Topics
حضرت انس بن نضرؓ جو حضرت
انس بن مالک کے بھتیجے تھے، روایت کرتے ہیں کہ ان کی پھوپھی نے کسی لڑکی کا اگلا
دانت توڑ دیا تھا۔ ہمارے خاندان کے لوگوں نے لڑکی کے رشتہ داروں سے معافی مانگی تو
انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر ان سے کہا گیا کہ تم لوگ دیت یعنی دانت کے بدلے دانت
لینے کے بجائے کچھ رقم لے لو اس پر بھی ان لوگوں نے انکار کیا۔ اور رسول اللہﷺ کی
خدمت میں حاضر ہو کر معافی دینے اور دیت قبول کرنے پر انکار کرتے ہوئے قصاص طلب
کیا۔ چنانچہ بحکم قرآن کریم سرور عالمﷺ نے قصاص کا حکم صادر فرما دیا۔ اس پر حضرت
انس بن نضرؓ نے کہا۔ یا رسول عالمﷺ! کیا میری پھوپھی حضرت ربیع کا اگلا دانت توڑ
دیا جائے گا۔ اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ان کا دانت توڑا
نہیں جائے گا۔ اس پر سرور دو عالمﷺ نے فرمایا۔ اے انس! اللہ کی کتاب تو قصاص کا
حکم دیتی ہے اس پر ان لوگوں نے خوش ہو کر دانت کا بدلہ معاف کر دیا۔
سرور عالمﷺ نے فرمایا۔
بیشک بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان
کی قسم کو پورا فرماتا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی
یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ
عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی
تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں
روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور
میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے
کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے
روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق
سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ
بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔