Topics
مراقبہ سے پہلے اگر کچھ
پڑھنا ہو تو وہ پڑھ کر شمال رخ (اگر مغرب کی طرف منہ کیا جائے تو شمال سیدھے ہاتھ
کی طرف ہو گا)
آنکھیں بند کر کے بیٹھ
جایئے۔ (بہتر یہی ہے کہ شمال رخ منہ رہے لیکن کسی بھی رخ پر منہ کر کے مراقبہ کیا
جا سکتا ہے۔) ذہن اس طرف متوجہ رکھا جائے جس چیز کا مراقبہ کیا جا رہا ہے۔
چونکہ مراقبہ کے دوران
خیالات آتے رہتے ہیں۔ اس لئے خیالات میں الجھنا نہیں چاہئے بلکہ ان کو گزر جانے
دینا چاہئے اور پھر ذہن کو واپس اسی طرف متوجہ کر دینا چاہئے۔ جس چیز کا مراقبہ
کیا جا رہا ہو۔ کم سے کم ۱۵
سے ۲۰
منٹ مراقبہ کے لئے کافی ہیں۔ زیادہ دیر بھی مراقبہ کیا جا سکتا ہے لیکن ایسا نہیں
کرنا چاہئے کہ جس وقت چاہا مراقبہ کے لئے بیٹھ گئے یا تمام چھوڑ کر مراقبہ میں ہی
لگے رہیں۔
مراقبہ تخت یا فرش پر
کرنا چاہئے۔ کرسی، صوفے، گدے یا کسی ایسی چیز پر بیٹھ کر مراقبہ نہیں کرنا چاہئے
جس سے ذہنی سکون میں خلل پڑنے کا امکان ہو۔
مراقبہ کرتے وقت ریڑھ کی
ہڈی کو اس طرح سیدھا کرکے آرام دہ نشست سے بیٹھنا چاہیے کہ مہرے سے مہرہ مل جائے
تاکہ ریڑھ کی ہڈی میں دور کرنے والی روشنیاں ضائع نہ ہوں۔ مراقبہ ٹیک لگا کر نہیں
کرنا چاہئے اس طرح دور کرنے والی روشنیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔ مراقبہ کرنے سے پہلے
حسب پسند خوشبو کا استعمال مراقبہ میں معاون ہوتا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی
یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ
عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی
تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں
روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور
میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے
کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے
روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق
سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ
بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔