Topics

آدمی جو سنتا ہے ، وہ دیکھتا ہے ۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔دسمبر 2021


آج کی بات


آدمی  جو سنتا ہے ، وہ دیکھتا ہے لیکن سن کر دیکھنے کی کو شش نہیں کر تا کہ کیا دیکھ رہا ہے ، فہم سنی سنا ئی باتوں سے زیا دہ نہیں جب کہ قلبی مشا ہد ہ پردے میں ہے ۔ حضر ت آدم ؑ سے اب تک شما ریا ت سے زیا دہ آدمی زمین پر آئے اور چلے گئے ۔ کہا ں سے آئے ، کسی نے نہیں دیکھا ۔ کہا ں چلے گئے ، کو ئی نہیں جا نتا البتہ جنہوں نے زما ن و مکا ں سے واقف ہو نے کی کو شش کی اور اصل کو تلا ش کیا ، وہ جا نتے ہیں ۔

"اور جو لوگ میرے لیے جد وجہد کر تے ہیں ، میں ان کے لیے اپنے راستے کھول دیتا ہوں۔"(النکبوت: ۶۹)

قانون :۔             آدمی پہلے سنتا ہے ، آواز کی لہروں سے دما غ کی اسکرین پر ہلکا خاکہ بنتا ہے اور شعو رکو لہروں میں مخفی مفہوم کا ادراک ہوتا ہے جس کو خیا ل کہتے ہیں ۔ خیال قبول کرنے سے خاکہ گہرا ہوتا ہے اور فہم تصویر کا احا طہ کرلیتی ہے ۔ وہ تصویر جو لا شعو ر سے آئی ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب آواز کی لہریں دما غ کی اسکرین پر منعکس ہو تی ہے تو تصویر بن جا تی ہے لیکن شعو رکومبہم خا کے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا البتہ مفہو م ذہن میں دا خل ہو جا تاہے ۔ فرق یہ ہے کہ وہ ما حو ل سے ملنے والی طر زیں خیال میں شا مل کر تا ہے اور ذہن  illusion میں چھپ جا تا ہے ۔ عرض یہ کرنا ہے ۔۔۔۔ ہر شخص سنتا ہے پھر دیکھتا ہے ۔ کو ئی فکشن ذہن کے سننے کو دیکھ رہا ہے اور اندر میں حواس کا مشا ہد ہ کر تا ہے ۔

عالمین کا وجود وہم و خیا ل کی بیلٹ پر قا ئم ہے ۔ ہر خیال میں معنی ہیں ۔ ہر معنی دو وجود یا دو رخ پر قا ئم ہے ۔ مثال یہ ہے ۔۔۔ گرم ٹھنڈا ، کٹھا میٹھا ، فرحت بخش نا گوار ،خو شی غم ، وجود عدم وجود ، پیدا ئش انتقا ل ۔ انتقا ل سے مرا د منتقلی ہے ۔ ایک دن کا بچہ اور ساٹھ سال کا بوڑھا آدمی انتقا ل مکا ن سے زما ں میں منتقل ہو تا ہے اور زما ں سے با ہر آتا ہے تو انتقا ل کے بعد دوبا رہ زماں میں چلا جاتا ہے

 **----------------------------**

محترم قا رئین اور سا ئنس دان خواتین و حضرات ! اس با ت سے ہم واقف ہیں کہ بنیا دی طو ر پر علم دو طر ح دما غ کے اندر پرنٹ ہے ۔ علم حضور ی اور علم حصولی ۔محقق جو بھی انکشا ف کر تاہے ، وہ ان دائروں میں مو جو د ہے ۔ علم حضور ی یہ ہے کہ ہم کہا ں سے آئے ہیں ، کہا ں چلے جا تے ہیں ، کیوں جا تے ہیں اور اس دنیا میں قیا م مستقل کیوں نہیں ہے ۔ دوسرا دائرہ یہ ہے کہ جب بچہ ہا ت کر تا ہے تو با ت کی اصل صورت'حروف ، الفا ظ اور مفہو م کا دہرا نا ہے ' ۔ اصطلا ح میں اس کو علم حصو لی کہا جا تا ہے ۔ وہ علم جو تکرار پر مبنی ہو ۔ تکرا ر کس ایکویشن کے تحت ہو تی ہے ، یہ جاننا علم حضو ری ہے ۔

بچے کا ذہن والدین اور ما حول کی طر ز فکر سے بنتا ہے ۔ ہر دور میں اور فی زما نہ ایسی فکر کا غلبہ ہے کہ ایک نسل کی با ت کو دوسری نسل کی با ت کو تیسری نسل نے سن کر دہرا یا ہے مگر دیکھنے کی کو شش نہیں کی کہ کیا دہرارہے ہیں۔

مثال :۔           ما ں نے کہا یہ انا ر ہے ، بچے نے سوچے سمجھے بغیر تسلیم کرلیا کہ یہ انا ر ہے ۔ ما ں کو ظا ہر ی خواص کے علا وہ نہیں معلو م کہ انا ر کیا ہے اس لیے بچہ نہیں جانتا کہ انا ر کیا ہے ، کیسے بنتا ہے ، کہا ں سے آتا ہے اور منہ میں رکھتے ہی انار کا دانہ پا نی میں تحلیل ہو کر کہا ں غا ئب ہو جا تا ہے ، انا ر کے دانوں کے درمیا ن دیواریں کس نے بنا ئیں ، ان دانوں میں پا نی کہا ں سے آیا ، جھلی ڈال کر پا نی کو کیسے اور کس نے جما یا ۔ جب انار کا غلا ف کھلا تو اندر میں دانوں کا درجہ حرا رت تبدیل ہو گیا۔ انا ر قدر ت کا بنا یا ہوا deep freezer  ہے ۔

**----------------------------**

آدمی سمجھتا ہے کہ وہ ایک با ر مرتا ہے جب کہ وہ کسی اور دنیا میں موت سے گزر کر اس دنیا میں زندہ ہو تا ہے ۔ عالم ناسوت میں آنے سے پہلے وہ کہیں مو جو د ہے ۔ کہاں؟ ہم نہیں جا نتے۔ بعض والدین کو بچے کی پیدا ئش سے پہلے خواب میں خوش خبری مل جا تی ہے  کہ وہ صاحب اولا د ہوں گے یا ان کے ہاں صاحب یقین بچے کی ولا دت ہو گی ۔ مطلب یہ ہے کہ جو بچہ اس دنیا میں نہیں آیا ، وہ کہیں مو جو د ہے ، خوا ب میں اس دنیا کی طر ف اشا رہ کیا گیا ہے ۔ جب بچہ وہاں سے عالم نا سو ت میں منتقل ہو تا ہے  تو منتقلی کے لیے ضر وری ہے کہ پہلے بچے کی اس عالم نا سوت میں منتقل ہو تا ہے تو منتقلی کے لیے ضروری ہے کہ پہلے بچے کی اس عالم میں مو ت واقع ہو ۔ مو ت کا مطلب مرنا نہیں ، انتقا ل مکا نی ہے ۔

مو ت کا تجر بہ کسی فر د کے لیے نیا نہیں ۔ وہ موت (انتقا ل ) سے گزر کر عالم ناسوت میں پہنچا ہے یعنی اس دنیا میں مرنے سے پہلے ، وہ اس سے پہلے کی دنیا میں مر چکا ہے اور یہاں پر ایک طر ح سے مرنے کے بعد کی دنیا دیکھ رہا ہے ۔ جب عا لم نا سوت میں مو ت واقع ہو گی تو وہ اعرا  ف میں داخل ہو گا اور وہاں کی دنیا دیکھے گا۔ اعراف کیا ہے ، اس نے نہیں دیکھا، اس نے عالم نا سوت بھی نہیں دیکھا، سنی سنا ئی با ت کو قبول کیا ہے ۔

       "اور اندھا اور آنکھ والا برا بر نہیں ۔ اور نہ ایما ن لا نے والے نیکو کا ر اور بد کا ر برا بر نہیں ۔ تم بہت کم غور کر تے ہو ۔ " (المئومن : ۵۸)

تلا ش کرنا ہے کہ فر د کہاں سے آیا ہے  جب کہ وہ کہیں سے آیا ہے ۔

**----------------------------**

کو ئی شے ایسی نہیں جس کا زمین پر مستقل قیا م ہو۔ وہ کہیں سے آتی ہے اور غا لب ہو جا تی ہے ۔ جس کو ہم دنیا ئیں کہتے ہیں ، اس کی با طنی تعر یف زمین ہے ۔ زمین پر نظر آنے والی کو ئی شے زمین کی نہیں ۔ کہیں سے آتی ہے اور اوجھل ہو جا تی ہے ۔

آئیے وہم ، خیا ل ، تصور، مظا ہر ہ ، کشش اور گریز کے فر یم میں رہ کر تلا ش کر تے ہیں کہ الوژن اور حقیقت کیا ہے ۔ گھر میں الما ری ہے ۔ فر د جا نتا ہے  کہ اس میں زیورات اور رقم وغیر ہ رکھی جا تی ہے  لیکن ساتھ ہی ذہن میں ایک لہر آتی ہے  اور غا ئب ہو جا تی ہے ۔ وہ نہیں جا نتا کہ الما ری بنتی کیسے ہے ۔ الما ری کا مظا ہر ہ علم حصولی* ہے ۔

علم حضور ی اور علم حصولی کے فریم میں رہتے ہو ئے درخواست ہے کہ تلا ش کریں ہم دنیا میں آنے سے پہلے کہیں تھے ۔ جہا ں تھے اس کے مختلف نا مظہر بنتے ہیں لیکن ہم اس مقا م سے واقف نہیں جہاں سے آتے ہیں اور سفر پورا کر کے وہاں چلے جا تےہیں ۔ زمین پر آنا اور غیب و شہو د سے گزر نا بالآخر سفر جہاں سے شروع ہوا، وہاں واپس چلے جا نا ۔

دنیا دائرہ (circle) ہے ۔ دائرے میں کو ئی آدمی کتنے ہی چکر لگا ئے ۔ دس، بیس ، پچا س ۔۔۔۔ وہ دائرے میں ظا ہر ہو تا ہے اور دائرے کا سفر دائرےمیں ختم ہو جا تاہے ۔

قرآن کریم میں ارشا د با ری تعالیٰ ہے ،

       "ہر شے اللہ کی طر ف سے ہے اور ہر شے اللہ کی طر ف لو ٹ رہی ہے ۔ "

نہا یت محتر م دانشور اور وہ قارئین تفکر جن کا شعار ہے ، مجھ فقیر کی درخواست ہے کہ "آ ج کی با ت" پڑھ کر ذہنی نقوش کو قرطاس ابیض پر لکھئے۔         

اللہ حافظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

 

*محترم دوستو! آج کی با ت میں اس بات کو کئی مر تبہ مختلف زاویوں سے بیا ن کیا جاچکا ہے ۔ ایک مثال سے پورا فارمولا ذہن میں پرنٹ ہو جاتا ہے ۔ اس کو اس طرح سمجھئے کہ ایک کتا ب ہے لکھی ہو ئی  ۔ ہم دیکھتے ہیں ، یہ بھی جا نتے ہیں کہ یہ کچھ لکھا ہوا ہے ۔ کیا لکھا ہوا ہے ، یہ اس تک رسا ئی ہو نے کے باوجود نہیں جانتے کہ کیا لکھا ہوا ہے اور اس کے آغا ز اور انتہا میں کیا رموز ہیں ۔

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔