Topics
ہم شربت بناتے ہیں ہمیں
یہ معلوم ہے کہ پانی میں چینی گھول دی جائے تو شربت بن جاتا ہے اور اس شربت میں
خوشبو ملا دی جائے تو شربت خوشبودار اور مفرح ہو جاتا ہے۔ اسی شربت میں رنگ کی
آمیزش کر دی جائے تو شربت خوش شکل ہو جاتا ہے۔ اسی شربت میں کوئی ایسی ٹھنڈی دوا
شامل کر دی جائے جو خون کو ٹھنڈا کر دے تو یہ شربت گرمی سے پیدا ہونے والے امراض
کا علاج بن جاتا ہے۔
روٹی پکانا ایک فارمولے
کے اوپر قائم ہے۔ جب ہم روٹی کا تذکرہ کرتے ہیں تو روٹی سے متعلق جتنے اعمال ہیں
وہ خود بخود زیر بحث آ جاتے ہیں۔ روٹی کا مطلب ہے زمین کے اندر گیہوں ڈالنا، زمین
کی کوکھ میں دور کرنے والے روشنیوں اور لہروں کا گیہوں کے بیج پر اثر انداز ہونا، گیہوں
کے بیج کے اندر موجود روشنیوں اور لہروں کا زمین کی لہروں اور روشنیوں سے باہم مل
کر ایک دوسرے کا تاثر قبول کرنا، ایک دوسرے کے اندر لہروں کا جذب ہونے کے بعد
گیہوں کے بیج میں کلہ پھوٹنا، بیج کا پیدائش کے بعد زمین کی کوکھ سے باہر آنا،
سورج کی تپش سے پکنا، چاند کی چاندنی سے گیہوں کے اندر مٹھاس پیدا ہونا ، گیہوں کے
بیج کا جوان ہونا اور پھر اس کو چکی میں پیسنا، آٹا بننا، آٹے اور پانی کے ملاپ سے
ایک نئی شکل اختیار کرنا، آٹے اور پانی کے ملاپ سے جو مرکب بنا ہے اس مرکب کا آگ
پر پکنا ان تمام عوامل سے گزر کر روٹی پکتی ہے۔ ایک عام آدمی کہتا ہے روٹی کھاؤ
بات ختم ہو گئی لیکن تفکر کرنے والا بندہ یہ تلاش کرتا ہے کہ روٹی کیا ہے اور کیسے
وجود میں آئی۔ اس ہی طرح انسان بھی ایک نقطہ ہے۔
نقطہ کو توڑا جائے بالکل
اس طرح جس طرح ایٹم کو توڑ دیا گیا ہے تو اس کے اندر عجائبات نظر آتے ہیں، جس کو
اللہ تعالیٰ نے کائنات کہا ہے۔ انسان کی پوری نسل، انسان کی پوری نوع، جنات اور
جنات کی پوری نوع، فرشتے، آسمان، جنت، دوزخ، عرش اور انتہا یہ ہے کہ خود اللہ
تعالیٰ اس نقطہ کے اندر موجود ہے۔ جب یہ نقطہ کھلتا ہے تو انسان مشاہداتی طرزوں
میں قدم قدم سفر کر کے منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے اور مقصود اور منظور و مطلوب
اللہ تعالیٰ ہے۔ تصوف میں اس نقطہ کا نام ’’فواد‘‘ ہے جس کا ترجمہ دل ہے۔ یہ وہی
دل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا مسکن اور اپنا گھر قرار دیا ہے۔ یہ وہی دل ہے جو
کبھی غلط بیانی نہیں کرتا، کبھی جھوٹ نہیں بولتا، جو کچھ دیکھتا ہے حقیقت دیکھتا
ہے۔ دل خالق کائنات کو دیکھتا ہے، خالق کائنات دل کو دیکھتا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی
یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ
عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی
تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں
روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور
میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے
کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے
روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق
سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ
بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔