Topics

علم لا اور علم الا۔ ماہنامہ قلندر شعور۔جون 2019

 

          جب کچھ نہیں تھا ۔ ایک واحد ہستی موجو د تھی ۔ ہستیَ مطلق نے چاہا کہ میں پہچا نا جا وَں۔ پہچا ن کے لئے وجود اور وجو د کے لئے ہستی کا ظا ہر ہو نا ضروری ہے ۔ ہستی نے اپنی مو جودگی کو ظا ہر کیا تو ایک سے زا ئد رخ متعین ہو ئے جن کو ہستی نے ظا ہر ، با طن ، حا ضر اور غیب کا نا م دیا۔ یہ چا ر بنیا دی رخ تخلیق ہو نے والی ہر شے پر محیط ہیں ۔ ان کے تعین میں یہ امر تفکر طلب ہے کہ کو ئی ہستی تھی ، ہے اور رہے گی  جو اول ہے ، آخر ہے ، ظا ہر ہے اور با طن ہے —پسند فر ما یا کہ میر ی موجو دگی کامظا ہر ہ ہو۔

حدیث قدسی ہے ،

          "میں چھپا ہوا خزا نہ تھا ۔ میں نے محبت کے ساتھ مخلو ق کو تخلیق کیا تا کہ میں پہچانا جا وَں ۔"

پہچا ن کا انحصا ر دونکا ت پر ہے۔

۱۔ ابتدا ، انتہا ، اول اور آخر متعین ہوں۔

۲۔چھپی ہو ئی ہستی کو پہچا ننے کے لئے ہستی کے علا وہ کو ئی دوسرا مو جو د ہو۔

اللہ تعالیٰ نے کنُ فرما یا ، ارادہ میں مخفی پروگرام کے تحت کا ئنات پو ری تفصیلا ت کے ساتھ ظا ہر ہو ئی ۔ حکم ہوا ۔۔۔۔

"کیا میں نہیں ہوں تمہا را رب—؟"

          آواز سے حس بیدا ر ہو ئی ۔ پہلے مر حلہ میں ذہن نے سوال کیا کہ میں کو ن ہوں اور مجھے کس نے مخاطب کیا۔ تجسس سے آواز نگا ہ بنی ۔ نگا ہ نے لا محدود ہستی کو دیکھا ، نگا ہ ادراک میں منتقل ہو ئی ، ادراک  کی گہرا ئی سے مخلوق نے خا لق کو محسو س کیا — محسو سیت  سے آگہی ملی کہ جس نے مجھے مخا طب کیا ہے ، وہ رب ہے ۔ رب نے مجھے پیدا کیا اور میں اس کا بندہ اور محتا ج ہوں ۔ احسا س ہو نے پر مخلوق "میں ہوں" کی نفی کر تے ہو ئے خا لق کا ئنا ت کے حضور سجد ہ ریز ہو گئی ۔

          کس نے آواز دی — علم الیقین ہے ۔

          آوز کی جا نب دیکھنا— عین الیقین ہے ۔

          ہستی کو محسو س کر نا — اپنی نفی ہے اور اپنی نفی — حق الیقین  ہے ۔

          قا لو ابلیٰ— خا لق کی ہستی کا اثبا ت ہے ۔

          خا لق کا ئنا ت کی معر فت لا شعو ر پر عمل سے ملتی ہے اور لا شعو ر کی پہلی تحریک اپنی نفی اور خا لق کا اثبا ت ہے ۔ نفی اثبا ت — کا ئنا ت کا پہلا سبق ہے ۔

• • ———————— • •

          پہچان کا تعلق حس سے ہے ۔ سما عت اپنے درجہ میں ایک احسا س ہے اور بصا ر ت، ادرا ک ، محسو س کر نا اور گویا ئی اپنے اپنے درجہ میں احسا س ہیں یعنی احسا س ایک طر ف نفی اور دسری طر ف اثبا ت ہے ۔ احسا س میں فر د خود کو محسو س کر کے دوسروں کو خو د سے الگ  دیکھتا ہے ۔ احسا س اس وقت ہو تا ہے جب دو شے ایک ہوں اور ایک ہو کے دو ہو جا ئیں۔

          مثا ل :   ماں نے بچہ کے ہا تھ پر ہا تھ رکھا ۔ ایک طر ف احسا س ہوا کہ میں الگ ہوں اور بچہ الگ ہے لیکن ہاتھ رکھنے سے بچہ کی لہریں ما ں کے اندر داخل ہو ئیں ، ما ں مغلوب ہو ئی اور بچہ کا احسا س غالب ہو گیا ۔ احسا س کی بدولت ماں نے کہا کہ یہ میرا بچہ ہے یعنی میں الگ ہوں اور بچہ الگ ہے ۔

۱۔ ما ں نے اپنی نفی کی اور بچہ کا اثبا ت کیا۔

۲۔ دونوں کی نفی کر کے دوری کا اقرار کیا۔

ہم کسی کو اس وقت دیکھتے ہیں جب خو دکو نہیں دیکھتے اور جب خود کو دیکھتے ہیں تو دوسرا مو جو د ہو کر بھی نظر نہیں آتا ۔ قانون ہے کہ جس کو ہم نے دیکھا، اس کا عکس منتقل  ہوا— ہمارا احسا س مغلو ب اور اس کا غالب ہو گیا۔ پلک جھپکی اور احسا س میں دوری پیدا ہو ئی تو ہم نے کہا یہ پھول ہے اور میں آدم ہوں ۔ احسا س میں ایک مرحلہ ضم ہو نا ہے اس لئے احسا س کی دنیا میں پھول اور آدم ایک ہیں۔

          پا نی کا ذائقہ پا نی پی کر بتا یا جا تا ہے ۔ پا نی — ذائقہ اور پا نی پینے والا احسا س کی دنیا میں ایک ہیں  اس لئے سب نے ایک دوسرے کو قبو ل کیا اور فر د کی پیا س بجھی ۔

          احسا س کا تعلق دوئی سے ہے ۔ شے کو اس وقت محسوس کیا جا تا ہے  جب وہ ہم سے الگ ہو ۔ الگ نہ ہو تو دوری زیر بحث نہیں آتی ۔ ایک فرد عطر بیز ما حو ل میں بیٹھا ہے ، عطر لگا تے وقت اس نے خوش بو محسو س کی ، کچھ دیر عطر کا احسا س مغلو ب ہو گیا ۔ وجہ یہ ہے کہ عطر کی مہک وجو د میں سرا یت کر تی ہے تو فر د اور مہک میں مشتر ک مقدا ریں ایک ہو جا تی ہیں ۔ اب خو ش بو نہیں آتی ۔ کمر ے میں دوسرا فرد داخل ہوا تا ، خوش بو کی لپٹیں شا مہ سے ٹکرا تی ہیں ، وجو د میں سرایت کر تی ہیں اور وہ خو د کو لطیف محسو س کر تا ہے ، تھو ڑی دیر بعد اسے خوش بو نہیں آتی ۔ کیا خوش بو ختم ہو گئی —؟ کمر ے میں مو جو د افرا د کو کیوں محسو س نہیں ہو رہی —؟ با ہر سے آنے والا فر د خوش بو کیوں محسو س کر تا ہے اور پھر محسو س نہیں کرتا—؟

• • ———————— • •

          علم کا پہلا درجہ لا علمی ہے ۔ لا علمی کے بغیر کو ئی علم حا صل نہیں ہوتا ۔ ہر حقیقت جس سے ہم واقف اور نا واقف ہیں ، ایک  وجو د ہے ۔ وجو د کسی کے لئے ہے اور کسی کے لئے نہیں لیکن مو جو د ہے ۔ انکا ر اور اقرار شے کی موجو دگی کے سبب زیر بحث آتے ہیں۔ نہیں ہے میں نہیں  کے بعد ہے کہنا شے کی نفی نہیں ، لا علمی کا اقرا ر ہے ۔

          نفی اور اثبا ت کے قا نو ن پر عمل کر نے سے مشاہد ہ کی راہ ہموا ر ہو تی ہے ۔

          صوفی خواتین و حضرا ت لا علمی کی معر فت کو "علم لا " اور علم کی معرفت کو "علم اّلا" کہتے ہیں ۔ لا کے معنی "نہیں " اور اّلا کے معنی ہیں "مگر ہے" ۔ اّلا میں ہر شے کی نفی کے ساتھ حقیقت کا اثبا ت ہے ۔ ابدا ل ِ حق حضور قلندر با با اولیا ء ؒ فر ما تے ہیں ،

"جب کو ئی طا لب ِ روحا نیت لا شعو ر یعنی "لا " سے متعا ر ف ہو نا چا ہتا ہے تو اسے خا رجی دنیا کے تما م توہما ت ، تصورات اور خیا لا ت کو بھو ل جا نا پڑتا ہے ۔ اس کو اپنی ذا ت یعنی اپنے ذہن کی داخلی گہرا ئیوں میں فکر کر نی چا ہئے ۔ فکر ایک ایسی حر کت  ہے جس کو ہم کسی فکر کی شکل اور صور ت میں محدود نہیں کر سکتے ۔ ہم اس فکر کو "فکرِ لا " کہتے ہیں ۔ یعنی ہما ر ے ذہن میں تھو ڑی دیر کے لئے یا زیا دہ دیر کے لئے ایسی حا لت وارد ہو جا ئے جس میں ہر زاویہ لا علمی کا ہو ۔ اس فکر ِ لا کو ہم عمل استر خا * کے ذریعے حا صل کر سکتے ہیں ۔ عمل استر خا کے تواتر سے ذہن کے اندرونی دا ئرے ہر فکر سے خا لی ہو جا تے ہیں ، گویا اس وقت ذہن فکر ِ لا میں مستغر ق ہو جاتا ہے اور اس استغرا ق میں لا شعو ر کا شعو ر حا صل ہو جا تا ہے ۔"

          روحا نیت میں فکر کے معنی کھو ج ہیں ۔ ذہن کثر ت کے پس پر دہ وحدت میں مر کوز ہو جا ئے تو فکر ِ لا حاصل ہو تی ہے۔

• • ———————— • •

جب تک بند ہ اپنے علا وہ دوسرے شے نہیں دیکھتا —وہ خو د کو بھی نہیں دیکھتا ۔ اپنی پہچا ن اپنے علا وہ کسی کو دیکھنے سے حا صل ہو تی ہے ۔ اس کی مثا ل آئینہ ہے ۔ آئینہ نہ ہو تو فر د خو د کو نہیں دیکھ سکتا۔ آئینہ میں خو د کو دیکھ کر اسے اپنی مو جودگی کا یقین ہو تا ہے ۔

          ایک (1) کے عکس کو الگ شنا خت کے لئے ہم دو (1+1) کا نا م دیتے ہیں ۔جب کہ ایک کے بعد جتنے ایک بڑھا ئے جا ئیں — سب ایک ہیں —دو ، تین ، چا ر اور پا نچ  شنا خت کو قا ئم رکھنے کے لئے ہیں ۔ ایک کو ایک اس لئے کہا جا تا ہے کہ اس کے بعد دو، تین ، چا ر اور پا نچ ہیں ۔ پہچا ن کے لئے دوسرے کی موجودگی ضروری ہے۔

          آئینہ جن ذرّات سے بنا ہے ، ہر فر د میں وہ ذرّات مو جو د ہیں ۔ فر ق مقدا روں میں کمی بیشی کا ہے ۔ آئینہ فر د سے الگ ہے لیکن آئینہ میں فر د کی مقدا ریں مو جو د ہیں یہی وجہ ہے کہ جو مخلوق آئینہ کے سامنے جا تی ہے ، آئینہ عکس قبو ل کر کے دکھا دیتا ہے۔

• • ———————— • •

          شعو ر کا پہلا قد م سما عت کا حر کت میں آنا ہے ۔ یہ قد م لہروں کو آوا ز میں منتقل کر کے سما عت تک پہنچا تا ہے ۔ خیا لا ت لہروں اور لہریں دا ئرہ کی شکل میں کا ئنا ت میں پھیلی ہو ئی ہیں۔ ذہن کی فریکو ئنسی لہروں کے قر یب ہو تی ہے تو لہریں شعو ر کی سکت کے مطا بق آواز بنتی ہیں ۔ ذہن آواز کی فریکوئنسی سے ہم آہنگ ہو جا ئے تو آواز —مشا ہد ہ بن جا تی ہے ۔ حر کت کے لئے ضروری ہے کہ حر کت دائرہ میں ہو ۔ دا ئر ہ — سمتوں کی نفی کر کے اس سمت کا اثبا ت کر تا ہے جس میں اول اور آخر ، ظا ہر اور با طن ایک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سمتوں کی نفی کو "احد" فر ما یا ہے ۔

"کہو اللہ احدہے ۔ وہ بے نیا ز ہے ۔ اس کی اولا د نہیں نہ وہ کسی کی اولا د ہے اور اس کا کو ئی خا ندا ن نہیں ۔" (الا خلا ص:۱-۴)

نفی اور اثبا ت کی تفہیم پڑھئے ۔

۱۔   احد کے معنی اول ، آخر ، ظا ہر اور با طن ایک ہو نا ہے ۔

۲۔ صفتِ صمد سے مرا د بے نیا زی ہے ۔ بے نیا زی میں ڈائی مینشن سے ماورا ہو نے کا اعا دہ ہے ۔

۳۔ نسل کی افزائش کے لئے دورخ ضروری ہیں  جب کہ خا لق کا ئنا ت اللہ تعالیٰ کی ذات با بر کا ت — رخوں (ڈا ئی مینشن ) سے آزاد ہے ۔

• • ———————— • •

تخلیق کا ئنا ت کے بعد حواس کی منتقلی میں فر د کو پہلی معرفت لا علمی کی حا صل ہو ئی ۔

"الست بر بکم" کی آواز پر اپنے کا احسا س ہوا لیکن یہ احسا س لا علمی کے درجہ میں تھا ۔ خبر نہ ہو کہ میں کون ہوں تو ہو نا نہ ہو نا برا بر ہے ۔ خا لق کی آواز سما عت بنی ، نگا ہ نے ہستی کا مشا ہد ہ کیا اور مخلوق نے اعترا ف کیا کہ میں نہیں ہوں— مگر اللہ ہے ۔

الاالہٰ الا اللہ محمدرسو ل اللہ

"کو ئی نہیں ہے — مگر اللہ ۔ حضر ت محمدؐ اللہ کے رسو ل ہیں ۔"

          سالک کے اندر جب تک "میں " کا علم غالب ہے ، وہ آسما نی علو م نہیں سیکھ سکتا ۔

          ہم کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو پہلے فکشن حوا س کی نفی کر تے ہیں پھر حقیقت کا اقرار ہو تا ہے ۔

          خا تم النبیین حضر ت محمد ؐ کی بعثت کے زما نہ میں لوگ بتوں کو خدا ما نتے تھے ۔ لا الہ ٰ کا عمو می مفہو م یہ ہے کہ بت معبود نہیں مگر اللہ معبود ہے  ۔ا ولی البا ب ہستیاں لا الہٰ کی تشریح بیا ن کر تی ہیں کہ شعو ری علو م میں اللہ کے جا ننے کی جو طرز ہے ہم اس کی نفی کر تے ہیں اور اللہ کو اس طر ح اللہ تسلیم کر تے ہیں جس طر ح اللہ خو د کو اللہ کہتا ہے ۔ محمد رسو ل اللہ — اللہ کے پیغا مبر ہیں ۔ حضر ت محمد ؐ نے اللہ کو جس طر ح جا نا اور جس طرح بتا یا ہم اسی طرح اللہ کو تسلیم کر تے ہیں ۔ نتیجہ یہ مرتب ہوا کہ پہلے ہم نے اپنے علم کی نفی کی پھر علم کا اثبا ت کیا ۔ علم کی نفی کی تو اپنی نفی کی اور جب اپنی نفی کی تو اللہ کے سوا کچھ با قی نہ رہا ۔ اللہ اپنے محبو ب ؐ سے فرما تا ہے،

"کہو اللہ احدہے ۔ وہ بے نیا ز ہے ۔ اس کی اولا د نہیں نہ وہ کسی کی اولا د ہے اور اس کا کو ئی خا ندا ن نہیں ۔ (الاخلا ص: ۱ – ۴)

اللہ حا فظ

خوا جہ شمس الدین عظیمی

جون – 2019

-----------------------------------------------------------
*استرخا (تا ریکی میں پلک جھپکا ئے بغیر ذہن کا ایک نقطہ پر مر کوز ہو نا )

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔