Topics
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
کرنوں میں یہ حلقے کیسے پڑے؟ ہمیں یہ تو علم ہے کہ ہمارے کہکشانی نظام میں بہت سے
اسٹار یعنی سورج ہیں، وہ کہیں نہ کہیں سے روشنی لاتے ہیں، ان کا درمیانی فاصلہ کم
سے کم پانچ نوری سال بتایا جاتا ہے جہاں ان کی روشنیاں آپس میں ٹکراتی ہیں، وہ
روشنیاں چونکہ قسموں پر مشتمل ہیں اس لئے حلقے بنا دیتی ہیں جیسے ہماری زمین یا
اور سیارےاس کا مطلب یہ ہوا کہ سورج سے یا کسی اور اسٹار سے جن کی تعداد ہمارے
کہکشانی نظام میں دو کھرب بتائی جاتی ہے، ان کی روشنیاں سنکھوں کی تعداد پر مشتمل
ہیں اور جہاں ان کا ٹکراؤ ہوتا ہے وہیں ایک حلقہ بن جاتا ہے جسے سیارہ کہتے ہیں۔
اب فوٹان میں اسپیس پیدا
ہو جاتا ہے اور اسپیس کے چھوٹے سے چھوٹے ذرے کو الیکٹران کہتے ہیں جہاں فوٹان اور
الیکٹران دونوں ٹکراتے ہیں وہیں سے نگاہ رنگ دیکھنا شروع کر دیتی ہے، رنگ کیا ہے؟ کیوں
ہے؟ نگاہ کیا ہے، کیوں ہے، نگاہ کی تیزی کیا ہے اور کیوں ہے اس سے ہمیں بحث نہیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی
یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ
عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی
تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں
روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور
میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے
کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے
روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق
سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ
بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔