Topics
ابن منکدر سے روایت ہے کہ
حضرت سفینہؓ جو رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے غلام تھے ایک مرتبہ سر زمین روم
میں اپنے اسلامی لشکر کا راستہ بھول گئے۔ وہ راستہ تلاش کر رہے تھے کہ دشمنان
اسلام نے انہیں گرفتار کر لیا۔ ایک دن قید سے بھاگ کر راستہ تلاش کر رہے تھے کہ ان
کی ایک شیر سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ چنانچہ حضرت سفینہؓ نے اس شیر کو کنیت سے پکار کر
کہا: اے ابوالحارث! سن میں رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا غلام ہوں اور میں
راستہ بھول گیا ہوں۔ جنگل کا شیر یہ سن کر ان کے سامنے کھڑے ہو کر دم ہلانے لگا۔
اور پھر ان کے برابر چلنے لگا۔ اسے جب کوئی آواز سنائی دیتی تو وہ فوراً ادھر کا
رخ کر لیتا اور پھر آپ کے ساتھ بغل میں چلنے لگتا۔ جب حضرت سفینہؓ اپنے اسلامی
لشکر میں پہنچ گئے تو شیر واپس لوٹ گیا۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی
یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ
عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی
تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں
روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور
میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے
کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے
روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق
سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ
بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔