Topics

انجام


                لیکن کنوتھ اس طرح گم سم کھڑی تھی جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں۔ دوسرے لمحہ ساوتری نے اپنے جسم کو اس طرح جھٹکا دیا کہ پنڈت ہری رام کے دونوں ہاتھ کھل گئے اور وہ ڈگمگاتا ہوا دیوار سے جا لگا۔ ساوتری نے انگلی سے دائیں اور بائیں جانب اس طرح اشارہ کیا جیسے لکیر کھینچ دی ہو۔

                پنڈت ہری رام نے سنبھل کر دوبارہ اس کی طرف بڑھنا چاہا۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی نادیدہ طاقت اسے روکے ہوئے ہے…………ساوتری نے پنڈت کی طرف سے مطمئن ہو جانے کے بعد پھر کنوتھ کی طرف رخ کیا اور انگشت شہادت سے اشارہ کرتے ہوئے بولی۔

                میں جانتی ہوں کہ تو معصوم ہے۔ تیرے ہمزاد کو قبضہ میں کر کے لوگوں نے گناہ آلود کام کیے ہیں۔ اللہ کو تیری اس بے بسی پر رحم آ گیا۔ وہ غفور الرحیم ہے۔ جا طاق میں سے اپنی انگلی اٹھا لے اور چلی جا۔ ساوتری کا حکم سنتے ہی کنوتھ نے اپنی جگہ سے جنبش کی۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر تشکر سے کہا۔

                تمہارا یہ کرم، یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گی…………پھر وہ قدرے نفرت سے بولی۔

                میں بنتی کرتی ہوں…………مجھ پر ایک احسان اور کرو…………اس پاپی نے مجھ سے غلط کام لے کر میری آتما کو جو دکھ پہنچایا ہے اس کا بدلہ لینے دو۔

                کنوتھ…………ساوتری نے تنبیہہ کے لہجہ میں کہا۔

                سزا اور جزا کا حق صرف اللہ کو ہے…………تو اپنے مقام پر جا۔ اب اس دنیا سے تیرا کوئی واسطہ نہیں۔

                یہ سن کر کنوتھ کے چہرہ پر خوشی کی لہر دوڑ گئی…………وہ تیزی سے چراغوں والے کمرہ میں گئی۔ اس نے چراغ میں سے اپنی انگلی اٹھائی اور اس جگہ پر رکھ دی۔ جہاں سے کاٹی تھی…………پھر وہ دیکھتے ہی دیکھتے فضا میں تحلیل ہو گئی۔

                کنوتھ کے جانے کے بعد…………ساوتری پنڈت ہری رام سے مخاطب ہوئی۔

                پنڈت…………تم نے لذت نفس کی خاطر نہ صرف اپنی ماورائی طاقتیں کھو دیں بلکہ تم انسان سے شیطان بن گئے۔ تم زبردست گناہوں کے مرتکب ہو چکے ہو۔ یہ رب العالمین کا کرم ہے کہ تمہارے لئے ابھی بھی توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ اگر تمہارے دل میں ذرا سا بھی خوف ہے تو توبہ کر لو۔ اور خدائے برتر کے حضور میں سجدہ ریز ہو جائو۔

                ساوتری کے آخری الفاظ پر پنڈت ہری رام اس طرح چونکا جیسے نیند سے بیدار ہوا ہو۔

                اس نے کمرہ میں چاروں طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا۔ لیکن اب وہاں نہ ساوتری تھی اور نہ ہی رنگیلی۔ کمرہ بالکل خالی تھا۔

                پھر اسے ایک دم کنوتھ کا خیال آیا۔ وہ دوڑتا ہوا دوسرے کمرے میں گیا…………زیتون کے تیل والا چراغ روشن تھا لیکن دوسرا چراغ جس میں کنوتھ کی انگلی رکھی رہتی تھی بالکل خالی تھا…………جس کا مطلب تھا کہ کنوتھ جا چکی ہے۔

 ٭×××××××××××٭

                اس واقعہ کے بعد پنڈت ہری رام پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔

                بسنتی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جو کسی نہ معلوم وجہ سے روکی ہوئی تھی۔ پولیس کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ رپورٹ میں سرکاری ڈاکٹر نے لکھا تھا کہ بسنتی ڈوبنے سے قبل مر چکی تھی۔ اور اس کی موت آبرو ریزی کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔

                بسنتی کا باپ کوئی معمولی شخص نہیں تھا۔ وہ بھی وڈیرہ تھا۔ گو کہ اس کی بیٹی کو مرے ہوئے ایک عرصہ گزر چکا تھا اور اس کی موت سے خاندان میں رسوائی ہوئی تھی۔ لوگوں نے بسنتی پر طرح طرح کے الزامات لگائے تھے۔

                اب جو پوسٹمارٹم رپورٹ سامنے آئی تو وہ بھی اپنی مردہ بیٹی کے کفن سے بدنامی کے اس داغ کو دھونے پر تل گیا۔ وہ یہ بھی جاننا چاہتا تھا کہ وہ کون درندہ صفت لوگ تھے جنہوں نے اس کی بیٹی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

                اس نے اس سلسلہ میں بے دریغ پیسہ بہانا شروع کر دیا۔ پولیس نے پھر سے سرگرمی دکھانی شروع کر دی اور وہ تمام حقائق جو کہ پہلے پولیس کی نظروں سے پوشیدہ تھے کھل کر سامنے آ گئے۔ وہ بوری بھی برآمد ہو گئی جس میں بسنتی کی لاش کو لپیٹا گیا تھا…………اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہ بوری وڈیرہ ہری رام کے گودام کی ہے۔

                پنڈت ہری رام کو شک کی بنا پر گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن پولیس یہ ثابت نہیں کر سکی کہ اسے بسنتی یا اس کے خاندان سے ایسی کوئی دشمنی تھی۔ جس کی بنا پر اس نے قتل جیسا انتہائی اقدام کیا۔

                پنڈت ہری رام کا چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ پنڈت ہری رام نے سکھر شہر کے مشہور وکیل کو اپنی طرف سے مقدمہ لڑنے کے لئے مقرر کیا۔ جس کے نتیجہ میں وہ دوسری ہی پیشی پر ضمانت پر رہا ہو گیا۔

                رہا ہونے کے بعد اسے قدرے اطمینان ہوا۔ اس نے وکیل کے ساتھ مل کر قتل کے تمام جزیات پر غور کیا۔ وکیل نے اسے یقین دلایا کہ وہ یہ مقدمہ جیت جائے گا۔ اس نے پنڈت ہری رام سے کہا۔

                وہ یہ موقف اختیار کر لے کہ بسنتی کا باپ اس سے خواہ مخواہ بغض رکھتا ہے اور اسے اپنی بیٹی کے قتل میں ملوث کر کے زمین پر قبضہ کر لینا چاہتا ہے۔

٭×××××××××××٭

                مقدمے کی پیشیاں پڑنی شروع ہو گئیں۔

                مقدمہ چلتا رہا…………اور پنڈت ہری رام پیسے کے بل پر گواہوں کو توڑتا رہا۔ لیکن اس مقدمہ نے اس کی مالی حالت بالکل ہی کمزور کر دی اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب اسے زمین بھی فروخت کر دینا پڑی۔

                مقدمہ کی طوالت سے وہ اکتا گیا…………اور جب انسان ہر طرف سے مایوسیوں میں گھر جاتا ہے تو اسے کسی مونس و غمخوار کی ضرورت پیش آتی ہے۔

                پنڈت ہری رام کا اس دنیا میں اگر تھوڑا بہت سہارا تھا تو وہ پیر حاضر شاہ تھے۔

                تصوف سے وہ پہلے ہی بیگانہ ہو چکا تھا۔ لیکن پھر بھی پیر حاضر شاہ کو اپنا دوست، اپنا محسن سمجھتا تھا۔ آخر ایک دن وہ ان کے پاس پہنچ گیا۔

                اس وقت پیر حاضر شاہ عشاء کی نماز پڑھ کر مسجد سے لوٹے ہی تھے کہ پنڈت ہری رام وارد ہو گیا۔ پیر حاضر شاہ نے اس کی غیر متوقع آمد پر ناک بھنویں چڑھانے کی بجائے خندہ پیشانی سے استقبال کرتے ہوئے پوچھا۔

                آئو پنڈت جی…………آج تم ادھر کیسے آ نکلے؟ خیر تو ہے؟

                میں تباہ ہو گیا…………برباد ہو گیا…………پنڈت ہری رام ایک دم پھٹ پڑا۔

                بیٹھو…………بیٹھو…………پیر حاضر شاہ نے بڑے ہی پیار سے اسے اپنے قریب چٹائی پر بٹھاتے ہوئے کہا۔ اللہ خیر کرے گا…………ہوا کیا۔

                یہ سب کچھ تمہاری چیلے کے کارن ہوا ہے…………پنڈت ہری رام نے غصہ اور نفرت سے کہا۔

                میرا چیلا…………پیر حاضر شاہ نے دماغ پر زور دے کر پوچھا۔

                کون چیلا؟

                ارے وہی تمہاری چہیتی ساوتری…………پنڈت ہری رام نے منہ چڑھا کر کہا۔

                کیا…………کیا ہے اس نے؟…………پیر حاضر شاہ نے بھولے لہجہ سے پوچھا۔

                یہ پوچھو کیا نہیں کیا اس نے…………پنڈت ہری رام اس ہی انداز سے ہاتھ فضا میں لہرا کر بولا۔

                تمہیں یاد ہو گا اس نے میرے گمشدہ ہیرے کے بارے میں رام لال نائی کا پتہ بتایا تھا۔

                اچھا…………پیر حاضر شاہ نے کہا۔

                تمہیں نہیں معلوم کیا؟…………پنڈت ہری رام نے اچھنبے سے کہا۔

                بھئی تم نے ہم سے جب گمشدہ ہیرے کے بارے میں ذکر کیا تھا تو ہم نے تمہیں ساوتری سے ملا دیا تھا۔

                پیرحاضر شاہ نے جواب دیا۔ اور ساوتری نے تمہیں دوسرے دن بلوایا تھا پھر بھلا مجھے کسی بات کا کیا علم ہو سکتا ہے۔

                ہاں…………ہاں…………یاد آ گیا…………پنڈت ہری رام نے سکون سے کہا…………دوسرے دن تو میں اکیلا ہی اس کے پاس گیا تھا اور اس نے مجھے رام لال نائی کا پتہ بتا دیا تھا۔

                اچھا…………پھر کیا ہوا…………پیر حاضر شاہ نے پوچھا۔

                رام لال نائی نے ہیرے کی بجائے ‘‘کنوتھ’’ دے دی۔

                یہ ایک پوتر آتما تھی…………مہان شکتی والی…………پنڈت ہری رام نے تعریف کی…………پلک جھپکتے میں کام کر دیتی تھی۔

                پھر تو تم نے بڑے ہی مزے کئے ہونگے…………پیر حاضر شاہ نے معنی خیز لہجہ میں پوچھا۔

                ہاں…………بات تو کچھ ایسی ہے…………پنڈت ہری رام نے تائید کی۔ پھر وہ قدرے شکوہ کے انداز سے بولا…………ایک رات جبکہ میں اپنے شریر کی آگ بجھانا چاہتا تھا…………ساوتری اچانک ہی آن ٹپکی اور…………اور…………اس نے نہ صرف میرے معاملے میں دخل دیا…………بلکہ کنوتھ کو بھی آزاد کر دیا۔

                چلو…………اچھا ہوا۔ تمہاری جان چھوٹی…………پیر حاضر شاہ نے سپاٹ لہجہ میں جواب دیا۔

                ایں…………پنڈت ہری رام نے تعجب سے کہا۔

                ارے میاں! اگر تم کنوتھ کے چکر میں پڑے رہتے تو اور نجانے کیا کیا کر بیٹھتے…………پیر حاضرشاہ نے اطمینان سے جواب دیا…………ساوتری نے اچھا ہی کیا…………جو تمہاری اس سے جان چھڑا دی۔

                تم اسے اچھائی سمجھتے ہو؟ پنڈت ہری رام نے تیور بگاڑ کر کہا…………جبکہ کنوتھ کے جاتے ہی مجھ پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے…………برسوں کے راز ظاہر ہو گئے…………مجھ پر قتل کا مقدمہ قائم ہو گیا۔ اور اس مقدمہ ہی کی بدولت زمین ہاتھ سے جاتی رہی…………اور آج میں کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا ہوں۔

                پھر بھی کچھ نہیں ہوا پنڈت جی…………کچھ بھی نہیں ہوا۔ پیر حاضر شاہ نے زیر لب مسکرا کر کہا…………یہ تو دنیاوی جھمیلے ہیں…………یونہی چلتے رہیں گے اور یوں ہی ختم ہو جائیں گے۔ میرے لئے یہ سنسار نرکھ بن چکا ہے اور میں…………

                نہیں…………نہیں…………پیر حاضر شاہ نے اس کی بات کاٹی…………دنیا کو برا مت کہو…………دنیا کو برا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بنانے والے کو برا کہا۔

                پیر حاضر شاہ کی بات سن کر پنڈت ہری رام نے جھینپ کر نظریں جھکا لیں۔ پھر کچھ توقف کے بعد بولا…………لیکن اب میں کیا کروں؟

                مرد ہو یار…………پیر حاضر شاہ نے خوشدلی سے اس کے بازو پر ہاتھ مار کر کہا…………بہادروں کی طرح حالات کا مقابلہ کرو۔ قسمت میں جو لکھا ہے وہ تو پورا کرنا ہی ہے…………لیکن تم ہمت نہ ہارو۔

                اپنی قسمت کا لکھا اور کیا کیا کروں گا…………پنڈت ہری رام نے افسردگی سے کہا…………اس قسمت کی بھینٹ شیو بھگوان کی شکتی تو کر چکا ہوں…………اب اور کیا کچھ رہ گیا ہے میرے پاس؟

                انسان بڑا ہی عظیم ہے پنڈت جی…………پیر حاضر شاہ نے سمجھایا…………اس کے پاس کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی بہت کچھ ہوتا ہے…………تمہارے ساتھ جو کچھ بھی ہو چکا ہے وہ مکافات عمل کا نتیجہ تھا۔ اور اب جو کچھ بھی ہونے والا ہے وہ بھی اس کے تحت ہو گا۔

                اچھا…………یہ تو بتائو…………پنڈت ہری رام نے سوچ کر پوچھا…………کہ میں اس مقدمہ سے بری ہو جائوں گا یا نہیں؟

                ہونہہ…………پیر حاضر شاہ نے گہری سانس لے کر کہا۔ اب کی ہے تم نے مطلب کی بات…………خیر جمعہ کے دن آنا بتا دوں گا۔

                جمعہ کے دن صبح…………وہ کیوں؟…………پنڈت ہری رام نے پوچھا۔

                یہ بات بھی تمہیں جمعہ کے دن ہی بتائوں گا…………پیر حاضر شاہ نے حسب دستور مسکرا کر جواب دیا۔

                پنڈت ہری رام چند لمحے ان کی طرف دیکھتا رہا جیسے ان کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ پھر اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا۔

                اچھا دوست۔ تو پھر جمعہ کی صبح آئوں گا۔

                اس کے بعد…………اس نے پیر حاضر شاہ سے مصافحہ کیا…………اور جھونپڑی سے باہر نکل گیا۔

٭×××××××××××٭

                جمعہ کا دن بھی زیادہ دور نہیں تھا…………            تین دن کے بعد جمعہ کا دن تھا اور ان تین دنوں میں پنڈت ہری رام یہی سوچتا رہا کہ پیر حاضر شاہ نے اسے جمعہ کے دن کیوں بلوایا؟

                کیا…………وہ میری بات کا جواب اسی وقت نہیں دے سکتا تھا؟ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ روحانیت کے استاد اور وحدانیت کے پرستار اس شخص نے اسے جمعہ کے دن کیوں بلوایا ہے۔ پھر اس نے سوچا کہ ممکن ہے ان تین دنوں کے اندر وہ کسی منتر کا جاپ کر کے اس کے بارے میں معلوم کرے گا یا پھر اپنے کسی بیر(موکل) سے پوچھے گا۔

                بہرحال…………جمعہ کے دن صبح ہوتے ہی پنڈت ہری رام ان کے پاس پہنچ گیا۔ وہ اشراق کی نماز پڑھ کر مصلے ہی پر بیٹھے تھے…………پنڈت ہری رام پر نظر پڑتے ہی مسکرا کر بولے۔

                آئو…………آئو…………مجھے تمہارا ہی انتظار تھا۔

                پنڈت ہری رام مصلے پر ان کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا…………مجھے بھی آج کے دن کا بڑی ہی بے تابی کا انتظار تھا۔ ہونا بھی چاہئے…………پیر حاضر شاہ نے زیر لب مسکرا کر کہا۔ انسان اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کے نتائج جاننے کے لئے بے چین رہتا ہے۔

                تو پھر بتایئے نا…………میرے مقدمے کا فیصلہ کیا ہو گا؟…………پنڈت ہری رام نے بے قراری سے پوچھا۔

                تم اس الزام سے بری ہو جائو گے…………پیر حاضر شاہ نے مختصر سا جواب دیا۔

                اچھا…………پنڈت ہری رام نے خوشی سے کہا۔ پھر ایک دم سنجیدہ ہو کر بولا…………یہ بات تو تم مجھے تین دن پہلے بھی بتا سکتے تھے۔

                تین دن پہلے…………پیر حاضر شاہ چونکے۔ پھر سنبھل کر بولے…………پچھلے ہفتے تک تو اس ہی بات پر غور ہوتا رہا کہ تمہیں سزائے موت دی جائے یا عمر قید دی جائے۔

                کیا مطلب…………پنڈت ہری رام نے خوفزدہ ہو کر پوچھا۔

                تم سمجھو گے نہیں…………             

                نہیں بتایئے…………پنڈت ہری رام نے اصرار کیا…………میں آپ کی بات سمجھنے کی کوشش کروں گا۔

                لو…………سنو…………پیر حاضر شاہ نے فضا میں دیکھتے ہوئے کہا۔

                اس کائنات کو چلانے کے لئے اللہ وتبارک و تعالیٰ نے ایک نظام قائم کر رکھا ہے جسے نظام قدرت بھی کہا جاتا ہے۔

                میں نے اس نظام کو چلانے والے کی نسبت سے تمہارے لئے دعا کی تھی اور یہ درخواست کی تھی کہ تمہیں معاف کر دیا جائے۔

                تم نے یہ درخواست کیوں کی؟…………پنڈت ہری رام نے اچانک پوچھا۔

                تم ہمارے دوست جو ہو…………پیر حاضر شاہ نے مسکرا کر کہا…………اور دوست کی خامیوں کو دوست ہی درگزر کرتا ہے۔

                پنڈت ہری رام ان کی بات سن کر سوچ میں پڑ گیا۔ پھر چند لمحہ میں گہری سانس لے کر بولا۔ میرے مذہب میں ہر عمل کا ایک دیوتا ہے…………شیو بھگوان…………گنیش دیوتا…………ہنو مان جی…………رام…………سیتا…………درگا مائی…………مدھومتی…………لکشمی دیوی وغیرہ…………

                یہ تمام دیوتا اور دیویاں فطرت انسانی کے مطابق منفرد خوبیوں کی مالک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ان گنت دیوتا اور دیویاں ہیں۔ جن کی صفت کے مطابق پوجا کی جاتی ہے۔

                لیکن تم نے جو بات بتائی ہے اس کے مطابق تو تمام اختیارات دھرماتما کو حاصل ہیں اور وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔

                تمہیں شاید یاد ہو گا…………پیر حاضر شاہ نے جواب دیا…………کہ میں نے ماضی میں ایک بار اپنی مجلس میں موجود مرزا جی کے سوال پر بتایا تھا…………کہ ہمارے نبیﷺ کا جو درجہ ہے…………اسے میری زبان بیان کرنے سے قاصر ہے اور جب کسی کا درجہ کمال عروج کی حدود سے بھی آگے نکل جاتا ہے تو ہر شئے کا وہ مختار کل ہوتا ہے۔ اب جہاں تک انہوں نے اس کے چہرہ پر نظریں ڈالتے ہوئے کہا…………تمہارے مذہب میں بے شمار دیوتائوں اور دیویوں کا تعلق ہے تو یہ صرف عقیدہ کی بات ہے…………ویسے تمہارے دیوتا اور دیویاں بھی نظام تکوین کے بغیر کچھ نہیں کر تے۔

                تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟…………پنڈت ہری رام نے پوچھا۔

                لو…………میں نے خود انہیں دربار کے ستونوں سے لگے کھڑا دیکھا ہے۔ پیر حاضر شاہ نے برجستہ جواب دیا۔

                تم انہیں کیسے دیکھ سکتے ہو؟…………پنڈت ہری رام نے اسی انداز سے پوچھا۔

                جو احکامات ملتے ہیں وہ میں ہی تو پہنچاتا ہوں…………پیر حاضر شاہ نے بتایا۔

                اصل روح ہے…………پیر حاضر شاہ نے زیر لب مسکرا کر کہا…………یہ گوشت پوست کا جسم تو صرف دکھاوا ہے۔

                تو کیا تم اپنی روح کو جسم سے جدا کر لیتے ہو…………پنڈت ہری رام نے تعجب سے پوچھا۔

                جسم مثالی روح ہی کی تو اصل ہے…………پیر حاضر شاہ نے سمجھایا…………گوشت اور ہڈیوں کے اس جسم کے اوپر اصلی جسم نورانی جسم ہوتا ہے۔ جو کہ گوشت کے مجسمہ کو محترک رکھتا ہے…………حقیقتاً وہی انسان ہوتا ہے جن لوگوں کو اپنے اس اصلی جسم یا روح پر دسترس حاصل ہو جاتی ہے …………وہی اللہ سے قریب ہو جاتے ہیں۔

                یہ تو تم نے عجیب سی بات بتائی ہے…………پنڈت ہری رام نے سوچ میں گم کہا۔

                جب ہی تو میں نے تم سے کہا …………پیر حاضر شاہ نے جواب دیا…………کہ اگر تم روحانی طاقت حاصل کرنا چاہتے ہو، اللہ کے برگزیدہ بندہ بننا چاہتے ہو تو توبہ استغفار کرو اور قرآن سے رہنمائی حاصل کرو۔

                خیر…………خیر…………پنڈت ہری رام بیچ میں بولا۔

                تم نے پھر شک و شبہ والی بات کی…………پیر حاضر شاہ نے ٹوکا۔

                اچھا اب میں چلتا ہوں…………پنڈت ہری رام نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا۔

                پیر حاضر شاہ نے بیٹھنے کا اصرار نہیں کیا…………اور وہ مصافحہ کر کے چل دیا۔

٭×××××××××××٭

                پنڈت ہری رام کے مقدمے کا فیصلہ ہو گیا۔ اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا۔ اور عدالت نے اسے شک کی بناء پر بری کر دیا۔ لیکن وہ اس طویل مقدمہ کے دوران اپنا سب کچھ گنوا بیٹھا۔ اب نہ تو اس کے پاس زمین تھی اور نہ رہنے کے لئے مکان۔ سب کچھ مقدمہ کی بھینٹ چڑھ چکا تھا۔ اب وہ ایک مفلس شخص تھا جسے ایک وقت کی روٹی بھی مشکل سے میسر ہوتی تھی۔ ان ناگفتہ حالات سے مجبور ہو کر اس نے ایک بار پھر پیر حاضر شاہ کے دروازہ پر دستک دی…………لیکن پیر حاضر شاہ…………اپنی جگہ موجود نہیں تھے…………وہ غائب تھے اور خستہ حال جھونپڑی خالی تھی۔ پنڈت ہری رام نے پڑوسیوں سے پوچھا…………تو پتہ چلا کہ اس جھونپڑی کا مکین دو تین ماہ سے کہیں چلا گیا ہے۔

                اس خبر سے پنڈت ہری رام کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ اب اس دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں تھا۔ کوئی مونس و غمخوار نہیں تھا…………اس نے بے کسی کی موت مرنے سے بہتر سمجھا کہ ایک مسجد کو اپنا مسکن بنا لیا جائے۔

                اس کی اصل شخصیت سے کوئی بھی واقف نہیں تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی مسجد کے حجرہ میں رہنے لگا۔ مسجد کی صفائی کے ساتھ ساتھ وہ دکھانے کی خاطر نماز بھی پڑھنے لگا اور مصنوعی نماز کے ساتھ ہی ساتھ اسے نماز پڑھنے کی عادت بھی ہو گئی۔ محلے کے لوگ اسے کھانے پینے کی چیزیں دینے لگے اور اس طرح اسے زندہ رہنے کا موقع مل گیا۔ نماز پڑھتے پڑھتے پنڈت ہری رام کو ایسی عادت پڑ گئی کہ اگر کبھی جماعت میں شامل نہ ہوتا تو بے چین ہو جاتا۔ جن فرض رکعتوں میں امام صاحب آیات قرآنی کی قرأت کرتے تھے وقت کے ساتھ ساتھ اسے زبانی یاد ہو گئیں تھیں۔

                نماز عشاء کے بعد…………اس مسجد کے امام صاحب درس قرآن و حدیث بھی دیا کرتے تھے۔ اس حلقہ درس میں پنڈت ہری رام ضرور شامل ہوا کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ اس پر قرآن کی افادیت واضح ہوتی چلی گئی…………اور عشق حقیقی کی آگ سینہ میں بھڑکنے لگی۔

                اب وہ اپنے حجرہ میں بھی رات گئے نماز پڑھتا رہتا تھا۔ نماز سے سکون اور لذت ملتی تھی…………وہ گھنٹوں سجدہ میں پڑا اپنے رب سے دعا کرتا رہتا تھا۔ اب اس کی ایک ہی تمنا تھی، ایک خواہش تھی کہ مدینہ منورہ پہنچ کر گنبد خضریٰ کی زیارت کرے۔

٭×××××××××××٭

                ایک رات…………وہ اپنے حجرہ میں نماز پڑھنے کے بعد سجدہ میں پڑا دعا مانگ رہا تھا کہ رب العزت مجھے معاف کر دے۔ میرے گناہوں کا کوئی شمار نہیں لیکن تیری رحمت کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔ میں بہت برا ہوں لیکن تیرے دوست پیر حاضر شاہ کا دوست ہوں۔ تیرا دوست پیر حاضر شاہ میرا محسن ہے۔ اے پروردگار اپنے دوست کے صدقہ میں میری خطائیں معاف کر دے اور مجھے روضہ اقدس کی زیارت کرا دے۔

                میں اس قابل تو نہیں ہوں لیکن تو رب العالمین ہے اور تیرے محبوب رحمت العالمینﷺ ہیں۔ میں جو کچھ بھی ہوں تیری تخلیق ہوں۔ میں گم کردہ تھا۔ اب تیرے حضور حاضر ہوں۔ اے احسن الخالقین میرے اوپر رحم فرما۔

                اچانک ہی دروازہ پر دستک ہوئی۔ پنڈت ہری رام نے سجدہ سے سر اٹھایا اور مصلے سے اٹھ کر دروازہ کھول دیا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دروازہ پر ساوتری کھڑی ہے۔

                تم…………تم…………اس کی زبان سے بمشکل تمام نکلا۔

                اب تم صحیح جگہ پر آئے ہو…………ساوتری نے اس کی حیرانگی کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ پھر اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اندر آتے ہوئے بولی۔

                اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے اس نے تمہیں سیدھی راہ دکھا دی۔

                وہ تو ٹھیک ہے…………پنڈت ہری رام نے خود پر قابو پاتے ہوئے جواب دیا لیکن اب میری صرف ایک ہی خواہش ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے اوتار کا درشن کر لوں۔

                اس لئے تو مجھے بھیجا گیا ہے…………ساوتری نے قدرے مسکرا کر جواب دیا۔

                کیا مطلب…………پنڈت ہری رام نے حیرانگی سے پوچھا۔

                اب تمہارا دل کدورت سے پاک ہو گیا ہے…………ساوتری نے جواب دیا۔ تمہارے سینہ میں محبوب خداﷺ کی تڑپ پیدا ہو چکی ہے…………اور اب تمہاری خواہش کی تکمیل کا وقت قریب ہے۔

                میں سمجھا نہیں…………پنڈت ہری رام نے معصومیت سے پوچھا۔

                تمہیں کچھ سمجھنے کی ضرورت نہیں…………ساوتری نے سمجھایا…………بس میرے ساتھ چلو۔

                پنڈت ہری رام نے تعمیل حکم میں سر جھکا دیا۔ ساوتری اسے اپنے ساتھ لئے ہوئے حجرہ سے باہر آ گئی۔ وہ دونوں کچھ دور تک ساتھ چلتے رہے۔

                اس کے بعد…………پنڈت ہری رام کا کچھ پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں گیا۔ مسجد کے امام صاحب کا کہنا تھا کہ انہوں نے رات کو ‘‘خادم مسجد’’ کو حجرہ سے ایک عورت کے ساتھ نکلتے دیکھا تھا۔

                چند دنوں تک اس کی گمشدگی کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہوتی رہیں۔ کوئی اسے پہنچا ہوا بزرگ کہتا تھا اور کوئی ولی اللہ قرار دیتا تھا…………پھر لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب کچھ بھول گئے۔

                اس کی دعائیں قبول ہو گئیں تھیں۔ اللہ تو ستر(۰۷) مائوں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔


Peer Hazir Shah

محمد مونس خان عظیمی


یہ کہانی ازل سے شروع ہوئی اور ابد تک جاری رہے گی۔ کہانی ایک ہے۔ کردار مختلف ہیں۔ یہ کردار کبھی عورت اور کبھی مرد بن جاتا ہے آج کی ہر عورت جنت کی اماں حوا ہے۔ آج کا ہر مرد جنت میں رہنے والا آدم ہے۔ عورت اور مرد کے دو روپ ہیں۔ ایک مادی اور دوسرا روحانی۔ مادی جسم مفروضہ حواس کی ایسی فلم ہے جو قید و بند کی اسکرین پر چل رہی ہے۔ روحانی جسم ایسے حواس کا مجموعہ ہے جہاں زمین، آسمان، عرش اور سارے کہکشانی نظام ایک دوسرے سے ہم رشتہ ہیں۔ میرے پیر بھائی محمد مونس عظیمی نے اس رشتے کو اجاگر کرنے کے لئے قلم کا سہارا لیا اور کرداروں کے تعین سے ہمیں بتایا کہ مادیت کے خول میں بند انسان کی آتما بے چین و بیقرار رہتی ہے۔ اس کے برعکس مادیت کے خول سے آزاد انسان بڑے بڑے پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ہے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔