Topics

زندگی ۔امتحان۔ماہنامہ قلندر شعور۔فروری 2021


زندگی ہر لمحہ امتحان ہےجس سے گزرے بغیر فرد اگلے مرحلے میں داخل نہیں ہوتا۔

بچہ جوان ہوتا ہے اور جوان بوڑھا ہوجاتا ہے۔ عمر کے مراحل طے کرنے کے ساتھ ناموافق حالات قبول کرنے کی سکت پیدا نہ ہو تو بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھا ہونے کے باوجود فردمکتبِ زیست کی پہلی کلاس میں ہے ۔بڑے مسائل ایک طرف۔معمولی مسئلہ حل نہیں ہوتا، ذہنی تنگی میں مبتلا ہو کر وہ تنگ نظری کے جال مین دیکھتا ہے۔

لوگ شکایت کرتے ہیں کہ فلاں نے ہماری بے عزتی کی۔ پوچھا جائے کہ ایسا کیا کہہ دیا تو بتاتے ہیں ، ہمیں بے وقوف کہا۔ ان سے پوچھیں ، کیا آپ بے وقوف ہیں؟ وہ فوراً سر ہلاتے ہیں۔نہیں! جب بے دقوف نہیں ہیں پھر بےوقوف کہنے پر پریشان کیوں ہیں؟

اصل یہ ہے کہ آدمی کے اندر مزاج کے خلاف بات سننے کا حوصلہ نہیں۔

عمر کے لحاظ سے فکری نشوونما نہ ہوتو فرد کے اندر معاملات سلجھانے کی اہلیت مغلوب ہوتی ہے اور زندگی نسل در نسل منتقل ہونے والے رجحانات میں محدود ہو جاتی ہے۔ ہر چیز کو نفع و نقصان اور مسائل کو مالی وسائل کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ کہتا ہے اگر میرے پاس دولت ہوتی تو لوگ مجھ سے بد تمیزی نہ کرتے، بیٹی اپنے گھر میں خوش رہتی، بیٹا نوکری کےلیے مارا مارا نہ پھرتا، گھر میں اتفاق ہوتا، بچے اچھے اسکول میں پڑھتے ، ہمارابڑا گھر اور گھر سے ملحق باغ ہوتا جہاں میں صبح چہل قدمی کرتا اور شام کو چائے کی میز سجتی ، ہر مشکل دور  ہو جاتی  اور ہن ہنسی خوشی رہتے۔اگر دولت پاس ہوتی!

یہ ہوتا  اور وہ ہوتا کی گردان میں ظاہرو باطن کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے آدمی بالآخر رخصت ہو جاتاہے۔ جن وسائل کا تعلق پیسوں سے جوڑا ۔ کیا بغِر پیسوں ک ےمیسر نہیں تھے؟

صبح قریب موجود پارک میں چہل قدمی کرتا، گھر میں اہل خانہ کے ساتھ ہنسی خوشی رہتا، باغ کی کمی محسوس نہ ہوتی۔ بیٹا معیار کے بجائے صرف نوکری کو اہمیت دیتا، کام میں برکت ہوجاتی۔بچے بڑَ اسکول میں نہ پڑھ سکے تو کیا ہوا۔؟ان کی اچھی تربیت کرنا، سوچنا سمجھنا ، لکھنا اور بات کرنا سکھاتا، کتابیں پڑھ کر سنا تا، خاتم النبین رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق زندگی گزارتا۔بچے دوسرے بچوں سے ممتاز ہو جاتے۔ تربیت پیسوں کی ریل پیل اور بڑے اسکول کی پابند نہیں۔ کم پیسوں میں بھی اچھی زندگی بسر ہوتی ہے اور پریشانی ایک مٹھی مٹی میںچھپ جاتی ہے۔

غریب  کی بیٹی سسرال میںمطمئن نہیں تو لاکھوں کا جہیز لے جانے والی امیر کی بیٹی بھی نا خوش ہے ۔ شکایت عام ہے کہ بیٹا کاروبار میں ہاتھ نہیں بٹاتا لیکن شادی کے بعد جائیداد میں حصے کی فکر ہوجاتی ہے۔ صاحبِ جائیداد بھی مالی و سماجی معاملات کی وجہ سے پریشان ہیں۔ یہ ہر طبقے کے مسائل ہیں، ان کا تعلق دولت سے نہین، رویوں سے ہے۔

منظر کشی پڑھ کر خواتین و حضرات کا ذہن ان کی طرف جائے گا جن کے رویے سے شکایت ہے۔ یہی کام یاب نہ ہونے اور فکری نا پختگی کی وجہ ہے۔ آدمی اندر میں نہیں دیکھتا لہذابرداشت پیدا نہیں ہوتی ورنہ معلوم ہو کہ فرد ایک لیکن حیثیت ہرجگہ مختلف ہے۔بیٹا ، بھائی، باپ، شوہر اور داماد مرد کے کردار ہیں۔ عورت بیک وقت بیٹی ، بہن ، ماں، بیوی اور بہو کا کردار نبھارہی ہے۔ ہرفرد اندر میں وحدت اور باہر کثرت ہے۔ اندر دیکھنے سے اپنا رویہ واضح ہوتا ہے، باہر دیکھنے سے کرداروں کی کثرت محاسبے سے دور کردیتی ہے۔

امتحان ذہنی صلاحیت کا ہوتا ہے۔اسکول و کالج اور یونیورسٹی میں سالانہ کارکردگی امتحان کےتین گھنٹوں میں جانچنا اس فہم کا خلاصہ ہے جس کےلئے 364روز وقف کئےگئے۔رائج نظام میں تین گھنٹے سکت کے اعتبار سے 364روز کے برابر سمجھے جاتے ہیں۔نتیجہ معیار کے مطابق نہ ہو تو طالبِ علم مزید یاک سال پہلی جماعت دہراتا ہے۔ جب تک 364روز کے فہم کو تین گھنٹَ کے سوالنامے میں پیش نہ کردے ، ترقی نہیں ہوتی۔

امتحان کی نوعیت ہرجگہ مختلف لیکن طریق کار ایک ہے۔ زندگی برداشت کا متحان لیتی ہے۔ اور روحانیت سکت فراہم کرتی ہے۔استاد سے ذہنی ارتباط سے شاگرد کی سکت بڑھتی ہے۔ذہن ایک نہ ہوتو شاگرد میںشک اقی رہتا ہے۔روحانی علوم کے تانے بانےیکسوئی سے ملتے ہیں یعنی زندگی کا پہلا سبق یکسوئی ہے۔ یکسوئی سے علم شے کا عرفان ہوتا ہے۔

"یہ کتاب جس میں شک نہیں۔ ہدایت دیتی ہے متقیوں کو جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، صلوٰۃ (نماز) قائم کرتے ہِن اور جو رزق ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔"(البقرہ:۲-۳)

رزق میں جسمانی نشوونما کے ساتھ علم کے وسائل شامل ہیں۔ جسم کو نشوونما کے لئے غذا درکا ر ہے تو روح بھی وصل کی لہریں جذب کرنا چاہتی ہےاللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرنے کا ایک مفہوم "علم شے کا حصول اور شے میں تصرف " ہے ۔ یہ علم اسے حاصل ہوتا ہے جس کی طرزگکر میں شک نہ ہو۔ علم شے سے فہم وفراست بیدار ہو تی ہے، سکت بڑھتی ہے اور محدود طرزفکر کا پردہ اٹھتا ہے جو کائنات کو دیکھنے کی راہ میں حائل ہے۔ فرد سمجھتا ہےمیں کائنات کو دیکھتا ہوں جب کہ وہ اپنے دیکھنے کو دیکھ رہا ہے۔

محدود نگاہ کی عینک ہر شے میں تغیر دیکھتی ہے جب کہ یقین کی دنیا انکشاف کرتی ہے کہ علمِ شے میں تغیر و تعطل نہیں۔ تغیر سے مراد شے کا بدلنا نہیں، ایک ہی شکل و صورت کا روپ بہروپ میں باربار سامنے آنا ہے۔ آدمی 10سال بعد کسی کو دیکھتا ہے تو تعارف پر یادادشت کا خانہ کھلتا ہے لیکن 10سال کہاں گئے، اس سے لا علم ہے۔

قانون یہ ہے کہ ہر شے گھٹ رہی ہے، بڑھ رہی ہے، بڑھنے والی شے غائب ہورہی ہے مگر فرد کو نہیں پتہ میں گھٹ بڑھ رہا ہوں۔ وہ تغیر سے گزر رہا ہے اور ذہنی صلاحیت دیکھئے کہ اس میں تغیر کا میکانزم دیکھنے کی سکت نہیں۔ دس سال کی عمر تغیر کا نتیجہ ہے جب کہ تغیر کا مشاہدہ یہ ہے کہ وہ کس طرح گھٹنے بڑھنے کے میکانزم سے گزر کر دس سال کا ہوا۔

گھٹنا بڑھنا غیر ارادی ہے اس لئے شعور میں رہتے ہوئے فرد گھٹنے بڑھنے کے میکانزم سے واقف نہیں ہوتا۔ پیدا ہو کر دس سال بڑھا ہے تو لازم ہے کہ اس دوران دس سال گھٹ کر اس مقام پر واپس گئے ہیں ، جہاں سے وہ آرہا ہے۔ پرورش میں گھٹنے بڑھنے یا غیب ظاہر کے میکانزم پر توجہ نہیں دی جاتی اس لئے روحانی نشوونما اور جسمانی بالیدگی کے درمیان خلا پیدا ہوجاتا ہے۔ ظاہر ی شعور کے مقابلے میں باطنی شعور کی فہم وہ نہیں ہوتی جو دس سال کی عمرمیں ہونی چاہئے۔ جسم کے ساتھ ساتھ باطن کی نشوونما پر توجہ دی جائے تو فرد شعوری منازل طے کرتے ہوئے لا شعوری نظام کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔

قارئین !آپ نے کام یاب اور ناکام زندگی کا فارمولہ پڑھا۔ تحریر دوبارہ پڑھ کر قفل کھولنے کےلئے کم ازکم پانچ چابیاں استعمال کیجئے۔

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔