Topics
حضرت ابن عمرؓ سے روایت
ہے کہ فاروق اعظمؓ نے جناب ساریہ کی قیادت میں جہاد کی غرض سے ایک لشکر روانہ
فرمایا تھا۔ حضرت فاروق اعظمؓ ایک دن خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اس خطبہ کے دوران میں
فرمانے لگے اے ساریہ! پہاڑ کی طرف ہٹ جا آپ نے تین دفعہ اسی طرح فرمایا کیونکہ
پہاڑ کی طرف ہٹ جانے سے مسلمانوں کے غالب ہو جانے کی امید تھی جب تھوڑے دنوں بعد
اس فوج کا قاصد آیا تو فاروق اعظمؓ نے اس سے لڑائی کا حال پوچھا۔ قاصد نے عرض کیا۔
اے امیر المومنین! ایک دن شکست کھانے ہی والے تھے کہ ہمیں ایک آواز سنائی دی جیسے
کوئی پکار کر کہہ رہا ہے کہ اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہٹ جا۔ اس آواز کو ہم نے تین
مرتبہ سنا اور ہم نے پہاڑ کی طرف پیٹھ کر کے سہارا لیا ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان
مشرکین کو شکست فاش دی۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے فاروق اعظمؓ سے کہا۔
جبھی تو آپ جمعہ کے دن خطبہ کے درمیان بار بار پکار رہے تھے۔ یہ پہاڑ جہاں ساریہ
اور ان کی فوج تھی مشرق کے شہر نہاوند میں تھا۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی
یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ
عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی
تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں
روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور
میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے
کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے
روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق
سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ
بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔