Topics

انسان اور لوح محفوظ

 

انسان کا ذہن اور طرز فکر ماحول سے بنتی ہے جس قسم کا ماحول ہوتا ہے اس ہی طرز کے اعمال کے نقوش در و بست یا کم و بیش ذہن میں نقش ہو جاتے ہیں۔ جس حد تک یہ نقوش گہرے یا ہلکے ہوتے ہیں، اسی مناسبت سے انسانی زندگی میں طرز فکر یقین بن جاتی ہے۔ اگر کوئی بچہ ایسے ماحول میں پرورش پاتا ہے جہاں والدین اور اس کے ارد گرد ماحول کے لوگ ذہنی پیچیدگی، بددیانتی اور تمام ایسے اعمال کے عادی ہوں جو دوسروں کے لئے ناقابل قبول اور ناپسندیدہ ہیں تو بچہ لازمی طور پر وہی طرز قبول کر لیتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی بچہ کا ماحول پاکیزہ ہے تو وہ پاکیزہ نفس ہو گا۔ عام مشاہدہ یہ ہے کہ بچہ وہی زبان سیکھتا ہے جو ماں باپ بولتے ہیں۔ وہی عادات و اطوار اختیار کرتا ہے جو اس کے والدین سے ورثہ میں اسے منتقل ہوتے ہیں۔ بچے کا ذہن آدھا والدین کا ورثہ ہوتا ہے اور آدھا ماحول کے زیر اثر بنتا ہے۔ یہ مثال صرف بچوں کیلئے مخصوص نہیں، افراد اور قوموں پر بھی یہی قانون نافذ ہے۔ ابتدائے آفرینش سے تاایں دم جو کچھ ہو چکا ہے، ہو رہا ہے یا آئندہ ہو گا وہ سب کا سب نوع انسانی کا ورثہ ہے اور یہی ورثہ قوموں میں اور افراد میں منتقل ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔

Topics


Ism E Azam

خواجہ شمس الدین عظیمی


نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔