Topics

پیر حاضر شاہ


                اس کہانی کے آغاز ہندوستان کی ایک چھوٹی سی ریاست کے چھوٹے سے شہر سے ہوتا ہے۔ اس شہر کے ایک محلے میں خان صاحب رہا کرتے تھے۔ شہر کے باہر آموں، انار، امرود، چیکو کے باغات تھے جو معقول آمدنی کا ذریعہ تھے۔ ان کی ایک بڑی سی حویلی تھی۔ جس میں وہ اپنے خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ رہتے تھے۔

                خان صاحب کی شادی کو کافی عرصہ ہو چکا تھا۔ اور اللہ نے انہیں چار بیٹیوں سے نوازا تھا۔ ہر کسی کے دل میں اولاد نرینہ کی خواہش ہوتی ہے۔ ان کے دل میں بھی شروع ہی سے یہ خواہش تھی…………بیٹے کی خاطر انہوں نے منتیں مانیں بڑی بڑی درگاہوں پر گئے۔ لیکن ہر بار اللہ نے انہیں ‘‘بیٹی’’ ہی عطا کی…………اور اب وہ تھک ہار کر بیٹھ رہے تھے۔

٭×××××××××××٭

                اس ریاست کے نواب صاحب سے ان کے دیرینہ مراسم تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ خان بہادر کے باپ دادا نے نواب صاحب کے باپ دادا کا دشمنوں کے خلاف وفاداری سے ساتھ دیا تھا۔ اور اس ہی پر ان کی وفاداری کے صلہ میں نواب صاحب نے نہ صرف انہیں خان صاحب اور خان بہادر کا خطاب عطا کیا تھا۔ بلکہ پھلوں کے باغات بھی بطور جاگیر عطا کئے تھے۔

                نواب صاحب انگریزوں کے باجگزار تھے اور بے چین دل و دماغ کو سکون پہنچانے کی خاطر کچھ زیادہ ہی عیاشی کرنے لگے تھے۔ ان کی آمدنی کا زیادہ حصہ انگریز دوستوں کے ساتھ غیر ممالک میں سیر و تفریح میں خرچ ہوتا تھا…………اور کبھی کبھی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شکار کھیلنے کی غرض سے اس چھوٹی سی بستی کی طرف بھی آ نکلتے تھے۔ اور جب کبھی بھی ایسا ہوتا تھا۔ تو خان بہادر کو ان کی مہمان نوازی کا شرف حاصل ہوتا تھا۔ اور پھر جب تک نواب صاحب رہتے۔ اس شہر میں بڑی ہی چہل پہل اور رونق رہتی۔ پھر جب نواب صاحب رخصت ہو جاتے تو خان بہادر شکار کیا ہوا گوشت تحفتاً اپنے دوستوں کو بھیجتے۔

٭×××××××××××٭

                خان بہادر کے یوں تو بہت سے دوست تھے۔ لیکن ان تمام دوستوں میں صرف دو ایسے شخص تھے جن سے ان کی خوب گاڑہی چھنتی تھی۔ یہ دونوں دوست ان کے بچپن کے ساتھی تھی۔

                دیوان موتی رام سنہار کا کام کرتے تھے۔ شہر میں ان کے زیورات کی دوکان تھی…………ان کا مکان بھی زیادہ دور نہیں تھا…………بس یہی دو چار گلیاں چھوڑ کر دیوان موتی رام کا بڑا سا مکان تھا۔ دیوان موتی رام کے کوئی اولاد نہیں تھی۔ لہٰذا خان بہادر کی بچیوں سے وہ بے انتہا پیار کرتے تھے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ خان بہادر کی بچیاں موتی رام کے آنگن میں پلی بڑھیں۔ ان بچیوں کی وجہ سے ان دونوں گھرانوں کے افراد بھی ایک دوسرے سے اپنوں جیسی محبت کرتے تھے۔ ان دونوں کا خلوص محبت اور دوستی سارے محلے میں مشہور تھی۔ یہ دونوں دوست ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوا کرتے تھے…………کوئی اسلامی تہوار آتا تو موتی رام اس میں حصہ ضرور لیتے، اس ہی طرح کوئی ہندوانہ تہوار آتا تو خان بہادر پیش پیش رہتے۔ ہندو مذہب میں شکار کرنا منع ہے اس کے باوجود موتی رام شکار کا گوشت بڑے ہی شوق سے کھایا کرتے، انہوں نے کبھی بھی خان بہادر کے تحفہ کو واپس نہیں کیا۔

                خان بہادر کے دوسرے بچپن کے دوست اور پرانے ساتھی ‘‘پیر حاضر شاہ’’ تھے۔

٭×××××××××××٭

                سر پر کپڑے کی گول ٹوپی۔ جس کے کنارے قدرے اوپر کو اٹھے ہوئے۔ سر کے بال گدی کی جانب سے خم کھائے ہوئے سفید چھوٹے پائنچوں کا پاجامہ اور ویسی ہی سفید بے داغ قمیض…………گلے میں سبز رنگ کا بڑا سا رومال جو کہ پیچھے کی جانب شانوں پر پھیلا رہتا ہے اور سامنے سینہ پر کونے جھولتے رہتے گلے میں سنگ سرخ کے دانوں کی بڑی سی تسبیح تین لڑیوں کی صورت میں پڑی رہتی۔ ہمیشہ سیدھے ہاتھ میں موٹا سا بید رکھتے۔ جس کی موڑی ہوئی گردن ہاتھی دانت کی بنی ہوئی تھی۔ عمر کے لحاظ سے نہ جوان، نہ بوڑھے۔

                سینہ نہایت ہی کشادہ اور شانے بھرے ہوئے…………آنکھیں بڑی بڑی جن میں ہر وقت ہلکے سرخ رنگ کے ڈورے دکھائی دیتے تھے، بات کرنے کا انداز قدرے تیکھا۔ لیکن لہجہ نہایت شیریں، مسکراتے تو ہونٹ بھینچ کر، ہنستے تو منہ کھول کر جس سے دانت موتیوں کی طرح چمکتے دکھائی دیتے۔ چلتے تو یوں معلوم ہوتا کہ پنجوں کے بل چل رہے ہیں، چہرے پر سیاہ داڑھی بھی تھی جو کہ نہایت ہی سلیقہ سے تراشی ہوئی تھی۔ داڑھی کے کناروں سے رخساروں کی چمک صاف دکھائی دیتی تھی۔

٭×××××××××××٭

                مسجد سے تھوڑے ہی فاصلہ پر ان کا دو کمروں کا کچا سا مکان تھا۔ جس میں وہ اپنے ایک جواں سال خادم یا مرید کے ہمراہ رہا کرتے تھے۔ ان کے دادا یا اور کوئی۔ کسی غیر ملکی بادشاہ کے ہمراہ ہندوستان آئے تھے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔

                دادا نے سپاہ گری کی…………باپ نے سوداگری کی اور اب یہ جو اپنے خاندان کے آخری چشم و چراغ رہ گئے تھے۔ پیر بن بیٹھے تھے۔

                وہ واقعی پیر تھے یا نہیں…………روحانیت میں انہیں دسترس حاصل تھی یا نہیں…………وہ عشق طریقت کی منزل پر فائز تھے یا نہیں…………انہیں مکافات عمل میں دخل تھا یا نہیں یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔ فی الحال تو لوگوں میں یہ مشہور تھا کہ وہ خود ساختہ پیر ہیں۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے بس لوگوں پر رعب جمانے اور دنیا کمانے کی خاطر پیر بنے بیٹھے ہیں۔

 

                ان کے دروازے سے ذرا ہٹ کر پیپل کا ایک ہت ہی پرانا اور بڑا سا درخت تھا۔ جس کی شاخوں سے جڑیں نکل نکل کر زمین کو چھو رہی تھیں۔ اس درخت کے نیچے ایک قبر تھی وہ لوگوں کو بتاتے تھے کہ یہ ان کی اپنی قبر ہے…………اور جب لوگ پوچھتے کہ حضرت آپ قبر کے باہر کیسے ہیں۔ تو وہ نہایت ہی رازداری سے کہتے:

                ‘‘بھئی ہم پیر ہیں۔’’

                قبر کے اندر رہیں یا باہر کوئی فرق نہیں پڑتا…………اس ہی وجہ سے تو ہم ‘‘حاضر’’ ہیں۔ لوگ ان کی منطقی و غیر منطقی باتوں پر غور کرنے کی بجائے طرح طرح کی باتیں کیا کرتے تھے…………اور وہ پیر حاضر شاہ کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔ یہ نام ان پر کچھ اس طرح سے چسپاں ہوا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ ان کا اصلی نام بھی بھول گئے تھے۔

٭×××××××××××٭

                محلے چند بڑے بوڑھوں کا کہنا تھا کہ یہ بڑی ہی منتوں اور دعائوں کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر دعا مانگی تھی۔

                شیر خواری سے گزر کر جب انہوں نے بچپن میں قدم رکھا جب ہی سے یہ ناقابل فہم اور بے تکی سی باتیں کرنے لگے تھے۔ ان کے والدین علاج کرانے کی غرض سے بڑے بڑے شہروں میں گھومتے رہے۔ پیروں فقیروں کے پاس جاتے رہے۔ لیکن ان کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا…………کسی کوٹھری کے کونے میں سر جھکائے گھنٹوں گم سم سے بیٹھے رہتے اور کبھی کبھی گردن اٹھا کر کوئی ایسی بات کہہ دیتے جسے کوئی بھی آسانی سے نہیں سمجھ پاتا۔

                ان کے گھر کے سامنے تھوڑے ہی فاصلہ پر مسجد تھی۔ جہاں یہ بچپن ہی سے پانچوں وقت اذان دیا کرتے تھے۔ ان کے گلے میں بلا کا سوز تھا…………اور صبح فجر کی اذان دیتے ہوئے جب وہ ‘‘الصلوٰۃ خیر من النوم’’ کہتے تو بے خبر سونے والے بھی تڑپ کے جاگ پڑتے تھے۔

                دن کو سورج نکلنے کے بعد وہ مسجد میں بچوں کو قرآن پڑھایا کرتے تھے اور اس دوران وہ کسی سے بھی ملنا پسند نہیں کرتے تھے۔

٭×××××××××××٭

                عشاء کی نماز کے بعد وہ پیپل کے موٹے سے تنے کے ساتھ بنے ہوئے چبوترہ پر ضرور آ کر بیٹھا کرتے تھے۔ آندھی ہو یا بارش…………سخت گرمی ہو یا سردی۔ یہ ان کا برسوں کا معمول تھا۔ وہ جونہی چبوترہ پر آ کر بیٹھتے تھے ان کا خاص ملازم گھر کے اندر سے لالٹین اٹھائے نمودار ہوتا اور نہایت ہی ادب سے ان کے پیچھے آ کر کھڑا ہو جاتا…………پھر وہ دونوں ہی آہستہ آہستہ ‘‘درود شریف’’ پڑھنے لگتے۔ اس دوران اگر کوئی آ جاتا اور بات کرنا چاہتا تو پیر حاضر شاہ جواب نہیں دیتے۔ پورے ایک ہزار بار درود شریف پڑھنے کے بعد وہ آنکھیں کھولتے اور بات کرتے۔

                لوگ ہنس ہنس کر طنزیہ انداز میں ان سے پیری فقیری کے بارے میں باتیں کرتے۔ تصوف کے رموز پوچھتے اور بعض دفعہ فلسفہ، روحانیت و وحدانیت پر بحث و مباحثہ بھی شروع کر دیتے۔ پیر حاضر شاہ نہایت ہی خندہ پیشانی سے باتیں سنتے اور خوش اخلاقی سے جواب دیتے۔ لوگ ان سے مذاق میں پوچھتے کہ آپ پیر کیسے بن گئے؟ تو وہ نہایت ہی تمکنت سے کہتے کہ بھئی ہم تو پیدائشی پیر ہیں…………اور اپنی مرضی کے مالک ہیں جو چاہیں کر سکتے ہیں۔

                لوگ ان کی یہ بات سن کر طنزیہ فقرے کستے…………لو بھئی ان کی سنو…………یہ اپنی مرضی کے مالک ہیں اور جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ دوسرا دل جلا کہتا۔ خدا کو ان کے علاوہ اور کوئی ملا ہی نہیں جسے وہ مرضی کا مالک بنا دیتا۔ بڑے میاں سٹھیا گئے ہیں…………کفر بکتے ہیں…………وغیرہ وغیرہ۔ لوگ اس ہی طرح کی باتیں کرتے۔ لیکن ان کی پیشانی پر بل تک نہیں آتا۔

٭×××××××××××٭

                شمشو…………جو ان کا خاص خادم تھا…………لوگوں کی گستاخانہ باتیں سن کر ان کی طرف اس طرح غصہ سے گھورتا جیسے اس کا بس چلے تو ان سب کو کچا ہی چبا جائے۔ وہ جب بھی اس طرح لوگوں کو گھور کر دیکھتا پیر حاضر شاہ کو فوراً ہی معلوم ہو جاتا اور وہ اسے سخت لہجہ میں ڈانٹ کر کہتے۔ اے شمشو! اپنی نظریں نیچی رکھا کر…………اور شمشو فوراً ہی سہم کر اپنی نظریں زمین پر گاڑ دیتا۔ اس کی آنکھیں واقعی بہت خوفناک تھیں۔ بڑی بڑی قدرے گول چمکدار آنکھیں جن کے کناروں پر گہری سرخی تھی۔ وہ جس کی طرف ایک بار نظر اٹھا کر دیکھ لیتا تھا۔ وہ ایک بار تو خوف سے کپکپا کر رہ جاتا تھا۔

                شمشو کے بارے میں لوگوں کو صرف اس قدر ہی معلوم تھا کہ پچھلے برسوں نجانے کونسی بیماری کے سلسلہ میں ان کے پاس آیا تھا۔ انہوں نے اسے پڑھا ہوا پانی دیا۔ اور وہ پانی پی کر دو چار دن ہی میں تندرست ہو گیا تھا اور پھر بجائے واپس جانے کے ان ہی کا ہو رہا۔ شمشو نہ صرف جسمانی لحاظ سے تندرست و توانا تھا بلکہ اس کی چند حرکتیں بھی عام لوگوں سے مختلف تھیں…………وہ اس وقت تک جب تک کہ پیر حاضر شاہ اٹھ نہیں جاتے لالٹین ہاتھ میں تھامے پتھر کے بے جان مجسمہ کی مانند کھڑا رہتا۔ بات وہ تو کرتا ہی نہیں تھا اگر پیر حاضر شاہ کوئی حکم دیتے تو پلک جھپکتے میں بجا لاتا۔ اس کی چال نہایت تیز تھی۔ اگر وہ کوئی بات پوچھتے تو ‘‘ہوں’’ ہاں’’ میں جواب دیتا۔ اسے بولتے تو کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ لیکن ایک دو آدمیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے شمشو کی آواز سنی ہے۔ اس کی آواز بالکل اس طرح کی ہے جیسے دور کہیں بادل گرج رہے ہوں۔

٭×××××××××××٭

                اس بار جب نواب صاحب شکار کھیل کر چلے گئے تو خان بہادر نے حسب دستور شکار کئے ہوئے جانوروں کا گوشت اپنے دوستوں میں تقسیم کرایا۔ اور کچھ گوشت ایک تھال میں لے کر پیر حاضر شاہ کے پاس پہنچ گئے۔ جب خان بہادر ان کے گھر پہنچے تو کافی دن چڑھ آیا تھا اور پیر حاضر شاہ شمشو کے ہمراہ مسجد میں بچوں کو قرآن پاک پڑھانے جا رہے تھے…………خان بہادر کو دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ کچھ لائے ہیں۔ لہٰذا دروازہ کے درمیان روک کر پوچھا…………کہو بھئی ہمارے لئے کچھ لائے ہو کیا؟

                ہاں! گوشت لایا ہوں…………خان بہادر نے جواب دیا۔ آج صبح نواب صاحب محل چلے گئے۔ لہٰذا سوچا کہ سب سے پہلے آپ کو حصہ پہنچا دوں۔

                یہ کہہ کر انہوں نے تھال آگے بڑھا دیا۔ پیر حاضر شاہ نے تھال پر پڑا ہوا کپڑا چٹکی سے پکڑ کر ذرا سا ہٹا کر دیکھا اور پھر نہایت ہی سپاٹ لہجہ میں کہا۔ یہ تو حرام ہے۔

                خان بہادر یہ سنتے ہی چونک پڑھے۔ پیر حاضر شاہ ہرن کے گوشت کو حرام کہہ رہے تھے۔ ان کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور وہ کسی قدر ناگواری سے بولے۔ یہ تم کس طرح کہہ سکتے ہو؟

                ہاں بھئی ہمیں کیا معلوم…………انہوں نے بھولے پن سے کہا۔ یہ شمشو کہتا ہے۔

                شمشو کا نام سن کر خان بہادر نے اس کی طرف دیکھا اور چڑ کر کہا۔ اسے کیا معلوم…………یہ کیا جانتا ہے؟…………پیر حاضر شاہ نے قدرے تعجب سے کہا۔ اسے تو سب کچھ معلوم ہے۔

                یہ بھی تمہاری طرح پیر ہے کیا؟…………خان بہادر نے اس ہی انداز میں طنز کیا۔

                پیر نہ سہی…………پیر حاضر شاہ نے سپاٹ لہجہ میں جواب دیا۔ پیر کی صحبت میں تو رہتا ہے اور تم تو جانتے ہو کہ پارس سے چھو کر تانبا سونا بن جاتا ہے۔

                یہ تو ٹھیک ہے۔ خان بہادر نے جواب دیا۔ لیکن اس کی یہ حرام و حلال والی بات اپنی سمجھ میں نہیں آئی۔ تمہاری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ پیر حاضر شاہ نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ بس شمشو نے جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے جانے کے لئے قدم بڑھایا۔ خان بہادر نے روکتے ہوئے کہا۔ واہ…………یہ کیا بات ہوئی۔ تمہارا خادم جو کہہ دے گا سچ مان لو گے۔

                یہ جھوٹ نہیں بول سکتا…………پیر حاضر شاہ نے رازداری سے کہا۔

                اس کے سچ بولنے کا ثبوت کیا ہے؟ خان بہادر نے جھنجھلا کر پوچھا۔

                پیر حاضر شاہ نے ایک نظر شمشو کی طرف دیکھا۔ وہ نظریں جھکائے پیچھے ہی کھڑا تھا…………پھر انہوں نے خان بہادر کی طرف جھک کر سرگوشی سے کہا۔ اس کی آنکھیں دیکھتے ہو؟…………یہ سات پردوں کے پیچھے تک دیکھ لیتا ہے۔

 

 

 

 


 


Peer Hazir Shah

محمد مونس خان عظیمی


یہ کہانی ازل سے شروع ہوئی اور ابد تک جاری رہے گی۔ کہانی ایک ہے۔ کردار مختلف ہیں۔ یہ کردار کبھی عورت اور کبھی مرد بن جاتا ہے آج کی ہر عورت جنت کی اماں حوا ہے۔ آج کا ہر مرد جنت میں رہنے والا آدم ہے۔ عورت اور مرد کے دو روپ ہیں۔ ایک مادی اور دوسرا روحانی۔ مادی جسم مفروضہ حواس کی ایسی فلم ہے جو قید و بند کی اسکرین پر چل رہی ہے۔ روحانی جسم ایسے حواس کا مجموعہ ہے جہاں زمین، آسمان، عرش اور سارے کہکشانی نظام ایک دوسرے سے ہم رشتہ ہیں۔ میرے پیر بھائی محمد مونس عظیمی نے اس رشتے کو اجاگر کرنے کے لئے قلم کا سہارا لیا اور کرداروں کے تعین سے ہمیں بتایا کہ مادیت کے خول میں بند انسان کی آتما بے چین و بیقرار رہتی ہے۔ اس کے برعکس مادیت کے خول سے آزاد انسان بڑے بڑے پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ہے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔