Topics

حقیقتِ حیات و ممات -ماہنامہ قلندر شعور نومبر 2020

انسان پر زمانے میں ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب زمانیت اور مکانیت مغلوب تھی۔ انسان موجود تھا لیکن قابلِ تزکرہ نہیں تھا۔فر د کا تزکرہ نقش و نگار اور نقش و نگار میں حرکت سے ہوتا ہےجس کو گھٹنا بڑھنا کہتے ہیں۔۔گھٹنے بڑھنے سے زندگی مظہر بنتی ہے۔گھٹنے سے نقش و نگار سمٹتے ہیں اور بڑھنے سے پھیل جاتے ہیں لیکن یہ گھٹنا بڑھنا مخفی ہے۔سمٹنے کا عمل موت اور بڑھنے کا عمل زندگی ہےاور دونوں ایک ہیں۔رب العزت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

                             "اور موت سے زندگی نکالتا ہے اور زندگی سے موت کو۔"             (آلِ عمران : ۲۷)

زندگی مقداروں پر قائم ہے اور مقداریں مقرر ہیں ۔ روشن ضمیر خواتین و حضرات کا دیکھنا ہے کہ جب حرکت کی مقدار اپنی تونائی پوری کر لیتی ہےتو لوٹ کر مزید توانائی کے لئے اس مقام سے رجوع کرتی ہےجہاں سے توانائی آ رہی ہے۔ غور طلب ہے کہ حرکت بظاہر ایک مقام پر بے حرکت ہوئی تو دوسرے مقام پر متحرک ہو گئی۔اس طرح حیات و ممات * کا عمل جاری ہے یہاں تک کہ گھٹنے بڑھنے کی مقداریں پوری ہو جاتی ہیں۔

*حیات و ممات (زندگی اور موت)

                                                          **-------------------------**

موت سے زندگی اور زندگی سے موت کے قانون کو سمجھنے کے لئے مشق کیجئے ۔

مشق کے لئے گھڑی پاس رکھئے۔

۰            پہلا مرحلہ:              جس کمرے میں آپ بیٹھے ہیں ،وہاں کی لائٹ بند کر دیجئے ۔لائٹ بند کرنے سے اندھیرا ہو گیا۔ بتائیے جو روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی وہ کہاں چلی گئی۔۔؟

کیا اس کا وجود ختم ہو گیا یا وہ خلا میں تحلیل ہو گئی۔۔؟دونوں جواب درست نہیں ۔لائٹ بند کرنے سے روشنی بلب سے وابسطہ تاروں میں واپس چلی گئی جہاں بجلی ذخیرہ ہے۔۔اور تار گرڈ اسٹیشن سے منسلک ہیں۔

۰            درسرا مرحلہ:          لائٹ کھول دیجئے تا کہ کمرا روشن ہو ۔پانچ سیکنڈ روشن بلب دیکھئے اور دس سیکنڈ بلب سے روشن کمرے کا جائزہ لیجئے۔جو محسوس ہو، کاغذ پر لکھ لیجئے۔

کمرے میں پھیلی ہوئی روشنی بکھر کر بھی بلب سے الگ نہیں ، وہ مستقل بلب میں موجود بجلی کی تاروں سے منسلک ہے۔ جس لمحے روشنی کا بجلی سے رابطہ منقطع ہوتا ہے، بٹن بند کئے بغیر کمرے میں اندھیرا ہو جاتا ہے۔

۰            تیسرا مرحلہ:            ایک مرتبہ پھر اندازہ  کیجئے ۔اس بار کمرے کو موم بتی سے روشن کیجئے ۔پلک جھپکائے بغیر ایک منٹ موم بتی کی لو دیکھئے۔مقررہ وقت سے پہلے پلک جھپکے گی تو عمل از سرِ نو کیجئے۔نظر ایک نقطے پر قائم ہو جائے تو آپ لو کے بیک وقت تیزی سے جلنے بجھنے یا پھیلنے اور سمٹنے کا عمل دیکھیں گے۔ روشن رہنے کے لئے لو کا سمٹنا ضروری ہے کیوں کہ جب لو سمٹتی ہے تو ماخذ (source) سے رجوع کرتی ہے۔تجربے سے جو مشاہدہ ہو اور مشاہدے سے جو بات فہم میں داخل ہو ۔ معنی پہنائے بغیر  فورأٔ  کاغذ پر لکھ لیجئے۔

یہ زندگی کا موت میں داخل ہونا اور موت کا زندگی بننا ہے۔تجربہ بلب کو مرکز بنا کر بھی ہو سکتا ہے لیکن بلب کے بیرونی گلاس یا پروٹیکٹر کی وجہ سے عام آدمی کے لئے مشاہدہ مشکل ہے کیو ں کہ اسے Illusion سے آزاد ہونا ضروری ہے۔

***---------------------------***

زندگی دو رخ کی پابند ہےاور دو رخ کی ابتدا استقرارِ حمل سے ہوتی ہے۔استقرارِ حمل میں نقش و نگار نہیں ہوتے۔جیسے جیسے رحمِ مادر میں اسپرم کی نشو و نما ہوتی ہے۔۔نقش و نگار بنتے رہتے ہیں  مفہوم یہ ہے کہ نقش و نگار کہیں سے آتے ہیں، اور آنے کا عمل زمانیت ہےاور نقش و نگار کا مظاہرہ مکانیت ہے۔

پیدائش کے بعد دوسری حقیقت موت ہے۔موت کے بعد نقش و نگار موجود رہتے ہیں مگر خود پر سے مٹی کا پرت (لباس) اتار کر اعراف کی دنیا کے پرت میں ظاہر ہو جاتے ہیں۔اس طرح مٹی ، مٹی میں مل جاتی ہےمگر نقش و نگار باقی رہتے ہیں اور زندگی اس عمل میں بے حرکت ہو کر دوسرے عالم میں متحرک ہو جاتی ہے۔

زندگی اور نقش و نگار الگ الگ ہیں۔ اسپرم میں نقوش نقطے میں بند ہیں۔ ہر اسپرم سے بچہ نہیں بنتا۔ صرف وہی اسپرم نشو و نما کے مرحلے سے گزرتا ہے جس میں حرکت یا زندگی داخل ہوتی ہے۔حرکت نظر نہیں آتی۔زندگی بھی نظر نہیں آتی۔ہم جو کچھ دیکھتے ہیں، وہ ان دونوں کا مظاہرہ ہے۔ مظاہرہ حقیقت نہیں لیکن حقیقت سے الگ بھی نہیں۔

جس طرح جذبات کا اظہار الفاظ اور تاثرات کے ذریعے ہوتا ہےاسی طرح زندگی کا مظاہرہ نقش و نگار نہیں حرکت سے ہے۔آپ الفاظ کو جذبات نہیں کہہ سکتے۔ جذبات اور ہیں ۔۔۔الفاظ جذبات کا اظہار ہیں۔

مثال:      سر میں درد ہے۔درد بڑھتا ہے تو کہتے ہیں کہ سر میں شدید درد ہے۔ درد اور بڑھتا ہے تو اظہار کے لئے لفظ "شدید" کمزور محسوس ہوتا ہے۔ نتیجے میں ہم کہتے ہیں کہ  درد نا قا بلِ برداشت ہے۔درد میں مذید اضافہ ہونے پر لگتا ہے کہ"نا قابلِ برداشت" کے الفاظ بھی درد میں شدت کی وضاحت سے قاصر ہیں۔

نقش و نگار کی تخلیق ، ان کا قائم رکھنے اور ان میں حرکت پیدا کرنے والی ہستی آنکھوں سے نظر نہیں آتی مگر اس نظر نہ آنے ہستی پر زندگی قائم ہے۔

"آج کی بات " میں رموز ہیں ۔آپ کیا سمجھے۔۔۔؟

*****----------*****

خلاصہ:     جب کچھ نہیں تھا تو اللہ تھا ۔اللہ نے چاہا میں پہچانا جاؤں ۔پہچان کے لئے کائنات کی تخلیق کا ارادہ کیا اور کائنات بن گئی۔جب تک مخلوقات  غیب میں تھیں، نا قابلِ تذکرہ تھیں ۔اللہ نے ان کو ظاہر کر کے انفرادیت عطا کیاور انفرادیت سے زمانی و مکانی طرزیں وجود میں آ گئیں  یعنی مخلوق سننے، دیکھنے، محسوس کرنے اور بولنے لگیں۔

              سننا ، دیکھنا ، محسوس کرنا اور بولنا مکانیت ہے۔

              مکانیت میں حرکت منتقل ہونا زمانیت ہے۔

علمِ حصولی کے مطابق "آدمی خون کی گردش اور سانس کی آمد و رفت سے زندہ ہے۔اوسط شخص کا دل فی منٹ 72 مرتبہ دھڑکتا ہے۔"

خون جتنی قوت سے پمپ ہوتا ہے ، گردش تیز ہوتی ہے۔دھڑکن کے تناسب سے خوش پورے جسم میں فی منٹ 72 چکر مکمل کرتا ہے۔اس میں بال بھی شامل ہیں۔ یعنی خون زندہ رہنے کے لئے 72 مرتبہ دل سے رجوع (موت) کرتا ہےاور از سرِ نو توانائی لے کر دوبارہ گردش (زندگی) میں آتا ہے۔اس طرح خون پر ہر لمحہ موت وارد ہونے سے زندگی جاری رہتی ہے۔یہ کیفیت سانس کی ہے۔سانس اندر لینے کے بعد باہر نہ آئے تو موت سے زندگی اور زندگی سے موت کا سفر رک جاتا ہےیعنی مخلوق ہر لمحہ موت سے گزر کر زندہ ہوتی ہے۔

توانائی اندر سے ملتی ہے۔ توانائی کا مخزن ایسی ہستی ہے جو زندگی کی ضامن  اور رگِ جان سے زیادہ قریب ہے۔رگِ جان سے زیادہ قریب ہستی سے واقف ہونے کا وہ لمحہ ہے جب زندگی موت میں داخل ہوتی ہے اور موت زندگی بن جاتی ہے۔

                                                                        ****-----------------****

ایک دن کا بچہ جب عالمِ ارواح سے آتا ہے اور یہ ایک دن غیب ہو جاتا ہے تو دوسرا دن پیدا ہوتا ہے۔ پیدائش اور موت تغیر ہیں۔مرنے کا مطلب ایک ذون سے دوسرے ذون میں منتقل ہونا ہے۔موت ۔۔۔انتقالِ مکان ہے۔

              "اور تم کیا سمجھے کہ سجین کیا ہے۔ کتاب ہے لکھی ہوئی۔"              (المطففین ۔9-8)

"اور تم کیا سمجھے کی علین کیا ہے۔کتاب ہے لکھی ہوئی جسے مقربین دیکھتے ہیں۔"              (المطففین۔21-19)

              علین آرام و استراحت ، مسرت و شادمانی ، سکون اور دل کا دیکھنا ہے۔

              سجین اضطراب و تکلیف، حسرت و رسوائی ،  بے سکونی  اور فریبِ نظر ہے۔

              جو کچھ علین اور سجین کی کتاب میں ہے، اللہ کے دوست اس ریکارڈ کو دیکھتے ہیں ۔

زمانے کے دو رخ متعین ہیں ۔ایک دن غیب ہے، دوسرا دن ظاہر ہے۔۔۔لیکن ظاہر بھی غیب ہےکہ وہ غیب سے ظاہر ہوتا ہے اور غیب میں چھپ جاتا ہے۔اس لئے پہلے دن غیب ہونا ، دوسرے دن ظاہر ہونے کی بیلٹ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔۔

              "اور موت سے زندگی نکالتا ہے اور زندگی سے موت کو" (آلِ عمران۔ 27)

تفکر کرنے پر یہ مرحلہ سامنے آتا ہے کہ زندگی موت سے اور موت زندگی سے نکلتی ہے۔اس راز کا مشاہدہ ان خواتین و حضرات کو ہوتا ہے جو تفکر میں یکسو ہو جاتے ہیں۔

قارئین! "آج کی بات " سمجھنے کے لئے بزرگوں، اسا تذہ کرام اور ہم خیال دوستوں سے مشورہ کیجئے۔

                                                                                                                                            اللہ حافظ

                                                                                                                                خواجہ شمس الدین عظیمی

 

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔