Topics

دادی اماں کی بات

 

۔۔۔۔۔۔بیٹا انتظار کر۔۔۔۔۔۔

بھی ذہن سے نکل گئی۔

جب میں دنیا میں اچھی طرح لتھڑ گیا، کثافت میرے جسم کا میل بن گئی، وسوسوں نے زندگی کو بے کیف کر دیا۔ خوف نے لقمہ تر سمجھ کر مجھے نگل لیا۔ جھوٹی انا اور پر فریب وقار کے جال میں بے دست و پا ہو گیا تو۔۔۔۔۔۔

میں نے خواب میں دیکھا کہ۔۔۔۔۔۔

ایک بزرگ مجھے شفاف چشمے کے پانی سے نہلا رہے ہیں۔ جسم میں تعفن اٹھ رہا ہے۔ ایسا تعفن جس کو سونگھ کر بار بار قے ہو رہی ہے۔

بزرگ نے مجھے نہلا دھلا کر سفید چادر میں لپیٹا اور کہا:

دادی کے پاس جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

آنکھ کھلی تو دنیا بدل چکی تھی۔ کانوں میں دادی اماں کی آواز آنے لگی۔

بیٹا! تو اتنا بودا اور کمزور ہے کہ سب بھول گیا۔

تو اللہ کی دی ہوئی نعمت کو بھی بھول گیا۔

ظہر کی نماز کے وقت سے مغرب کی نماز تک مسجد میں بیٹھنا میرا معمول بن گیا۔ ایک ہی بات ورد زبان تھی۔

‘‘اے اللہ !اپنا فرستادہ عظیم بندہ ملا دے۔‘‘

اللہ سے اپنی کوتاہی کی معافی مانگتا تھا۔ آہ و زاری کرتا تھا اللہ کو پکارتا تھا۔

’’اے اللہ! عظیم بندہ کہاں ڈھونڈوں؟‘‘

تلاش میں پیر تھک گئے۔ دل ڈوب گیا، آنکھیں پتھر بن گئیں۔ نیند روٹھ گئی۔

بھوک و پیاس نے منہ موڑ لیا۔

یاد میں فراق میں اور فریاد میں دن رات گزرتے رہے۔

دوستوں نے کہا وظیفوں کی رجعت ہو گئی۔۔۔۔۔۔عاملوں کاملوں نے اشارہ کیا۔ آسیب لپٹ گیا ہے۔۔۔۔۔۔کوئی جادو ٹونے کا چکر ہے۔ جتنے منہ اتنی ہی باتیں۔ میں اپنی آگ میں جلتا رہا۔ قریب تھا کہ مادی وجود جل کر کوئلہ بن جائے کہ

عصر کے بعد اور غروب آفتاب سے پہلے

یہ خبر کانوں میں رس گھول گئی۔۔۔۔۔۔

بھائی عظیم نقاد کے دفتر میں کام کرتے ہیں۔

افتاں و خیزاں رھڑکتے دل کے ساتھ محبوب کے حضور حاضری ہوئی۔ پہلی مرتبہ وصال کی لذت سے آشنا ہوا۔

اسرار و رموز سے بھرے ہوئے سینے سے مجھے چمٹا لیا۔

پیشانی پر بوسہ دیا، آنکھوں کو چوما۔۔۔۔۔۔عید ہو گئی۔

آندھی، برسات، گرمی، سردی روزانہ شام کے وقت دو سال تک محبوب کا دیدار ہوتا رہا اور پھر محبوب نے اپنے قدموں سے چل کر میرے گھر کو اپنے نور سے منور کر دیا۔ گھر میں رونق آ گئی۔ طویل عرصہ تک شب و روز محبوب کے قدموں میں زندہ رہا۔ کوتاہ بینی سے کبھی محبوب کی نظر میں اپنائیت نہیں دیکھتا تھا تو میں موت کے گلے لگ جاتا۔

موت اور زندگی کی لڑائی میں محبوب نے کبھی موت کی فتح کو قبول نہیں کیا۔

دماغ آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ محبوب کون ہے، میں یا میری زندگی؟

عنایات خسروانہ اور لطف و کرم یہ بتاتا ہے کہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ عظیم بندہ کو اپنا محبوب کہوں۔ عظیم بندہ خود ہی محب ہے اور خود ہی محبوب۔

میں نے اس عظیم بندے کے چودہ سال کے شب و روز دیکھے ہیں۔ ذہنی، جسمانی اور روحانی معمولات میرے سامنے ہیں۔ میں نے اس عظیم بندہ کے دل میں رسول اللہﷺ کو دیکھا ہے۔ میں نے اس عظیم بندہ کے من مندر میں اللہ کو دیکھا ہے۔ میں نے اس عظیم بندہ کے نقطۂ وحدانی میں کائنات اور کائنات کے اندر اربوں کھربوں سنکھوں مخلوق کو ڈوریوں میں باندھے ہوئے دیکھا ہے۔

میں نے دیکھا ہے کہ کائنات کی حرکت اس عظیم بندہ کی ذہنی حرکت پر قائم ہے۔ اس لئے کہ یہ اللہ کا خلیفہ ہے۔ میں نے اس بندہ کی زبان سے اللہ کو بولتے سنا ہے۔

گفتہ اور گفتہ اللہ بود

گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

عظیم بندہ جسے آسمانی دنیا میں فرشتے قلندر بابا اولیاءؒ کے نام سے پکارتے ہیں، نے مجھے خود آگاہی دی ہے۔ ڈر اور خوف کی جگہ میرے دل میں اللہ کی محبت انڈیل دی ہے۔ قلندر بابا اولیاءؒ نے میری تربیت اس بنیاد پر کی ہے کہ یہاں دو طرز فکر کام کر رہی ہیں۔

ایک شیطانی طرز فکر ہے جس میں شک، وسوسہ، حسد، لالچ، نفرت، تعصب اور تفرقہ ہے۔

دوسری طرز فکر انبیاء کی طرز فکر ہے۔ جس میں محبت، اخوت، خلوص، صدق مقال، ایثار ، اللہ کی مخلوق سے محبت اور خود اپنی روح سے محبت کے تقاضے ہیں۔ جو بندہ اللہ کی محبت سے آشنا ہو جاتا ہے اسے اللہ اپنا دوست بنا لیتا ہے اور جو بندہ تعصب، تفرقہ اور خود نمائی کے خول میں بند رہتا ہے اسے شیطان اپنا دوست بنا لیتا ہے۔

Topics


Ism E Azam

خواجہ شمس الدین عظیمی


نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔