Topics

کنوتھ

 

                رام لال نے حیرت و غصہ سے آنکھیں نکال کر کہا…………اس حرام جادی نے مجھے بہت تنگ کیا ہے۔

                کیا…………کیا ہے اس نے…………ہری رام نے ضبط سے کام لیتے ہوئے پوچھا۔

                ارے…………اس نے میرے ساتھ کیا نہیں کیا ہے…………رام لال بگڑ کر بولا…………جب سے اس نے اس سہر(شہر) میں ڈیرہ جمایا ہے۔ میرا جینا حرام کر دیا ہے۔

                آخر کچھ بتائو تو سہی…………ہری رام نے دلچسپی سے پوچھا۔

                بتاتا ہوں…………بتاتا ہوں۔ رام لال نے جواب دیا۔ پھر بینچ پر ہری رام کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر دوکان کا ایک پٹ بند کر دیا۔

                ٭×××××××××××٭

                ہری رام خاموشی سے اس کی حرکت کو دیکھتا رہا۔ معلوم ہوتا ہے کہ رام لال ساوتری سے خوفزدہ ہے…………اس کی خوفزدگی دیکھ کر ہری رام کو جستجو ہوئی۔

                رام لال اپنی دوکان کے دروازہ کا ایک پٹ بند کرنے کے بعد دوبارہ ہری رام کے قریب بیٹھ گیا۔

                ہاں تو بتائو کیا بات ہے…………ہری رام نے اس کے بیٹھتے ہی پوچھا۔

                مہان شکتی کی مالک ہے وہ…………رام لال نائی نے کہا۔

                اچھا…………ہری رام نے اس کا مذاق اڑایا۔

                رام لال نائی نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے سرگوشی سے کہا…………جب وہ اس سہر(شہر) میں آئی ہے اس نے کنوتھ کو بیکار کر دیا ہے۔

                کنوتھ…………ہری رام نے چونک کر پوچھا…………یہ کنوتھ کون ہے۔

                تم…………تم…………کنوتھ کو نہیں جانتے…………رام لال نائی نے اس طرح پوچھا جیسے کنوتھ کوئی شہرہ آفاق ہستی ہو۔ ہری رام نے جواب میں اپنا سر نفی میں ہلا دیا۔

                ہونہہ…………رام لال نائی نے اس کے چہرہ پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے کہا…………معلوم ہوتا ہے دھرم کرم کے بارے میں تمہیں کچھ معلوم نہیں۔

                اسے خاموش دیکھ کر رام لال نے بتایا…………کنوتھ…………ایک پوتر روح ہے۔

                روح ہے…………ہری رام کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

                ہاں اور اس ہی کے کارن اس سہر(شہر) میں لوگ میری پوجا کرتے تھے…………رام لال نے افسردگی سے بتایا…………میں بڑی آنند کی جندگی(زندگی) گجار(گزار) رہا تھا کہ نجانے یہ کہاں سے آ مری۔

                آخری جملہ اس نے نہایت حقارت سے کہا۔

                اس معمولی چھوکری نے…………

                ابھی ہری رام اپنی بات پوری بھی نہیں کر پایا تھا کہ رام لال نائی اس کی بات کاٹ کر بولا۔

                تم اسے معمولی چھوکری سمجھتے ہو۔ ارے وہ تو بڑی گیانی ہے۔ اس نے میری بھگتی اور کنوتھ کی شکتی کھتم(ختم) کر کے رکھ دی ہے۔ اب تو کنوتھ کشی (کسی) بھی کام کی نہیں رہی ہے۔

                پھر اس نے دانت پیس کر کہا۔

                وہ حرام جادی(حرامزادی) میرے ہر کام میں آڑے آتی ہے۔

                میں تمہاری بات سمجھا نہیں…………پنڈت ہری رام نے خالی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

                سمجھا دوں گا…………سب کچھ سمجھا دوں گا…………رام لال نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔

                خیر…………مجھے کچھ سمجھنے سمجھانے کی ضرورت نہیں…………ہری رام نے لاپروائی سے کہا…………مجھے اپنا ہیرا چاہئے۔

                مل جائے گا۔ رام لال نے اطمینان سے جواب دیا…………لیکن…………اس کی کھاتر(خاطر) تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا۔

                کیا کام کرنا ہو گا…………ہری رام نے پیشانی پر بل ڈال کر پوچھا۔

                ہاں…………اگر واقعی وہ ہیرا تمہارا ہے اور تم اسے حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہیں میرا کام کرنے کا وچن دینا ہو گا…………رام لال نے سنجیدگی سے کہا۔

                جب تک کام کے بارے میں نہیں معلوم ہو گا میں کوئی وعدہ نہیں کر سکتا…………ہری رام نے سوچ کر جواب دیا۔

                تمہیں وعدہ کرنا ہوگا…………رام لال نائی اپنے الفاظ پر زور دے کر بولا…………جب تک وچن نہیں دو گے ہیرا نہیں ملے گا۔

                یہ تمہاری دھونس ہے کیا…………پنڈت ہری رام نے بگڑ کر کہا۔

                رام…………رام…………رام لال نائی دونوں ہاتھ جوڑ کر بولا…………میں ایسا کٹھور نہیں ہوں۔ پھر اس نے بڑی خوشامد سے کہا…………دراصل جب تک ہم دوست بن کر ایک دوسرے کی مدد نہیں کرینگے اس ہیرے کا ملنا مشکل ہے۔

                جہاں تک دوستی کا تعلق ہے…………ہری رام نے جواب دیا…………ابھی تک تو تم سے دوستانہ انداز میں بات کر رہا ہوں۔

                یہ بات نہیں…………رام لال نائی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ دوست بن کر ہمیں ایک دوسرے کا دکھ بانٹنا ہے، ساتھ دینا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہیرے کی واپسی کے لئے تم مجھ سے کیا چاہتے ہو…………پنڈت ہری رام نے پریشانی سے کہا…………جب کہ وہ میرا ہے اور…………

                لیکن…………اب وہ تمہارا نہیں ہے…………رام لال نے اس کی بات کاٹی۔

                پھر کس کا ہے…………پنڈت ہری رام نے غصہ سے کہا۔

                کنوتھ کا…………رام لال نائی نے برجستہ جواب دیا اور ساتھ ہی اس کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ دوڑ گئی۔

                میں کنوتھ کو نہیں جانتا…………پنڈت ہری رام نے تیز و طرار لہجہ میں کہا…………مجھے وہ ہیرا چاہئے۔

                میں کنوتھ سے ملوا دوں گا…………رام لال نائی نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ پورے چہرے پر پھیل گئی اور وہ پنڈت کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پیار سے بولا۔ کنوتھ سے مل لو گے تو ایک کیا حجاروں……ہزاروں………… ہیرے تمہارے چرنوں میں ہونگے۔

                سچ…………پنڈت ہری رام نے شش و پنج سے پوچھا۔

                میں نے تمہیں بتایا تھا نا…………رام لال نائی نے اس ہی طرح مکاری سے کہا کہ یہ ایک پوتر روح ہے یہ جس کی ہو جاتی ہے دھن اور دھرتی اس کی ہو جاتی ہے۔

                لیکن…………یہ کس طرح ممکن ہے…………پنڈت ہری رام نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا۔

                سب کچھ ممکن ہے۔ سب کچھ…………رام لال نائی نے اطمینان سے کہا…………تم کسی بھی بات کی چنتا نہ کرو۔ بس اس بات کا وچن دو کہ میں جس طرح کہوں گا تم ویسا ہی کرو گے۔

                پنڈت ہری رام کچھ دیر سوچتا رہا…………پھر اس نے اپنا دائیاں ہاتھ مصافحہ کے لئے بڑھاتے ہوئے کہا۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔ ایسے نہیں…………رام لال نے چالاکی سے کہا۔ اپنی پوتر کتاب کی سوگند کھا کر وچن دو۔

                وہ ابھی تک پنڈت ہری رام کو مسلمان ہی سمجھ رہا تھا اور یہ ٹھیک بھی تھا کیونکہ پنڈت ہری رام نے یہاں آ کر اپنی وضع قطع بدل ڈالی تھی اور ایک پاکستانی دکھائی دیتا تھا۔

                میں گیتا کی سوگند کھا کر تمہیں وچن دیتا ہوں۔ پنڈت ہری رام نے اعتماد سے کہا۔

                رام لال نائی نے اس کی یہ بات سن کر معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔

                گیتا کی سوگند…………

                ہاں…………میں بھی تمہارا دھرم ویر ہوں…………پنڈت ہری رام نے بتایا۔ میرا نام پنڈت ہری رام ہے۔

                مجھے یہ جان کر خوسی(خوشی) ہوئی…………رام لال نائی نے خوش دلی سے کہا…………لیکن یہ پنڈت والی بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔

                میں بھی کبھی شیو بھگوان کا سیوک تھا…………پنڈت ہری رام نے افسردگی سے بتایا…………شیو بھگوان نے مجھے شکتی پرائیت کر دی تھی…………لیکن ناری کے پریم نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا۔

                نراش نہ ہو…………رام لال نائی نے تسلی دیتے ہوئے کہا…………منش کے بھاگ میں جو لکھا ہوتا ہے پورا ہوتا ہے تو پریم کے کارن شکتی کھو بیٹھا ہے…………لیکن میں تجھے ایسی شکتی پرائیت کروں گا کہ سارا جیون سکھ میں گزار دے گا۔ اتنا کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اندر سے دوکان کا دروازہ بند کر دیا۔

٭×××××××××××٭

                دوکان کا دروازہ بند کرنے کے بعد اس نے پنڈت ہری رام کو ساتھ آنے کو کہا اور آخری دیوار میں بنے ہوئے آخری دروازہ کے اندر داخل ہو گیا۔

                یہ رام لال نائی کا مکان تھا۔

                وہ دونوں چھوٹے سے صحن کو عبور کرنے کے بعد ایک نہایت ہی خوبصورت کمرہ میں داخل ہو گئے۔ اس کمرہ کی دیواروں پر پچہ کاری سے نہایت ہی خوبصورت بیل بوٹے سے بنے ہوئے تھے۔ کمرہ کا فرنیچر نہایت خوشنما اعلیٰ اور قیمتی تھا۔

                اس کمرہ میں داخل ہوتے ہی پنڈت ہری رام ٹھٹھک کر رہ گیا۔ اس کمرہ میں استعمال کی ہر شئے نایاب تھی اور سامنے کی دیوار کے ساتھ ایک شاہانہ قسم کی مسہری تھی جو تمام کی تمام سونے کی تھی…………تمام کمرہ میں زیتون کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔

                یہ میری پتنی ہے…………رام لال نائی نے مسہری کے قریب پہنچ کر کہا۔

                اور اس کے ساتھ ہی پنڈت ہری رام کو پہلی بار احساس ہوا کہ پلنگ پر کوئی ہے…………پھر وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا پلنگ کے قریب جا پہنچا۔ پلنگ پر ایک جسم لیٹا ہوا تھا جسے حقیقتاً ہڈیوں کا ڈھانچہ ہی کہا جا سکتا تھا۔ اور اس ڈھانچہ پر کھال منڈھی ہوئی تھی۔

                کون ہے…………پلنگ پر لیٹی ہوئی عورت نے حرکت کئے بغیر پوچھا۔

                میرا دوست ہے…………رام لال نے بتایا۔ کنوتھ کے درشن چاہتا ہے۔

                صرف درشن چاہتا ہے یا اسے اپنانا چاہتا ہے…………عورت نے مری ہوئی آواز سے پوچھا۔

                اپنانا بھی چاہتا ہے…………رام لال نائی نے جواب دیا اور پنڈت ہری رام کی طرف دیکھنے لگا۔ پنڈت ہری رام نے بھی اقرار کے انداز میں گردن ہلا دی۔

                اپنے پتی دیوتا کی بات سن کر عورت نے آنکھیں کھول دیں اور اس کے ساتھ ہی پنڈت ہری رام کو جھرجھری سی آگئی۔ ان آنکھوں میں موت کی ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ عورت مر چکی ہے۔ یا پھر بس دو چار لمحوں کی مہمان ہے۔ اس کے ہونٹوں پر نہایت ہی مکروہ مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے بڑی کوشش سے گردن گھما کر پنڈت ہری رام کی طرف دیکھا۔ پنڈت ہری رام کے پورے جسم میں خوف کی سرد لہر دوڑ گئی۔

                مجھے اٹھائو…………اس مردہ جسم عورت نے رام لال نائی کو حکم دیا۔

                اس کی بات سن کر رام لال نائی مسہری کی پائنتی کی سمت آیا اور دونوں پایوں کے درمیان لگے ہوئے ہینڈل کو تیزی سے گھمانے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسہری کے درمیان کا حصہ اوپر کو اٹھنے لگا۔ بالکل اسی طرح جس طرح ہسپتالوں میں مریضوں کے پلنگ اٹھتے ہیں۔

                جب پلنگ اس حد تک اٹھ گیا کہ اس پر لیٹی ہوئی عورت بیٹھی دکھائی دینے لگی تو رام لال نائی نے اپنا ہاتھ روک لیا۔

                دیوار میں دائیں جانب ایک طاق بنا ہوا تھا۔ جس پر سرخ گہرے رنگ کا ریشمی پردہ پڑا تھا۔ عورت نے بڑی مشکل سے اپنا دائیاں ہاتھ اٹھایا۔ اس کے ہاتھ کی ایک ایک ہڈی نظر آ رہی تھی۔ اس نے پردہ کو ایک جانب کھسکایا۔

                اندر طاق میں سونے کے دو چراغ رکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک چراغ جو قدرے بڑا تھا جل رہا تھا اور کمرہ میں اس کے جلنے کی وجہ سے ہی زیتون کے تیل کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔ دوسرے چراغ میں بتی تو تھی لیکن وہ جل نہیں رہا تھا۔ عورت نے اپنا استخوانی ہاتھ آگے بڑھایا اور جلتے ہوئے چراغ کو پکڑ کر اس کی لو سے دوسرے چراغ کو جلایا۔ پنڈت ہری رام خاموشی سے کھڑا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔

                دوسرے چراغ کے روشن ہوتے ہی پنڈت ہری رام کو نظر آیا کہ کپڑے کی بتی نہیں بلکہ انسانی ہاتھ کی درمیانی انگلی ہے ‘‘پور’’ کے اوپر لمبا سا ناخن اسے صاف نظر آ رہا تھا…………اور اسی ناخن کے سرے سے شعلہ بلند ہو رہا تھا۔

                ابھی وہ صحیح طرح سے اندازہ بھی نہیں لگا سکا تھا کہ اس نے چراغ کی ‘‘لو’’ پر ایک جسم کو نمودار ہوتے دیکھا۔ یہ بارہ تیرہ سال کی نہایت معصوم صورت لڑکی تھی۔ اس نے سرخ رنگ کا گھاگرا اور اس ہی رنگ کی چولی پہن رکھی تھی…………اس کے سیاہ ریشم جیسے لمبے بال فضا میں بادلوں کی طرح اڑ رہے تھے۔

                اس لڑکی نے چراغ کی لو پر پوری طرح نمودار ہو کر دونوں ہاتھ جوڑے اور سر جھکا کر بولی۔

                کیا آ گیا ہے مہاراج۔

                اس کی آواز بھی اس کے چہرہ کی طرح دلکش تھی۔

                یہ کنوتھ ہے…………رام لال نے پنڈت ہری رام کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بتایا…………پنڈت ہری رام ابھی تک حیرت زدہ نظروں سے کنوتھ کو دیکھ رہا تھا…………ماضی میں اس نے ماورائی علوم کے ذریعہ کئی بیروں (موکلوں) کو قابو میں کیا تھا…………لیکن یہ کنوتھ اس کی سمجھ سے باہر تھی۔

                یہ ایک پوتر آتما ہے…………رام لال نے اسے دوبارہ مخاطب کیا۔

                یہ جس کی ہو جاتی ہے اس کے جیون میں شانتی ہی شانتی ہوتی ہے۔

                اس سے کہو، میرا ہیرا دے دے…………پنڈت ہری رام نے پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

                اس کے ساتھ ہی اس کی بیوی نے پھونک مار کر چراغ بجھا دیا…………دھوئیں کی ایک سفید باریک سی لہر اٹھی اور طاق کی چھت میں جا کر غائب ہو گئی۔

                ارے مورکھ…………رام لال کی بیوی نے اسے مخاطب کیا۔

                کنوتھ کے ہوتے ہوئے تجھے ہیرے کی کیا ضرورت ہے…………پھر وہ کھسیانی ہنسی ہنس کربولی…………سن! وہ ہیرا مجھے کنوتھ نے لا کر دیا تھا۔ اسے بیچ کر میں نے اپنی تین بیٹیوں کی شادی کر دی اور تین بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خاطر امریکہ بھیج دیا۔

                تمہیں…………تمہیں…………یہ حق نہیں تھا…………پنڈت ہری رام نے غصے میں کہا۔

                کنوتھ کے ذریعے جو دولت ملتی ہے اس پر صرف اس ہی کا حق ہوتا ہے جس کے قبضہ میں کنوتھ ہوتی ہے۔ عورت نے جواب دیا…………اور دیوانہ وار قہقہہ لگانے لگی جیسے پنڈت ہری رام کی بے بسی پر خوش ہو رہی ہو۔

                پنڈت ہری رام خوف زدہ ہو کر دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ اس عورت کا جھریوں بھرا چہرہ قہقہے لگاتے ہوئے کچھ زیادہ ہی بھیانک ہو گیا تھا۔

                رام لال نائی مسہری کے پائنتی کھڑے ہو کر دوبارہ ہینڈل گھمانے لگا اور بیٹھی ہوئی عورت لیٹتی چلی گئی۔ اس نے لیٹتے ہوئے شیطانی قہقہوں کے درمیان پنڈت ہری رام سے کہا یہ سونے کا پلنگ بھی مجھے کنوتھ کی بدولت ملا ہے۔

                کنوتھ کا سیوک سارا جیون سونے اور چاندی میں کھیلتے ہوئے گزارتا ہے…………رام لال نائی اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد اس کے قریب آ کر بولا۔

                پنڈت ہری رام درزیدہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔

                تم واحد منش ہو…………رام لال نائی نے مسہری کی پٹی پر بیٹھتے ہوئے کہا جو اپنی دولت یعنی ہیرا مجھ سے لینے آئے ہو۔ ورنہ کنوتھ کی دی ہوئی مایا کو کوئی آج تک لینے نہیں آیا…………کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کہاں سے کس کی دولت لائی ہے۔

                اسے پتہ کس نے بتایا…………رام لال کی بیوی نے پوچھا۔

                اس ہی مکار نے…………رام لال نے حقارت سے جواب دیا۔

                تو پھر اس سے کہہ کنوتھ سے پریم کرے…………اس کی بیوی نے آہستہ سے کہا۔ اور پھر پنڈت ہری رام کو مخاطب کر کے بولی۔

                کنوتھ سے پریم کرے گا…………اس کا سیوک بنے گا۔

                اس کے پوچھنے پر پنڈت ہری رام کی نظروں کے سامنے ماضی گھوم گیا۔ جبکہ وہ عظیم ماورائی طاقتوں کا مالک تھا اور لوگ اس کے لئے دلوں میں عقیدت و احترام رکھتے تھے…………اس نے بلا سوچے سمجھے اقرار کے انداز میں گردن ہلاتے ہوئے کہا۔

                ہاں…………میں اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں…………اس کا سیوک بننا چاہتا ہوں۔ لائو مجھے کنوتھ دے دو۔

                ایسے نہیں…………رام لال کی بیوی نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا۔

                کنوتھ کسی کو دان کرنے سے نہیں ملتی۔ اسے حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔

                وہ طریقہ کیا ہے…………پنڈت ہری رام نے بڑے ہی اشتیاق سے پوچھا۔

                اس کے لئے سات دن کا جاپ کرنا ہوتا ہے…………رام لال نائی کی بیوی نے بتایا۔

                اور وہ ایسا کوئی مشکل بھی نہیں ہے…………رام لال فوراً ہی بیچ میں بولا…………صرف جاپ ذرا کھٹن ہے۔

                لیکن تمہارے لئے مشکل بھی نہیں ہے…………پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر چلتے ہوئے بولا…………تم اس وقت اپنے گھر جائو اور اپنی پتنی سے ایک ہفتہ کی اجازت لے کر آ جائو۔ پھر سب کچھ تمہارا ہو جائے گا۔

                پنڈت ہری رام نے اس سے وعدہ کر لیا کہ وہ کل ضرور اس کے پاس اجازت لے کر پہنچ جائے گا۔

٭×××××××××××٭

                گھر پہنچ کر ہری رام نے اپنی بیوی کو ساری بات بتا دی۔ کوشیلا جو معاشی بدحالی کی وجہ سے پریشان رہتی تھی یہ جان کر خوش ہو گئی کہ اس کا پتی دیوتا جو کہ پہلے بھی ایک مہان گیانی پنڈت تھا۔ پھر سے ایسی شکتی حاصل کر لے گا جس کی بدولت اس کے دن پھر جائیں گے۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ پنڈت ہری رام صرف اس کے پریم کے کارن اپنی شکتی کھو بیٹھا ہے۔ وہ دل ہی دل میں خوش تھی۔

                پنڈت ہری رام نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسی مافوق الفطرت ہستیاں بھی موجود ہیں جنہیں اگر بس میں کر لیا جائے تو انسان سب کچھ کر سکتا ہے…………شیوبھگوان کے مندر میں اس نے جس علم کی تعلیم حاصل کی تھی وہ ایک مخصوص علم تھا جس میں انسان کو ایسی ماورائی طاقت حاصل ہو جاتی ہے جس کے ذریعہ وہ فوری طور سے نفع اور نقصان کا اندازہ کر کے اپنے طابع موکلوں سے کام لے سکتا تھا۔

                شیو بھگوان کے پجاری کی حیثیت سے اس کے پاس استدراج کا جو خزانہ تھا اس کی وہی حیثیت تھی جو ہمارے معاشرہ میں عامل حضرات کی ہے۔ اس حیثیت میں اس کا دائرہ کار محدود تھا لیکن اس نے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں ان حدود کو توڑ دیا…………اور زمانے کے نشیب و فراز سے گزرتا ہوا پھر ایسے مقام پر آ گیا…………جہاں وہ کچھ بھی نہ تھا۔ اس نے جب سے کنوتھ کو دیکھا تھا دل و دماغ میں ہیجان سا پیدا ہو گیا تھا۔ وہ دن اس نے بڑی مشکل سے کاٹا اور پھر دوسرے دن سورج چھپتے ہی وہ رام لال نائی کی دکان پر پہنچ گیا۔

٭×××××××××××٭

                رام لال نائی تو جیسے اس کا منتظر ہی تھا۔ پنڈت ہری رام کو دیکھتے ہی اس نے دوکان بند کر دی اور اسے ساتھ لئے ہوئے اپنی بیوی کے کمرہ میں داخل ہو گیا…………کمرہ میں داخل ہو کر اس نے پھر اپنی پتنی کی مسہری کا ہینڈل گھمایا اور جب وہ اتنی اوپر اٹھ گئی کہ پنڈت ہری رام کو آسانی سے دیکھ سکے تو اس نے ہینڈل چھوڑ دیا۔

                رام لال نائی کی بیوی نے اس کی طرف دیکھا اور بڑے اعتماد سے بولی۔

                اپنے من سے تمام کھوٹ نکال دے اور اس چوکی پر بیٹھ جا۔ پنڈت ہری رام نے اس کی طرف دیکھا۔ جس طرف اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا۔ کمرہ کے وسط میں لکڑی کی ایک چھوٹی سی چوکی رکھی ہوئی تھی۔ جس کے ایک کونے پر لوبان سلگ رہا تھا۔

                پنڈت ہری رام اس چوکی پر دو زانو بیٹھ گیا۔ اس کے بیٹھتے ہی رام لال نائی نے پلنگ سے ایک کالی پٹی لی۔ یہ کالے رنگ کی تین انچ چوڑی سی پٹی تھی۔

                اپنی آنکھیں بند کر لو…………رام لال نائی پٹی آنکھوں پر رکھ کر بولا اور پھر اس نے وہ پٹی ہری رام کے باندھ دی۔ اب تم کو میں منتر بتاتی ہوں۔ اس کی بیوی نے شیطانی ہنسی سے کہا…………تم میری زبان سے نکلنے والے ایک ایک لفظ کو دہراتے چلے جائو۔ ایشور کی کرپا سے تم ضرور کامیاب ہو گے…………کنوتھ تمہاری ہو جائے گی۔

                اب پنڈت ہری رام بھی پوری طرح تیار تھا۔ اس نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لئے…………اور…………رام لال نائی کی بیوی کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کو دہرانے لگا۔ پانچ دس بار ہی دہرانے سے اسے منتر یاد ہو گیا۔

                پھر…………پھر…………وہ خود ہی انہماک سے منتر کا جاپ کرنے لگا۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا۔ پنڈت ہری رام کا انہماک زیادہ ہوتا جا رہا تھا۔ اب اس کے کانوں میں رام لال کی پتنی کی کرخت آواز نہیں آ رہی تھی۔ پھر چند گھنٹے گزرنے کے بعد اس کا گلا خشک ہو گیا اسے شدید پیاس لگی۔ پیاس سے اس کا تالو چٹخنے لگا۔

                اس کا خیال تھا کہ رام لال نائی اسے پانی پلا دے گا…………لیکن اس کے پانی مانگنے پر کسی بھی قسم کی آہٹ نہیں ہوئی۔ اس نے دوبارہ ذرا اونچی آواز میں پانی پلانے کو کہا…………لیکن پھر بھی کسی قسم کا جواب نہیں ملا۔ اور اس کے ساتھ ہی اسے تنہائی کا احساس ہوا۔

                تنہائی کا احساس ہوتے ہی وہ زور سے چلایا۔ کوئی ہے …………لیکن جواب میں خاموشی رہی۔ پنڈت ہری رام نے گھبرا کر چوکی کے چاروں طرف زمین پر ہاتھ چلائے جیسے وہ چوکی سے اترنے کی خاطر جگہ دیکھ رہا ہو۔ اس کے ہاتھ چوکی کے نیچے پانی کی سطح سے ٹکرا گئے…………اس نے جہاں تک ہاتھ بڑھایا پانی ہی پانی تھا…………اس صورت حال سے پریشان ہو کر اس نے آنکھوں پر پٹی کھول ڈالی۔

                لیکن اب وہاں نہ تو رام لال تھا نہ اس کی بیوی اور نہ ہی گھر۔ بلکہ وہ دریائے سندھ کے بیچوں بیچ چوکی پر بیٹھا ہوا تھا…………اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھا…………ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔

                میں یہاں کیسے پہنچ گیا…………اس نے سوچا…………پھر خیال آیا۔ ممکن ہے یہ اس ہی منتر کا اثر ہو۔ اس کے دل میں اس منتر کی تاثیر دیکھ کر خوشی کی لہر اٹھی۔

                اس نے دوبارہ آنکھوں پر پٹی باندھ لی اور پیاس بھول کر جاپ کرنے میں مشغول ہو گیا۔

٭×××××××××××٭

                دن اور رات یونہی گزرتے رہے۔ پنڈت ہری رام کی بھوک پیاس سب کچھ ختم ہو کر رہ گئی۔ بس وہ دریا کے بیچوں بیچ ایک چھوٹے سے تختہ پر بیٹھا منتر پڑھ رہا تھا۔

                اور اس طرح…………ایک دو دن نہیں۔ ہفتے نہیں بلکہ تین ماہ گزر گئے۔ اور پھر ایک رات کو اس نے انسانی ہیولہ کو پانی کی سطح پر چلتے دیکھا۔ وہ ہیولہ جس طرف بھی جاتا پنڈت ہری رام کے تختہ کا رخ بھی اس ہی طرف ہو جاتا تھا۔ وہ ہیولا دریا کے کنارے پر آ کر غائب ہو گیا اور ساتھ ہی پنڈت ہری رام کا تختہ بھی کنارے سے جا لگا جس کا مطلب تھا کہ اب وہ خشکی پر اتر سکتا تھا۔

                اب وہ جس جگہ اترا تھا وہ جنگل سا تھا۔ پنڈت ہری رام بغیر سوچے سمجھے ایک جانب چل دیا۔ اس کے دل و دماغ سے اب بھی اس منتر کی آواز آ رہی تھی…………اس کی داڑھی بے انتہا بڑھ چکی تھی۔ جسم کا لباس میلا ہو چکا تھا…………اور جسمانی طور سے وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آ رہا تھا لیکن اس کے باوجود اسے اپنے اندر توانائی محسوس ہو رہی تھی۔ ایسی توانائی جس میں تھکاوٹ یا نقاہت نہیں ملتی تھی۔

 

 

 

 

 


Peer Hazir Shah

محمد مونس خان عظیمی


یہ کہانی ازل سے شروع ہوئی اور ابد تک جاری رہے گی۔ کہانی ایک ہے۔ کردار مختلف ہیں۔ یہ کردار کبھی عورت اور کبھی مرد بن جاتا ہے آج کی ہر عورت جنت کی اماں حوا ہے۔ آج کا ہر مرد جنت میں رہنے والا آدم ہے۔ عورت اور مرد کے دو روپ ہیں۔ ایک مادی اور دوسرا روحانی۔ مادی جسم مفروضہ حواس کی ایسی فلم ہے جو قید و بند کی اسکرین پر چل رہی ہے۔ روحانی جسم ایسے حواس کا مجموعہ ہے جہاں زمین، آسمان، عرش اور سارے کہکشانی نظام ایک دوسرے سے ہم رشتہ ہیں۔ میرے پیر بھائی محمد مونس عظیمی نے اس رشتے کو اجاگر کرنے کے لئے قلم کا سہارا لیا اور کرداروں کے تعین سے ہمیں بتایا کہ مادیت کے خول میں بند انسان کی آتما بے چین و بیقرار رہتی ہے۔ اس کے برعکس مادیت کے خول سے آزاد انسان بڑے بڑے پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ہے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔