم نے آسمان سے پاک پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعہ مردہ شہر کو زندہ کردیں۔ " (الفرقان 49-48)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظام کائنات اطلاع پر قائم ہے۔۔۔ اطلاع کا سورس پانی ہے۔
(
"ہم نے ہر زندہ شے پانی سے پیدا کی۔" (الانبیاء: 30
پانی صفات کا مظاہرہ ہے جس سے مخلوق زندہ اور قائم ہے۔ موجودات پر غور کیا جائے تو ہر تخلیق کی بیس پانی ہے۔ مخلوق کی ابتدا اسپرم سے ہوتی ہے، اسپرم پانی ہے۔ بیج کو پانی نہ ملے، درخت نہیں بنتا، پھل نہیں آتے، پھول نہیں کھلتے۔
جس طرح اسپرم جم کر لوتھڑا بن جاتا ہے اس طرح زمین کے اندر بیج جڑ ہے۔ پھل پانی کا وہ رخ ہے جس میں رنگ ظاہر ہوتا ہے اور پانی نظر نہیں آتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شے پانی کا مرکب ہے۔ پانی کی صفت چپک ہے۔۔۔ چپک میں ثقل ہے۔
کھانا پکاتے وقت گوشت کے اندر اور برتن میں موجود پانی مل کر گوشت کے ریشوں کو الگ کردیتے ہیں جس کو گوشت کا پکنا یا گلنا کہا جاتا ہے۔
غور سے دیکھئے تو پیاز کے پرت کی طرح گوشت کی ہر تہہ دوسری سے جدا ہے۔ گوشت پرت در پرت پانی سے مرکب ہے۔۔۔ پانی بھاپ بن کر اڑ جاتا ہے۔ گوشت پانی کا ظاہری رخ ہے کیوں کہ جس جانور کا گوشت ہے، اس کی پیدائش بھی پانی (اسپرم) سے ہوئی۔
گلاب پھول کا عرق نکلنے کے بعد پتیاں خشک ہو کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں۔ سیب یا کسی بھی پھل کا جوس نکالئے، پھل مغلوب۔۔۔ پانی غالب ہوجائے گا۔ مکان کی تعمیر میں پانی شامل نہ ہو، مکان نہیں بنتا اور دیواروں میں پانی نظر نہیں آتا۔ شے میں ربط پانی سے ہے۔۔۔ پانی اطلاع ہے۔ پانی میں اتنی وسعت ہے کہ ایک قطرہ سے چھ فٹ کا آدمی یا ٹنوں وزنی ہاتھی بن جاتا ہے۔ پہاڑ بھی ایک قطرہ کی وسعت کا مظہر ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے، سب پانی کا مظاہرہ ہے۔
ہر شے کا وصف ہے لیکن شے خود کیا ہے یہ بات سمجھنا ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سن 6 ہجری میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے حضور اکرمؐ کی سربراہی میں اسلامی لشکر مکہ مکرمہ کی حدود سے نو میل دور حدیبیہ کے مقام پر ٹھہرا۔ حدیبیہ کنوئیں کا نام ہے۔ ارد گرد آباد دیہات اسی نام سے مشہور ہوگئے۔
اس وقت کنواں خشک تھا۔ صحابہ کرامؓ نے اللہ تعالیٰ کے محبوب حضرت محمدؐ سے عرض کیا
"یا رسول اللہؐ! ہمارے ساتھ کئی سو اونٹ ہیں اور ہم تقریباً دو ہزار افراد ہیں۔ یہاں پانی نہیں ہے۔ خشک علاقہ میں کیسے رہیں گے؟ گزارش ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور وہاں قیام کریں جہاں پانی ہو۔"
باعثِ تخلیق کائنات ؐ نے دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور اللہ سے عرض کیا
"اے خالق و مالک! اگر آپ پانی مہیا نہیں کریں گے تو مسلمان بے اختیار حرم میں داخل ہوجائیں گے۔" اس کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک تیر کنوئیں میں گاڑنے کا حکم دیا۔ جیسے یہ کنوئیں میں تیر گاڑا گیا۔۔۔ چشمہ ابل پڑا۔
سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم سے لکھی گئی کتاب "لوح و قلم" میں درج ہے
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سوال کیا گیا۔۔۔
کائنات سے پہلے کیا تھا۔۔۔؟
آپ ؐ نے فرمایا: "امعاء"
سوال کیا گیا کہ اس کے بعد کیا ہوا۔۔۔؟
ارشاد فرمایا: "ماء"
"امعاء" عربی اصطلاح میں ایسی منفیت کو کہتے ہیں جو عقل انسانی میں نہ آسکے اور "ماء" عربی میں مثبت کو کہتے ہیں جو کائنات کی بنیادیں ہیں۔ اسی مثبت کا نام عالمِ امر ہے۔ امعاء جو اصطلاح میں ماوراء الماورءا نور کہلاتی ہے اس کا تعارف عالمِ نور سے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین! منفیت اور مثبت کو اس طرح سمجھئے۔ اللہ کے ذہن میں موجود پروگرام کا عکس کائنات ہے۔ جب تک پروگرام ظاہر نہیں ہوا، ا دراک نہیں تھا۔ پروگرام رنگوں میں ظاہر ہوا، مخلوق نے کائنات کا ا دراک اور خالق کا اثبات کیا۔
پانی باطن میں نور اور ظاہر میں رنگ ہے۔ کائنات کا پھیلاؤ اللہ نور السمٰوٰت والارض ہے۔ مادی آنکھ کو نقش و نگار اس وقت نظر آتے ہیں جب رنگ ظاہر ہوں۔
پانی روشنی کا ظاہر رخ ہے، پانی میں رنگ اور ثقل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی سے بننے والی ہر شے میں ثقل اور رنگ ہے۔ ثقل کا دوسرا رخ لطافت ۔۔۔ روشنی ہے۔
قارئین ! اپنے جسم پر غور کیجئے۔ سر کے بال کالے یا سفید ہیں، ناک کا اندرونی حصہ رنگین ہے۔ آنکھ کی پتلی رنگوں کا امتزاج ہے، سراپا بھی رنگ ہے۔۔۔ کالا، گورا، سرخ، گندمی، بھورا وغیرہ۔
آرام دہ کرسی پر بیٹھ جایئے۔ غور و فکر کیجئے کہ آپ کے سراپا میں کوئی عضو بے رنگ ہے۔۔۔؟
"اور یہ جو بہت سی رنگ برنگ کی چیزیں اس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا کر رکھی ہیں ان میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرتے ہیں۔" (النحل : 13)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشاد ربانی ہے
"اور تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ جمے ہوئے ہیں مگر یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہیں۔" (النمل: 88)
وجود کے دو رخ ہیں۔ پہاڑ کا ظاہر جمود۔۔۔ جمود مادیت ہے جب کہ بادل پانی کے مشکیزے ہیں۔ مادی نگاہ پہاڑ کو جما ہوا دیکھتی ہے۔ قرآن کریم نے حواس کے محدود طرز کی نفی کرکے وجود کے لامحدود رخ کی طرف متوجہ کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارمولا
حس سفید رنگ + آبی + پتلا + بکھرنے والی + عکاس + پھیکا + بو کی حس + ہر قسم کی آواز + آر پار +سرد+ گرم+ حرکت کلی + بہنا + پگھلنا+ چپک = پانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانی ایک سیال ہے، جس ڈائی میں جاتا ہے خود کو ڈائی کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔
"آج کی بات " کے عنوان سے لکھا جانے والا یہ مضمون مختلف ہے۔ پڑھنے میں ذہن کا یک سو ہونا ضروری ہے۔ مضمون کو سمجھنے کے لئے چھٹی حس انشاء اللہ راہ نما بنے گی۔ چار یا چھ افراد کا گروپ بنا کر غور و فکر کریں۔ اس سلسلہ میں خواتین و حضرات افہام و تفہیم کے لئے ادارہ سے رجوع کرسکتے ہیں۔
اللہ حافظ
خواجہ شمس الدین عظیمی
دسمبر 2016 

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔