Topics
حضرت حنظلہؓ بن عامر نے
جمیلہ دختر عبداللہ بن ابی سلولؓ سے شادی کی اور سرکار دو عالم علیہ الصلوٰۃ
والسلام سے اجازت لے کر جنگ اُحد کی رات اپنی بیوی کے ساتھ رہے، غسل کی حاجت تھی
اسی حالت میں صبح سویرے ہتھیار لگا کر مسلمانوں کی فوج میں پہنچ گئے۔ حضرت حنظلہؓ
نے فوج میں آتے ہی دل کھول کر ہاتھ دکھائے جس کے نتیجہ میں مشرکین کو شکست نظر آ
رہی تھی اور انہوں نے ابو سفیان کو جواب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے مارنا ہی چاہا
تھا کہ پیچھے سے اسود بن شعیب نے حملہ کر کے حنظلہؓ کو ایسا برچھا مارا کہ وہ شہید
ہو گئے۔ رسول اللہﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ حنظلہؓ بن ابی عامر کو چاندی کے ٹب میں بارش کے پانی سے
خلاء میں نہلا رہے ہیں۔ ابو اسید ساعدیؓ نے کہا کہ ہم نے حنظلہؓ کو دیکھا کہ ان کے
بالوں سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں اور یہ دیکھ میں فوراً سرور عالم علیہ
الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضری دے کر تمام واقعہ سنایا۔ اس پر سرور عالم علیہ
الصلوٰۃ والسلام نے ان کی بیوی کے پاس ایک قاصد بھیجا کہ حضرت حنظلہؓ کے بارے میں
معلومات حاصل کرے چنانچہ اس قاصد سے جناب جمیلہ نے کہا کہ وہ جہاد کے میدان میں
گھر سے جب گئے تو انہیں غسل کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے حنظلہؓ
کو غسل دلایا۔ حضرت حنظلہؓ شہید کے سر کے بالوں سے پانی کی بوندیں ٹپکتے ہوئے رسول
اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علاوہ اور لوگوں نے بھی دیکھیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی
یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ
عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی
تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں
روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور
میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے
کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے
روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق
سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ
بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔