Topics
روح سے واقفیت حاصل کرنے
کے لئے ضروری ہے کہ دنیاوی دلچسپیاں کم کر کے زیادہ سے زیادہ وقت ذہن کو اللہ کی
طرف متوجہ رکھا جائے۔ روحانیت میں ایک نقطے پر توجہ کو مرکوز کرنے کا نام مراقبہ
ہے۔ یعنی خود آگاہی اور روح سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے مراقبہ کرنا ضروری ہے۔
مراقبہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرف سے توجہ ہٹا کر ایک ذات اقدس و اکبر سے ذہنی رابطہ
قائم کر لیا جائے۔
جب کسی بندے کا رابطہ
اللہ تعالیٰ سے قائم ہو جاتا ہے اور اس کے اوپر سے مفروضہ حواس کی گرفت ٹوٹ جاتی
ہے تو وہ مراقبہ کی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے۔ مراقبہ ایسے عمل کا نام ہے جس میں
کوئی بندہ بیداری کی حالت میں رہ کر بھی اس عالم میں سفر کرتا ہے جس کو ہم روحانی
دنیا کہتے ہیں۔ روحانی دنیا میں داخل ہونے کے بعد بندہ اس خصوصی تعلق سے واقف ہو
جاتا ہے۔ جو اللہ اور بندے کے درمیان بحیثیت خالق و مخلوق ہر لمحہ اور ہر آن موجود
ہے۔
سوال: مخلوق کو کیوں پیدا
کیا گیا؟
جواب: اللہ تعالیٰ ایک
چھپا ہوا خزانہ تھا۔ اس کا دل چاہا کہ وہ پہچانا جائے سو اس نے اپنی محبت خاص سے
تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
(حدیث قدسی)
سوال: اللہ تعالیٰ کو
پہچاننے کا طریقہ کیا ہے؟
جواب: پہلے یہ ضروری ہے
کہ ہم خود کو پہچانیں اور ہمیں یہ بات معلوم ہو کہ ہم مخلوق ہیں۔ اور ہمارا پیدا
کرنے والا اللہ ہے اور جو آدمی پیدا ہوتا ہے بالآخر مر جاتا ہے۔ جب مر جاتا ہے تو
گوشت پوست کے جسم کی حیثیت کچھ نہیں رہتی۔ مطلب یہ ہے کہ خود کو پہچاننا اس وقت
ممکن ہے جب ہمیں اس بات کا یقین ہو جائے کہ گوشت پوست کا جسم (Fiction) اور مفروضہ ہے۔ گوشت پوست کے آدمی کا دماغ دو حصوں سے مرکب ہے۔
ایک دماغ سیدھی طرف اور دوسرا الٹی طرف ہے۔ سیدھی طرف کے دماغ کا نام لاشعور اور
الٹی طرف کے دماغ کا نام شعور ہے۔ سیدھی طرف کے دماغ میں وہ علوم محفوظ ہیں جو
اللہ تعالیٰ نے آدم کو سکھائے اور الٹی طرف کے دماغ میں وہ علوم محفوظ ہیں جو
نافرمانی کے ارتکاب سے وجود میں آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اور جب تیرے رب نے
فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک نائب
بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے
جو فساد پھیلائے اور خون بہائے حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے اور
تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ فرمایا میں جو کچھ جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ اور اللہ
نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھائے پھر ان سب چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا،
پھر فرمایا مجھے ان کے نام بتاؤ اگر تم سچے ہو۔ انہوں نے کہا تو پاک ہے۔ ہم تو
اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں بتایا ہے۔ بے شک تو بڑا علم والا، حکمت والا
ہے۔ فرمایا اے آدم! ان چیزوں کے نام بتا دو، پھر جب آدم نے ان کے نام انہیں بتائے
تو فرمایا کہ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی
چیزیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے اور جو چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہوں۔‘‘
(آیت ۳۰۔۳۳، سورہ البقرہ)
آیت مبارکہ سے پتہ چلتا
ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو وہ علوم سکھا دیئے جو فرشتے نہیں جانتے۔ اس علم کی
اگر درجہ بندی کی جائے تو چھ عنوان بنتے ہیں اور ہر عنوان ایک دائرہ ہے۔ اس طرح یہ
علم چھ دائروں پر محیط ہے۔
سوال: چھ دائرے کیا ہیں؟
جواب: جس طرح کسی مکان کے
لئے بنیاد، کرسی کے لئے چار ٹانگوں اور گاڑی کے لئے پہیوں کا ہونا ضروری ہے اسی
طرح روح کے اندر تین رخ یا تین پرت کام کر رہے ہیں۔
سوال: تین پرت سے کیا
مراد ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے
فرمایا ہے:
’’ہم نے آدم کو علم
الاسماء سکھا دیئے۔‘‘
جس وقت اللہ تعالیٰ نے
آدم کو علم الاسماء سکھائے اس وقت آدم کے سامنے تین چیزیں تھیں۔ ایک خود آگاہی،
دوسرے فرشتہ اور تیسری وہ ذات حق جس نے علم سکھایا۔ مفہوم یہ ہے کہ جب آدم کو علم
الاسماء سکھایا گیا تو اسے تین علوم منتقل ہوئے۔ اور ہر علم دو رخ سے مرکب ہے۔ اس
طرح یہ علم چھ رخ یا چھ دائروں پر محیط ہے۔ ان چھ رخوں یا چھ نقطوں یا چھ دائروں
کو روحانیت میں لطائف ستہ(Six Generators) کہا جاتا ہے۔ ان چھ جنریٹرز کے نام یہ ہیں:
پہلا۔۔۔۔۔۔جنریٹر نفس
دوسرا۔۔۔۔۔۔جنریٹر قلب
تیسرا۔۔۔۔۔۔جنریٹر روح
چوتھا۔۔۔۔۔۔جنریٹر سر
پانچواں۔۔۔۔۔۔جنریٹر خفی
چھٹا۔۔۔۔۔۔جنریٹر اخفی
پہلے دو دائروں(Generators) نفس اور قلب کو روح حیوانی کہتے ہیں۔ دوسرے دو دائروں روح اور سر
کا نام روح انسانی ہے۔ تیسرے دو دائرے خفی اور اخفی روح اعظم ہے۔
روح حیوانی ان خیالات و
احساسات کا مجموعہ ہے جس کو بیداری کہا جاتا ہے۔ آدمی اس آب و گل کی دنیا میں خود
کو ہر قدم پر کشش ثقل(Force of Gravitation) میں پابند محسوس کرتا ہے۔ کشش ثقل کی زندگی میں کھانا، پینا،
سونا، جاگنا، شادی بیاہ اور دنیاوی سارے کام روح حیوانی کرتی ہے۔
روح انسانی ان احساسات و
کیفیات کا مجموعہ ہے جو زندگی گزارنے کے تقاضے فراہم کرتی ہے۔ اور ہمیں اس بات کی
اطلاع فراہم کرتی ہے کہ اب ہمیں غذا کی ضرورت ہے۔ اور اب ہمیں پانی کی ضرورت ہے۔
ہم ان تقاضوں کا نام بھوک پیاس وغیرہ وغیرہ رکھتے ہیں۔ بچوں کی پیدائش کا تعلق روح
حیوانی سے ہے لیکن ماں کے دل میں بچوں کی محبت بچوں کی پرورش اور اچھی سے اچھی
تربیت کا رجحان روح انسانی کے تقاضے ہیں۔ روح انسانی کے تحت احساسات و کیفیات کو
ہم خواب کے نام سے بھی جانتے اور پہچانتے ہیں۔ جب ہم سوتے ہیں تو روح حیوانی کے
اوپر نیند طاری ہو جاتی ہے، اور روح انسانی بیدار ہو جاتی ہے۔ روح انسانی کے لئے
ٹائم اور اسپیس رکاوٹ نہیں بنتے۔ یعنی جب ہم روح انسانی میں زندگی گزارتے ہیں تو
ہمارے لئے ہزاروں میل کا سفر کرنا اور دیوار میں سے پار ہو جانا یا ہزاروں میل کے
فاصلے پر کوئی چیز دیکھ لینا، دوسروں تک اپنے خیالات پہنچا دینا، مخاطب کے خیالات
پڑھ لینا، جنات اور فرشتوں سے ملاقات کرنا اور مرے ہوئے لوگوں کی روحوں سے ملاقات
کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔
روح حیوانی کے اندر رہتے ہوئے ہم ہر قدم پر مجبور ہیں،
پابند ہیں۔
لیکن روح انسانی ہمارے
اوپر آزادی کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ ایسا دروازہ جس میں ہمارے اوپر سے کشش ثقل ختم
ہو جاتی ہے۔ روح حیوانی کے حواس میں ہم دیوار کے پیچھے نہیں دیکھ سکتے بلکہ حواس
اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ ا گر ہماری آنکھوں کے سامنے کوئی باریک کاغذ بھی رکھ دیا
جائے تو ہم یہ نہیں دیکھ سکتے کہ کاغذ کی دوسری طرف کیا ہے۔
اس کے برعکس روح انسانی
میں ہمارے حواس اتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ ہم زمین کی حدود سے باہر دیکھ لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ رحمٰن میں فرمایا ہے:
’’اے گروہ جنات اور گروہ
انسان! تم زمین اور آسمان کے کناروں سے نکل کر دکھاؤ، تم نہیں نکل سکتے مگر سلطان
سے۔‘‘
تصوف میں سلطان کا ترجمہ
روح انسانی ہے یعنی انسان کے اندر جب روح انسانی کے حواس کام کرنے لگتے ہیں تو وہ
زمین و آسمان کے کناروں سے نکل جاتا ہے۔
سوال: روح انسانی سے آشنا
ہونے کا طریقہ کیا ہے؟
جواب: ہمارا روزمرہ کا
مشاہدہ ہے کہ ہم جب پوری توجہ کے ساتھ کسی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں تو باقی دوسری
باتیں عالم بے خیالی میں چلی جاتی ہیں۔ کسی ایک بات پر ہماری توجہ مستقل مرکوز رہے
تو وہ بات پوری ہو جاتی ہے۔ مثلاً ہم کسی دوست یا رشتہ دار کے بارے میں سوچتے ہیں
اور اس طرح سوچتے ہیں کہ ہمارا ذہن ہر طرف سے ہٹ کر اس کی شخصیت میں جذب ہو جائے تو
وہ ہمارے سامنے آ موجود ہوتا ہے۔
روح اعظم میں وہ علوم
مخفی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تجلی، مشیت اور حکمت سے متعلق ہیں۔ اس دائرے سے متعارف
بندہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا عارف ہوتا ہے۔ یہی برگزیدہ بندے ہیں جن کے بارے میں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
’’میرا بندہ اپنی طاعتوں
سے مجھ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ یہاں تک کہ میں
وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور
وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ پکڑتا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ سے قربت غیب
کی دنیا میں داخل ہوئے بغیر ممکن نہیں۔ غیب کے عالم میں داخل ہونا یا زمان و مکان
سے ماوراء کسی چیز کو دیکھنا اس وقت ممکن ہے جب آدمی زمان و مکان سے آزاد ہونے کے
طریقے سے واقف ہو۔
آیئے تلاش کریں کہ آدمی
کے حواس زمان ومکان کی گرفت سے کیسے آزاد ہوتے ہیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی
یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ
عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی
تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں
روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور
میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے
کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے
روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق
سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ
بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔