Topics

پیش لفظ


 

                اللہ تعالیٰ کی کسی تخلیق پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ ہر تخلیق مذکر اور مونث دو رخوں کے انجذاب کا نتیجہ ہے۔ جب دو رخ ایک دوسرے سے یکجان ہوتے ہیں تو تیسرا رخ وجود میں آتا ہے۔ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ زمین اور زمین کے ماحول کا قیام اس عمل پر ہے کہ ایک رخ ظاہر ہوتا ہے دوسرا چھپ جاتا ہے۔ چھپنے والا رخ جب ظاہر ہوتا ہے تو ظاہر رخ چھپ جاتا ہے۔ عمل دراصل مخفی اور مظہر ردعمل ہے۔ ہر عمل نفی اثبات کی بساط پر مسلسل جاری و ساری ایک سسٹم ہے۔ یہ سسٹم کڑی در کڑی ایک زنجیر ہے۔ ایک کڑی بھی نکل جائے تو زنجیر ٹوٹ جائے گی۔ سسٹم تباہ ہو جائے گا، ماضی کا تذکرہ نہیں ہو گا اور ارتقاء رک جائے گا۔

                دنیا میں ظاہر ہونے والی ہر شئے پہلے پردے میں ہوتی ہے اور ظاہر ہونے کے بعد پس پردہ چلی جاتی ہے لیکن پس پردہ بھی اسے قیام نہیں ہے۔ میرا ظاہری وجود میاں مشتاق احمد عظیمی ہے۔ اور جب میں پردے کے پیچھے ہوں تو میرا نام کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا نام بھی وہی ہے جو سب کا ہے۔ میں انفرادی خول کے بجائے اجتماعی روپ ہوں۔

                یہ کہانی ازل سے شروع ہوئی اور ابد تک جاری رہے گی۔ کہانی ایک ہے۔ کردار مختلف ہیں۔ یہ کردار کبھی عورت اور کبھی مرد بن جاتا ہے آج کی ہر عورت جنت کی اماں حوا ہے۔ آج کا ہر مرد جنت میں رہنے والا آدم ہے۔ عورت اور مرد کے دو روپ ہیں۔ ایک مادی اور دوسرا روحانی۔ مادی جسم مفروضہ حواس کی ایسی فلم ہے جو قید و بند کی اسکرین پر چل رہی ہے۔ روحانی جسم ایسے حواس کا مجموعہ ہے جہاں زمین، آسمان، عرش اور سارے کہکشانی نظام ایک دوسرے سے ہم رشتہ ہیں۔ میرے پیر بھائی محمد مونس عظیمی نے اس رشتے کو اجاگر کرنے کے لئے قلم کا سہارا لیا اور کرداروں کے تعین سے ہمیں بتایا کہ مادیت کے خول میں بند انسان کی آتما بے چین و بیقرار رہتی ہے۔ اس کے برعکس مادیت کے خول سے آزاد انسان بڑے بڑے پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ہے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔

                ساوتری ایک عورت ہے جو مادی وجود کے ساتھ ساتھ اپنے روحانی وجود سے بھی واقف ہے۔ اپنی ذات سے واقفیت نے اسے بڑے بڑے جی دار اور نامور مردوں سے ممتاز کر دیا ہے۔ اس کہانی سے یہ تاثر پوری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ عورت کسی بھی شعبے میں مرد سے کم تر نہیں ہے۔ جس طرح کوئی نظام مرد کے بغیر نہیں چل سکتا اسی طرح عورت کے بغیر بھی ہر نظام نامکمل رہتا ہے۔

                محمد مونس خان عظیمی اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، نے اپنی خداداد صلاحیت سے عورت کے پُرعظمت مقام کی نہایت احسن طریقے سے نشاندہی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ خواتین کو اپنا مقام جاننے اور پہچاننے کی توفیق مرحمت فرمائے۔

 

 

                                میاں مشتاق احمد عظیمی

                                 روحانی فرزند

                                مرشد کریم الشیخ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی

               

 


Peer Hazir Shah

محمد مونس خان عظیمی


یہ کہانی ازل سے شروع ہوئی اور ابد تک جاری رہے گی۔ کہانی ایک ہے۔ کردار مختلف ہیں۔ یہ کردار کبھی عورت اور کبھی مرد بن جاتا ہے آج کی ہر عورت جنت کی اماں حوا ہے۔ آج کا ہر مرد جنت میں رہنے والا آدم ہے۔ عورت اور مرد کے دو روپ ہیں۔ ایک مادی اور دوسرا روحانی۔ مادی جسم مفروضہ حواس کی ایسی فلم ہے جو قید و بند کی اسکرین پر چل رہی ہے۔ روحانی جسم ایسے حواس کا مجموعہ ہے جہاں زمین، آسمان، عرش اور سارے کہکشانی نظام ایک دوسرے سے ہم رشتہ ہیں۔ میرے پیر بھائی محمد مونس عظیمی نے اس رشتے کو اجاگر کرنے کے لئے قلم کا سہارا لیا اور کرداروں کے تعین سے ہمیں بتایا کہ مادیت کے خول میں بند انسان کی آتما بے چین و بیقرار رہتی ہے۔ اس کے برعکس مادیت کے خول سے آزاد انسان بڑے بڑے پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ہے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔